ربیعہ فاطمہ بخاری

انسان اشرف المخلوقات ہونے کے ساتھ ساتھ خطا کا پُتلا بھی کہلاتا ہے۔ اور یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ انسان، کوئی بھی ہو، نہ تو شیطان کی طرح مجسّم بُرائی ہے اور نہ ہی فرشتوں کی طرف نفس اور خطا سے مکمّل عاری۔ انسان میں بطورِ انسان بہت سی ایسی خوبیاں ہیں، جو اُسے باقی لوگوں سے ممتاز کرتی ہیں۔ جیسے حق شناسی، اخلاصِ نیّت، نیک نیّتی، خوش اخلاقی، اپنے ارد گرد کے لوگوں کا احساس، درد مند دل، مثبت زاویہء نگاہ، اور بہت سی چیزیں اس ضمن میں گنوائی جا سکتی ہیں۔ جو جس بھی انسان کی شخصیّت کا حصّہ ہوں، یقیناً اُس کی شخصیّت میں چار چاند لگا دیتی ہیں۔ آج میں ایسی ہی ایک خصوصیّت کا تذکرہ کرنا چاہتی ہوں، جو کسی بھی انسان کی شخصیّت میں ایک نہایت مثبت پہلو ہوتا ہے بلکہ یہ خاصیّت جس انسان میں ہو، اُس کی شخصیّت stagnant نہیں ہوتی.  ٹھہرا ہوا پانی اور ایک stagnant انسان اپنے ارد گرد کے ماحول کو ایک جتنا آلودہ کرتے ہیں۔ اور وہ خاصیّت ہے خود احتسابی۔ 

خود احتسابی ایک ایسی خاصیّت ہے جو کسی بھی انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ باقی سب لوگوں کے عیوب پہ تنقیدی نظر رکھنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکتا ہے کہ آیا جو خامی مُجھے سامنے والے انسان میں دکھائی دے رہی ہے، کہیں میں خود اس خامی کا شکار تو نہیں۔ اگر مُجھے کسی کے بُرے لہجے سے تکلیف پہنچ رہی ہے تو کہیں میں کسی اور کیلئے اپنے غلط لہجے کی وجہ سے تکلیف کا باعث تو نہیں بن رہا، اگر مُجھے کسی اور کی شخصیّت اُس کی بداخلاقی، بد زبانی، کنجوسی، بے حسی یا کسی بھی اور خامی کی بناء پہ مسخ ہوتی محسوس ہو رہی ہے تو اپنے اندر جھانک کے بھی دیکھ لوں کہ کہیں میں خود انہی خامیوں کا مُرقّع تو نہیں۔۔!! یہ خاصیّت صرف اور صرف ایک خود احتسابی رکھنے والے انسان میں ہی ہو سکتی ہے۔ 

خود احتسابی کسی بھی انسان کو یہ صلاحیّت بھی عطا کرتی ہے کہ وہ دوسرے شخص کو اپنی جگہ رکھ کے، اُس کے جوتوں میں پاوءں ڈال کے، اُس کی تکلیف یا پریشانی کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یا یہ کہ جب وہ اپنی زندگی میں کسی بھی حیثیّت میں، کسی بھی انسان کے ساتھ معاملات یعنی dealing کرتا ہے تو وہ اپنی ذات کو ایک پیمانہ بنا کے رکھتا ہے کہ جو کُچھ میں سامنے والے کے ساتھ کر رہا ہوں، اگر میرے ساتھ اسی رشتے میں۔منسلک کوئی دوسرا انسان یہی سب کرے تو میں کیسا محسوس کروں گا۔ اپنی میٹرک کلاس کی انگریزی کی کتاب کے ایک باب ” ایک باپ کی نصیحت” کا ایک جُملہ مُجھے آج بھی بعینہِ اُنہی الفاظ میں یاد ہے کہ 

“Do unto others, as you wish others to do unto you” 

اور اس اتنی بڑی حقیقت کا ادراک صرف اور صرف ایک ایسا شخص کر سکتا ہے، جو خود احتسابی کی صفت سے متّصف ہو۔ اور اگر یہ سوچ ہمارے معاشرے میں جڑ پکڑ جائے تو بہت سارے معاملات خود بخود بہتری کی طرف گامزن ہو جائیں گے۔

ایک خود احتسابی کی صفت سے متّصف انسان ہی میں یہ صلاحیّت ہوتی ہے کہ وہ اپنی اصلاح کر سکے۔ جب تک کوئی بھی انسان اپنی ذات میں موجود خامیوں کا ادراک پانے کی کوشش نہیں کرتا، یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنی اصلاح کر سکے۔۔!! اپنی اصلاح کرنے کیلئے سب سے پہلا قدم ہی اپنی غلطی تسلیم کرنا ہوتا ہے۔ اور اپنی غلطی یا خامی کا ادراک حاصل کر کے، اُس خامی پہ قابو پانے کی شعوری کوشش، یقیناً کسی بھی انسان کی شخصیّت کو گزرتے وقت کے ساتھ ایک نکھری سُتھری، بہت سی خوبیوں سے مرصّع اور بہت سی خامیوں سے مبرّا شخصیّت میں ڈھال سکتی ہے۔ لیکن ہمارے یہاں بد قسمتی سے ہم۔لوگوں کی اکثریّت  اس صفت سے ہی عاری ہے۔ ہمیں دوسرے کی آنکھ کا بال بھی شہتیر لگتا ہے اور اپنی ذات ہر طرح کی خامی سے مبرّا و منزّہ۔۔ اور یہ ہمارے اکثریّتی معاشرے کا چلن ہے۔ اور یہی میرے نزدیک ہمارے روز بروز رو بہ زوال ہوتے معاشرتی رویّوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ 

ایک شخص جو کسی مہنگے انگریزی میڈیم سکول کی لوٹ مار کے رونے رو رہا ہو گا، وہی اپنی برانڈڈ کپڑوں کی آوءٹ لیٹ پہ بیس سے پچاس روپے مالیّت کا ایک عام سا ازاربند پانچ سے ساڑھے پانچ سو میں بیچ رہا ہو گا، لیکن وہ اُس کے نزدیک بالکل جائز ہو گا۔ ہم بحیثیّتِ مجموعی جب تک خود احتسابی کو ایک قومی عادت کے طور پہ نہیں اپناتے، ہمارا معاشرتی انحطاط اسی بلکہ اس سے کہیں زیادہ رفتار سے جاری رہے گا۔ آئیے آج اپنا اپنا محاسبہ کرتے ہیں اور اپنی اپنی خامیوں کو خود جان کے، اُن کی اصلاح کی شعوری کوشش کرتے ہیں، تاکہ ہم معاشرے میں کم از کم ایک نسبتاً بہتر انسان کا اضافہ کر سکیں۔ وما علینا الّاالبلٰغ۔