ثمینہ اسماعیل

 محترم زاہد کلیم کا شمار اردوکے نامور شعرا میں ہوتا ہے ۔1952ءمیں آپ کی پیدایش مظفرآباد کے علمی و ادبی گھرانے میں ہوئی ۔آپ محمد خاں نشتر مرحوم کے صاحبزادے ہیں ۔بہ قول زاہد کلیم صاحب کے’ 1970ءکی دہائی میں انھوں نے قلم اٹھایا اور لکھنا شروع کیا‘ ۔آپ کی شاعری میں جوش کا سا جوش موجود ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ جوش ملیح آبادی کے شاگرد تھے ۔زاہد کلیم نے 1972ءمیں جوش سے اصلاح لینی شروع کی اور یوں یہ سلسلہ اگست 1982ءتک جاری رہا ۔’روح انقلاب‘ جنابِ زاہد کلیم کی نعتیہ مسدس ہے ۔اس کتاب کو کافی شہرت نصیب ہوئی ۔یہ کتاب کتابت کی غلطیوں سے پاک ہے ۔زاہد کلیم صاحب کے تاریخی شعور کو یہ کتاب طشت از بام کرتی ہے ۔اس کتاب کو 2008ءمیں نیلم پبلی کیشنز نے شائع کیا ہے ۔اس شعری مجموعے کا ابتدائیہ جناب جیلانی کامران نے تحریر کیا ہے ۔بہ قول راغب مراد آبادی’ زاہد صاحب کو زبان و بیاں پر کمال دسترس حاصل ہے ۔الفاظ کو اس طرح جوڑتے ہیں جیسے انگوٹھی میں نگینے لگائے گئے ہوں‘ ۔اس کتاب کو باقاعدہ طور پر چار حصوں میں منقسم کیا گیا  ہے ۔روحِ انقلاب ،ذوق و شوق ،لعل فشاںصبا خرام اور عالمِ شوق ۔روحِ انقلاب کتاب کا پہلا اور طویل حصہ ہے جو کہ120 بند پر مشتمل ہے ۔اس طویل حصے میں ہمیں جو آواز سنائی دیتی ہے ،ہم میں سے بیشتر لوگوں نے بھلا دی ہے ۔اس نظم میں جہاں ماضی کی چاپ سنائی دیتی ہے وہیں اسے دور حاضر کے مسلمانوں کی ذہنی صورت حال کا نقش بھی قرار کہا جا سکتا ہے ۔

 ’روحِ انقلاب‘ کے جائزہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ زاہد کلیم صاحب نے اس کے آغاز میں پہلے انسانی زندگی کی پیچیدگیوں کو بیان کیا ہے ۔ایسی زندگی جس میں امن و امان نہیں ،جس میں سکون نہیں ،ہر کوئی دولت کے پیچھے بھاگ رہا ہے ،اسی کشمکش میں جوانیاں بڑھاپے کی طرف جا رہی ہیں اور وقت ایسا ہے کہ کوئی اسے روک نہیں سکتا ۔انسانوں میں ہوس پرستی ختم نہیں ہوتی ۔ان کے دلوں سے خواہشات ،آرزوں اور رعنائیوں کے سمندر بہتے چلے جا رہے ہیں:

سینے سے آدمی کے نکلتی نہیں ہوس

مٹتے نہیں ہیں دل سے تمناﺅں کے خاروخس

 خوب صورت تراکیب کا استعمال کیا گیا ہے ۔اگر ان تراکیب کو گننا شروع کیا جائے تو یہ تعداد 500 کے لگ بھگ بنتی ہے ۔ پورے پورے مصرعے ہی مرکب تراکیب پر مشتمل ہیں اور کہیں تو مسدس کا پورا بند ہی مرکب تراکیب کے خوب صورت پیرائے میں بندھا ہوا ہے ۔’روحِ انقلاب‘ میں انسان کی ابتر صورت حال کو بیان کیا گیا ہے ،جس میں اسلام سے قبل کی انسانی زندگی کو صفحہ قرطاس پر لایا گیا ہے ۔جس میں داستانِ زندگی سنائی گئی ہے کہ کیسے کیسے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے ،کس طرح ماضی میں بستیوں کی بستیاں اجاڑ دی گئیں ،کس طرح نوعِ بشر کا خون بہایا گیا ،کس طرح رنگ و نسل کے بت کھڑے کر دیے گئے ۔کس طرح وفا و محبت کے دیپ بجنے لگے ،کس طرح بچیوں کو زندہ درگور کر دیا گیا ۔یہ وہ تمام تر سوالات ہیں جو انسانوں کی اسلام سے قبل کی حالت زار کے بارے میں آگاہی دیتے ہیں ۔زاہد کلیم صاحب کے تاریخی شعور کو بھی یہ اجاگر کرتے ہیں۔ذیل میں دیے گئے بند سے اسلامی تاریخ کا ایک اہم واقعہ سامنے آتا ہے :

چڑھتا رجزوغولِ شقاوت ہوا عیاں 

اڑنے لگیں قبائے شرافت کی دھجیاں

گاڑھیں زمیں میں زندہ ہی معصوم بچیاں 

کشتوں میں ڈھل کے رہ گئیں کڑیل جوانیاں 

انسان کا ہر گلی میں بہایا گیا ہے لہو 

ماﺅں کو بیٹیوں کا پلایا گیا لہو

 اسلام سے قبل بیٹی کو زحمت سمجھا جاتا تھا اور اسے پیدا ہوتے ہی دفن کر دیا جاتا تھا ،اس کے بعد نبی آخر الزماں کی آمد کا تذکرہ ہے کہ جن کی آمد سے ہر طرف اندھیرا اجالے میں تبدیل ہونے لگا ۔حضور کے سراپا حسن کو بیان کیا گیا ہے ۔شاعر عشق محمدی کے جذبات سے سرشار نظر آتا ہے ۔ان جذبات کو شاعر نے الفاظ کا خوب صورت جامہ پہنایا ہے:

جس کے سُبک خِرام سے ہر ذرہ آفتاب

جس کی نگاہِ ناز پر ہر عقدہ بے حجاب 

 حضوراکرم کے ظہور کے بعد ایک انقلاب برپا ہوا جس سے کئی لوگ فیض یاب ہوئے ۔کئی لوگوں کی زندگیاں اس انقلاب نے بدل دیں اور وہ جو اپنی زندگی کوتبدیل کرنے کی بجائے اسی ڈگر پر چلتے رہے وہ تباہی کے دھانے پر پہنچ گئے ۔وہ تمام تر تبدیلیاں جو کہ آپ کی آمد کے بعد عرب کے معاشرے کا حصہ بنیں ان کو بیان کیا گیا ہے ۔یوں ایک نئی سوچ ،نیا رستہ ،نئی منزل ،نئی جستجو ،نئی زندگی سب کو ملی ۔خوب صورت تلمیحات کا بھی کہیں کہیں استعمال کیا گیا ہے۔مثلاً محمود و ایاز ،کوہِ طور ،فخرِ کلیم ،نازشِ عیسیٰ وغیرہ:

جس کی زباں نے سر کو نسیم شعور دی

ذرات کو ضیائے سرِ کوہِ طور دی

 خزاں کا دور ختم ہوا اور بہار اپنے جوبن پر آئی ۔انسانوں کے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کیا گیا ۔پھر شاعر نے یہ بھی بیان کیا کہ ایک وقت ایسا آیا کہ عقل و شعور کا حامل انسان جو کہ اپنے اچھے برے کی پہچان رکھتا تھا اس کے باوجود اس نے منافقت کا رستہ اپنانا شروع کر لیا اور صداقت کو چھوڑ دیا ۔انسان انسان کا دشمن بن گیا ،حرص و ہوس کی آگ برپا ہو گئی ،لوگوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ۔ایک بار پھر جب مسلمان نبی اکرم کے لائے ہوئے پیغام کو بھول گئے تو تاریکی کا سماں پیدا ہوا اور انسان مال و زر کے لیے ہاتھ پاﺅں مارنے لگا۔چوں کہ مسلمان حالت زوال کا شکار ہونے لگے اور یہ کیفیت زیادہ تباہ کن ہے اور وہی کیفیت موجودہ دور کی ہے جہاں جمہوریت کے نام پر آمریت کا تسلط ہے:

دن آمرانہ جبروتشدد کا ڈھل گیا 

جمہوریت کا شب کو جنازہ نکل گیا

 آج بھی سیاست کے نام پر مکاری ہی مکاری نظر آتی ہے ۔دولت کے چکروں میں حکمران رشوت لینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں ۔ایسے لوگ بھی خود کو تہذیب یافتہ تصور کرتے ہیں جو دراصل جہالت میں مبتلا ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم اہل شعور ہیں ۔ہم نے جمہوریت کے نام پر عوام کو صرف لوٹا ہے ۔ہم مساوات کو بھول چکے ہیں ۔ہم اسلامی اقدار کھو بیٹھے ہیں ۔صوم و صلوة کو چھوڑ چکے ۔رشوت ،دھاندلی یہ سب ہمارے لیے ایک تجارتی عمل بن گئے ہیں :

رشوت کو دھاندلی کو تجارت سمجھ لیا 

بے جا تصرفات کو حاجت سمجھ لیا

 زاہد کلیم صاحب نے ہمارا حال بیان کرنے کے بعد ہمیں نصیحت کی ہے کہ ابھی تم تباہی سے بچ سکتے ہو ،اگر تم وقت پر سنبھل جاﺅ تو ٹھیک ورنہ

سنبھلے اگر نہ تو تو تباہی مچائے گی 

ہر ذی نفس کی شمع نفس کو بجھائے گی

 ملت اسلامیہ کو بیدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔اگر یہ وقت گزر گیا پھر ہاتھ نہیں آئے گا ۔ابھرو گے پھر نہ اب جو سفینہ ڈبو دیا ،لہٰذا وقت کی قدر کرو ۔بند 103 میں دعائیہ انداز اپنایا گیا ہے جو کہ ان کے ملک و ملت سے جذبہ محبت کو آشکار کرتا ہے ۔وہ کشمیر اور فلسطین کی حالت زار کے لیے دعا گو ہیں:

پروردگار ، ارضِ فلسطین کو چھڑا 

کشمیریوں کو خطہ کشمیر سے ملا

 ملت اسلامیہ میں باہم اتفاق و اتحاد کی دعا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عدل ،مساوات کی بہار کو کبھی خزاں نہ آئے ،پھر حمد یہ اشعار کا سلسلہ بند نمبر 109 سے شروع ہوتا ہے اور بند نمبر 120 پر ختم ہوتا ہے ۔تراکیب کے استعمال اور سوالیہ انداز کو اپناتے ہوئے آگے کی منزل طے کرتے ہیں اور قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں :

کیا چیز ہے ،شہنشہی ،کیا ہے ہُما کا ظِل

 زاہد کلیم صاحب خدا سے مخاطب ہو کر فکر ِمعاش ،عقل و شعور ،شوخی،طرزِ بیان،طائر ِ بامِ حرم ،جرات ،بے باکی ،علتِ ایجاد ،فہم و ادراک ،علم و ہنر ،عزِم سفر اور مہر ووفا کی دعا کرتے ہیں ،روح انقلاب کا اختتام اس شعر پر ہوتا ہے :

آزاد کر کے حلقہ ءلیل و نہار سے 

آگاہ کر حیات کی اگلی بہار سے 

 دوسر ا حصہ ’ذوق و شوق‘ ہے جو کہ10 بندوں پر مشتمل ہے ۔ہیت کا منفرد تجربہ نظر آتا ہے ،یہ حصہ زاہد کلیم صاحب کا اپنے نبی سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔عمدہ تراکیب ،عربی الفاظ ،تلمیحات ،تشبیہات کا استعمال کیا گیا ہے اور کلام میں جان پیدا کی گئی ہے :

شانِ قبادو قیصری  دارائی وا سکندری

                ہیں سب تیرے زیرِنگیں

تو نازشِ سروسمن تو صبح کی پہلی کرن 

                   تو نکہتِ خلدِ بریں

 تیسرا حصہ’ لعل مشاں،صبا خرام‘ میں بھی عشق محمدی کی ہی چاپ سنائی دیتی ہے ،خوب صورت تراکیب اس حصے میں بھی ملتی ہیں ۔اس حصے کا اختتام بھی دعائیہ ہی ہے جس میں اپنی حالت زار کو بہتر سے بہترین بنانے کی دعا کی ہے ۔

اک نگاہِ لطف کر  زاہد ِ خستہ حال پر

 چوتھا اور آخری حصہ’ عالم شوق‘ ہے جس میں کل ۹ بند ہیں ۔یہ حصہ بھی آپ کی تعریف میں ہے جس میں تراکیب ،تکرار لفظی ،مرکب تراکیب،تشبیہات کا خوب صورت استعمال کیا گیا ہے ۔’عالم شوق‘ کی ہیئت مربع ہے اور اس حصے کا اختتام بھی دعا پر کیا ہے :

ہو نگاہِ کرم زاہدِخستہ پر 

آپ کے در سے اٹھے تو جائے کدھر

 زاہد کلیم صاحب نے جس خلوص،محبت اور درد مندی سے اس طویل نظم کو تحریر کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے ۔یوں زاہد کلیم صاحب اردو نظم کا ایک درخشندہ ستارہ ہیں جن کے کلام میں جوش کا سا جوش اور اقبال کے شکوہ کا انداز موجود ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے ہاں انفرادیت نہیں ،ان کے ہاں بلند فکری نظر آتی ہے ،اس کے علاوہ ان کے کلام کی یہ خاصیت ہے کہ حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں۔ان کی یہ نعتیہ مسدس بے مقصدیت کے ہجوم میں ایک بامقصد کوشش ہے۔

Leave your comment !