تحریر: مریم جاوید چغتائی 

پریس فار پیس فاؤئڈیشن پائیدار انسانی ترقی، دیرپا امن اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کوشاں غیرمنافع بخش، غیر سرکاری اور ہر قسم کے امتیازات سے ماورا ادارہ ہے۔‎ پریس فار پیس اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہم خیال افراد، اداروں اور مختلف تنظیموں کے ساتھ اشتراک کار کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اور ماضی میں ہونے والی تمام تر کامیاب منصوبے اس سوچ کی پائیداری کے عکاس ہیں -پریس فار پیس اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ معاشرے میں ترقی اور سدھار کسی ایک تنہا فرد کسی ایک تنظیم اور ادارے کی کوششوں سے ممکن نہیں۔ بلکہ اس میں معاشرے کے ہر فرد کو اپنا حصہ ادا کرنا ہے۔اور پریس فار پیس کی تمام سرگرمیاں معاشرے میں خیر بانٹنے اور خدمت انسانی کے لئے اپنا حصہ ادا کرنے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے ۔ یہاں اُن لوگوں کے لیے آواز اُٹھائی جاتی ہے  جو اپنے حقوق کی جنگ خود نہیں لڑ سکتے جنہیں ضرورت ہوتی ہے ہمارے ساتھ کی جنہیں ضرورت ہوتی ہے ہماری آواز کی- یعنی اس نظریے کے تحت ہم  ایسے لوگوں کی آواز بنیں جو بے آواز ہیں جی ہاں اس فاؤئڈیشن کا مقصد بے آواز لوگوں کی آواز بننا ہے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہے ہر وہ انسان آگے بڑھے جس میں کچھ کر گُزرنے کا جذبہ ہو جیسے جیسے بے لوث محبتیں سمیٹنی ہوں اسی کے ساتھ میں یہ بیان کرتی چلوں کہ یہ ادارہ کب وجود میں آیا اور کس جگہ پر قائم ہوا؟

‎مختصر سا پس منظر بیاں کرنا چاہوں گی۔

‎پریس فار پیس ۱۹۹۹ء میں مظفرآباد میں قائم ہوئی۔ ابتداء میں اس تنظیم کا کام مقامی صحافیوں کی ایک ٹیم نے سنبھالا جنہوں نے اپنے پیشہ کی مناسبت سے تنظیم کا نام پریس فار پیس رکھا۔ پھر آہستہ آہستہ اس تنظیم میں زندگی کے مختلف شعبوں کے افراد نے شمولیت کی جن میں وکیل، طلباء و طالبات، ادیب، تاجر، تحقیق کار، امن و انسانی حقوق کے کارکن، سماجی ا ور سیاسی حقوق کے کارکن، ماحولیات اور آبادی کے مسائل پر کام کرنے والے، غربت کے خاتمہ اور خواتین کی ترقی پر کام کرنے والے بھی شامل ہوتے گئے مگر ان سب نے باہمی اتفاق رائے سے تنطیم کا نام پریس فار پیس ہی رہنے دیا۔ 

‎ابتداء میں پریس فار پیس کی سرگرمیاں مقامی اور علاقائی سطح کے مسائل تک محدود رہی  جن میں صحافیوں اور طلباء کے حقوق کی بحالی کی جدوجہد، غریب اور مستحق افراد کی مالی مدد، بھارتی جموں وکشمیر سے آنے والے مہاجرین کی مدد، اقلیتی آبادی کے مسائل اور درج بالا موضوعات پر عوامی شعور کی بیداری شامل تھے   – چونکہ  پریس فار پیس ایک رضاکار تنظیم ہے جس میں شامل ہونے والے تمام افرا د محض سماجی خدمات کے حامل ہوں، انسانی ہمدردی اور پرامن بقائے باہمی کے جذبے کے تحت کام کر رہی ہوں۔ پریس فار پیس کے پلیٹ ٖفارم سے ہونے والی تمام سرگرمیوں اور خدمات کے لئے کسی بھی نوعیت کا معاوضہ یا اعزازیہ وغیرہ وصول نہیں کیا جاتا ہے۔   

‎اس کے مقاصد کے حوالے سے بات کی جائے تو یہ  علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مستقل قیام امن کی جدوجہد مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کے ذریعے ماحول دوست اور پائیدار ترقی کے حصول کی کوشش غربت، جہالت، ناانصافی اور عدم برداشت کو فروغ دینے والی علاقائی و بین الاقوامی سرگرمیو ں کے خلاف آواز اٹھانے کا نام ہے جبر تشدد کو ختم کرنا بھوک اور افلاس کا خاتمہ تعلیم کا فروغ خواتین کو ہنر مند بنانا اور بہت سی ایسی چیزیں شام ہیں جو یہ فاؤئڈیشن سرانجام دے رہی ہے 

‎  پریس فار پیس  فاوںڈیشن چونکہ ایک غیر جانبدار اور غیر منافع بخش ادارہ ہے جس میں شامل تما م رضاکار اپنی ذاتی حیثیت، صلاحیت، استعداد کار اور دستیاب وسائل کے اندر رہ کر کام کرتے ہیں،وہ ایک مٖرکزی تنظیمی ڈھانچے کے تحت ایک فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ تمام افرا د کسی ایک فر د کے ماتحت نہ ہونے کے باوجود ایک منظم اور مستقل ٹیم کی حیثیت سے پریس فار پیس کے مرکزی ڈھانچے سے منسلک ہیں۔ یوں پریس فار پیس  میں شامل ہر فرد اس تنظیم کا مقامی نمائندہ بھی ہے، ڈائریکٹر بھی ہے اور ایک فعال کارکن بھی ہے۔ اس تنظیمی ڈھانچے اور ٹٰیم ورک کے تحت پریس فار پیس نے کئی اہم شعبوں میں اپنی تنظیمی صلاحیت اور استعداد کار کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ 

حال ہی میں ہونے والی ایک تقریب لوہار بیلہ ناڑ شیر علی خان میں منعقد ہوئی پریس فار پیس فاؤئڈیشن کے زیر اہتمام نوجوان لکھاریوں کے مابین تحریری مقابلے میں شرکاء میں ایوارڈ تعلیمی وظائف اور کتب دیگر انعامات کی تقریب منعقد ہوئی۔ باغ کے دور دراز کے علاقوں اور مظفرآباد اور راولاکوٹ سے کئی مہمان پہلی دفعہ اس جگہ پر جا رہے تھے اور کہیں کو منزل کا ٹھیک پتہ نہ تھا کہ کس جانب سفر طے کرنا ہے اور کتنا طویل یا مختصر سفر ہے اِسی سلسلے میں پریس فار پیس فاؤئڈیشن کے رضاکاروں نے مدد فراہم کی اور تمام مہمانوں کو سفر کے دوران راہنمائی دیتے رہے جن میں کامران نسیم، ولید یاسین، سعید الرحمان، روبینہ ناز، اور دیگر  شامل رہے

 مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر نگہت یونس راولاکوٹ سے تشریف لائیں جب تقریب کے مقام پر پُہنچی تو اُن کا شاندار استقبال کیا اور پروگرام کا آغاذ ہوا- مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر نگہت یونس جبکہ صدارت سردار یونس نے کی پروگرام کا باقاعدہ آغاذ کیا گیا تلاوت کلام پاک سے، پھر نعتِ رسول رسول مقبول کے ساتھ پروگرام کا سلسلہ آگے بڑھایا گی۔ سعید الرحمان صاحب نے سٹیج کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے بہترین کردار ادا کیا جس میں پہلے انہوں نے پریس فار پیس کا مختصراً تعارف پیش کیا ۔ پھر پوزیشنز لینے والوں کے ناموں کا اعلان کیا گیا۔ جس میں محسن شفیق مظفرآباد نے پہلی، پروفیسر ایاز کیانی راولاکوٹ نے دوسری، مریم جاوید چغتائی نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ تقریب کی مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر نگہت یونس نے تحریری مقابلے کے شرکاء میں ایوارڈ سرٹیفکٹ اور کتب تقسیم کی اس تقریب میں راولاکوٹ مظفرآباد باغ سے نمایاں سماجی علمی اور ادبی شخصیات نے شرکت کی۔ مقررین میں پروفیسر ڈاکٹر نگہت یونس، سماجی راہنما سردار یونس خان، پروفیسر ایاز کیانی، محسن شفیق،معروف نثر نگار مصنف جاوید خان پراجکیٹ مینجر روبینہ ناز معذور افراد کی تنظیم کے صدر آصف سدوزئی_ محترمہ اصبا نثار، کامران نسیم، ثمینہ چوہدری، ولید یاسین، فرید بیگ، ثناء الحق اور دیگر شامل رہے

 پریس فار پیس کے زیر اہتمام ناڑ شیر علی خان میں سیاحت کے فروغ اور مقامی مسائل کے حل کے لیے دوماہ قبل ایک تحریری مقابلے کا انعقاد ہوا جس میں تقریباً بیس لکھاریوں نے حصہ لیا۔ تقریب کے تمام شرکاء میں سرٹیفکٹ اور انعا مات  تقسم ہوئے اور اس موقع پر خواجہ محمد شفع سکالر شب کے پروگرام کے تحت طلبہ و طالبات میں تعلیمی وظائف بھی دیے گئے مقررین نے اپنی اپنی رائے بھی دی جس میں پروفیسر ڈاکٹر نگہت یونس نے آزاد کشمیر میں ادبی علمی اور سماجی شعبے میں پریس فار پیس فاؤئڈیشن کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ ضرورت انہی علاقوں کو ہوتی ہے کہ ان پر توجہ دی جائے یہ فاؤئڈیشن صرف اسی علاقے پر فوکس نہیں کر رہی بلکہ ان کا ملٹی ٹاسک ہے جو زیادہ ایریا کو کور کر رہے ہیں یہاں پر خواتین کو آگے بڑھنے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے دوڑ میں شامل کیا جا سکے انہوں نے کہا کہ میں خود ناڑ شیر علی خان سے واقف نہیں تھی مگر جب تحریری مقابلے کی وہ سب تحریریں پوسٹ ہوتی رہیں جو وہ ساتھ ساتھ پڑھتی رہی تو پتہ چلا کہ کہ ہمارے اس دیس میں ایک ایسا علاقہ بھی ہے جس میں اتنی تعداد میں خواتین نے وکیشنل ٹریننگ سنٹر اپنی مدد آپ کے تحت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوئی ہیں اور کسی نہ کسی طرح اپنی فیملی کو سپورٹ کرنے میں لگی ہیں یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ خواتین آگے بڑھ رہی ہیں میرے خیال سے ہر عورت کو آگے بڑھنا چاہیے اور ہمیں سماجی اور سیاسی طور پر بھی باشعور ہونے کی ضرورت ہے جب ہم ووٹ دینے جاتیں ہیں تو ہمیں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ ہم نے ووٹ کس کو دینا ہے -ہمیں  یہ پتہ نہیں ہوتا کہ جس بندے کو ہم منتخب کریں گے وہ آگے چل کر ہمارے کام کرئے گا کہ نہیں؟ اپنے لیے خود سوچیں کہ آپ کے لیے کیا بہتر ہے جب ہمارے بڑوں نے ریاست کا ادھا حصہ آزاد کروایا تھا تو وہ تعداد میں بھی کم تھے اور تعلیم کی بھی کمی تھی مگر آج ہم اُن کی نسبت تعداد میں بھی زیادہ ہیں اور شعور میں بھی زیادہ ہیں۔۔۔۔۔

۔ پروفیسر محمد ایاز کیانی نے کہا کہ یہ ہمارا علاقہ دنیا کے دیگر خوبصورت علاقوں سے کم نہیں ہے بدقسمتی سے وسائل کی مصنفانہ تقسم راہ میں رکاوٹ ہے بلدیاتی الیکشن اگر ٹھیک طرح ہوں لوگوں کے مسائل نیچے تک جا کر حل کیے جاتے تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی لیکن بدقسمتی سے ان ساری چیزوں پر فوکس نہیں کیا گیا جس علاقے کو ایک ڈپٹی کمشنر ایک وقت میں مانٹیر کرتا تھا آج وہاں پر وزرا کی ایک فوج ہے -پچیس پچیس تیس تیس وزیر ہیں ہمارے اس پونچھ ڈویژن کے اندر انتظامیہ کی ایک فوج ھے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے اردگرد کس طرح دل دہلا دینے والے واقعات آئے روز سامنے آ رہے نہ قاتل پکڑے جاتے نہ  جرائم میں کمی ہوتی صورتحال جاری و ساری ہے یہ ہم سب کا مشترکہ دکھ ہے ہم سب نے مل بیٹھ کر اس پر بات کرنی ہے اور ہر انسان نے اپنے حصے کا چراغ جلانا ہے 1999 میں پریس فار پیس کا ظفر اقبال صاحب نے آغاز کیا اور بعد میں زلزلے کے دوران بے تحاشا کام کیے شاید اُنہیں اُس کام کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے اُن کو سُرخرو کیا اور آج وہ  برطانیہ کی ایک بڑی یونیورسٹی میں وہ تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور ساتھ ساتھ لوگوں کے لیے اپنی  اپنی صلاحتیں  وقف کر رہے ہیں

 پریس فار پیس رضا کاروں کی تنظیم ہے  جو بغیر تنخواہ کے بغیر کسی لالچ کے کام کر رہے ہیں تمام کارکنان مبارکباد کے مستحق ہیں ہم نے اس خطے کو رول ماڈل بنانا ہے ہمیں لوہار بیلہ اس علاقے کی خوبصورتی اتنی ہی عزیز ہے جتنی کہ راولاکوٹ کے کسی گاؤں کی ہو گی۔ ہم خواہش کرتے ہیں کہ یہ علاقہ رول ماڈل بنے یہاں کہ لوگوں کے دکھ درد کو ہم۔اپنا دکھ درد سمجھیں اور انہوں نے کہا کہ   کتاب اور قلم کا رشتہ مضبوط کیے بنا کبھی بھی علمی اور سماجی ترقی ممکن نہیں۔۔۔

‎مصنف جاوید خان نے کہا کہ اس ناڑ شیر علی خان ،حاجی پیر اور لسڈنہ ہمارا سیاحتی  اثاثہ ہیں ۔سیاحوں کو یہاں کا رُخ کرنا چاہئے اور ایسے پسماندہ علاقوں کو متعارف کرایا جائے اور ان کی خوبصورتی دنیا کے سامنے لایا جائے تا کہ لوگوں کو بھی پتہ لگے کہ خوبصورتی کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔ سماجی رہنما سردار یونس خان نے روبینہ ناز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کل کی بچی جس نے اتنی محنت کی اور آج ہمارے سامنے ہے ایسے ہی ہر ایک بچی کو آگے بڑھ کر معاشرے کی فلاح و بہبود میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔۔۔

۔ ولید یاسین نے کہا کہ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر نگہت یونس کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو راولاکوٹ سے اپنی تمام تر مصروفیات چھوڑ کر آئی ہیں ان کا یہ جذبہ نیک کاموں کے لیے قابلِ احترام ہے انہوں نے بتا یا کہ میرے والد صاحب کہتے ہیں کہ جو نیک کام کرتی ہیں وہ نزدیک یا دور کی پروا نہیں کرتے بس اُنہیں یہ نیک کام کرنا ہو ہوتا ہے/  ناڑ شیر علی کے لوگوں کے بات کرنے کا انداز اور طور طریقہ نہایت متاثر کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگوں کا اخلاق بہت اچھا ہے پریس فار پیس کی کوشش ہے کہ وو نوجوان نسل کو تیار کریں کہ وہ آگے لوگوں کو متحرک کر سکے اس کے علاوہ ہمارے پڑھے لکھے لوگ جن کے اندر صلاحتیں موجود ہوتیں ہیں وہ صلاحتیں ہونے کے باوجود بھی اپنی بات کسی کے سامنے نہیں رکھنا اُن کا بات کرنے کا انداز اور ادب میں وہ بہت کمزور ہوتے۔پریس فار پیس ایسےلوگوں کو تربیت دے گی –

سردار یونس خا ن نے کہا کہ خواتین ہمارے معاشرے کا اہم کردار ہیں اُن کی طرف سے ہمیں حوصلہ افزائی ملی تین سو بچیوں نے کام سیکھا اور ہنر مند بن کر اپنے گھر والوں کا بازو بنی ہوئی ہیں جب تک خواتین مضبوط نہیں ہوں گی ہم ترقی نہیں کر سکیں گے۔۔۔۔۔آصف سدوزئی نے کہا کہ معذورافراد کا علاج کرؤائیں گے -معاشرے میں خواتین اپنا بہتر کردار ادا کر رہی ہیں۔۔۔۔۔ ثناء الحق نے کہا کہ جب میں ناڑشیر علی خان پر لکھنے بیٹھا تو مجھے کوئی انفارمیشن نہیں تھی گوگل سے سرچ کیا تو کوئی رزلٹ نہیں ملا پھر یہاں آ کر پتہ چلا کہ کس قدر خوبصورت علاقہ ہےہمیں ایسے علاقوں کی ترقی کے لیے بڑھ چڑھ کر کام کرنا چاہئے۔۔۔۔۔۔ کامران نسیم نے کہا کہ ہمیں مل کر آگے بڑھنا ہے اور تعلیم و ترقی کی اس کاوش کو یقینی بنانا ہے خواتین کسی سے کم نہیں ہیں ہر شعبے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں-

روبینہ ناز نے کہا کہ ہمارا مقصد نئ نسل کو ہنر مند بنانا ہے روایتی تعلیم صرف ڈگریاں بانٹ رہی ہے انہوں نے کہا کہ بچیوں کو ہنر مند بنانے کے لیے جلد آئی ٹی سینٹر کا بھی انعقاد کیا جائے گا یہاں سے کافی بچیاں جو کہ سلائی کڑھائی کر کے آج خود کفیل ہو گئی ہیں


‎فیڈر سکول کلس ہستانی ناڑ شیر علی خان میں کلاس ون کی طالبہ اقر ا بشیر کو محمد حسین اور صغراں بی بی سکالر شپ
 دیا گیا

روبینہ ناز نے کائنات سجاد کیانی کلاس ون ریڈ فاؤنڈیشن سکول راولی کا سکالرشپ وصول کیا

۔تقریب کے بعد کھانے کا اہتمام بھی کیا گیا جو کہ وہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہو گی۔ ہر قسم کا کھانا موجود تھا جن میں روایتی کھانوں کے ساتھ ساتھ دیسی کھانوں کو زیادہ ترجیح دی گئی باہر سے آئے مہمانوں نے مکئ کی روٹی اور دیسی سبزی دہی کی کافی تعریف کی۔ کھانے کے بعد پریس فار پیس فاؤئڈیشن کے آفس کا دورہ کیا گیا جس میں مہمانِ خصوصی  اور میڈیا نمائندوں نے دورہ کیا جس میں مختصر سوالات بھی کیے گئے روبینہ ناز صاحبہ نے کہا کہ بہت سی لڑکیاں آج اپنے پیروں پر کھڑی ہیں جو سلائی کڑھائی سیکھ کر یہاں سے گئی ہیں انہوں نے بتایا کہ یہاں ایک شاب بھی کھولی گئی ہے جس میں خواتین کی ضرورت کی ہر چیز ہم نے رکھی ہے چونکہ ٹیکنالوجی کا دور ہے تو آئی ٹی سینٹر کے ذریعے بچیوں کے بہتر مستقبل میں ان کی مدد کی جائے گی انہوں نے بتایا کہ یہ سلسلہ اب رُکے گا نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ بہتر اور مضبوط ہو گا علاقے کی بہتری کے لیے مل کر کوشش کریں گے۔

Leave your comment !