تحریر : ڈاکٹر عتیق الرحمن ۔ ڈائر یکٹر  کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف اکنامکس
کروناصرف ایک وبائی بیماری نہیں، یہ ایک عالم گیر معاشی بحران بھی کا پیش خیمہ بھی تھا۔ بہت ساری معیشتوں نے حالیہ تاریخ کی بدترین کساد بازاری کا مشاہدہ کیا۔ 2020 کی پہلی ششماہی میں کچھ ممالک کی جی ڈی پی میں 10 فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے اور اقوام متحدہ کے150 سے زیادہ  رکن ممالک کے  جی ڈی پی میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ایسی صورتحال میں ، کوئی بھی ملک سرکاری محصولات یا دوسرے ممالک سے مالی اعانت میں غیر معمولی بہتری کی توقع نہیں کرسکتا ہے۔ ان سب کے باوجود ، بہت سارے ممالک نے اپنے شہریوں کو مالی بحران سے باہر آنے کے لئے بہت بڑے پیکیج فراہم کیے۔ مثال کے طور پر ، کینیڈا  کی کل سرکاری آمدن  2019 میں تقریبا 330 ارب کینیڈین ڈالر تھی جب کہ 2020 میں سارے حکومتی اخراجات کے علاوہ صرف کرونا ریلیف کیلئے 350 ارب  ڈالرسے  زیادہ کاپیکیج فراہم کیا گیا، باوجود اس کے کہ کینیڈا 2016 سے مسلسل خسارے کا بجٹ چلا رہا تھا۔ اسی طرح سال 2019 کے لئے اٹلی کا کل بجٹ لگ بھگ 850 بلین یوروتھا اور 2020 میں اٹلی نے  ریلیف پیکیج کے طور پر 500 بلین یورو اور قرض کی سرکاری ضمانت کے طور پر  700  ارب یورو فراہم کیے ۔ جرمنی ، نیوزی لینڈ ، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور برطانیہ ان ممالک میں شامل ہیں جن میں کرونا ریلیف پر  بہت زیادہ فراخدلی سے خرچ کیا گیا۔  گذشتہ کئی سالوں سے خسارے میں چلنے والی حکومتوں کے لئے اتنے بڑے ریلیف پیکیج کا انتظام کیسے ممکن ہے کہ صرف کرونا ریلیف پیکیج  تمام تر ٹیکس وصولیوں سے بڑھ جائے  ؟
خودمختار حکومتوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جب بھی ضرورت ہو اپنے مرکزی بینکوں کو استعمال کرکےرقم پرنٹ کر لیں۔ متذکرہ بالا ممالک  نے اپنے مرکزی بینکوں کو پیکیج فراہم کرنے کے لئے استعمال کیا۔ اتنےبڑے پیکیجز کی فراہمی کے پس پردہ یہی راز  ہے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خود مختار حکومت کے پاس بغیر کسی قیمت کے پیسہ بنانے کا اختیار ہوتا ہے تو وہ  ٹیکس جمع  کیوں کرتی ہیں سیدھا پیسے پرنٹ کیوں نہیں کر لیتیں ؟
رقم کی تخلیق میں  بہت محتاط طرزعمل کی ضرورت  ہوتی ہے۔ اگر معاشی سرگرمی میں توسیع کے بغیر رقوم پرنٹ کی جائیں تو صرف قیمتوں میں ہی اضافہ ہوگا۔ مثال کے طور پر ، فرض کریں کہ ایک معیشت 10 کلو  گھی تیار کررہی ہے ، اور اس  معیشت میں کل پیسہ 100 ڈالر ہے ، توایک کلو گھی کی قیمت 10 ڈالر ہوگی۔ اگر  معیشت میں پیداواربڑھائے بغیر کرنسی بڑھا کر400 ڈالر کر دی جائے تو گھی  کا ایک کلو 40 ڈالر میں فروخت ہوگا۔ لیکن فرض کریں کہ نئی کرنسی گھی کی نئی مقدارپیدا کرنے کے لئے استعمال کی گئی تو رقم کا پرنٹ کرلینامہنگائی کا سبب نہیں بنے گا ۔ کرنسی پرنٹنگ میں تیزی سے توسیع کی وجہ سے ماضی قریب  میں کچھ ممالک کو شدید ترین افراط زر  کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مثال کے طور پر  2006 میں  زمبابوے کے مرکزی بینک نے اپنا کچھ قرض واپس کرنے کے لئے رقم چھاپنے کا اعلان کیا ، اور اس کے اگلے سال افراط زر قابو سے باہر ہو گیا۔ 2007 میں  افراط زر 1000،000فیصد سالانہ سے تجاوز کر گیا اور آخر کار زمبابوے کو 2009 میں اپنی کرنسی ترک کرنی پڑی۔
تاہم  اگر  نئی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے کرنسی پرنٹ کر دی جائے تو  ضروری نہیں کہ افراط زر پیدا ہو۔ در حقیقت معیشت میں نئی رقوم پرنٹ کر کے فراہم کرنا معاشی بدحالی سے نکلنے کا آزمودہ نسخہ ہے۔  جان مینارڈ کینز کو بیسویں صدی کے سب سے بااثر معاشی ماہر  کے طور پر جانا  جاتا ہے۔ معاشی کساد بازاری  سے نکلنے کے لئے کینز نے  تجویز کیا کہ  ’’حکومت  زمین میں گڑھے کھودنے کیلئے رقم خرچ کرے  اور پھر ان  ہی گڑھوں کو پُر کرنے کے لئے دوبارہ رقم خرچ کرے‘‘۔ کینز کی تجویز کا مطلب یہ ہے کہ بحران کے وقت حکومتوں کو منصوبہ کی موزونیت کی پرواہ کئے  بغیر خرچ کرنا چاہئے۔ جب ہم معاشی کساد بازاری کے بارے میں بات کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ محصولات میں کمی واقع ہوئی ہے اور حکومتیں ایسے  میں ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات کو صرف نئی کرنسی سے ہی پورا کر سکتی ہے۔
 کرنسی پرنٹنگ یا مالیاتی توسیع کا استعمال 2007-8 کے عالمی مالیاتی بحران پر قابو پانے کے لئے کیا گیا تھا ، اور حالیہ وبائی بیماری کے مالی اثرات سے نمٹنے کے لئے حکومتوں کا مقبول ترین ہتھیار مالیاتی توسیع ہی ہے۔
پاکستان میں بے شمار مادی اور انسانی وسائل غیر استعمال شدہ دستیاب ہیں۔ ہمارے پاس لاکھوں ایکڑ اراضی  بنجر ہے جس کوکارآمد بنانے کی ضرورت ہے ۔لاکھوں ایکڑ فٹ پانی سمندر میں بہہ رہا ہے اور لاکھوں  نوجوان بے روزگار بیٹھے ہیں۔ اگر نئی کرنسی پرنٹ کر کے ڈیم کی تعمیر کیلئے استعمال کر لی جائے یا بنجر  زمین کوکارآمد بنانے  کیلئے استعمال کی جائے تو  یہ خالصتا نئی معاشی سرگرمی ہوگی جو موجودہ معیشت پر ایک نیا اضافہ ہوگا۔ معیشت میں اس توسیع کیلئے استعمال ہونے والی رقوم افراط زر کا سبب نہیں بنیں گی۔ اس توسیع سے  نئے مالی وسائل بھی پیدا ہوں گے اور نوجوانوں کے لئے نئی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی۔
ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جہاں حکومتوں نے نئی کرنسی کو بے تحاشا استعمال کیا لیکن افراط زر نہیں پیدا   ہوا۔ چند مثالوں کا تذکرہ مضمون کی ابتدا میں بیان کیا گیا۔  برطانیہ نے حالیہ وبا کے دوران چھوٹے کاروبار اور کساد بازاری کی وجہ سے جبری چھٹی پر جانے والوں کیلئے یہ اعلان کیا کہ ان کی آمدن کا 80 فیصد حکومت فراہم کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت برطانیہ نے شرح سود 0.7 فیصد سے کم کر کے 0.1 فیصد کردی لیکن اس کرنسی پرنٹنگ یا شرح سود میں کمی سے کوئی افراط زر پیدا نہیں ہوا بلکہ افراط زر میں کمی ہوئی ۔ کرونا سے پہلے برطانیہ میں افراط زر 1.79 فیصد تھا جو  کم ہوکر 0.77 فیصد رہ گیا ہے۔
پاکستان کی جانب سےکفایت شعاری کے اقدامات نے معاشی کساد بازاری میں مزید اضافہ ہی کیا ہے۔ جب پی ٹی آئی کی حکومت نے سنہ 2018 میں اقتدار سنبھالا تو ، اسٹیٹ بینک سے حکومت کا قرضہ تقریبا 5300 ارب تھا۔ حکومت نے اسٹیٹ بینک سے مزید قرض لینے پر پابندی عائد کردی اور سٹیٹ بنک کے قرض کو ادا کرنے کے لئے تجارتی بینکوں سے قرض لیا۔ اس اقدام  کا مقصد افراط زر پر قابو پانا تھا ، لیکن موجودہ حکومت کے پورے دور میں افراط زر پچھلی حکومت کے مقابلے میں زیادہ رہا ہے، جو کفایت شعاری کی پالیسی کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ جب حکومت اسٹیٹ بینک سے قرض لیتی ہے تواس پر ادا ہونے والا سود سرکاری خزانے میں واپس آجاتا ہے،  لہذا  عملی طور پر یہ  بغیر سود قرض کی ایک قسم ہے۔ سٹیٹ بنک کی بجائے جوتجارتی بینکوں سے قرض لئے گئے، ان  قرضوں  پر لاگو سوداب تجارتی بینکوں  کے خزانے میں جائے گا۔
حکومت کے پرائیویٹ بنکوں سے قرض لینے کے نتیجے میں  ایک طرف کاروبار کیلئے دستیاب رقوم میں کمی واقع ہوئی، جبکہ دوسری طرف سود کی ادائیگی کی مد میں  سیکڑوں ارب کا بوجھ سرکاری خزانے پر بڑھ گیا۔
اس وقت حکومت کو ایک  توسیع پسندانہ  مالیاتی پالیسی کی ضرورت ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ڈیم اور سڑکوں جیسے ترقیاتی منصوبوں پر بے دھڑک اور بے دریغ  خرچ کرے ، تاکہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ پاکستان کے پاس بے شمار قدرتی وسائل اور ہنرمند افراد دونوں کی بہتات ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ مالیاتی خودمختاری کو بروئے کار لاتے ہوئے، سٹیٹ بنک کے زریعے مالی وسائل فراہم کئے جائیں تاکہ ایک نئی معیشت جنم لے سکے