تحریر وتحقیق: سمیع اللہ عزیز (آرکیٹیکٹ)

وادی نیلم قدیم تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں بدھ مت، ہندو مت، بون ازم، اور قدیم مسلم عہد کے تاریخی آثار جا بجا بکھرے نظر آتے ہیں۔ ان تاریخی آثار کی اہمیت سے نہ صرف مقامی افراد ناواقف ہیں بلکہ حکومتی سطح پر محکمہ سیاحت و آثار قدیمہ نے ان آثار کی دریافت، تحفظ اور تشہیر کے لئے کسی قسم کی کوشش نہیں۔وادی نیلم میں کیاں نالہ اور دریائے جاگراں کے سنگم کے بالکل سامنے ایک پہاڑہے اس پہاڑ کی بلندی پر سندرگراں واقع ہے جسے بی سی ٹاؤن یعنی قبل مسیح کے قصبے کا نام دیا گیا ہے۔جب میں ان تاریخی آثار تک پہنچا تو یہاں موجود فن تعمیر دیکھ کر میں واقعی قبل مسیح کے زمانہ میں جا پہنچا جب ایک بلند سطح مرتفع پر جہاں سے اس کے شمالی اور مغربی جانب مینار نما پہاڑوں پر کئی چھوٹی بڑی بستیاں پھیلی ہوئی تھیں اور ان بستیوں کے نشانات پرموجودہ نئی آبادیاں جستی چاردوں کے مکانات میں آج بھی نظر آرہی تھیں۔ جس جگہ ہم کھڑے تھے اس کا مقامی نام ـــ”سندر گراں “ہے۔

آج یہ ایک ڈھوک ہے جب کے اس کانام ہی اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ یہ قدیم زمانہ میں ایک ٹائون تھا۔ مقامی زبان میں ایک بڑے قصبے یا ٹائون کو آج بھی گراں کہتے ہیں۔ یہ گراں صرف گراں ہی نہ تھا بلکہ سندر گراں تھا یعنی خوبصورت شہریا قصبہ۔ یہاں ٹاپ سے جب ہم نیچے کی جانب اتریں تو سب سے پہلے اپنے زمانہ کی ایک بہت بڑی عمارت کے آثار نظر آتے ہیں جو اس قصبہ کے سب سے بلند مقام پر بنائی گئی تھی کم و بیش ستر فٹ اونچی اس عمارت کی بیرونی دیوار جو پتھروں اور چکنی مٹی کے گارے سے تعمیر کی گئی تھی آج بھی موجود ہے۔ جس مقام پر یہ عمارت تعمیر کی گئی تھی تعمیر کے وقت یہ جگہ ہموار ـ تھی جسے مقامی زبان میں مالی کہتے ہیں لیکن بعد ازاں اس کے پشت کی جانب سے سلائیڈ آئی جس کے اندر عمارت دب گئی جبکہ اس کا سامنے والا حصہ بکھرے ہوئے پتھروں کی صورت میں آج بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کی چھت کا کچھ حصہ بھی سلائیڈ سے باہر موجود ہے۔ اس چھت پر کھڑے ہوکر میں نے اطراف کا جائزہ لیا۔ بحیثیت آرکیٹکٹ میری فنی رائے کے مطابق یہ ایک اسٹوپہ ہے۔ جو بنیادی طور پر بدھ مت کی مذہبی عمارات ہوتی تھیں۔ گول اور احرامی شکل میں تعمیر کردہ اس عمارت کا پچھلا حصہ سلائیڈ میں دبا ہوا ہے۔ ہم اس عمارت کی چھت پر کھڑے تھے۔میرے ساتھی  اسلم سحر پیرذادہ نے جب ایک پتھر ہٹایا تو ہمیں اس کی اندرونی سائیڈ انسانی ہاتھوں کے تراشیدہ پتھروں کی دیوار جو چکنی مٹی کی مدد سے تعمیر کی گئی تھی نظر آئی –
سندرنکہ میں سندر گراں ایک تاریخی مقام ہے۔آثار سے معلوم ہوتا ہیکہ یہ زمانہ قدیم میں ایک تاریخی قصبہ اور بدھ مت  کا مرکز رہا ہے۔ جس کی تصدیق یہاں موجود فن تعمیر اور بدھ فن تعمیر کے درمیان ہونے والی مماثلت کرتی ہے۔ انتہائی ہنر مندی سے یہاں سیکڑوں ایکڑ پہاڑی علاقہ پر اپنے وقت کا جدید ترین قصبہ ڈیزائن کیا گیا تھا جہاں پتھروں کے ٹیرسز، مکانات کے بنیادیں اور دو مرکزی مذہبی عمارات موجود رہیں ہیں جو سلائیڈ میں دب چکی ہیں۔ سندر نکہ (چوٹی )سے اوپر جائیں تو قدیم زمانے کی زراعت کے لئے بڑے بڑے ٹیرسز یعنی ہموار زمین کے کھیت نظر آتے ہیں ان کی دیوار بندی میں چھ چھ فٹ بڑے پتھروں کے بلاک استعمال کئے گئے ہیں۔ اسی طرح سابقہ دور کے آٹا پیسنے کی چکی کے پتھر بھی یہاں دیکھے جا سکتے ہیں کچھ پتھر مقامی لوگوں نے ضائع کر دئیے ہیں۔  جب میں ــ”ناگ سے نیلم “تک کتاب تحریر کر رہا تھا تو جاگراں کا ذکر کرتے ہوئے جب میرا قلم ”  شنگوش‘‘ نامی گائوں تک پہنچا تو میں رک گیا۔ یہ لفظ مجھے قدیم دراوہ کی باقیات معلوم ہوا۔ میں نے مزید تحقیق کی تو میری یہ رائے درست ثابت ہوئی اور کتا ب کی اشاعت کے بعد جب میں سندرگراں تک پہنچا تو مجھ پر سنگوش کی تمام حقیقت کھل گئی۔ دریائے جاگراں کے ایک جانب سنگوش اور دوسری جانب پہاڑ کی چوٹی پر سندرگراں موجود ہے۔ ان دونوں کی جغرافیائی قربت سنگوش کا نام اور سندرگراں کے تاریخی آثار یہ ثابت کرتے ہیں جاگراں ویلی شاردہ کی طرح بدھ مت کا مرکز رہی ہے۔ بلکہ سندرگراں میں پائے جانے والے تاریخی آثار شاردہ کے تاریخی آثار سے بھی کہیں زیادہ واضح طور پر اس علاقہ کو بدھ مت کا مرکز ثابت کرتے ہیں۔ 
   اس سے قبل کے سندر گراں کے تاریخی آثار پر مزید بحث کروں آپ کے سامنے لفظ سنگوش کی حقیقت آشکارا کر دوں۔
کتاب “ناگ سے نیلم ”کے صفحہ نمبر 143 پر سنگوش کی حقیقت یوں بیان کی ہے۔
   کنشک کے عہد میں بدھ مت کی یہ عالمگیر مجلس جو کہ چھ ما ہ تک جاری رہی اس کی مختلف نشستیں وادی نیلم اور اس سے ملحقہ ہروان اور کنشک پورہ نامی گائوں میں منعقد ہوتی رہیں۔ وادی نیلم میں کنزل وان اور شاردہ کے بعد ایک اور علاقہ جو اس بدھ مجلس سے تعلق رکھتا ہے وہ زیریں وادی نیلم میں سنگھوش نامی بستی ہے اور یہ جاگراں ویلی میں واقع ہے جس طرح شاردہ گائوں کا نام اس کے مادر علمی ہونے پر دلالت کرتا ہے اسی طرح سنگھوش کانام اس بدھی مجلس سے خاص نسبت رکھتا ہے۔ ’’سنگھوش‘‘خالص بدھ مت کا مذہبی اصطلاح ہے جو بنیادی طور پر پالی زبان سے اخذ شدہ ہے۔ سنگھوش پالی زبان کے لفظ سنگا sangaسے نکلا جو سنسکرت میں samgaاور چینی زبان میں shengاور sengilaبولا جاتا ہے اور پہاڑی کا سنگی بمعنٰی ساتھی اسی سے اخذکردہ ہے۔ پالی اور سنسکرت میں اس کے معنی ـ’’مجلس ــ‘‘ کے ہیں۔ سنگت یعنی ساتھ اسی سے بنا ہے۔ بدھ مت میں مذہبی مجلس جو بدھ مت کے علماء و دانشور منعقد کریں سنگھا یا سنگھوش کہلاتی ہے۔ کشمیر میں جہاں کہیں اس تیسری مجلس کی نشستیں منعقد ہوئیں وہ مقامات تقدس کی وجہ سے ’’سنگھوش‘‘ مشہور ہوگئے۔ آج بھی یہ نام کسی نہ کسی صورت میں باقی ہیں جو اسی مجلس کی یاد دلاتے ہیں۔ نیلم ویلی کے علاقہ جاگراں کا گائوں’’سنگھوش‘‘ (شنگھوش)بھی اسی طرح کی نشست کی وجہ سے سنگھوش مشہور ہوا او ر آج بھی لاشعوری طور پر نیلم ویلی کی عوام اسے اسی نام سے یاد کرتی ہے۔
سندر رگراں میں پتھر کے ترتیب اور مہارت سے بنائے گئے کئی ٹیرسز ہیں جو کسی شاندار قصبے کی باقیات معلوم ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض ٹیرسز پر پتھروں کے فرش ہیں جن پر لکڑی کے مکانات رہے ہوں گے۔ اسی طرح ایک بڑی عمارت ٹاپ سے نیچے تک پھیلے ہوئے ٹیرس کے اختتامی مقام پر بھی موجود ہے۔ کئی ایکڑ پر پھیلے اس بی سی ٹائون میں باغات بھی لگائے گئے تھے جن کے آثار آج بھی موجود ہیں۔اس ٹائون کے لئے ماہرین فن تعمیر نے سائیٹ بھی انتہائی مہارت سے منتخب کی ہے۔جس کا اکثر حصہ سورج کی روشنی اور حرارت کو مدنظر رکھ کر تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ تاریخی آثار سوات کے پہاڑی علاقوں میں دریافت ہونے والے آثار سے حیرت انگیز طور پر مماثلت رکھتے ہیں۔ بنیر کی اہم شاہراہ پر نوا گلی سوات کے مضافات میں املوک درہ میں ایسے ہی ٹیرسز اور اسٹوپے دریافت ہو چکے ہیں۔ جوماہرین آثار قدیمہ کے مطابق گندھارا تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں۔ بی سی ٹائون میں میرا دریافت کردہ اسٹوپہ املوک درہ کے اسٹوپہ سے بلندی میں اونچا ہے اور یہ قریب ہی سے حاصل کردہ پتھروں سے بنایا گیا ہے۔ اپنی تعمیر کے بعد اس مینارہ نما پہاڑ کی چوٹی پر یہ احرامی شکل کا بلند ہوتا ہوا اسٹوپہ اس بی سی ٹائون کو چار چاند لگاتا تھا۔ اسٹوپہ بنیادی طور پر مراقبہ کے لئے بنایا جا تا تھا جہاں بدھ مت سے تعلق رکھنے والی مذہبی نوادرات کو بطور تبر ک محفوظ کیا جا تا تھا۔  یہ ٹائون بدھ مت کی مجلس کے دوران بدھی علماء کی رہائش کے لئے بھی استعمال ہوتا رہا ہے اسی نسبت سے اس کا مضافاتی علاقہ سنگوش کے نام سے مشہور ہوا جس کی باقیات آج بھی موجود ہیں۔

 صدائے نیلم کے ایک اور ساتھی محمد رئیس انقلابی نے جب اطراف میں مزید تحقیق کی توان کے مطابق سندر گراں ٹاپ سے مزید بلندی پر سفر کرتے ہوئے نی مالی کے مقام پر ایک بڑی عبادت گاہ رہی ہے جہاں ایک میدان میں پہاڑوں کو تراش کر بت بنائے گئے تھے۔ ان بتوں کے آثار اب بھی موجود ہیں۔اس مالی کا مقامی نام ’’بت والی مالی‘‘ ہے۔  ان تاریخی آثار کے حوالے سے مزید تحقیق جاری ہے۔