سالک محبوب اعوان

آج موضوعِ بحث وقت تھا اور مجھے حیرت تھی کہ اس موضوع پر کیا بات ہو سکتی ہے؟ وقت تو وقت ہے اور گزر جاتا ہے تاہم کچھ وقت کے بعد مجھے احساس ہونا شروع ہو گیا کہ ہے یہ علمی بحث اور کچھ نیا سیکھنے کو ملے گا ۔ تمام ہی علوم اپنے اپنے  انداز میں وقت کے موضوع کو وقت دے رہے تھے کہ علمِ معاشیات کا وقت شروع ہوا۔  محفل پر ایک نظر دوڑاتے ہوئے علمِ معاشیات گویا ہوا ، دیکھیں آپ سب نے ہی بہت علمی گفتگو کی اور اپنے اپنے دائرۂ کار میں وقت کو اچھا وقت دیا۔ ظاہر ہے کہ وقت ایسی اٹل حقیقت ہے کہ کوئی اس سے انکار کر نہیں سکتا اور ہر علم کے ساتھ وقت  کا کوئی نہ کوئی تعلق ہو گا اور علمِ معاشیات کے ساتھ بھی اس کا گہرا تعلق ہے۔ دیکھیں وقت بدلتا ضرور ہے مگر وقت کا کوئی اختتام نہیں ہے اور وقت کے اسی بدلنے کے صلاحیت میں ہی قدرت نے اس کی اہمیت چھپا رکھی ہے۔ وقت میں پیدا ہونے والے بدلاؤ کا مطلب یہ ہے کہ وقت ایک متغیر (Variable) ہے اور وقت کے متغیر ہونے میں ہی قدرت نے کچھ معاشی فوائد پنہاں رکھے ہیں۔ دیکھیں قدرت نے دِن اور رات بنائے اور انسان میں وقت کی اِس تبدیلی میں بھی معاشی فوائد رکھے۔ دِن کے اوقات میں انسان کام کرے ، روزگار کی تلاش کرے ، معاشی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے اور محنت مزدوری کرے اور رات کے اوقات میں آرام کرے ۔ وہ جسم اوردماغ جو دِن بھر کام کی وجہ سے تھکاوٹ کا شکار ہے اَب رات کے اوقات میں اُس جسم اور دماغ کو سکون میسر ہو تا کہ نئے دِن تروتازہ ہو کر نئی معاشی سرگرمیوں کی ابتداء ہو۔اسی طرح موسم میں آنے والا بدلاؤ بھی  وقت کے متغیر ہونے  کا غماز ہے۔

 تبدیلیِ موسم حضرتِ انسان کی معاشی سرگرمیوں کے لیے میمز کا کام بھی کرتا ہے اور انسان کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرتا ہے۔ اگر وقت ایک سا رہتا تو موسم میں بھی تبدیلی واقع نہ ہوتی اور اگر موسم تبدیل نہ ہوتا تو دُنیا کے سرد اور برف باری والے علاقوں میں سیاحت کی اہمیت نہ ہوتی۔ کبھی تو سرد موسم میں میدانی علاقوں کے لوگ  برف باری سے لُطف اندوز ہونے کے لیے پہاڑی علاقوں کا رُخ کرتے ہیں جس سے انسان کو منجمد کردینے والے موسم میں بھی اُس علاقے کی معاشی سرگرمی جاری رہتی ہے اور افرادِ علاقہ اپنے روزگار میں مشغول رہتے ہیں۔ اسی طرح جب وقت انگڑائی لیتا ہے تو میدانی علاقوں میں جھلسا دینے والی گرمی پڑتی ہے تو ایک مرتبہ پھر میدانی علاقوں کے لوگ ٹھنڈے موسم سے لُطف انداز ہونے کے لیے پہاڑی علاقوں کی سیاحت کو آتے ہیں جس سے اِن علاقوں کی معیشت مزید پھلتی پھولتی ہے۔ اسی طرح ٹھنڈے موسم میں پہاڑی علاقوں کے لوگ میدانی علاقوں کی سیاحت کو نکلتے ہیں اور اُن علاقوں میں معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔  ذرا توقف کے بعد علمِ معاشیات پھر گویا ہوا، وقت بدلے گا تو موسم بدلے گا اور موسم بدلے گا تو انسان کے لیے مزید اقسام کی تازہ سبزیاں اور پھل لائے گا۔ کاشتکار  پرانی فصل کی کٹائی کے بعد نئی فصل کی بوائی کرے گا۔ جیسے ہی ایک فصل اپنی طبعی عُمر پوری کرے گی وقت گزرتے گزرتے موسم کو  بدلے گا اور کاشتکار بے روزگار رہنے کے بجائے نئے موسم کی فصل کاشت کرنے میں جُٹ جائے گا۔ نئی سبزیاں ، نئے پھل  اور نئی  فصلیں کاشت کی جائیں گی اور جب یہ سب پرانی ہو کر اپنی طبعی عمر پوری کر لیں گی اور کاشتکار ان فصلوں کی کٹائی کرنے کے بعد ان کی فروخت سے آمدنی حاصل کرے گا  تو وقت پھر اپنے بدلاؤ سے موسم کو بدلے گا اور کاشتکار بے روزگار رہنے کے بجائے ایک مرتبہ پھر نئے روزگار میں لگ جائے گا۔

وقت کا بدلاؤ صنعت اور صنعتی پیداوار پر بھی اپنا اثر دیکھاتا ہے۔ صنعتی شعبے کی اکثر پیداوار کا تعلق  موسم کے بدلنے سے ہے اور زراعت کی طرح صنعتی شعبے میں بھی یہ وقت اور موسم کا بدلاؤ انسان کو بےروزگار نہیں ہونے دیتا۔ دیکھیں صنعت سے تعلق رکھنے والے بہت سے شعبے ایسے ہیں جو زرعی پیداوار کو خام مال کے طور پر استعمال کرتے ہیں مثلاً گندم سے آٹا بنانے کا کارخانہ یا موسمی پھلوں اورسبزیوں سے آچار، مربہ اور جوس بنانے والی صنعتیں دغیرہ۔ وقت بدلے گا تو یہ سب کارخانے نئے موسم کے لحاظ سے نئی پیداوار شروع کرنے لگیں گے یوں مزدور بے روزگار نہیں رہے گا ۔ موسمِ گرما میں اگر ٹھنڈے مشروبات ، آئس کریم یا برف کے کارخانے میں روزگار کا عمل جاری رہے گا تو موسمِ سرما میں یخنی ،قہوہ اور دیگر گرم مشروبات کے مزدوروں کی بے روزگاری ختم ہو گی۔  اگر خریدار سوتی ملبوسات کی خریداری کر کے تھک جائیں گے اور خریداری کو تَرک کرنے لگیں گے  تو قدرت وقت کے پہیے کو گھومائے گی اور موسم بدلتے ہی وہی خریدار پھر سے اُونی ملبوسات کی خریداری میں لگ جائیں گے اور یوں فروخت کار سے بے روزگاری کے بادل چھٹ جائیں گے اور معاشی سرگرمی کا عمل چلتا رہے گا اوربجائے بے روزگار رہنے کے  بخوشی کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور پھر سے بدلے موسم کی نئی پیداور کا آغاز کرنے لگیں گے ، پیداوار کو وسعت ملے گی اور مشینوں کا پہیہ گھومتا رہے گا۔   آپ تجارت کے شعبے کو لے لیں ، علمِ معاشیات ذرا توقف کے بعد گویا ہوا ، موسمِ گرما کی زرعی اور صنعتی پیداوار کی تجارت کرتے کرتے تاجر کو جیسے ہی تجارت سکڑتی نظر آئے گی تو قدرت اس کی  مدد کے لیے وقت کی تبدیلی سے موسم میں تبدیلی پیدا کر دے گی اور موسمِ سرما کی نئی پیداوار آنے سے تاجر کی تجارت میں بھی تیزی آ جائے گی اور بے روزگاری کا خوف جاتا رہے گا۔

ایک توقف کے بعد علمِ معاشیات پھر گویا ہوا وقت کو خدمات کے شعبے میں بھی اہمت حاصل ہے۔ موسمِ گرما میں انسان پنکھے وغیرہ کا استعمال کرتا ہے اور جب وہ خراب ہو جائیں تو ماہرین کی خدمات لیتا اور معاوضہ ادا کرتا ہے۔ موسمِ سرما میں ہیٹر وغیرہ کا استعمال تیز ہو جا تا ہے اور ہیٹر خراب ہوا تو پھر ماہر کی خدمات حاصل کیں اور معاوضہ  ادا کیا یوں بدلتا موسم نئے روزگار کے مواقع لاتا ہے ۔ گرمیوں میں پیٹ خراب اور سردیوں میں نزلہ ، زکام ۔ ہر دو موسم میں طبیبوں کی خدمات اور ادویات کی فروخت ۔ یوں گزرتا وقت یہاں بھی معاشی سرگرمیوں کو جنم دے گا۔ مزیدبرآں آبی و خاکی جانور  اور پرندے بدلے وقت کے ساتھ اپنے مسکن کو بھی بدل لیتے ہیں۔ موسمِ سرما میں ایک علاقے میں قیام کرتے ہیں اور موسمِ گرما میں نقل مکانی کر کے کسی دوسرے علاقے میں ۔ جس علاقے میں یہ جاندار  خصوصاً مچھلیاں نقل مکانی کر کے جاتے ہیں وہاں کے افراد کے لیے نئے معاشی ذرائع پیدا ہو جاتے ہیں۔ اِن جانداروں کا شکار کر کے انہیں منڈیوں میں فروخت کے لیے پیش کیا جاتا ہےجس سے بہت سے افراد کا روزگار منسلک ہوتا ہے یوں وقت اپنے اندر بہت سی معاشی سرگرمیاں اور ذرائع روزگار سموئے ہوئے گزرتا چلا جاتا ہے۔ اِس  کے علاوہ انسانوں میں بھی ایسے  افراد اور قبائل پائے جاتے ہیں جو گزرتے وقت کے ساتھ ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں ہجرت کر جاتے ہیں جنہیں خانہ بدوش کہا جاتاہے۔ یہ خانہ بدوش گرمیوں کے اوقات میں پہاڑی علاقوں میں جب کہ سردیوں کے اوقات میں میدانی علاقوں میں ہجرت کر جاتے ہیں ۔ یہ وقت کے پیشِ نظر منصوبہ سازی کرتے ہیں اور ان خانہ بدوشوں کی یہ نقل مکانی بھی ملک میں نئی معاشی سرگرمیوں کو جنم دیتی ہے۔ پہاڑی علاقوں سے مال مویشیوں کی میدانی علاقوں میں مانگ ہوتی ہے لہٰذا  راستوں سے گزرتے ہوئے خانہ بدوش جب شہروں اور منڈیوں سے گزرتے ہیں تو وہاں ان کے مویشیوں کی فروخت کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور خانہ بدوش بھی اپنی ضرورت کی اشیاء ان منڈیوں سے خریدتے ہیںیوں  نہ صرف طلب اور رسد کی قوتوں کو کام کرنے کا موقع میسر آتا ہے بَلکہ افرادِ علاقہ کے لیے بھی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

 ذرا توقف کے بعد علمِ معاشیات پھر گویا ہوا ایک اور اہم بات کہ وقت قوموں کے عُروج اورمعاشی  ترقی کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔   اہل مجلس نے حیرت سے پوچھا کہ وہ کیسے ؟  اگر کوئی قوم بدحالی کے دور سے گزر رہی ہو ، علمِ معاشیات کی آواز اُبھری، تو اس قوم کے افراد اس وقت کو بدلنے کی کوششیں شروع کر دیں گے۔ دِن رات کے زیادہ تر اوقات کو کام اور معاشی سرگرمیوں کے پھیلاؤ  میں گزارا جائے گا۔    بدحالی کا قلع قمع کرنے کی تدابیر کی جائیں گی اور تیز ترین معاشی ترقی کے حصول کی کوشش کی جائے گی،  آخر قوم اس میں کامیاب ہو گی اور ایک وقت آئے گا کہ وہ قوم ترقی یافتہ اور خوش حال قوم بن جائے گی۔ پھر اِس ڈر سے کہ کہیں یہ وقت جلد نہ گزر  جائے ایسی حکمتِ عملیاں اختیار کی جائیں گی کہ  جس سے طویل عرصے کی معاشی ترقی ممکن ہو ۔ یوں وقت اور وقت کا بدلاؤ معاشیات اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ گزرتا وقت ہی ہے جو حضرتِ انسان کے لیےقدرت کا  ایک اہم تحفہ ہے  اور یہ متغیرمقدار  انسان کے لیے اپنے اندر بے پنامعاشی فوائد  چھپائے ہوئے ہے۔  آج تو بزمِ اقتصاد کا مزہ آ گیا، بے اختیار مجھ سے یہ الفاظ ادا ہو گئے اور سب شرکاء نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا جی بالکل۔