تحریر : محمد ثناألحق

صحابی وہ شخص جس نے بحالتِ ایمان نبیﷺ سے ملاقات کی ہو اور اسلام پر وفات پائی، اگرچہ درمیاں میں ارتداد پیش آ گیا ہو۔

رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے معنی ہیں: اللّہ اُن سے راضی ہوگیا‘ رَضُوْا عَنْہُ کے معنی ہیں: وہ اللّہ سے راضی ہوگئے‘ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے معنی ہیں: اُن پر اللّہ کی رحمت ہو‘ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی کے معنی ہیں: اللّہ اُن پر رحم فرمائے‘ عَفَا اللّٰہُ عَنْہُ کے معنی ہیں: اللّہ نے انہیں معاف کیا۔رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وہ کتنی عظیم ہستیاں ہیں جن سے میرا اللّہ راضی ہو گیا اور دنیا میں ہی خوشخبری سُنا دی اور پھر اُن کی عظمت کو سلام کیوں نہ ہو ایک نہیں ساری کائنات کا اُن کی عظمت کو سلام۔

، اگر  ہم ہوا پر اُڑ جاۓ، آسمان پر پہنچ جاۓ، سو بار مر کر جی لے  مگر ہم  صحابیؓ تو نہیں بنا سکتے ، ہم آخر وہ آنکھ کہاں سے لاۓ گے جس نے جمالِ جہاں آرائے محمد کا دیدار ہو؟ وہ کان کہاں سے لاۓ گے جو کلماتِ نبوت سے مشرف ہوں ؟

ہاں وہ دل کہاں سے لاۓ گے جو انفاسِ مسیحائی محمدی سے زندہ ہو؟

وہ دماغ کہاں سے لاۓ گے جو انوارِ مقدس سے منور ہو؟

تم وہ ہاتھ کہاں سے لاؤ گے جو ایک بار بشرۂ محمِدیﷺ سے مَس ہوا اور ساری عمر اُن کی بوئے عنبریں نہیں گئی؟

العرض ہم صحابی کے درجے تک ساری عمر نہیں پہنچ سکتے۔

کیونکہ میرا اللّہ ان کی تعریفیں خود  ُقرآن میں کرتا ہے۔ا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ؐ کے صحابہ کی عظمت و شان کو قرآن مجید میں جگہ جگہ بیان فرمایا ہے۔ ’’توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، دُنیا سے بے تعلق رہنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، برائی سے لوگوں کو منع کرنے والے، حدود اللہ کی حفاظت کرنے والے اور مومنوں کو خوشخبری دیدو‘‘۔ (پ11، رکوع3)۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت مقدسہ میں حضورؐ کے صحابہ کرام کی گیارہ عظمتوں کو بیان فرمانے کے بعد فرمایا کہ ’’اے محبوب، اپنے صحابہ کو جنت کی خوشخبری دیدو‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اُن پر راضی ہونے اور اُن کے جنتی ہونے کا اعلان فرمایا۔ قرآن کریم کی متعدد آیات کریمہ صحابہ ؓ کی تعریف و توصیف، اُن کے ایمان اور اُن کے جنتی ہونے کی شہادت دیتی ہیں۔ سورۂ توبہ میں ارشاد ربانی ہے: ’’اور مہاجرین و انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوتِ ایمان قبول کرنے میں سبقت کی اور وہ جنہوں نے اخلاص کیساتھ مہاجرین اور انصار کا اتباع کیا، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ سب اللہ سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کیلئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، یہ لوگ ان باغوں میں رہیں گے ہمیشہ ہمیشہ یہ بڑی کامیابی ہے‘

حضرتِ محمد مصطفیٰ ﷺ فرمایا کہ میرے صحابہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، ان کو میرے بعد طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنانا، جس نے ان سے محبت کی اس نے میرے ساتھ محبت کی جس نے ان کیساتھ دشمنی کی اس نے میرے ساتھ دشمنی کی، جس نے ان کو تکلیف پہنچائی بیشک اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے اللہ کو تکلیف پہنچائی، جس نے اللہ کو تکلیف پہنچائی بیشک اسکا ٹھکانہ جہنم ہے اور اللہ تعالیٰ اسے پکڑے گا حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے درمیان کچھ جھگڑا ہو گیا حضرت خالد نے حضرت عبدالرحمن کو برا بھلا کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے کسی صحابی کو برا نہ کہو کیونکہ تم میں سے کوئی آدمی اگر احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو وہ میرے صحابی کو دو مد یا آدھے مد کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتا۔صحیح مسلم

گویا ہمیں اللْہ رسول ﷺ  کے ساتھ ساتھ صحابہ کی تعلیمات پر بھی عمل کرنا چاہئیے کیونکہ اس کا حکم اللّہ اور محمدﷺ دونوں نے دیا ہے۔اللّہ پاک ہمیں ابوبکر صدیق جیسا دوست ،عمر جیسی جرات ،عثمان جیسی دولت ، علی جیسا انصاف اور محمد مصطفیٰ ﷺ کے نقشے قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے. . . . . . . .   (امین)

Leave your comment !