اقبال اور خاکِ ارجمند
 از
ڈاکٹر ظفر حسین ظفر

 مبصر : سعید ارشد

دنیائے ادبیات میں دیگر زبانوں کے ادب کے ساتھ ساتھ اردو ادب بھی اپنے پورے وقار اور تمکنت کے ساتھ تخلیق، تحقیق اور تنقید کی روش پر گامزن ہے۔ ادبیاتِ اردو میں جہاں دیگر شعبہ جات کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے وہاں اقبالیات کا شعبہ بھی ایک مستقل اور قابلِ لحاظ شعبے کی حیثیت سے مسلّمہ ہے۔
دنیا بھر کی جامعات اور اقبالیاتی ادارے علامہ صاحب کے افکار، فلسفے اور فن شعری پر صاحبانِ فکر ودانش کی تصنیف کردہ ہزاروں کتب شائع کر چکے ہیں۔
بین الاقوامی تناظر میں دیکھا جائے تو بھارت، ایران، ترکی، مصر، جرمنی اور برطانیہ جیسے ممالک میں بھی اقبالیاتی ادب میں خاطر خواہ کام ہو رہا ہے۔ایک اندازے کے مطابق دنیا کی کم و بیش چھبیس زبانوں میں علامہ صاحب کی تصانیف کے تراجم ہو چکے ہیں۔اسی طرح علامہ صاحب کے افکار اور سوانح پر دنیا کی بائیس زبانوں میں ہزاروں کی تعداد میں کتب کا زخیرہ موجود ہے جس میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔
بقول ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: دنیا کے کسی اور شاعر، ادیب ، دانش ور اور فلسفی پر اتنی کتب تصنیف نہیں ہوئیں جتنی علامہ صاحب کے حصے میں آئیں۔
اقبالیات کے مختلف گوشوں اور جہتوں پر دنیا بھر کے نامور سکالرز، اساتذہ اور دانش ور اپنے خیالات، تحقیقات اور تنقیدی بصیرت کا اظہار کرتے ہیں اور یہ سلسلہ پورے تزک و احتشام کے ساتھ جاری ہے۔
ایسے ہی صاحبانِ فکر و دانش میں ایک نام معروف ماہرِ اقبالیات پروفیسر ڈاکٹر ظفر حسین ظفر کا بھی ہے۔ آپ کا نام ریاستِ جموں و کشمیر کے اساتذہ اور صاحبانِ فکر ودانش میں نمایاں ہے۔ آپ کی شخصیت علامہ صاحب کے افکار اور نظریات کی مہکار سے رَچی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب ریاست جموں و کشمیر اور پاکستان کی جامعات اور ادبی حلقوں میں ادبیاتِ اردو کے حوالے سے بالعموم اور اقبالیاتی ادب کے حوالے سے بالخصوص منفرد پہچان کے حامل ہیں۔
زیرِ نظر کتاب بعنوان ” اقبال اور خاکِ ارجمند” ڈاکٹر صاحب موصوف کی تازہ تصنیف ہے۔ اس کتاب میں شامل بیشتر مضامین اس سے قبل مختلف ادبی جریدوں میں شائع ہو چکے ہیں جنھیں ڈاکٹر صاحب نے کتابی شکل دی ہے۔
چونکہ علامہ صاحب کا اپنا خمیر بھی کشمیری تھا اور انھوں نےہی کشمیر کی مٹی کو خاکِ ارجمند قرار دیا تھا یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے کتاب کا نام اسی مناسبت سے رکھا ہے۔
اس کتاب میں ڈاکٹر صاحب کے رشحاتِ قلم سے پھوٹنے والے سات مضامین شامل ہیں۔

ادارہ “نشریات” سے شائع ہونے والی اس کتاب کا انتساب بھی ڈاکٹر صاحب نے کشمیری قوم کے نام کیاہے۔  کتاب کا سرورق عمدہ اور دیدہ زیب ہے۔ شام کا وقت، پہاڑوں کی اوٹ میں ڈوبتے ہو ئے سورج کی زردی اور جھیل ڈل میں تیرتے ہوئے شکارے اور ان کے بیچ میں علامہ صاحب کی تصویر ان کے خطّہ کشمیر کےساتھ جسمانی اور روحانی تعلق کو بہ خوبی واضح کرتی ہے۔

اس کتاب کا پہلا مضمون بعنوان” اقبال خاکِ ارجمند میں” چار حصوں پر مشتمل ہے۔ اس مضموں میں ڈاکٹر صاحب نے علامہ کی اپنے وطنِ مالوف کشمیر سے نسبت اور تعلق کی مختلف جہتوں کی نقاب کشائی کی ہے۔
ہم عصر مشاہیر کے نام خطوط میں خطّہ کشمیر سے علامہ صاحب کی محبت اور نسبت کا اظہار، سفرِ کشمیر، کشمیر کے مختلف سیاحتی مقامات کی سیر، علامہ کی شاعری میں سیرِ کشمیر کا شعری اظہار، کشمیر اور اہلِ کشمیر کی محکومی پر علامہ کی تڑپ اور اہلِ کشمیر کی گیلی مٹی میں شرارے پیدا کرنے کی خواہش، براستہ مظفرآباد لاہور واپسی، دوبارہ کشمیر جانے کی حسرت دل میں لیے راہی ملکِ عدم ہو جانے جیسے موضوعات کو نہایت عمدگی سے بیان کیاہے۔
جب علامہ صاحب 1933 میں آل انڈیا مسلم کشمیر کمیٹی کے صدر منتخب ہوے اور انھوں نے  دوبارہ کشمیر جانے کا قصد کیا تو مہاراجہ کشمیر نے ان پر پابندی لگا دی تھی۔ چنانچہ پنجاب گورنمنٹ کے ایک اہل کار مسٹر سی سی گاربٹ نے علامہ کے نام خط لکھ کر انھیں متنبہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس خط کا متن بھی نقل کیا ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے علامہ کے فارسی اور اردو کلام کا برمحل استعمال کرتے ہوے اپنے موقف کو مدلل بنایا ہے۔

بریشم قبا خواجہ از محنت او
نصیبِ تنش جامہء تار تارے

نہ در دیدہء او فروغ نگاہے
نہ در سینہء او دل بے قرارے

ازاں مے فشاں قطرہ بر کشیری
کہ خاکسترش آفرینند شرارے

مضمون کی انفرادیت یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے تحقیق کے نئے دریچوں کی نشان دہی بھی کی ہے۔ لکھتے ہیں :

“کلام اقبال کی جملہ شرحوں میں ناروَن کو ایک گھنے درخت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ لفظ مزید تحقیق کا طالب ہے۔ نشاط ، شالیمار اور ہاروَن میں ناروَن نام کا کوئی درخت نہیں ہے۔ چناروں کے دیو ہیکل درخت ہیں جن کا اقبال نے زکر کیا ہے” ص28

دوسرے مضمون بعنوان” کشمیر میں اقبال شناسی ۔۔ ایک توضیحی مطالعہ ” میں ڈاکٹر صاحب نے ریاستِ جموں و کشمیر میں اقبالیات کے شعبے میں ہونے والے تحقیقی مقالات اور اقبالیاتی ادارہ جات کا احاطہ کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ریاست جموں و کشمیر میں اقبالیات کے حوالے سے قائم کردہ دس اداروں کی فہرست شامل کی ہے۔ کشمیر یونیورسٹی سرینگر میں قائم “اقبال انسٹی ٹیوٹ آف کلچر اینڈ فلاسفی” کا خصوصیت سے زکر کیا ہے۔ اس ادارے کے زیر اہتمام منعقدہ اقبالیات کے موضوع پر انیس سیمینارز اور اسی ادارے کے زیرِ اہتمام اقبالیات کے موضوع پر اردو اور انگریزی زبان میں شائع ہونے والی اکسٹھ کتب کی موضوعاتی فہرست بھی شامل کی ہے۔ اس کے علاوہ کشمیر یونیورسٹی سری نگرسے اقبالیات کے شعبے میں تصنیف ہونے والے پینتالیس ایم فل اور تئیس پی ایچ ڈی کی سطح کے مقالات کی فہرست بھی شامل کی ہے۔

تیسرے مضموں بعنوان”بالِ جبریل کی پہلی پانچ غزلوں کی تدوینِ نو” میں ڈاکٹر صاحب نے اقبال کے مجموعہ کلام ” بالِ جبریل” کی کل ستتر غزلوں میں سے پہلی پانچ کی تدوینِ نو کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ابتدا میں علامہ صاحب کا اپنے کلام کی صحتِ املا اور کاٹ چھانٹ کے بارے میں فکرمندی کا زکر کرتے ہوئے روحانی تسکین کے حصول کو اپنی تدوینی کاوش کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
اس تدوینی کاوش کے دوران میں ڈاکٹر صاحب کے پیش نظر رہنے والی کتب میں:
 ۱۔ بیاض بال جبریل
۲۔مسودہ بال جبریل مخزونہ
۳۔ بال جبریل 1935
۴۔کلیاتِ اقبال 1973
۵۔ کلیاتِ اقبال 1994
شامل رہیں۔
اس تدوینی کاوش میں پہلی غزل میں 23 دوسری غزل میں 29، تیسری غزل میں 34 چوتھی غزل میں 32 اور پانچویں غزل میں 21 جگہوں کی نشان دہی کرتے ہوے آخر میں ان پانچ غزلوں کی فرہنگ بھی شاملِ مضمون کی ہے۔

چوتھےمضمون بعنوان” مکتوباتِ اقبال میں ملی نشاۃ ثانیہ کے نقوش” میں ڈاکٹر صاحب نے مختلف اوقات میں مختلف شخصیات کے نام علامہ صاحب کے لکھے گئے خطوط میں مسلمان امت کے احیا کے بارے میں علامہ صاحب کی فکر مندی اور ملی احیا کے لیے ان کی کوششوں کی بازیافت کی ہے۔

پانچویں مضمون بعنوان” اقبال اور کشمیر ایک جائزہ” میں ڈاکٹر صاحب نے اقبال اور کشمیر کو اقبالیاتی ادب کا ایک اہم موضوع قرار دیتے ہوئے “اقبال اور کشمیر” کے موضوع پر تصنیف ہونے والی کتب اور مختلف جامعات سے اسی موضوع پر تصنیف ہونے والے ایم فل کی سطح کے مقالات کا اجمالی زکر کیا ہے۔ اس موضوع پر تین اہم کتب :
۱۔ اقبال اور کشمیر از جگن ناتھ آزاد
۲۔ اقبال اور کشمیر از ڈاکٹر صابر آفاقی
۳۔ اقبال اور تحریک آزادی کشمیر از غلام نبی خیال
 کا عمدہ تجزیہ پیش کیا ہے۔

اس کتاب میں شامل چھٹا مضمون بعنوان “علامہ اقبال: شخصیت اور فن” دراصل معروف اقبال شناس ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی 2008 میں شائع ہونے والی معروف کتاب پر ڈاکٹر صاحب موصوف کا تبصرہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے علامہ صاحب کے بارے میں ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے خیالات کو کسی مافوق الفطرت شخصیت پر قلم فرسائی کی بجاے حقیقت پسندی پر مبنی قرار دیاہے۔ ڈاکٹر صاحب کے بقول یہ کتاب تفہیمِ اقبال کا سب سے عمدہ زریعہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ہاشمی صاحب کی اس مفصل کتاب کے باوجود بعض تشنہ اور تحقیق طلب گوشوں کی نشان دہی بھی کی ہے۔ جو ڈاکٹر صاحب کی اقبال شناسی میں دست گاہی اور دلچسپی کا مظہر ہے۔
ساتواں اور آخری مضمون بعنوان ” اسرار خودی: مرتبہ ڈاکٹر سعید اختر درانی پر ایک نظر” بھی ایک تبصرہ ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے اس کتاب کی تالیف کا پس منظر بیان کرتے ہوے ڈاکٹر سعید اختر درانی کی 2001 میں شائع ہونے والی کتاب پر اپنا تبصرہ پیش کیا ہے۔
1915 میں پہلی مرتبہ شائع ہونے والی علامہ صاحب کی مثنوی ” اسرار خودی”کا انگریزی میں ترجمہ پروفیسر نکلسن نے علامہ صاحب کی اجازت سے 1920 میں کیا۔ اس کا ایک نسخہ علامہ صاحب کوبھی بھیجا۔ علامہ صاحب نے اس انگریزی ترجمے کی اصلاح کی اور چند تجاویز بھی دیں جن میں سے نوّے فیصد تبدیلیوں اور تجاویز کو دوسرے ایڈیشن میں قبول کیا گیا۔ ڈاکٹر درّانی نے علامہ صاحب کے اصلاح شدہ نسخے اور پروفیسر نکلسن کے شائع کردہ دوسرے ایڈیشن کا تقابلی جائزہ لیا ہے۔

ڈاکٹر صاحب موصوف نےبھی ڈاکٹر سعید اختر درّانی کی کتاب

 “The secrets of the self”

کے اصلاح شدہ متن کے ساتھ تقابل کرتےہوئے چند تسامحات کی نشاندہی بھی کی ہے۔ جن کی تعداد نو ہے۔

مجموعی اعتبار سے ڈاکٹر ظفر حسین ظفر کی یہ کاوش اقبالیاتی ادب میں بالعموم اور اقبال اور کشمیر کے تعلق کے حوالے سے بالخصوص ایک عمدہ اضافہ ہے۔ یہ کتاب نہ صرف اقبالیات کے قارئین کے لیے معلومات کا اہم خزانہ ہے بل کہ ادبیاتِ اردو اور کشمیریات کے طلبا اور اساتذہ کے علاوہ عام قارئین کے لیے بھی اہم علمی تحفہ ہے۔

Leave your comment !