عالمی یوم اساتذہ پر ایک عظیم معلمہ کو خراج عقیدت

پروفیسر خالد اکبر

ان کے نام سے میں واقف تھا… وہ  پس منظر میں رہ کر سارے کھیل کو ڈائریکٹ کرتی ہیں۔۔ وہ سلف میڈ ہیں۔ ۔ محدود وسائل کے باوجود اپنی سیلف ڈیولپمنٹ اور ذہنی نمو میں تسلسل سے بہتری اور اضافہ کے رستہ پر گامزن ہیں۔۔ ان باتوں کو  میں سر سری طور پر جانتا تھا۔۔ان کا محدود  سا علم  مجھے  تھا کیونکہ وہ میرے بچوں کے اسکول کی  کرتا دھرتا,مربی اور بڑی انتظامی آفیسر تھی  ۔وہ اچھی استاد,اعلی منصرم,اور مشفق انسان ہیں۔ایسی با تیں بچوں کی زبانی  اکثر سماعتوں سے  ٹکرائی رہتی تھی۔۔ پھر ایک دن بچوں کو اسکول سے واپسی پر بہت مغموم پایا تو استفسار کرنے پر معلوم ہوا کہ میم سائرہ وینٹیلیٹر پر ہیں! ! کرونا نے ان کو بھی اپنے ظالم پنجوں میں دبوچ لیا ہے۔ ان کی حالت نازک ہے! یوں چند دنوں  میں ہی وہ  راہی عدم ہوئی اور ابدی نید  سو گئی!! اللہ تعالیٰ ایسی روح سعیدہ کو ابدی سکون عطا کرے۔آمین!

میری ان سے زندگی میں ایک ادھ ملاقات ہوئی۔۔سو مجھے زیادہ ان کے بارے میں جانکاری نہ ہوئی۔مگروہ میرے تدریسی قبیلے کا ایک روشن ستارا اور میرے گاؤں کا نگینہ  تھی تو مجھ ان کی مختصر  سفرحیات کے بارے میں جاننے کا تجسس ہوا۔  ان کی پروفائل کو جان کر مجھے تاسف ہوا اور شر مند گی کا احساس بھی کہ میں کتنا بے خبر اور لا علم تھا۔۔ مگر ساتھ ہی یہ خوش گوار حیرت بھی کہ ، خداوند اپنی    خاکستر میں کوئی چنگاری ایسی بھی تھی!!

 ان کی پروفائل کو جاننے اور دیکھنے کے لیے میں نے انھیں  زرائع پر زیادہ بھروسہ کیا جو دستاویزی شکل میں میسر  تھے۔ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی ساری تفصیلات ذیل میں درج ہیں جن سے ایک قاری خود اندازہ کرسکتا ہے کہ وہ واقعی ایسی  عورت کار  و  زی وقار تھی جو اہک  روشنی کا مینارہ اور یگانہ  کردار کی حامل  تھی۔ اس کے ساتھ  قاری خود اندازہ لگا سکتا ہے کہ ان کی امیدیں  اور ذاتی زندگی کتنی قلیل  اور مقاصد ٫ اہداف اور نصب و لعین کتنا  آفاق کو چھونے والہ اور جلیل تھا:

 سائرہ نے انگریزی علم وادب میں اور ایجوکیشن اور مینجمنٹ میں ایم اے کیا ۔اور اوائل میں پرل ویلی سکول میں بطور معلمہ شمولیت اختیار کی۔ 1996  سے 2009 تک بطور وائس پرنسپل اسی ادارے میں اپنے فرائض منصبی انجام دیئے۔۔ انہوں نے ماؤنٹین یونیورسٹی امریکا سے چھ ماہ کا مینیجمینٹ کا کورس کیا۔۔پھر ایک سال کا  ٹیچنگ کورس برطانیہ کی گلوسٹر شائر  یونی ورسٹی سے  مکمل کیا۔ ازاں بعد علی انسٹیٹیوٹ لاہور سے ایک سال کا مزید ٹیچنگ کورس کیا۔۔ انہوں نے آغاخان یونیورسٹی سے تدریس سے متعلق  تمام کورسیز مکمل کیے۔ تدریس اور تعلیم سے متعلق دیگر کہیں ورکشاپس اور سیمینار اٹینڈ کیے۔ 2009 میں آپ  کا جان ایچیسن کالج اف ایجوکیشن(جکٹا) میں بطور ایڈ منسٹریٹر انتخاب ہوا۔۔ آپ نے چار سال کے قلیل عرصے میں ملک گیر سطح پر اس ادارے کو ٹیچنگ ٹریننگ کے حوالے سے سب سے بہترین ادارہ بنایا۔۔یہی وجہ ہے کہ اس ادارے کو بہتر ین ادارے کا ایوارڈ ملا۔۔ اس کے علاوہ بچوں کی لسانی اور معیاری خواندگی کی قابلیتوں  کو بڑھانے کے لئے آپ نے فونک ڈیولپمنٹ پروگرام کو تشکیل و ترتیب دیا اور  کشمیرایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تین اداروں میں سٹیٹ آف دی آرٹ  لینگویج لیب قائم کیں۔۔ان کا سب سےاہم اور  نمایاں کارنامہ گلوسسٹر شائیر یونیورسٹی کے تعاون سے ایسے نصا ب کی تیاری تھا جو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو اور ساتھ ہی ساتھ  اپنی تہذیب و ثقافت  میں گو ندا ہوا   اعلی انسانی اقدار کا آئینہ دار بھی۔۔  نصاب سازی کے اس جان کاہ اور پیچیدہ کام کے لیے انہوں نے قابل لحاظ وقت صرف کیا ۔۔اس کے لئے انھوں نے تمام رائج الوقت خصوصا ترقی یافتہ ممالک کے نصاب کا تجزیہ کیا ۔۔جدید الات اور پیمانوں کا استعمال کرکے بالآخر ایسا جامع ٹیچنگ ٹریننگ کورس تدو ین و تشکیل دینے میں کامیابی حاصل کی  جس کی توثیق اور قبولیت نصاب سازی کے  بڑے بڑے قومی ماہر ین اور اداروں کے ساتھ ساتھ  اسی طرح کے کام پر معمور عالمی تعلیمی اداروں نے بھی  دی۔۔کہنے میں تو یہ کام بڑا آسان ہے مگر اپنے ملک کے منظر نامہ میں بیسویں  ماہرین اور بے پناہ وسائل کے باوجود  ایسا معیاری نصاب ہنوز ناپید ہے جو معیاری اساتزہ کی تدریسی لیاقتوں کی حقیقی نشوونما اور تعمیر کر کے نئ پود میں تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر اور میمیز کرتا ہو۔ اور جد ید تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہو۔۔اس نئے نظام ہاے کار کے زریعہ اولین  سر گرمی کے طور پر  387 اساتذہ کو تربیت فراہم کی جن میں سے زیادہ تر کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے۔ تعلیم اور تعلم سے متعلقہ لوگ اچھی طرح واقف ہیں کہ کشمیر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیر سایہ ادارہ سے تربیت یافتہ اساتزہ کی کس قدر مانگ اور طلب ہوئی۔ اور جن جن اداروں کو ان کی خد مات میسر اہیں انھوں نے تعلیم اور تدر یس کے میدان میں کیسا معیار اور اعتبار پیدا کیا۔۔اس معیاری عمل کار کا عمومی حاصل اور دور رس اثر پیدا ہوا۔  یوں اس بے پناہ پز یرائی  اور شہرہ کے بعد ملک کے طول و عرض سے کئی اداروں نےاپنے اساتزہ کی تر بیت کے حوالے سے ان سے رجوع کیا۔۔ انہوں نے نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ  پاکستان کے بیسویں  اساتذہ کو بھی تربیت فراہم کی۔کے ای ایف کے ریکارڈ کے مطابق پورے ملک سے دو ہزار خواتین اساتذہ کے ساتھ ساتھ پاکستان بیت المال کے زیر انتظام چلنے والے دو سو پچاس کے لگ بھگ اساتذہ کی تربیت اور تدریسی صلاحیتوں کی تعمیر ان کے بناے ہوے با اعتبار , مستنداورمفید تربیتی پروگرام کی ہمہ گیر یت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

لیسن پلاننگ  اسباق کی تیاری ایک بڑا فن ہے جن کے لیے اعلی پائے کی فنی صلاحیت کے ساتھ ساتھ تخلیقی اور تخیلاتی رحجان  کا ہونا سب سے اہم لازمہ ہے۔میڈ م سائرہ نے کے ای ایف کے زیر انتظام چلنے والے تمام مضامین کے تر ریسی اسباق تیار کروائیں۔۔اس کام میں زیادہ طرح حصہ خود ڈالا۔۔ یہ ان کی ایک انمول غیر معمولی  اور قابل قدرصلاحیت تھی۔۔مز ید براں آپ نے کشمیر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے پالیسی  گائیڈ  کے 36  ابواب بقلم خود لکھیں۔اپنی  انہی بے پناہ صلاحیتوں,محنت شاقہ اور لگن سے عبارت  کارکردگی  کے کارن وہ ترقی پاکر فاؤنڈیشن یشن کی چیف ایگز یکٹیو آفیسر ہوئی۔ اس حیثیت سے بھی اپ کی کار کردگی محتاج بیان نہیں۔۔  آپ کے بین الاقوامی اداروں سے ثمراور روابط اور مطلو ںہ اہداف اور اداروں کے لئے وسائل کا حصول, فاؤنڈیشن کا پر اثر انتظام وانصرام اور  نظم و ضبط کا عمدہ پاس  بہت نمایاں اور قابل تحسین رہا۔۔یوں سائرہ چلتا پھرتا ادارہ اور فنا فی العلم تھی۔ ہمارے ہاں نئی نسل میں عصر حاضر کی جدید تعلیم وتر بیت اور جدید طریقہ  ہائے تدریس  سے آگئی اور چلن  زیادہ تر انھیں کی کو شوں کا ثمر ہے۔ اس طرح کا کردار کشمیر کے تناظر میں اور   کسی حد تک صنفی امتیاز  سے اٹے معاشرہ  میں خال خال اور عنقا ہے ۔اس حیثیت سے وہ تو انمول تھی ۔۔ اکلوتی تھی۔۔منفرد تھی۔۔  وہ ایسا آفتاب تھا جو علم تعلیم و تعلم کے آسمان پر صدا چمکتا اور دمکتا رئیں گا ۔اور اپنی تمازت سے روح اور دلوں کو گداز کر تی رئیں گی۔ان  کا کام  ایک صدقہ جاریہ کی صورت اور ایک روایت کی شکل جاری و ساری رہے گا ۔پس  یہ چمکتا آفتاب اور دمکتا مہتاب  کبھی غروب نہیں ہو سکتا۔۔ ان کا شمار ایسے لوگوں میں تھا جو خود مثال بنتے تھے

: ان کے ٹیم ممبرز کے بقول وہ ایک پیشواءکا درجہ رکھتی تھی۔ وسائل کی کمی کے باوجود  انہوں نے مضبوط عزم کےساتھ اپنے سفر کو کامیابی سے جاری رکھا ۔مگر ان کے عظیم والدین اوربا اثر ننھیال کی  سرپرستی اور مر بیت کے سبب   یہ سب زیادہ آسان اور ممکن ہوا۔۔سائرہ ایسے کردار کیسی بھی معاشرے کے لئے  غنیمت کا درجہ رکھتے ہو تے ہیں۔ ان کا خلا صدیوں پورا نہیں ہو سکتا۔

شورش کا شمیری نے ایسے لو گوں کے بارے میں کہا تھا..

قلم کی عظمت اجڑ گئی زبان کا زور بیان کیا ہے 

اتر گئے منزلوں کے چہرے٫ امیر کیا.. کارواں کیا ہے

 مگر تیری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقین نہیں ہے

 یہ کون اٹھا ہے کہ دیر و کعبہ شکستہ دل ,خستہ گام پہنچے 

جھکا کے  اپنے دلوں کے پرچم خواص پہنچے ,عوام پہنچے

 تیری لحد پہ خدا کی رحمت تیری لحد کو سلام پہنچے

۔۔۔۔۔۔۔۔    ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر چہ قدرت کا ایک شہکار اخری نید سو چکا ہے

مگر تیری مرگ ناگہاں کامجھے ابھی تک یقین نہیں!!

Leave your comment !