ڈاکٹر صابر آفاقی


ڈاکٹر صابر آفاقی اردو ، پنجابی ، گوجری کے شاعر ، سفر نگار ، مترجم اور ماہر اقبا لیات تھے جنھوں نے اپنے علمی ورثے میں پچاس سے زائد کتابیں اور دو سو سے زائد تحقیقی مقالے چھوڑے ہیں- وہ مظفرآباد کے نزدیک ایک پسماندہ گاؤں میں 1933 میں پیدا ہوۓ- پنجاب یونیورسٹی سے اعلی تعلیم اور ایران سے پی ایچ ڈی کی- پنڈت کلہن کی ’راج ترنگنی ‘کے قلمی نسخوں کی تصحیح اور مستند متن کی بازیافت ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ تھا-انھوں نے 2011 میں وفات پائی -ان کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹرافتخارمغل ( شا عر ) بھی ان کے ساتھ ہی اس دارفانی کو ایک ہی دن چھوڑگئے-

اردو شاعری : شعر تمنا ‘ ،’ طلوع سحر،’ ثنائے بہاء‘، ’زمزمئہ روح‘ ، ’رشحات ابر‘ ، ’ خندہ ہائے بے جا ‘ ،’ نئے موسموں کی بشارت ‘ ’سارے جہاں کا درد ۔ گلہاۓ کشمیر

گوجری شاعری: ’ آرتھروں‘ , ،’ ہاڑا‘، ’ پھل کھیلی‘، ’ سانجھو کھلاڑو ‘، ’پیغام انقلاب‘ ’ کیسر کیاری

بھلیں بسری , فارسی شاعری, ’ در جستجوی سیارہ ای دیگر ‘

تراجم : ’ کشمیر اسلامی عہد میں۰ مری پرکنز کی انگریزی کتاب آور آف ڈان کا ترجمہ ’سوانح سید علی محمد باب ‘’ خاتون عجم ‘

سفر نامے :۔ ’کثرت نظارہ ‘۔’ خواب تھا جوکچھ کہ دیکھا‘۔

دیگر تصانیف: مظفرآباد‘ (مظفرآباد کی تاریخ ) ’اقبال اور کشمیر ‘ ’ جلوہ کشمیر‘ ’ عکس کشمیر‘

(بحوالہ پروفیسر عبدالکریم مظفر آباد ,آزاد کشمیر ریڈیو مظفرآباد۔ ,ڈیلی ڈان )