تصاویر اور کہانی کار : سجاد افضل 

یہ محض فوٹو سیشن نہیں ہماری اصل یہی ہے  خودکفالت و خود انحصاری  سے صارف منڈی بننے تک کے کے سفر کی کہانی.

      آج جب امی کے ساتھ اسوج کے کام کاج میں مصروف ہوں تو اپنا بچپن لڑکپن اور جوانی کا ایک ایک لمحہ یاد آرہا ہے      گندم مکئی چاول باجرہ دالیں سبزیاں اور فروٹ کی پیداوار اس قدر تھی کہ ہمارے دادا دادی اور ان کی اولاد ہرمردوزن سال بھر زمینوں کیساتھ لگے رہتے تھے    لسی کڑی گھی مکھن اور انواع و اقسام کی دیسی خوراک  ہمارے گھروں میں وافر مقدار میں موجود ہوتی تھیں 

     بازار بہت چھوٹے ہوتے تھے اور کبھی کبھار ضروری اشیاء کے لیے بازاروں کا رخ کیا جاتا تھا –   ہم سے پچھلی پیڑی میں تو اس ضروری سامان کے لیے دوردراز کے پیدل اسفار کی داستانیں ہم نے اپنے بڑوں سے  سنی ہیں   دیکھتے ہی دیکھتے تین عشرے قبل کا موحول یوں بدل گیا کہ ہم اپنی زمینوں سے بیگانہ ہو کر پنجاب کی صارف منڈی بن گئے  اب ہم ایک دوسرے کو کوستے رہتے ہیں اور خودکوہی زمہ دار قرار دے کر گزربسر کررہے ہیں    یہ سب کچھ کیسے ہوا اور کیوں ہوا اور کیا ہونا چاہیئے تھا ؟؟؟

     شاید ان مختصر سوالات کے تفصیلی جوابات تلاشنے کی شدید ضرورت ہے      یہ بات ذہن نشین رہے کہ 50 کی دہائی سے ہمارا سماجی ڈھانچہ کلی طورپر بدلاؤکی طرف محو سفر ہوا جس کے اثرات کو نصف صدی لگی اور ہم مکمل بدل دیئے گئے 

      زمانے کا بدلنا تو ناقابل تردید حقیقت ہے جس کے سماج پراٹرات ہوتے ہیں لیکن زندہ معاشروں میں زمانے کے بدلنے کے ساتھ سماجی بدلاوکی رفتار اور شکل مقامیت و ارضیت کے ساتھ فطری طور پر ایک مناسب  رفتار کے ساتھ اپنی اصل سے جڑے رہنے سے آگے بڑھتی ہے 

     زمانہ بدلا جس کے ساتھ سماجی تقاضے بدلے آبادی کے اضافے ضروریات زندگی کے بڑھنے اور رہن سہن کے طور اتوار میں نت نئی ایجادات نے پرانے ررعی طور طریقوں کو ناکافی بنا لیا کہ اب گزربسر کے لیے طرزکہن پر اڑنا ممکن نہیں تھا 

      چاہیئے تو یہ تھا کہ پرانے زرعی طریقوں کو جدید مشینری اور کمرشل تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے حکومتی سطح پر بندوبست کیا جاتا اور دیہاتوں کی سطح پر کسانوں کو بنیادی زرعی سہولتوں سےآراستہ کیاجاتااور تعلیم صحت و انفراسٹریکچر کی جدید سہولتیں فراہم کی جاتی لیکن حکومتوں کا کردار اس ضمن میں بلکل صفر رہا -کسانوں کو حسب سابق اپنی مدد آپ کے تحت زندگی گزارنی پڑ رہی تھی جو گزشتہ سادہ طرز تمدن میں تو ممکن تھی لیکن دنیا میں آنے والی تبدیلیوں نے ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا کہ نت نئی ایجادات اور سہولتوں بھری زندگی کی بازگشت نے ہمارے دروازوں پر دستک دے کر ہمیں اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور کر لیا کہ ہماری قدیم زراعت کا دھندہ اب ہماری ضرورتوں کی تکمیل میں فیل ہو چکا تھا 

      مقامی سطح پر زرائع روزگار کی کمیابی نے ہمیں معاشی جلاوطنیوں پر مجبور کیا اور جب ہمارے زراعت پیشہ لوگ جدید صنعتی معاشروں کا رخ کرنے لگے تو دنیا کی چکا چوند دیکھ کر ہمیں اپنی حالت زار پر ماتم کرکے ازخود اپنے آپ کو دنیا کے ساتھ مقابلے کی دوڑ میں شانہ بشانہ چلنے کا جذبہ پیدا ہو گیا   بھلا افراد معاشرہ خود کوئی بڑا بدلاو لا سکتے ہیں ؟ یا یہ کہ پروڈکشن سے دور رہ کر محض نوکری کرکے باہر سے پیسہ لا کر معاشرے بدل سکتے ہیں ؟    ایسا ممکن ہوتا تو ہمارے ہاں 50 سالوں سے ملکوں ملکوں کی خاک چھاننے والے کیا سے کیا کرلیتے    بس پھر ایک نہ ختم ہونے والا باہر کی انحصاری کا سفر شروع ہوا جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا اور ہم جانے انجانے میں ملکی نظام اور چند خاندانوں کی عیاشیوں کے لیے پیسہ کماکر بالادست طبقوں کو بھی پال رہے ہیں اور اپنی اولادوں کی پرورش بھی کررہے ہیں   وہ حکمران اشرافیہ جو ہماری کمائی پر عیاشی کررہی ہے اس کے وارے نیارے ہوگئے اور ہم ہیں کہ اس کا شعور تک نہیں   دیکھتے دیکھتے ہماری تیار زمینیں بنجر ہوگئیں حالانکہ ہمارے پاس زرعی زمینوں کی کمی نہ تھی کہ مزید زمینوں کو کارآمد بنا کر زراعت کو کمرشلائز کرکے ہم ایکسپوٹر بن کر خود کفیل ہوسکتے تھے      اب بس اپنی زمینوں سے  واجبی سا رشتہ اپنے گھروں میں موجود بزرگوں کی وجہ سے قائم ہے جو عہد رفتہ کی بھولی بسری کہانی کی یادگار کے طور پر باقی ہے    ہم اپنی اصل سے کٹ گئے بلکہ کاٹا گیا اور اس کے اسباب جاننے کے بجائے خود کو ہی ذمہ دار قرار دے کر ایک دائرے کے اندر سفر جاری رکھے ہوئے ہیں 

      ہمارا قبلہ ہی بدل گیا ہمیں اپنے تاریخی مراکز سے کاٹا گیا ہمارا رخ ہی بدل گیا اور یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہوا 

      کیا قدیم زراعت ہماری ضرورتوں کے لیے کافی ہوسکتی ہے ؟ 

    جدید زرعی تقاضوں سے دوری کا ذمہ دار کون ہے     نظام حکومت یا عوام ؟    کیا نظام بدلے بغیر محض تبلیغ سے لوگ زراعت سے واپس جوڑے جا سکتے ہیں ؟  یہ اور اس سے جڑے بیسیوں سوالات ہیں جن کے جوابات تلاش کرنے کی اشد ضرورت ہے

Leave your comment !