کتاب :  “مثنوی بوئے پیرہن  “

شاعر : مخلص وجدانی 

تبصرہ نگار : صفی ربانی 

مثنوی اہلِ ایران کی ایجاد ہے۔ رودکی کی مثنوی “کلیلہ و دمنہ” کو فارسی کی اوّلین مثنوی شمار کیا جاتا ہے ۔اردو میں یہ مصنف فارسی در سے آئی ۔مورخینِ ادب کے بقول اردو مثنوی کا آغاز تیرہویں صدی میں دکن سے ہوا۔ دکن کا پہلا مثنوی نگار فخر الدین نظامی بیدی صاحبِ مثنوی “کدم راؤ پدم راؤ” ہے۔ اگرچہ اساتذۂ ادب ،میر و غالب تا اقبال سبھی نے مثنویاں رقم کیں مگر مولوی میر حسن کی مثنوی “سحر البیان” اور دیا شنکر نسیم کی “گلزارِ نسیم” وہ ابد آباد مثنویاں ہیں جن کی مثیل اب تک نہ پیش ہو سکی۔ 

مخلص وجدانی ایک کہنہ مشق استاد شاعر ہیں ۔ انہوں نے اردو اور گوجری زبانوں کو وسیلۂ اظہار بنایا ہے ۔ گوجری غزل میں تو آئندہ صدیوں تک انھِیں کا سکہ رائج رہے گا مگر اردو شاعری میں بھی ان کی راہ سب سے الگ ہے۔ بچوں کی شاعری، غزلوں، نظموں اور گیتوں میں ان کی انفرادیت اظہر من الشّمس ہے ۔ تاہم مثنوی بوئے پیرہن میں وہ اپنی پوری استادانہ صلاحیتوں کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ مخلص کے نقاد و محقق کے لیے ضروری ہے کہ ان پر قلم اٹھانے سے پہلے متذکرہ مثنوی کو عبور کرے۔ 

یہ مثنوی جس کہانی کو بیان کرتی ہے اس کا آغاز انیسویں صدی کے اوائل میں ایران سے ہوا۔ یہ کہانی دیومالائی، اساطیری یا مافوق الفطرت کرداروں پر مبنی ہے نہ ہی کسی ذہن کی اختراع کا نتیجہ بلکہ جیتے جاگتے سانس لیتے انسانوں کی کتھا ہے۔ یہ مثنوی اس کہانی کا پہلا حصّہ ہے جسے دنیا “بہائیت” کے نام سے جانتی ہے۔مَیں یہاں اس کے نظریاتی پہلوؤں سے صرف نظر کرتے ہوئے خالصاََ فنی حوالوں سے بات کروں گا۔ 

بچپن کا وہ خواب(جس ذکر انہوں نے پیش لفظ میں کیا) جو مخلص کے سینے میں درد کی ایک ٹیس بن کر اٹھا تھا اب ایک آگ بن کر پورے وجود میں گداز پیدا کرنے لگا جس سے ان کے اظہار میں ایک جولاں گہ عقیدت در آئی ۔ اُن کی یہ مثنوی اسی عقیدت کا ثمر ہے۔ 

مثنوی “بوئے پیرہن” میں تاریخ کے محجر بیانیوں کو رواں دواں زندگی بخش دی گئی ہے۔ مثنوی پوری ماجرائیت کے ساتھ قاری کو اخیر تک لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ یہ صلاحیت کم از کم تاریخی واقعات کو منظوم کرنے کے حوالے سے بڑی صلاحیت ہے کہ خیالات کی بوقلمونیاں تو قاری کو کہیں سے کہیں لے ہی جاتی ہیں مگر تاریخ کا علاقہ اس حوالے سے کافی سنگلاخ واقع ہوا ہے۔ مثنوی ہمیں ان کرداروں سے قریب تر کر دیتی ہے جو زمان میں صدیوں کی مسافت پر کھڑے ہیں ۔ مخلص کا عقیدت مندانہ لہجہ انسان کے باطن میں اتر کر نہاں خانۂ روح میں نقب لگاتا ہے لیکن یہ عنصر جز عقیدت پیدا نہ ہوتا اگر اس میں ان کی فنکارانہ مساعی شامل نہ ہوتی۔مثنوی قاری کی قوت سامعہ و باصرہ کو بیک وقت بیدار کرتی ہے۔اِس کا اسلوب سادہ مگر لہجہ تہ دار ہے، یوں کہ شاعرکا انوکھا پن بھی برقرار رہتا ہے ۔ 

مخلص نے روز مرہ و محاروہ کو انتہائی خوبصورتی اور سادگی  سے اپنا ہے تاہم واقعات کی گھمبیرتا اپنی جگہ بدستور قائم ہے ۔ بے ضرورت استعاراتی و تشبیہاتی مینارے قائم کیے نہ ہی تجریدی لیپ پوت کے سہارے بیان کے عجز کو چھپانے کی کوشش کی ۔ مثنوی اس قدر رواں ہے کہ الہام کی رم جھم معلوم ہوتی ہے۔ اگرچہ مثنوی تاریخ کے محجر واقعات کا ابلاغ ہے تاہم ان کی تخلیقی صلاحیت کی بدولت سخن کی ملاحت بھی برقرار رہتی ہے اور انکشافِ حقیقت کی پرتیں بھی کھلتی رہتیں ہیں ۔ موضوع کی غرض و غایت کو دیکھا جائے تو یہ نہ تو تفریح طبع کا سامان ہے نہ ہی تخئیل کی جولانی دکھانا مقصود ہے بلکہ ان تاریخی واقعات کے پس منظر کے ساتھ ظاہری و باطنی دنیاؤں کے اسرار کھولنا ہے۔یہ ان کی ذہنی پرداخت اور تخئیلی افتاد کا کرشمہ ہے ۔ 

ایک بہترین مثنوی کے لیے جن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے وہ سبھی “بوئے پیرہن” میں فراوانی کے ساتھ موجود ہیں ۔ منظر نگاری، کردار نگاری اور واقعہ نگاری مثنوی کی اساس ہیں ۔ کسی شاعر کی عظمت کا پتہ تبھی چلتا ہے جب وہ کسی منظر، شخص یا واقعے کو ہمارے رو برو لاتا ہے ۔ مخلص نے ان تینوں عناصر کا نقشہ اس خوبصورتی سے کھینچا ہے کہ تمام تر جزیات کے ساتھ قاری کی آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے ۔

منظر نگاری کی ذیل میں کچھ شعر ” ملا بشروئی اور ان کے ساتھیوں کی شیراز روانگی” کے تحت دیکھیے : 

ہر اک شے پہ آیا ہوا تھا نکھار

کہ تھی اپنے جوبن پہ فصلِ بہار

کھلے تھے جہاں گل چمن در چمن

کنول، سنبل و لالہ و نسترن

.

وہ باغ ارم وہ بہاروں کا رنگ

جسے دیکھ کر عقل رہ جائے دنگ

.

روش در روش لہلہاتے تھے پھول

تجلّیٔ حق تھا وقتِ نزول

.

وہ پھولوں پہ اڑتی ہوئی تتلیاں

کہ دھرتی پہ اتری ہوئی کہکشاں

.

لگے حسنِ فطرت سے گل جھومنے

جھکے ایک دوجے کا منہ چومنے

.

سرِ گلستاں آئے یہ میہماں

تو پتے بجانے لگے تالیاں

.

جھکی شاخِ گل خیر مقدم کیا

تو پھولوں نے ہنس کر کہا: مرحبا

.

مغنی نے حافظ کی چھیڑی غزل

تو کھلنے لگے ان کے دل کے کنول 

سراپا نگاری کی ذیل میں “بدشت کانفرنس” میں قرۃالعین طاہرہ کا آنا دیکھیے: 

سرِ عام جب طاہرہ آ گئی

تو حیرت وہ ماحول پر چھا گئی

.

نمودار جب وہ ہوئی بے نقاب

رہی دیکھنے کی کسی میں نہ تاب

.

جو دیکھا اسے یوں بدونِ حجاب

تو احباب کرنے لگے اجتناب

.

کوئی کر رہا تھا وہاں سے فرار

کوئی کر گیا خامشی اختیار

.

تو کیفیت اک پر وہ تاری ہوئی

کہ اپنے گلے پر چھری پھیر لی

.

کہا میں صدا ہوں سرافیل کی

جگاتی ہوں ارواح سوئی ہوئی

.

زباں تھی کہ دو دھاری تلوار تھی

بیاں تھا کہ تلوار کی دھار تھی

.

جہاں تک سوال واقعہ نگاری کا ہے تو ہر عنوان کے تحت ایسے بیسیوں اشعار ہیں جن میں واقعات، شاعرانہ آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں اور میں اس گومگو میں ہوں کہ 

” کھاؤں کدھر کی چوٹ ،بچاؤں کدھر کی چوٹ” 

سو یہاں طوالت کے خوف سے انتخاب سے گریز کر رہا ہوں ۔ 

محولہ بالا تمام تر خصوصیات کو مد نظر رکھتے ہوئے مَیں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اردو ادب کا ہر منصف مزاج طالب علم اس مثنوی کے مطالعے کے بعد کھلے دل سے تسلیم کرے گا کہ “بوئے پیرہن” اردو کی دیگر مثنویوں میں اپنی موضوعی غرض و غایت، نوعیت اور ماہیت کے لحاظ سے منفرد ترین مقام رکھتی ہے اور یہ کہ جلد یا بہ دیر اردو ادب اس مقام کا اعتراف کرے گا۔