وہاں  کے نفسیا ت دانوں، محققین اور ارباب صحت کو اس بات کی تشویش ہوئی..اور بہت زیادہ ہوئی کہ ایک ایسا ملک جس
 میں ایک فرد کی اوسط عمر 70سے 75سال ہے وہاں ریٹائرمنٹ کے کچھ سالوں بعد اچھے خاصے صحت مند اور دوران ملازمت تندرست و توانا ملازمین اتنے جلدی کیوں مر جاتے ہیں۔

ہمارے ملک کی طرح وہاں ایسے مظاہر  اور غیر معمولی واقعات پر   مٹی پانے یا فطرت کا ازلی نوشتہ تصور کرنے کا رواج نہ تھا۔پس  سنجیدہ تحقیق ہوئی،عقل کے گھوڑے دوڑائے گئے، اعداد و شمار اکٹھے کیے گئے۔پھر جدید تجزیاتی آلات شماریات سے تحقیق کر کے یہ نتائج اخذ کیے گئے کہ اس  مخصوس طبقہ کے  افراد   میں  قبل از وقت مرگ کی بڑی وجہ پیشہ وارانہ تگ ودو اور مثبت سرگرمیوں کی ایک مسلسل مدت بسیار کے بعدیک دم معطلی  ہے۔

لہذا سفارش کی گئی کہ ریٹائر ڈ افراد  کو بچایا جائے اوران کے  بیش بہا علمی و انتظامی تجربات سے فائدہ اٹھا یا جائے۔۔ ان کے لئے ایسا ماحول تشکیل دیا جائے  جہاں ہر طرح کی سہولیات ہوں جس میں ان کی تمام ذہنی،جسمانی،نفسیاتی اور روحانی ا حتیاجات وخواہشات کی تسکین ہو اور وہ ایسی سرگرمیاں بھی انجام دے سکیں جس سے ملک اور قوم کا فائدہ  ہو۔ان سفارشات پر عمل ہو ااور اس کے انتہائی مو ثراور عمدہ  نتائج برآمد ہوئے۔

کیرئیر کو نسلنگ سے لے کر لکھنے  لکھانے بلکہ تمام شعبوں میں چیزیں  حیرت انگیز طور پر بہتر ہو  ئی….نئی  تحقیقات کی بنیاد پڑی ۔مگر سب سے اہم  کا میابی جو  اس زریں عمل  سے  برآمدہوئی وہ یہ کہ اگلے دس سال میں ملازمت اور کاروبار سے سبکدوش افراد کی اوسط عمر دس  سے پندرہ سال بڑھ گئی۔۔اور جسمانی عوارض کی طرف تیزی سے مائل قابل  لحاظ تعداد  ٹھیک ٹھاک ہو کر اپنی زندگیاں پوری سرگرمی  اور بھر پور طریقے سے اداکرنے لگیں۔

ایسا تجربہ  امریکہ کی ایک ریاست کیلفورنیا میں ہوا جسے ازاں بعد دیگر جگہوں پربھی دہرایا گیاجس کے انتہائی مثبت نتائج برآمد ہوئے۔ہمارے ملک میں بحالی کے ایسے  ماڈل کا سوچنا دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہے۔تاہم اس کے ساتھ ہمارے ہاں ذہنی پسماندگی،رجعت خیالی،لگی لپٹی سوچ،اور حاوی  رویاتی رجحانات کے سبب اس طرح کے مباحث اور ا ن کے تئیں کوئی لائحہ عمل کا سو چنا عنقا ہے۔

ہمارے ہاں ریٹائرڈ ملازمین اور ڈھلتی عمرکے افراد پچھلے ایک عشرہ سے نت  نئی بیماریوں کا شکار ہیں۔تاہم ماہرین نفسیات اور ذہنی سائنس کے ماہرین نے عملی تحقیق اور تفتیش،جائزہ اور پڑتال کے بعد ایسے ماڈلز پیش کیے ہیں جن پر عمل پیرا ء ہو کر ایسے  تمام  افراد  نہ  صرف تند درست اور لمبی زندگی گزار سکتے ہیں بلکہ اپنے خاندان،سماج اور پورے ملک کو اپنے علم،تجربہ اور انتظامی صلاحیتوں سے  بیش  بہا فا ئدہ بھی پہنچا سکتے ہیں۔

جن  ذہنی،  طبعی اور نفسیات سے متعلقہ  سائنسز  کے ماہرین نے اس مظہر پر  قابل قدر تحقیق کی اُن  میں اسٹیفن  کوے   سب سے اہم شمار  کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے  ڈھلتی عمر، پیرانہ سالی کے سبب  ملازمت  اورکاروبار سے سبکدوش   تمام افراد کے لیے تجدید نو کا ماڈل پیش کیا ہے جس پر عمل پیرا ہو کر ہم نہ صرف  اچھی جسمانی اور ذہنی صحت کے ساتھ ایک عمدہ زندگی گزار سکتے ہیں بلکہ متوقع حد عمر میں  اضافہ کو بھی ممکن بنا سکتے ہیں۔

ان نفسیات دانوں اور اطباء صحت کے خیال میں یہ ماڈل طبعی ،زہنی  روحانی اور سماجی اجزاء سے مرکب ہے۔
طبعی یا جسمانی عنصر میں متوازن غذا ،ورزش، آ رام اور دیگرمعمولات  شامل ہیں۔ماہرین کے خیال میں ورزش میں کھیل کود،تفریح،واک سب شامل ہوتا ہے۔مگراُن کے خیال میں انسانی جسم کے اہم اعضا ء والی ورزشیں لازمی  طور پر شامل ہونی چائیے..

خصوصاََ سانس چڑھانے والی ورزشیں جس میں دل کی دھڑکن بڑھتی ہو۔ ان اطباء کے خیال میں دل ایک ایسا عضو ہے جس کی براہ راست ورزش نہیں ہو سکتی۔لہذا  ایسی ورزش جو دل کی دھڑکن کو ہر دن تقریباََ 100بار فی منٹ اوراس تعدد  کوتین سے پانچ منٹ تک لگاتار بڑھا سکتی  ہو  ڈھلتی ہوئی عمر کے افراد کے لئے انتہائی اہم  قرار دی جاتی  ہے۔ اسی طرح لمبی سائنسوں کی ورزش جس میں آپ معمول سے زائد۔۔تقریباً دوگنا اکسیجن  جسم میں لے جاتے ہوں۔

یہ ورزش پھیپھڑوں کے لئے مؤثر اور پورے بدن کی چوکسی اور مستعدی کے لئے ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ واک،چہل قدمی اور چھوٹی موٹی جسمانی ورزشیں مستقل  بنیادوں پرجاری رکھنی چاہیے۔ آج کل ہمارے ہاں دل اور زیابیطس کا مرض قبل از وقت در آیا ہے۔

ریٹائرڈ اورڈھلتی عمرکے افراد اس کی زیادہ زد میں ہیں۔لہذا  باقاعدہ ورزش کو اپنا معمول بنانا،صحت مندانہ زندگی کے لئے ایک ایسا  لازمہ  ہے جسے دیگر مصروفیات کے سبب نظر انداز نہیں کرنا چایئے۔
زہنی پہلو پر توجہ بھی بنیادی اور  انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ہمارے  جسمانی افعال وظائف ہماری زہنی سرگرمیوں اور روایہ جات سے جنم لیتے ہیں۔ عموماً  زہنی نشو ونما اور تربیت کو ہم سکولوں،کالجوں  اور جامعات تک محدود سمجھتے ہیں۔جیسے ہی ہم عملی زندگی میں داخل ہوتے  ہمارا زہن  زنگ آلود ہونا  شروع ہو جاتا ہے۔ ہم اپنی  فیلڈ سے باہر نئے مضامین کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔

ہمارے ہاں ٹی وی کی لت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ  اکثر مرد  و  زن  پیشہ وارانہ زندگی سے زیادہ وقت اس سرگرمی میں گزارتے ہیں۔ زہنی تجدید کے لئے سب سے مؤثر ذریعہ اچھی کتابیں ہیں۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعداور عام حالات میں بھی اگر ہم اپنی پسند کی کتب  خصوصاً ادب عالیہ سے متعلق نگارشات  کا کم از کم ایک گھنٹہ مطالعہ کریں تو ہم اپنی زہنی صحت کی بہتر تجدید کر سکتے ہیں۔

مشہور مفکر اسٹیفن کوے کے مطابق ہمیں دوسروں کے نقطہ نظر کو پہلے سمجھنے کی کوشش کرنی چایئے پھر اپنے نقطہ نظر کے ساتھ موازنہ کرنا چاہیے۔ اگر ہم  اپنے تجربے اور کارگزاری کو پڑھنے کے عمل پر پہلے ہی فوقیت اور ا اور اولیت  دینگے تو ایسا مطالعہ ذہنی تجدید کا سبب بنتاہے اورنہ  ہمیں کوئی فائدہ  دیتا ہے۔
ذہنی پہلو کے ساتھ پیوست  اگلا  اہم  عنصر روحانی ہے۔ روحانیت ایک وسیع لفظ ہے جس کو صرف عبادات تک محدود نہیں کیا جا سکتا  اگرچہ عبادات اس کا بڑاحصہ ہیں۔۔ اعلی ادب،موسیقی اورشاعری  بھی اس میں شامل ہیں اور روحانی تجدید کے لئے ممیز کا کام کر تے ہیں۔ا سکے علاو ہ  روحانی پہلو میں سیروسیاحت، اپنی پسندیدہ جگہوں کی یاترااور صحت مندانہ  مشاغل   (hobbies)بالخصوص تخلیقی سرگرمی سب سے اہم شمار کی جاتی ہے۔کوئی بھی تخلیق کار (خواہ وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو)اس میں  سرشاریت،انسباط،طمانیت اور روحانی بالیدگی کا احساس بہت  ہی فائق درجے کا ہوتا ہے۔ بہر حال روحانی بالیدگی اور تجدید ہر فرد اپنے ایقان کے مطابق کرتا ہے۔

اسی طرح عبادات،مراقبات،مناجات اور دعائیں اپنے اندر حیرت انگیز طاقت اور طرب ناکی کی حامل  ہوتی ہیں۔ ایک بڑے مفکر ڈیوڈ اومیکے نے خوب کہا:زندگی کی عظیم ترین جنگیں روح کے پنہا ں خانوں میں لڑی گئی۔ لہذا روحانی تجدید نو کی تمام جہتوں کو نہ صرف  ملازمت سے سبکدوش  لوگوں کو بلکہ ڈھلتی عمر کے تمام افراد کو بالخصوص اور عام لوگوں کو بالعموم جاری رکھنا چاہیے چونکہ یہ  ذہن کو تقویت پہنچاتی ہیں…اورآفاقی اقدار کے ساتھ بھی  جوڑتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ فطرت کے ساتھ تصور بینگانگی کو ختم کرتی ہیں اور جسمانی افعال وظائف کو بہتر بنا کر عمدہ صحت اور لمبی عمر کا سبب بنتی ہیں۔
سماجی پہلو زندگی کا اہم لازمہ، تمام ادیان کا محور  ا ور خصوصاََہمارے دین کا  اہم ستون تصور کیا جاتاہے۔بے شک حقوق العباد کا تصور حقوق اللہ کے مقابل فائق بلکہ تمام  عبادات کی معراج اور حاصل تصورکیا جاتاہے۔سماجی پہلووں  میں ہمارے تعلقات،رشتے ناطوں  کے علاوہ  فلاح عامہ، انسانیت کا فروغ،ظالمانہ نظام کا خاتمہ، سماجی عدل وانصاف، مساوات  اورآزادی  کے اعلی اہداف شامل  ہیں۔ حقیقی زہنی سکون یقیناتب ممکن ہے جب زندگی کسی بڑے سماجی مقصد کے لئے وقف ہو۔

عظیم ڈرامہ نگار جارج برنارڈ شاہ نے کہا ہے کہ زندگی کا حقیقی مزہ اس بات میں کہ اسے ایسے مقصد کے لئے گزار جائے جسے آپ اعلی سمجھتے ہوں۔ایک جگہ  شاہ  اپنے ڈرامے میں مذید  رقم طراز ہیں:میں چاہتا ہوں جب میں مروں تومیں پورا استعمال میں لایا جا چکا ہوں۔یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ جب یہ عظیم ڈرامہ نگار  نوّے کے  پیٹے  میں تھا تواپنی کسی تخلیقی کاوش میں لگا ہوا تھا ، تب اس نے کہا:’میں اتنا مصروف ہوں کہ میرے پاس ابھی اتنا وقت نہیں کہ میں موت کے بارے میں سوچوں‘۔

 سو سماجی پہلو زندگی کو سب سے زیادہ تقویت دینے والا عامل ہے جس میں  ایک بے نام خدمت سے لے کر  غیر منصفانہ  نظام کے خاتمے اور قوم کی  آزادی اور رہائی کے عظیم مقاصدشامل ہو تے  ہیں۔ لہذا  ایسے کاموں میں شامل ہو کر ملازمت  اور کاروبارسے سبکدوش  افراد اپنے علم،تجربہ، ا نتظامی اور پیشہ وارانہ  صلاحیتوں کے رضاکارانہ استعمال سے عام انسانوں کے ساتھ ساتھ سماجی  اداروں اور تنظیموں کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور یوں اپنی تجدید نو کا سبب بھی بن سکتے ہیں

۔تحقیق کے مطابق سماجی شعبوں میں سرگرم افراد کی  اوسط عمر باقی لوگوں  کے مقابلے میں دس سے پندرہ سال زیادہ ہوتی ہے۔
ہمارے ہاں ناقص خوراک بھی بیماریوں کو پھیلانے اور قبل از وقت جسمانی قوتوں کو  مفقود کر نے کا باعث ہے۔اس لئے  غزائیت کے ماہر ین   نامیاتی خوراک(organic food)یعنی کھادوں اور  زہر آورسپرے کے بغیر  تیار کردہ خوراک پر بہت زور دیتے ہیں۔تر قی یافتہ ممالک میں تو خوراک کی  نامیاتی اور غیر نامیاتی  دونوں قسمیں موجود ہو تی ہیں اور ان کی باقاعدہ درجہ بندی بھی کی جاتی ہے۔

لیکن ہمارے ہاں یہ تصور ہنوز مفقود ہے۔کم ازکم اپنے طور پر اگر ہم  گھریلو سطع پرسبزیاں پھل یاکسی حد تک کیچن گارڈننگ اورbackyard poultry  کو فروغ دے سکیں اور  whole wheat آٹے  اور خالص دودھ کی دستیابی اور استعمال کو یقینی بنا سکیں  جیسے کے ہمارے اجداد کرتے آئے ہیں تو بعید نہیں کہ  صحت،  تندرستی،توانائی اور زندگی کے حوالے سے آباء کی  وہ  ریت رفتہ   دوبارہ زندہ  ہو جائے  جو  اُن کا امتیاز خاص تھی!  امر واقع یہ ہے کہ دنیا کی ہر نعمت کی نفع رسانی اور دلکشی ہماری اچھی صحت کے سا تھ جڑی ہوئی ہے۔
موت برحق ہے جس سے مفرممکن نہیں۔ حادثات اوربیماریوں کا اچانک ظہور بھی ایک حقیقت ہے۔لیکن صحت اور جسم کا خیال اور احتیاط کا درس ہمارے مذہب کی تعلیمات میں شامل ہے۔۔ احتیاط، جسم اور زہن  کا خیال رکھنے پر خصوصی زور  اختیاری پہلو اور ہماری طاقت کا آئیندار ہے۔ فطرت میں ہر speciesکی ایک متوقع عمر ہے جیسے کہ کوا  بیس سال،اونٹ  پینتالیس سال  یا مچھر ایک سے سات دن  تک زندہ رہ سکتاہے۔

اسی طرح و ہspeciesجس کو انسان کہا جاتا ہے جدید تحقیق کے مطابق ۵۱ ا  سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔ہمیں اپنی حد تک کاوش کرنی چاہیے کہ  ما ہرین صحت کے ان مشوروں کے مطابق  اپنی  جسمانی، ذہنی،روحانی اورسماجی زندگی  کی بہتری اور بالیدگی کے لئے مزکورہ بالا باتوں کو بھرپور طورسے اپنا ئے۔۔ ان پر عمل کریں۔۔اور اللہ تعالی  پر  توکل، بھروسہ اور حسن ظن رکھیں۔