محمد زبیر خان- متحدہ عرب امارات / راولاکوٹ 

حضرت محمّد صلی الله علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے .”سب سے بڑی عبادت “انسانیت کی خدمت ہے”۔حقیقت میں انسانیت کی خدمت ہی اصل عبادت ہے.مخلوق خدا کی خدمت کرنا اور ان کی مشکل وقت میں مدد کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔خدمت کے جذبوں سے سرشار بے شمار لوگ آپ کو اس معاشرے کے اندر ملیں گے جن کی وجہ سے یہ معاشرہ ابھی تک قائم و دائم ہے۔ خدمت خلق کے جذبے سے بے شمار لوگ عوام کی فلاح و بہبود کا کام کر رہے ہیں۔ اور بڑی بڑی فاؤنڈیشنز خدمت خلق کے لیے پیش پیش ہیں۔ مگر آج میں آپ کو ایک ایسے شخص کی کہانی سناؤں گا  جو خود مستحق ہے مگر اس کے اندر جذبہ انسانیت اس قدر پایا ہے کہ وہ اپنی اور اپنے بچوں کی پروا کیے بغیر ان افراد کے لیے کوشاں ہے جن کو اس معاشرے میں ہم سب کی ضرورت ہے۔ یہ کہانی ایک رکشہ ڈرائیور فرید قریشی کی ہے جو مظفرآباد میں کرائے کا رکشہ چلا رہا ہے۔ فرید قریشی عرصہ آٹھ نو سال سے یتیموں، ناداروں اور معذروں کے لیے فری سفر کی سہولت مہیا کر رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اپنے والدین اور اپنی ہم سفر شریک حیات کے ایصال ثواب کے لیے اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ اس کی بیوی جو کہ معذور تھی اس دنیا سے چل بسی۔۔ فرید نے ہمت نہیں ہاری اور رہتی دنیا میں اپنی شریک حیات کے لیے وہ کر دکھایا جو ہم سب کو بھی کرنا چاہیے۔  

ارے باغ تو یہ بتا تیرے باغبان کتنے ہیں

میرا تو ایک ہی باغبان تھا جو مجھ سے بچھر گیا

ایک رکشہ ڈرائیور کی کیا آمدنی ہو سکتی ہے جس سے وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکتا ہو اور رکشے کا ماہانہ کرایہ بھی ادا کرتا ہو۔ پھر بھی اس انسانیت دوست کا ایک ہی پیغام ہے جو ہم سب کو جھنجوڑ رہا ہے کہ آؤ کسی غریب کے سر پر ہاتھ  رکھوباس کا دست بازو بنو۔۔۔ آج بھی یہی پیغام لیے فرید قریشی اپنی محنت اور خدمت کو جاری و ساری رکھے ہوئے ہے۔ ” یتیموں بیواؤں، ناداروں اور معذروں کے لیے آگے آؤ اور ان کے سر پر سایہ شفقت رکھو۔”

ذرا سوچیے! ۔۔۔۔ یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ایک ایسا انسان جس کے پاس اپنا کچھ بھی نہیں ہے اور وہ انسانیت کی خدمت کے لیے ہمہ وقت پیش پیش ہے اور ایک وہ ہیں جن کو اللہ نے بہت سی نعمتوں سے نوازہ ہے۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے صاحب حیثیت بنایا ہوا ہے۔۔۔۔ کیا ہی ہو اگر ہم سب بھی فرید قریشی کی طرح مخلصانہ طور پر انسانیت کی خدمت کے لیے اپنے آپ اور اپنے جان و مال کو پیش کر سکیں۔ 

اسلام صرف عبادات کے مجموعے کا نام نہیں ہے بلکہ زندگی گزارنے کے ہر پہلوؤں کے بارے میں واضح ہدایت دیتا ہے۔ بہترین انسان دوسرے انسانوں کی بوقتِ ضرورت بڑھ چڑھ کر مدد کرتا ہے۔ اللہ اپنے بندوں سے 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے، پھر بھلا وہ کیسے اپنے بندے کو مشکل میں تنہا چھوڑ سکتا ہے۔ علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں۔ “خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارےمیں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا۔ مدد یا ہمدردی کرنے سے اللہ بھی راضی ہو گا اور معاشرہ بھی خوشحال ہو گا۔

فرید قریشی کی اس کہانی میں ہمارے لیے ایک اور فکری پہلو بھی موجود ہے۔ جو آج کل نا ہونے کے برابر ہے۔ فرید قریشی نے اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے والدین اور شریک حیات کے لئےآخرت کا سامانںہی نہیں بلکہ اپنے لیے بھی آخرت کو سنوار دیا۔ یہی ہیں وہ لوگ جو دنیا و آخرت میں سرخرو ہوں گے۔ میں سلام پیش کرتا ہوں مظفرآباد کے اس ایدھی کو جو زیادہ نا ہونے کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے پر شکر گزار ہے، اور ایک ہم ہیں کہ باوجود آسائشوں کے اس رحمٰن کےبندوں کے لیے کچھ بھی نہیں کرتے۔ اللہ پاک جب انسان کو کسی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ وہ ان تمام لوگوں کو بھی آزمائش میں ڈالتا ہے کہ وہ اس رحمٰن کے بندے کا خیال کرتے ہیں کہ نہیں۔ جو اس آزمائش میں کامیاب ہو گیا وہ دونوں جہانوں میں کامیاب ہو گیا۔ اس کے لیے دینا اور آخرت دونوں میں کامیابی ہو گی۔ 

ہمارے معاشرے میں آج بھی درد دل رکھنے والے ایسے افراد موجود ہیں جن کی کاوشوں، خلوص و ہمدردی، پیار و محبت سے یہ معاشرہ آباد ہے۔ انہی درد دل رکھنے والے دوست احباب سے میں اپیل کروں گا کہ خدا راہ اس غریب کی مدد کے لیے سامنے آئیں اس بھائی کے لیے صدقہ جاریہ دیں تاکہ ایک غریب جو کہ خود انسانیت کے فلاح کے لیے کوشاں ہےہم اس کے ساتھ محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہوئےاس کو ایک اپنا رکشہ خرید کر دے سکیں۔ جس سے وہ اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ بھی بھر سکے اور ساتھ ہی ساتھ یتیموں، ناداروں، حقداروں اور معذروں کی خدمت بھی کر سکے۔ یقین کیجیے اللہ کی راہ میں دیا ہوا مال کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے اللہ کے ساتھ پارٹنرشپ کیجیے۔ آپ اللہ کی راہ میں ایک گنا دیں گے اللہ پاک آپ کو دنیا میں اس کا دس گنا اور آخرت میں ستر گنا آپ کو لوٹائے گا۔ یہ دنیا فانی ہے ہر کسی نے کوچ کر کے دارلبقا کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ جہاں نہ ہی آپ کے ساتھ آپ کی فیملی ہو گی اور نا ہی آپ کے حلقہ احباب ہوں گے۔ وہاں یہی نیکی ہو گی جو صدقہ جاریہ کی صورت میں ہم سب کے لیے بخشش کا ساماں بنے گی۔ دنیا کی ان آسائشوں کو چھوڑ کر آخرت کے لیے تیاری کریں کیا پتہ کس وقت بلاوا آجائے۔ اور ہم واپس لوٹ جائیں۔

میری آپ تمام مخیر حضرات سےہمدردانہ اپیل ہے کہ میرے اس بھائی کے لئے حسب توفیق جو آپ سے تعاون ہو سکے اس کے لیے ضرور کریں تاکہ اس کے لیے ایک رکشہ کا بندوبست ہو سکے۔ جو کہ اس کا اپنا ہو۔  اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں۔ ’’مردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقات دینے والے ہیں اور جنہوں نے اللہ کو قرضِِ حسنہ دیا ہے، اُن کو یقینا کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا، اور ان کے لیے بہترین اجر ہے۔ اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں، ان کے لیے ان کا اجر ان کا نور ہے۔ خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہوگئے، پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی، پھر وہ بُھس بن کر رہ جاتی ہے۔‘‘ (سورہ حدید۔ 20-18)

کہتے ہیں قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے اور پھر دریا مل کر ایک سمندر کی شکل اختیار کرتا ہے۔۔۔ آئیں سب قطرہ قطرہ جمع کریں اور اس بھائی کی سپورٹ کر سکیں۔ اس سلسلے میں آپ باغبان ویلفیئر فاؤنڈیشن راولاکوٹ آزاد کشمیر کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔یا براہ راست فرید قریشی سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ آپ بھائیوں میں سے جو بھی اس کار خیر میں اپنا حصہ ادا کرنا چاہتا ہے وہ آگے آئے اور بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کرے۔ آپ کا دیا ہوا پانچ سو یا ہزار روپیہ یہ بھائی کی زندگی میں نئی امیدیں لا سکتا ہے۔

 اللہ رب العزت نےمسلمانوں پر یہ واضح کیا کہ زکوة مال و دولت کو پاک کرتی ہے بالکل اسی طرح جس طرح روزہ جسم کو ہر بیماری سے پاک کر دیتا ہے۔

میں اکیلا ہی چلا تھاجانبِ منزل مگر 

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ زندگی دوسروں کی مدد کرنے کے لیے دی ہے۔حقوق العباد کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور اللہ قیامت میں بھی معاف نہیں کرے گا۔اس لیے اسلام میں قربانی اور ایثار کو بہت اہمیت حاصل ہے۔لہذا ہم جہاں تک ممکن ہو دوسروں کے کام آئیں۔

اس امید کے ساتھ کہ آپ ہمیں مایوس نہیں کریں گے اور اس بھائی کے لیے لئے دل کھول کر تعاون کریں گے۔ جو بھی احباب اپنے عطیات، صدقات اور عیدالفطر دینا چاہتے ہیں وہ رابطہ کر سکتے ہیں۔ تاکہ اس بھائی کو اس کا حق اس کی دہلیز پر دیا جا سکے۔۔