تحریر :رانا توفیق صدیقی
چند روز قبل راقم الحروف نے آزاد کشمیر کے آمدہ انتخابات۲۵   جولائی ۲۰۲۱ء کے لیے سیاسی منشور کے سلسلے میں ایک پوسٹ کی۔جس میں استفسار کیا گیا کہ سب احباب اپنی اپنی سیاسی جماعت یا اپنے پسندیدہ امیداور کی طرف سے پیش کیا جانے والا انتخابی منشور کا اشتراک کردیں۔ ایسا دریافت کرنے کا ایک بنیادی مقصد یہ جاننا تھا کہ پڑھا لکھا عام شہری کس بنیاد پر اپنی متعلقہ سیاسی جماعت یا امیدوار کی حمایت کررہا ہے اور اپنی توانائیاں وقف کیے ہوئے ہے۔اس ضمن میں کچھ احباب نے اپنے تئیں کوشش کی مگر وہ محض اپنی اپنی جماعت کا عمومی بیانیہ فراہم کرنے میں کام یاب ہوسکے۔ ایک دوست نے بڑی گرم جوشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جماعت کا منشور برقی پتے پر ارسال کیا مگر ورق گردانی سے پتا چلا کہ وہ پاکستان کے ۲۰۱۸ء کے عام انتخابات کے لیے پیش کیے جانے والے اہداف و مقاصد پر مشتمل دستاویز ہے۔ آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے لیے ایک بھی جملہ موجود نہیں۔اسی طرح ایک مذہبی سیاسی جماعت کے سرگرم رکن نے اپنی جماعت کا منشور پوسٹ کیا وہ بھی عمومی نوعیت کا حامل ہے۔جس میں آزادکشمیر کے آمدہ انتخاب کے لیے مخصوص کچھ ذکر نہیں۔


رانا توفیق صدیقی


اس کے بعد متعدد سیاسی جماعتوں کی ویب گاہوں کا رخ بھی کیا گیا جن پر جماعت کی مکمل تاریخ، مقاصد، اہداف ، ارتقا، سیاسی سفر،حکومتی روداد، حاصل کردہ ووٹوں کا تناسب سمیت باقی بہت ساری معلومات موجود ہے مگر آزادکشمیر کے متذکرہ انتخابات کے لیے کوئی منشور نہیں۔

کمال حیرت کی بات ہے کہ آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات کے لیے کسی بھی جماعت نے باقاعدہ کوئی منشور پیش نہیں کیا۔بغیر منشور پیش کیے اس وقت سب سیاسی جماعتیں انتخابی مہم اور سیاسی مقابلے کے میدان میں مصروف عمل ہیں۔
حالاں کہ ترقی یافتہ اقوام میں ہر الیکشن سےقبل  باقاعدہ تمام سیاسی جماعتیں اور دیگر امیدوار (مخصوص الیکشن) کے لیے اپنا اپنا سیاسی منشور ترتیب دیتے ہیں۔اس منشور کو عوام تک مختلف طریقوں سے پہنچایا جاتا ہے۔منشور پیش کرنے کے بعد انتخابی مہم کا آغاز کیا جاتا ہے۔تاکہ رائے دہندہ گان سب کے سیاسی منشور کو اچھی طرح چانچنے کے بعد اپنی رائے کا بہتر طریقے سےاستعمال کر سکیں۔ لیکن آزاد کشمیر کے موجودہ ۲۰۲۱ء کے الیکشن میں الٹی گنگا بہتی ہے۔یہاں کسی امیدوار کے پاس کوئی باقاعدہ اور باضابطہ سیاسی منشور نہیں ہے۔
ایک طرف شہریوں کو اپنی آرا کا آزادنہ اور منصفانہ حق دینے کا دعوی کیا جاتا ہے دوسری طرف محض نظریہ ضرورت کےپیش نظر  چند تقریروں کے ذریعے عوام کو بے وقوف بنا کر ووٹ حاصل کیا جاتا ہے۔ اس خرابی میں رائے دہندہ گان اور سیاسی نمایندے دونوں برابر کے شریک ہیں۔
اس ضمن میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سب سیاسی نمایندے اپنے اپنے حلقہ انتخاب کے تقاضوں کے مطابق اپنا اپنا منشور ترتیب دیں۔(کیوں کہ ہر حلقے یا علاقے کے علاحدہ علاحدہ مسائل اور تقاضے ہوتے ہیں) اور اسے عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔دوسری طرف رائے دہندہ گان کو چاہیے کہ جو بھی سیاسی نمایندہ ووٹ کی خاطر ان کے پاس آئے تو سب سے پہلے اس سے منشور طلب کیا جائے۔اس کے منشور اور باقی سب کے منشور کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے کہ کون سا نمایندہ ووٹ کا زیادہ حق دار ہے۔ووٹ کا استعمال ایک گواہی ہے۔اور گواہی سوچ سمجھ کر دی جانی چاہیے۔کیوں کہ جس کو ووٹ دیا جاتا ہے اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ آپ اس بات کی گواہی دے رہے ہیں ،وہ باقیوں کی نسبت بہتر ہے۔بہ حیثیت مسلمان گواہی کے بارے میں روز حساب جواب دہ ہونا ہے۔
صرف برادری، تعلق ، ذاتی منفعت،سیاسی مفاد، مالی لالچ یا دیکھا دیکھی کی بنیاد پر کسی کی حمایت یا مخالفت کرنا کسی بھی طور مہذب اور ترقی یافتہ اقوام کا شیوہ نہیں ہے۔ پڑھے لکھے اور باشعور شہری کے لیے دعوت فکر ہے۔

Leave your comment !