پروفیسررضوانہ انجم

مہرو نے زبیر احمد کی بریل پر پھسلتی سانولی انگلیوں کو دلچسپی سے دیکھا۔وہ تیس نابینا بچوں کو لائیبریری کے پیریڈ میں بریل سے کہانی پڑھ کر سنا رہا تھا۔درمیانے سائز کے کمرے میں اسکی مردانہ آواز کا اتار چڑھاؤ،جملوں کی ادائیگی،تلفظ ایک چھوٹے سے جادو کی طرح بچوں کو متحئیر کر رہا تھا۔تیس بے نور آنکھوں والے بچوں کو جنکا نہ تصور تھا نہ تخئیل۔۔۔پرستان کی سیر کرانا بہت مشکل کام تھا۔وہ آنکھیں جنہوں نے کبھی خواب بھی نہیں دیکھے تھے انھیں سبز مخملیں گھاس،نیلے پانیوں والی جھیلوں،ہیرے جواہرات کے پھلوں سے لدے درختوں،درختوں پر کوکتے خوش رنگ پرندوں اور آسمان سے چھم چھم اترتی گلابی،سنہری،کاسنی پروں اور لباس والی پریوں کی لفظی تصویریں دکھانا بے حد مشکل تھا۔۔۔

لیکن مہرو کو لگا کہ درمیانے قد کاٹھ کے مالک اور لگ بھگ چالیس سالہ زبیر احمد کو اس فن میں کمال حاصل تھا۔۔۔۔

شاید وہ کمرے کے دروازے میں کھڑی کہانی سنتی رہتی کہ زبیر کی آواز نے اسے چونکا دیا۔۔۔

“اندر آجائیے میڈم۔۔۔۔یہاں ہر عمر کے بچوں کو کہانی سنائی جاتی ہے۔”

“آپ کو کیسے پتہ چلا کہ میں عورت ہوں؟”

“آپکی جوتی کی ہیل کی آواز اور پرفیوم سے،”

“You have very sharp senses.”

“بالکل۔۔۔جب آنکھیں نہ ہوں تو احساس شدید تر ہوتا ہے،”

“مجھے آپ کا انٹرویو لینا ہے اپنے میگزین کے لئیے۔”مہرو نے آنے کا مقصد بتایا۔

“انٹرویو تو بڑے لوگوں کا لیا جاتا ہے۔۔۔۔میں تو بہت عام سا انسان ہوں۔”وہ خوش دلی سے ہنسا۔

“چلیں ہم آپ کو خاص بنا دیں گے۔”مہرو بھی ہنسی۔

“لیکن مجھے کبھی خاص بننے کا شوق نہیں رہا۔”وہ پھر ہنسا۔۔۔اور مہرو نے دیکھا کہ ہنستے ہوئے اسکی بےنور آنکھوں میں عجیب سی زندگی اور چمک آجاتی تھی۔

“آپ کب تک فارغ ہونگے کلاس سے؟”

“بس دس منٹ اور۔۔۔۔”

“ہاں۔۔۔تو بچو ہر وہ جگہ پرستان ہوتی ہے جہاں ہم خوش رہتے ہیں۔۔۔۔اور پری زاد اور پریاں ہم خود ہی ہوتے ہیں بچو۔۔۔۔کہانی ختم۔۔۔” اب سب لائن بنا کر گراؤنڈ میں جاؤ اور کھیلو۔۔۔”اس نے بڑی شفقت سے کہا۔

تیس بچوں نے از خود لائن بنائی سب باری باری اسکے پاس ائے۔۔اسکے گلے لگے۔۔اس نے ہر بچے کو بڑے لاڈ سے تھپکا۔محبت اسکے ہاتھوں کی ہر جنبش میں موجود تھی۔

“I am impressed by your love towards children.”

“محبت ہمیشہ متاثرکن ہوتی ہے۔۔۔بشرطیہ کہ اصلی ہو۔۔۔”

انٹرویو شروع کریں؟

جی۔۔۔

“آپ نے بلائنڈ ہونے کے باوجود انگریزی ادب جیسے مشکل مضمون میں ایم۔فل کیا۔۔کیوں؟”

“مجھے آسان کام اچھے نہیں لگتے۔چیلنج بہت پسند ہیں۔

رشتے دار والدین سے کہتے تھے اسے ہاتھ کا ہنر سکھاؤ۔کما سکے گا۔۔۔۔میں نے کہا مجھے اپنا ذہن استعمال کرنا ہے۔۔۔۔

اور مشکل مضمون پڑھنا ہے۔۔۔۔مجھے کتابوں اور ادب سے عشق تھا۔۔۔۔اور عشق ہمیشہ جیتتا ہے۔۔۔”

مہرو کو لگا اسکی ریڑھ کی ہڈی میں ایک گرم سی لہر سرسرائی۔۔۔۔ایک مرتبہ اس نے ابا سے بالکل یہی بات کی تھی جب وہ اسے جرنلزم پڑھنے سے روک رہے تھے 

کہ کیا کرو گی پڑھ کر۔۔؟۔۔۔اور مہرو نے کہا تھا۔۔۔

“ابا۔۔۔مجھے لکھنے سے عشق ہے۔۔۔اور عشق ہمیشہ جیتتا ہے۔”

“اتنی بڑی ڈگری لیکر ایک قصباتی شہر کے چھوٹے سے بلائنڈ ادارے میں کام کر رہے ہیں…کیوں؟”

زبیر احمد نے چند لمحے توقف کیا اور پھر کہا،

“کیونکہ انکا درد اور کرب جتنی اچھی طرح میں سمجھ سکتا ہوں کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔۔۔۔اور زندگی کا جو شعلہ میں ان میں روشن کر سکتا ہوں۔۔۔۔کوئی اور نہیں کرسکتا۔۔۔۔”

“آپ خواب دیکھتے ہیں؟۔۔۔اصلی والے؟”

“خواب تو خواب ہوتے ہیں۔۔۔انھیں حقیقت بنانا پڑتا ہے۔”

وہ اپنی جاندار ہنسی ہنسا۔۔۔۔

“میرے خواب آوازیں ہوتے ہیں۔۔۔۔ان آوازوں کو تصویروں میں۔۔۔میں خود ڈھالتا ہوں۔”

“کیا آپ میری آواز کو تصویر میں ڈھال سکتے ہیں؟”

مہرو کے منہ سے لفظ بے اختیاری میں پھسلے۔

ایک لمحے کو وہ چونکا۔۔۔۔پھر بالکل نارمل ہو کر کہا۔۔

“جی آپ بہت مضبوظ عورت ہیں۔۔۔اور بہت مختلف بھی۔۔۔اس لئیے زندگی میں بہت تکلیفیں اٹھائیں گی۔۔۔لیکن آپ مشکلوں کے ساتھ خوش رہنے والے لوگوں میں سے ہیں۔”

مہرالنسا حبیب نے ایک لمحے کو سوچا۔۔۔۔

“۔تو شاید میری ماں ہی دے سکتی ہیں۔۔definitionمیری اس قدر مختصر اور جامع”

“آپ خود پڑھ نہیں سکتے پھر اتنی کتابیں۔۔۔میرا مطلب ہے اتنی ساری عام کتابیں کیوں جمع کر رکھی ہیں؟”

مہرالنسا نے لکڑی کے بڑے بڑے بک شیلفوں میں سلیقے سے رکھی کتابوں کو دیکھ کر پوچھا۔

“کتاب میری کمزوری ہے۔۔۔۔میرا اوڑھنا بچھونا ہے۔۔۔مجھے انھیں چھونا۔۔۔محسوس کرنا۔۔۔سونگھنا بھی اچھا لگتا ہے۔۔۔۔میری ان دیکھی دنیا انھی میں بند ہے۔۔۔۔جب جی گھبراتا ہے کسی سے کہتا ہوں پڑھ کر سنانے کو اور خود ان لفظوں کو بریل میں منتقل کرتا رہتا ہوں۔”

“کتاب کسی کو پڑھنے کو دیتے ہیں؟” مہرو نے چھیڑا۔

“نہ۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔کوئی اپنی زندگی کسی کو دیتا ہے؟اپنے خواب کسی کو دیتا ہے؟”وہ بھی شرارت سے ہنسا۔

“گویا کہ کنجوس ہیں؟”

“کچھ بھی سمجھ لیں…جان جائے پر کتاب نہ جائے۔”

اور وہ دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑے۔

ماحول میں کچھ ایسا تھا۔۔۔۔ جو انھیں ذہنی اور روحانی طور پر نذدیک کر رہا تھا۔۔۔۔۔کبھی کبھی کچھ انسانوں سے مل کر لگتا ہے کہ جیسے ہمارے اور ان کے وجود کی مٹی کا خمیر،کیمسٹری،رنگت اور خوشبو ایک جیسی ہو۔۔۔۔جیسے ہم ایک دوسرے کو بہت اچھے سے جانتے ہوں۔۔۔۔۔اور وہ بڑا خوبصورت وقت ہوتا ہے جب ہم ایسے انسانوں سے ملتے ہیں۔۔۔

آخری سوال؟۔۔۔۔کوئی پیغام دینا چاہیں گے۔۔۔۔؟

“ہممممم۔۔۔۔۔دیکھنے کا دکھ نہ دیکھ سکنے کے دکھ سے زیادہ بڑا ہوتا ہے۔۔۔۔۔اس لئیے آنکھوں والے بھی کچھ کم بد نصیب نہیں ہوتے۔”

انٹرویو ختم ہو گیا۔کافی بھی پی لی گئی۔شام بھی ہونے کو تھی۔مہرالنسا حبیب نے شکریہ ادا کرتے کرتے لمحے کے ہزارویں حصّے میں ایک فیصلہ کیا۔۔۔

کیا آپ کو میرے ساتھ کی ضرورت ہے؟”اس نے زبیر احمد سے پوچھا۔”

چند بوجھل اور مشکل ترین لمحے ان دونوں کے درمیان تھمے رہے۔پھر زبیر احمد نے بڑے صبر سے کہا،

“میں چہکتے ہوئے پرندوں کو اندھیرے کمروں میں بند کرنے کا قائل نہیں ہوں، آپ مجھ سے بہت بہتر انسان کی حقدار ہیں۔”

زبیر احمد مہرو کو ادارے کے مین گیٹ تک چھوڑنے آیا۔

سورج غروب ہونے کو تھا۔مہرو نے آخری بار نازک سفید چھڑی کے سہارے کھڑے مظبوط انسان کو دیکھا اور گیٹ سے باہر نکلنے ہی کو تھی کہ اس نے غیر متوقع طور پر 

زبیر احمد کو کہتے سنا۔

“آپ مجھے یاد رکھیں گی؟؟”

مہرالنساحبیب اپنے قدموں پر گھومی اور بہت یقین ،بے حد محبت سے کہا،

“ہمیشہ۔۔۔۔۔یہ بار محبت بار وفا بن کر ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا۔”

سورج غروب ہو کر دو حساس ترین انسانوں کے ذہنوں میں ہمیشہ کے لئیے طلوع ہورہا تھا۔۔۔۔۔۔۔کبھی غروب نہ ہونے والا سورج۔۔۔۔