تحریر :محمد ایاز کیانی 

رواں سال کئی قیمتی لوگ عدم کو سدھار گئے،شعبہ طب سے ڈاکٹر حلیم خان،ڈاکٹر صادق اور ڈاکٹر ہاروں،تعلیم کے شعبے سے پروفیسر افتخار،پرنسپل( ر) سردار صادق،سردار ذاکر سنئیر معلم،اور سردار زرداد سینئر معلم وکلاء سے آصف کیانی ،حبیب حسین شاہ،اور جاوید منور،سیاستدانوں کے لئے بھی یہ سال بھاری رہا اور کئی قد آور شخصیات دام اجل میں آئیں جن میں سردار غلام صادق سابق سپیکر اور چوہدری مطلوب انقلابی قابل ذکر ہیں۔۔۔اور اب اسی ماہ گیارہ جون کو ممبر قانون ساز اسمبلی سردار صغیر چغتائی اپنے دو رفقاء احتشام سعید (پرائیویٹ سیکریٹری) اور ڈرائیور محمد سعید کے ہمراہ پتن کے مقام پر ایک حادثے میں دریائے جہلم کی تند و تیز موجوں کی نذر ہو کر خالق حقیقی سے جا ملے۔

سردار صغیر سردار خالد ابراہیم مرحوم کے ساتھ پیپلز پارٹی میں رہے۔بعد ازاں خالد ابراہیم کے پیپلز پارٹی سے رائیں جدا کرنے پر جموں وکشمیر پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے سیاسی اننگز کاآغاز کیا۔2006کے الیکشن میں پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے دل برداشتہ ہو کر جموں وکشمیر پیپلز پارٹی سے رائیں جدا کرکے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا۔حلقے میں قدآور شخصیات کی موجودگی میں بھرپور مقابلہ کیا اور چند سو ووٹوں کے فرق سے اپنی نشست ہار گئے۔۔2009 میں سردار خالد ابراہیم مرحوم نے اپنی نشست سے استعفیٰ دے دیا تو ضمنی الیکشن میں بھی حصہ لیا مگر اس دفعہ سردار سیاب خالد سے چند سو ووٹوں کے فرق سے الیکشن ہار گئے 2011 میں مسلم کانفرنس نے ممبر کشمیر کونسل بنایا 2016 کے الیکشن میں مسلم کانفرنس نے آپ کو اپنے ٹکٹ کے ساتھ میدان میں اتارا تو اس مرتبہ میدان  آپ کے ہاتھ رہا اور آپ ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوگئے پانچ سال ممبر قانون ساز اسمبلی رہے۔ اپنی وفات سے چند دن قبل مسلم کانفرنس سے مستعفی ہو کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور ٹکٹ کے حق دار قرار پائے مگر قدرت کی منشاء شاید کچھ اور تھی۔۔دس جون کو اپنے حلقہ انتخاب میں مصروف دن گزارا۔اور اگلی صبع راولپنڈی کے لئے عازم سفر ہوئے کہ صبع سات بجے کے قریب پتن پل سے تھوڑا آگے سامنے سے آنی والی گاڑی سے ٹکرانے کے بعد ان کی گاڑی دریائے جہلم میں جا گری۔

 تمام تر کوششوں کے باوجود  حادثے کے شکار ہونے والے افراد کی تلاش میں کامیابی نہ ہوئی ۔کئی دنوں تک عجیب ہیجانی کیفیت رہی سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں اور شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا رہا ، بدقسمتی سے ہمارے ہاں جب سے پرائیویٹ میڈیا چینلز آئے ہیں ریٹنگ کی دوڑ میں جھوٹ، دروغ گوئی اور سنسنی خیزی کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔غیر ذمہ دارانہ طرز عمل  ہماری رگ و پے میں شامل ہے  فوری طور پر سازشی تھیوریز کی فصل اگنا شروع ہوجاتی ہے ۔۔ سوشل میڈیا تو الیکٹرونک میڈیا سے بھی چار ہاتھ آگے ہے جہاں جھوٹ اور سچ کے درمیان کوئی حد فاصل نہیں ہے۔اس حوالے سے کسی قسم کا کوئی بیرئیر نہیں ہے  ہر کوئی اپنی دنیا میں مکمل آزاد ہے جواب دہی  یا بازپرس  کا کوئی میکنزم موجود نہ ہے ظاہر ہے یہ صورتحال فوری طور پر اصلاح طلب ہے آخر ہم کب  ذمہ دار  شہری ہونے کا ثبوت دیں گے ۔(یہ تو چند جملہ ہائے معترضہ تھے ) ۔۔۔۔17 جون کو ڈڈیال کے مقام سے احتشام سعید کی نعش بازیاب ہوئی اور 18 جون کو زیارت بازار سے متصل ان کے آبائی گاؤں میں اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں عوام کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔احتشام ایف ایس میں میرا شاگرد رہا بعد میں یونیورسٹی سے تجارت میں ایم اے کرنے کے بعد راولاکوٹ میں ایک نیم سرکاری ادارے کے ساتھ منسلک تھا ۔کافی عرصے سے صغیر صاحب کے ساتھ بطور پرائیویٹ سیکریٹری کام کر رہا تھا نہایت ہی  مؤدب شائستہ، باوقار سلجھا ہوا اور اپنی عمر سے زیادہ  میچور تھا،یقینا  اس نوجوان کی موت اس کے والدین کے لئے کسی عظیم سانحہ سے کم نہیں ہے جوان اولاد کی موت والدین کو توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ اللہ پاک والدین کے زخموں کا مداوا فرمائے۔صغیر چغتائی مرحوم اور ان کے ڈرائیور  کے اجساد خاکی ہفتہ 19 جون کی صبح منگلہ ڈیم سے بازیاب ہوئے۔ان کے ڈرائیور محمد سعید کی نماز جنازہ اتوار کو ہاڑی گہل کے مقام پر ادا کی گئی جبکہ صغیر چغتائی کی نماز جنازہ 21 جون بروز پیر شام چار بجے خان اشرف سپورٹس کمپلیکس راولاکوٹ میں ادا کی گئی۔نماز جنازہ میں دور و نزدیک سے عوام الناس کا ایک جم غفیر امڈ آیا تھا یقیناً یہ  راولاکوٹ کی تاریخ کے بڑے اجتماعات میں سے ایک تھا ۔

سردار صغیر چغتائی کے بارے میں پرنٹ اور سوشل میڈیا پر ہر طبقہ فکر کے لوگوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا جن میں ان کی شرافت،عوامی اور عمومی مزاج،عاجزی انکساری،ہر ایک کے لئے خیر خواہی کے جذبات رکھنے والا اور سب کی دسترس میں ہر ایک کے لیے آسانی سے دستیاب ہونے والے کے طور پر کیا گیا ۔ان کے بارے میں ہر ایک نے یہ بھی کہاکہ انھوں نے حکومتی اور قومی وسائل کو عوام کی بہبود پر خرچ کیا اور ان میں خیانت کے مرتکب نہ ہوئے۔آپ ہنس مکھ وعدے کے پابند اور اپنی بساط کے مطابق ہر ایک کے کام آنے والے تھے دوسری جماعتوں کے کارکنان کے لیے احترام کے جذبات رکھتےتھے۔اللہ تعالیٰ ان کے حق میں خلق خدا کی گواہی کو قبول کرتے ہوئے ان کی آنے والی منزلیں آسان فرمائے۔قحط الرجال کے اس دور میں جینون پولیٹیکل ورکر اب خال خال ہی ہیں جن کی جڑیں عوام میں ہوں ۔بلدیاتی الیکشن نہ ہونے کی وجہ سے قیادت کا خلا ہے جس کی وجہ سے پیراشوٹر کی اصطلاح آج کل قبول عام کا درجہ حاصل کر چکی ہےاور چند استثنائی صورتوں کے علاؤہ ہر پارٹی میں ان پیراشوٹرز کو پزیرائی مل رہی ہے۔عوام کی طرف سے بھی ان لوگوں کے خلاف حسب توقع ری ایکشن سامنے نہیں آتاجس کی وجہ سے یہ لوگ پارٹیاں بدلنے کے باوجود کامیاب ہو جاتے ہیں۔

اس تحریر  کے ذریعے جہاں صغیر چغتائی اور دیگر مرحومین کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنا مقصود ہے ہے وہیں پر اس حوالے سے چند امور کی طرف حکومت کی توجہ مبذول کرانا بھی ضروری  ہے۔

اس حادثے  کے بعد ہمارے اداروں کی کارکردگی کا پول بھی بری طرح کھلا۔ متعلقہ مشینری کے آنے میں  اس قدر تاخیر قابل توجہ ہے۔ دریا کے ساتھ ہر سال سینکڑوں لوگوں کی جانوں کی قربانی کے بعد بھی پروفیشنل ڈائیورز کی عدم دستیابی ایک سنگین مسئلہ کی صورت میں سامنے آیا۔ اگر اس قدر ہائی پروفائل کیس سامنے نہ  آتا تو یہ راز کبھی نہ کھلتا عام  آدمی کی زندگیاں ویسے بھی ارزاں ہیں ان کے لیے حکومت کی سنجیدگی کا سوال تقریباً خارج ازامکان ہے۔ہمارے ہاں روڈز کی ایک طویل پٹی ردیا کے ساتھ ساتھ ہے جہاں ہر سال سینکڑوں لوگ روڈ کے حادثات میں دریا کی موجوں کی نذر ہو جاتے ہیں مگر نہ ہی ہمارے پاس پروفیشنل تیراک ہیں نہ ہی ہنگامی حالات کے لئے ائیر ایمبولینس اور ہیوی مشینری۔۔۔۔ہمارے ارباب بست وکشاد کو اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرنے کی فوری ضرورت ہے 2005 کے زلزلے کے بعد بھی ہمیں اسی طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا توقع تھی کہ اب ہنگامی حالات کے لئے ضروری اقدامات بہرصورت کیے جائیں گے مگر اے بساآرزو کہ خاک شد۔۔۔

ہمارے ہاں عمومی طور پر یہ رویہ موجود ہے ہے ہے کہ ارباب بست و کشاد کسی کام کے لیے کسی بڑے حادثے کے منتظر ہوتے ہیں حادثہ ہو جانے کے چند دن تک عارضی اقدامات کیے جاتے ہیں  اور پھر کسی دوسرے حادثے کا انتظار کیا جاتا ہے ۔ گوئی نالہ  روڈ  طویل عرصہ تک کھنڈرات کا نمونہ پیش کرتی رہی۔ بار بار کی ہڑتالوں، احتجاج اور عوامی تحریک کے نتیجے میں ایک نسبتاً بہتر سڑک بنائی گئی مگر حفاظتی دیوار کا کوئی خاص اہتمام نہیں کیا گیا  جس کی وجہ سے آئے روز حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں کچھ عرصہ پہلے ایک پروفیسر صاحب اپنی بیٹی کے ہمراہ حادثے کا شکار ہو کر خالق حقیقی سے جاملے  تھے۔۔۔۔فلور مل کے ساتھ مسافر وین حادثے کا شکار ہوکر سات قیمتی جانیں ضائع ہو گئی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پچھلے دو سال سے پتن کے مقام پر ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں مرکزی شاہراہ کھنڈرات کا نمونہ پیش کر رہی ہے چائنہ کی کمپنی نے تمام تر وسائل کے باوجود کام کی رفتار خوفناک ناک حد تک سست رکھی ہوئی ہے چند کلومیٹر روڈ کے لیے اتنا زیادہ ٹائم صرف کرنے سے لگتا ہے کہ مذکورہ کمپنی کے افسران بھی اپنے پرتعیش پیکیجز اور سہولتوں کی وجہ سے اس پروجیکٹ کو جان بوجھ کر تاخیر کا شکار کئے ہوئے ہیں۔ دریا کے ساتھ کسی قسم کی حفاظتی دیوار نہ ہونے سے قیمتی انسانی جانیں آئے روز حادثات کی نذر ہو رہی ہیں مگر کسی کو پروا نہیں ہے کہ چار اضلاع کو پاکستان سے ملانے والی اس شاہراہ کو جلد از جلد مکمل کر کے قیمتی قیمتی انسانی جانوں کے اتلاف کو بچائے۔ ایک طرف ڈھلکوٹ کے پار کوٹلی ستیاں روڈ اور دوسری طرف آزاد پتن روڈ حکومت پاکستان کے لئے شاید اس لحاظ سے غیر اہم ہےکہ ان دور دراز علاقوں میں آبادی بہت کم ہے ووٹرز کا کوئی خاص دباؤ موجود نہیں ہے۔پچھلے دور  حکومت میں کچھ کام ہوا تھا مگر اس دور میں مکمل اغماض برتا جا رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ  آزاد کشمیر حکومت ،حکومت پاکستان کو کہے کہ اگر آپ ان سڑکوں  کو ہنگامی بنیادوں پر تعمیر نہیں کرتے تو ہمیں اجازت دی جائے کہ ہم اپنے وسائل سے تعمیر کریں کریں کیونکہ ہر سال کئی قیمتی  انسانی جانیں ان کھنڈرات نما سڑکوں کی نذر ہو جاتیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سردار تنویر الیاس جو حکومت پنجاب میں ایڈوائزر ہیں۔انھیں اس قیمتی نقصان پر حکومت پنجاب کو فوری اور ہنگامی اقدامات پر مجبور کرنا چاہئے اگر وہ نہیں کرتے تو انھیں چائیے کہ اپنے چچا کے ایصال ثواب کے لیے ہی ان دو انتہائی اہم شاہرات پرکام کا آغاز ہنگامی بنیادوں پر کریں اس سے قبل کہ کل کوئی اور صغیر اس خونی سڑک کی بھینٹ چڑھے اس کو فوری طور پر قابل استعمال بنایا جائے۔اگر چائنا کمپنی ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی تو اعلیٰ سطع پر اس معاملے کو لے کر جائیں تاکہ اس فوری نوعیت کے کام کو پایہ  تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔دریا کے ساتھ کئی جگہوں پر روڈ کا کٹاؤ  تیزی سے جاری ہے اس حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر کام کا آغاز کرنا از بس ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔