وقت ِ رخصت نہ کہا تھا کہ نہ آئیں گے کبھی 

کٹ گئی عمر اُمیدوں کے دیے بجھ نہ سکے

میرے سامنے اس وقت معروف شاعرہ سبین یونس کے دو شعری مجموعے “منزل سے ذرا دور”اور “دھوپ آنگن میں خواب”موجود ہیں -جو انہوں نے از راه ِ عنایت مجھے اُس وقت عطا کئے ،جب وہ معروف شاعر  احمد عطاء اللہ کی دعوت پر’روز نیوز ‘چینل  کی ٹیم کے ہمراہ ‘یکجہتی ِ کشمیر مشاعرہ ‘ کے سلسلے میں مظفرآباد تشریف لائی تھیں –

“منزل سے ذرا دور”اُن کا اولین شعری مجموعہ ہے،اور “دھوپ آنگن میں خواب” اُن کا دوسرا پڑاؤ ہے،اور اُن کا تیسرا شعری مجموعہ زیرِ ترتیب ہے-دونوں کتب “عکاس پبلی کیشنز اسلام آباد “نے بڑے اہتمام اور سلیقے سے شائع کی ہیں -ہر دو مجموعوں پر نامور شعراء و ادباء جن میں جناب افتخار عارف ،محترمہ کشور ناہید ،جناب محبوب ظفر اور جناب نثارناسک اوردیگر صاحبانِ نقد و نظر نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ،اور سبین یونس صاحبہ کی شعری تخلیقات کی بے حد تحسین کی ہے،انہیں ایک مستند اور کہنہ مشق شاعر ہ قرار دیا ہے-

ایک انسان کی زندگی میں مختلف واقعات پیش آتے ہیں ،غم ،خوشی،محبت حادثات و سانحات——-

اگر اس طرح دیکھا جائے تو سبین یونس صاحبہ کی زندگی میں سانحات کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے-ان کے بچپن ہی میں ان کے والد صاحب (مقبول حسین شہید)نے کشمیر کے محاذ پرپونچھ سیکٹر میں  جامِ شہادت نوش کیا،حکومت ِ پاکستان نے ان کی بہادری ،شجاعت اور جرآت کے صلے میں انہیں’ ستارہ جرآت’  پیش کیا۔

سبین یونس

شادی کے پندرہ سال بعد ان کی والدہ کا انتقال ہوا،اور والدہ کی تدفین میں شمولیت کے بعد ان کے شوہر (ونگ کمانڈر محمد یونس تمغہ امتیاز) اور جواں سال بیٹا جوادالحسن ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں جاں بحق ہوگئے –

یہ ایسے سانحات و حوادث  تھے ،جو کسی بھی انسان کو اعصابی طور پر توڑ کر رکھ سکتے ہیں ،بچھڑنے والوں کا صدمہ ،اولاد کی پرورش و تربیت ،نان جویں کے مسائل اور ان کا حصول، پہاڑ جیسے عفریت منہ کھولے کھڑے تھے،مگر سبین یونس نے کمال ہمت و استقلال اور صبر سے کام لیتے ہوئے اپنے دکھ شاعری میں سموکر غموں کا بوجھ کم کرنے کی کوشش کی،اور تلاشِ نان جویں کا سلسلہ بھی جاری رکھا-

[UNVERIFIED CONTENT] Masjid al-Nabawi

‘ ہے مشقِ سنخن جاری چکی کی مشقت بھی ‘

اور وہ ان سب مسائل سے سرُخرو بھی ہوئیں-

انہوں نے اپنے پہلے شعری مجموعے “منزل سے ذرا دور”کا انتساب اپنے والد صاحب اور شوہر کے نام کیا ہے  اور دوسرے مجموعے “دھوپ آنگن میں خواب”کا انتساب اپنی والدہ صاحبہ اور بیٹے جواد الحسن کے نام کیا ہے –

دنیا ادب میں خواتین قلمکاروں کا حصہ دوسرے شعبہ ہائے زندگی کی طرح نمایاں ہے ،ہر دور میں شاعرات نے اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کی ہے-اردو شاعری بھی شاعرات کے کلام سے مالا مال ہے, غزل میں نسائی لہجہ ،جمالیات و جذبات اور کیفیات کے اعلیٰ نمونے موجود ہیں -سبین یونس غزل اور نظم یکساں سہولت سے کہتی ہیں ،اور خوب کہتی ہیں ،آئیے دیکھتے ہیں———–

قدم جہاں بھی رکھا سسکیاں سنائی دیں 

نہ جانے درد جدائی سموگیا ہے کہاں

میں رہگزار کا ہر ذرہ ذرہ دیکھ چکی

غمِ جہاں مرے دل کو ڈبو گیا ہے کہاں

بہار آکے چمن سے گزر گئی ہوگی

مہک گلوں کی فضا میں بکھر گئی ہوگی

اداس چاند،ستارے بھی ماند لگتے ہیں 

ہمارے مٹنے کی ان تک خبر گئی ہوگی

کہتے تھے جو کہ تجھ کو ہے کس شے کی جستجو

اب کچھ ملے تو جاکے انہیں بھی خبر کریں 

کر لیتے ہم بھی خلد میں بس بندگی تری

دنیا میں دل جلانے کو بے کار آگئے 

خود اپنے پاس رکھ لے خدا اب عنایتیں

گزرے گی اب بھی جس طرح پہلے گزر گئی 

وہ تو کچھ ہوہی گئی تجھ سے شکایت ورنہ

آج تک میں نے کوئی شکوہِ بے جا نہ کیا

اے سبیں کھول دے اب آنکھ ذرا دیکھ جہاں 

زندگی درد کی بستی سے گزر آئی ہے

ہمارے ظرف کا ہے امتحاں یہ خانہ ویرانی 

جو دنیا خوش اسی میں ہےتو گھر برباد رہنے دے—

سبین یونس کی شاعری حالات کا نوحہ ہے-

وہ خود اپنے پہلے شعری مجموعے “منزل سے ذرا دور”کے ‘حرفِ آغاز ‘میں لکھتی ہیں “میں سوچتی ہوں کہ عمر کے ہر دور میں خوشیوں کی منزل دور سے دور ہوتی چلی گئی اور میں اپنی تمام حسرتوں کو اشعار کا روپ دیتی رہی شاید یہی میرے غم کا علاج تھا”———

خواب دیکھے ہوئے کچھ دن تو گزرجانے دو

خواب گر ٹوٹ گئے نیند نہیں آئے گی

اُٹھے ہیں آنکھوں میں خواب لے کر

گئی رتوں کا حساب لے کر

ہمیں دورِ غلامی کے وہی انداز از بر ہیں 

کہ اپنوں پر ستم ڈھاتے ہیں ہم اغیار کی خاطر

اپنی پرواز کی رفتار پہ کیا ناز کریں 

کن فضاؤں سے پرندوں کو بکھرتے دیکھا

نہ ہوسکی یہ خبر دل کو آرزو کیا تھی؟

نہ تھی تلاش تری گر تو جستجو کیا تھی؟

عشق کی کار گزاری کا تقاضا ہے خلوص

فاصلے طے ہی فقط صدق و صفا سے ہوں گے

چاروں طرف یادوں کا جنگل

دور تلک ہے راہ نہ منزل

بے حسی اوڑھنےمیں زمانے لگے

رنگ سارے خوشی کے فسانے لگے

غزلیات کے علاوہ انہوں نے بہت سی خوبصورت و دل گداز نظمیں سپرد قرطاس کی ہیں ،جن میں ‘اپنے شہید باپ کے نام ‘ یہ زندگی کو کیا ہوا’گھاؤ’ترجیح’

اور بہت سی قابلِ ذکر ہیں –

ان پر پھر بات ہوگی اس وقت ان کی ایک نظم ‘مشتے نمونہ از خروارے’پیش کرکے اجازت چاہوں گا———-

گھاؤ————-

ترے اختیار کی حد نہیں 

ترے فیصلوں سے مفر نہیں 

مرے دل کے گھاؤ

عمیق تر

ترے فیصلوں کی ہیں ضرب سے 

میں تری خوشی میں 

جو خوش رہی

تو مری خوشی کا حساب کر

کوئی ایسا دارو کہیں سے لا

مرے گہرے گہرے سے 

گھاؤ بھر————

سبین کشمیری النسل ہیں ،انہوں نے کشمیر کے سلگتے موضوع پر بھی بہت کچھ لکھاہے،اوراس طرح جہادِ کشمیر میں اپنے حصے کاحق ادا کیا ہے —-