قراۃالعین عینیؔ

الف اللہ  ،چنبے دی بوٹی

میرے من وچ مرشد کامل لائی ھو

’’بابا یہ حضرت انسان کے آخر کتنے بہروپ ہوتے ہیں ؟۔پیاز کی طرح ایک تہہ اُتارو تو دوسری نکل آتی ہے پہلی سے زیادہ بدبو دار،دنیا کے سب سے مشکل روبیک کیوب کی طرح، ایسا نگ جو ہر نئی  کرن پڑنے پر نئے رنگ کی چمک دیتا ہے۔کیسے سمجھیں انسان کو بابا؟؟؟‘‘۔

مرشد مسکرائے  جیسے میرے ہر سوال کا جواب جانتے ہوں۔

’’سائیں ہمیشہ یہی بات دل  میں چھبتی ہےکہ میں جو ہر روز ایک نیا بہروپ دھار لیتا ہوں ،اصل میں کون ہوں؟ کیا ہوں؟ جب میں خود سے سوال کروں  تو کوئی جواب نہیں آتا۔اپنا آپ خالی برتن جیسا لگتا ہے جو  بھرے سےزیادہ شور کرتا ہے۔ ہر روز  دنیا میں کامیابی  حاصل کرنے کے لیئے ایک نیا  بہروپ دھار لیتا ہوں۔ خوشی کی خاطر، دنیا کو راضی کرنے کی خاطر، سائیں دنیا راضی  ہو جائے یا کامیابی مل بھی جائے تو بھی اندر ایک بے سکونی اور کبھی ختم نا ہونے والی اُداسی ڈیرہ ڈال لیتی ہے۔‘‘ میں نے سر اُٹھا کر بابا کو دیکھا ۔ اُن کے لبوں پر گہری مسکراہٹ تھی ۔مگر میں بھی سوچ کر آیا تھا کے آج اپنے ہر سوال کا جواب لے کر ہی جاؤں گا۔

’’بابا بعض مرتبہ یوں بھی ہوتا ہے کہ جس بندے کو توجہ دے دے کر ہلکان ہو جاؤ، محبت کا شیرہ بہا بہا کر تھک  جاؤ، بہت  کچھ کر ڈا لو دوسرے کی محبت حاصل کرنے کے لیے  لیکن  جب  اگلا بہروپیا نکلتا ہے تو ساری توجہ اور محبت رائیگاں جاتی  نظر آتی ہے۔سائیں میرا بھی جی کرتا ہے کہ کسی دودھ پیتے بچے کی طرح دنیا سے بے نیاز ہو کر ،بے خبر اور غافل سویا رہوں۔بابا دل میں آگ جل رہی ہو پر بہروپ تازہ پھول کا بھرنا پڑتا ہے۔ سامنے والے کے اصل کو جانتے ہوئے بھی دوست کا بہروپ دھارنا پڑتا ہے۔ بابا بہروپ کی اس ادلی بدلی سے تنگ آگیا ہوں۔ سائیں آپ نہیں جانتے کہ اس ادلی بدلی میں  کتنی تکلیف ہوتی ہے ۔۔‘‘ میری آواز جیسے کسی اندھے کنویں سے آرہی تھی۔

’’میرے جھلے پتر‘‘،اُن کی آواز میں بلا کا سکون تھا ۔مین اُن کے لہجے کی مٹھاس میں جیسے کھو سا گیا۔’’انسان کیا ہے ؟؟ یہ پوچھ رہا ہے نہ مورکھ ؟؟‘‘ ،بابا مسکرائے۔’’یہ انسان کبھی تو طلسم سامری ہے ،کبھی ہنرِ موسی، یہ کبھی کسی مجذوب کی بڑھک یا کسی درویش کا سفر نامہ، کسی بچے کی شرارت ہے تو کبھی کسی بوڑھے کی اونگی بونگی۔ کبھی روشن ستارہ ہے ،کبھی گورستان کا دیپک۔‘‘ وہ دھیمے لہجے میں گنگنائے،

؎  میں خاص صحیفہ عشق کا،میرے پنے ہیں گلریز

میں دیپک گراستھان کا ، میری لو میٹھی اور تیز

’’پتر انسان تو کبھی خیر ہی خیر ہے ،کبھی شر ہی شر،کبھی اُجالا ہی اُجالا ہے کبھی اماوس کی کا لی رات، کبھی بت خانے میں رکھا ہوا خدا ہے تو کبھی جیون بھر کا غلام۔اوئے جھلیا یہ نہیں سمجھ آتا کسی کو بھی۔

ایہہ تلکن بازی ویہڑا اے

تھم تھم ٹرو ھنیراا  ے

وڑ اندر دیکھو کیہڑا اے‘‘

’’مگر سائیں ہم بہروپ کیوں بھرتے ہیں؟؟ ۔ اصل کے ساتھ کیوں نہیں جی لیتے ؟۔میں کبھی سوچتا ہوں کہ میں نے خود پربہروپوں کے کتنے خول چڑھا رکھے ہیں،کبھی منفرد نظر آنے کی چاہ میں تکلیف اور نقصان سے بے پرواہ نظر آنا پڑتا ہے۔کبھی عید کے دن اُداس دِکھنے کا ڈھونگ۔ روز نئی سفید شرٹ پہن کر دل کی سیاہی کو چھپا لیتا ہوں۔جھوٹی مسکان کے ساتھ اندر کی ٹوٹ پھوٹ کو چھپا لیتا ہوں۔دفتر میں ملازموں کی غلطی خوش دل بن کر معاف کرنی پڑتی ہے ۔ کوئی ضرورت مند آئے تو رحمدل بن کر دفتر کے سارے عملے سے بڑا چیک دیتا ہوں۔سائیں  پورا دن  بہروپ کی ادلی بدلی کے بعد اپنے نفس کے آگے سجدہ ریز ہو جاتا ہوں ۔سائیں  میرا اندر باہر سیاہ ہو گیا ہے۔ روز ایک نیا کور چڑھا کر جینا پڑتا ہے۔‘‘

’’پتر یہ دنیا ایک بہروپ نگر ہے اور  انسان بہروپیا۔بہروپ نگر کا پیا، سوہنا ، پیارا،راج دلارا۔ انسان کبھی تو خانقاہ کا دروازہ ہے اورکبھی طوائف کے کوٹھے کا بے کواڑ در، کبھی زمین  سے نکلا کوئلہ ، کبھی ہیرا ،پتر انسان تو وہ  سلاخ ہے  جس کو تھام کر قیدی جیل   کے صحن کے اُس پار آزادی ڈھونڈتا ہے ۔پتر  انسا ن   کا ہر روپ  نرالا ہے ۔ اس کے بہروپوں میں  زندگی کے رنگ ہیں ۔ کیوں پریشان ہوتا ہے جھلیا۔۔۔۔‘‘

’’سائیں انسان تو ہیری پوٹر کی  کہانیوں کا بہروپیا لگتا ہے جو کہ ہر اُس شے کا  روپ دھار  لیتا ہے ۔جس سے انسان  سب سے زیادہ ڈرتا ہے۔لیکن انسانی    بہروپ کو ری ڈی کولس کامنترپڑھ کرنہیں بدل سکتے 

بہت بے سکونی ہے سائیں۔ سائیں بعض دفعہ میں  اس ری ڈی کو لس بہروپ کے ہاتھوں میں نے

بہت نقصان اُٹھائے ہیں۔ وہ پھانس کی طرح دل میں چبھتے ہیں۔ سائیں میری ما ں چاہتی تھی وہ میرے لیے کوئی چاند سی دلہن  ڈھونڈ کر لائے ۔اُس نے لڑ کی  بھی پسند کر لی۔ میں ہمیشہ ماں سے کہتا تھا تُو جدھر کہے گی  شادی  کر لوں گا۔ مگر جب موقع آیا تو میرے نفس    اور ماں کی محبت  میں جنگ جھڑ گئی ۔ مگر بہروپیا ماں  کی محبت سے جیت گیا اور میں نے اپنے باپ کی بیوہ بھتیجی سے  نسرین  سے شادی کر لی۔ مجھ پر دادو تحسین کے ڈونگرے برسائے گئے اور میں عظیم آدمی کے بہروپ کا لطف اُٹھاتے ہوئے ماں کی خوشی کو بھول گیا۔ ماں کی آنکھوں میں آنسو تھے میں نے اُس کی خواہش کو اپنے بہروپ پر قربان کر ڈالا سائیں ۔

پھر میں نے ایک محنتی انسان کا بہروپ دھارا اور دولت کمانے کی دُھن میں مگن ہو گیا۔ لوگ مجھے ایک کامیاب بزنس مین کے طو ر پر  جاننے لگے۔ میں اپنے اس بہروپ کی کامیابی میں گم رہا ، میرے پاس رشتوں کے لیے وقت ہی نہیں تھا۔محنتی اور کامیاب بزنس مین کے بہروپ کا اثر تب ختم ہوا جب مجھے پتا چلا کہ  نسرین  کینسر کی جنگ  لڑتے لڑتے زندگی کی بازی ہار گئی  ہے۔ اُس نے میرے  نام ایک رقعہ چھوڑا تھا جس میں یہ لکھا تھا  کہ اُسے میرے پیسے سے زیادہ  میری ضرورت تھی ۔ اُس کے مرنے پر میں بہت رویا لیکن میں نے اپنے پچھتاوے کے آنسوؤں کو دکھ کے آنسوؤں کا روپ دے دیا ،اس پر بھی میری رحم دلی کو بہت داد ملی ،میرا یہ بہروپ بھی کامیاب رہا۔

یونیورسٹی میں ایک لڑکی تھی ،ہر  میدان میں میرے سے آگے ، ہر دفعہ کامیاب ،بڑا چبھتی تھی میری آنکھوں میں،ہر دفعہ اُس کی وجہ سے میں ٹاپ نہیں کر پاتا تھا۔تو سائیں میں نے اپنی حرص کے اُوپر محبت کا غلاف  چڑھایا اور اُس کی محبت کے  ترانے گانے لگا۔ میں نے اُسے ہر طرح سے یقین دلایا کہ مجھے اُس سے بے پناہ اور حقیقی محبت ہے۔ پھر جب میں نے دیکھا کے کہ وہ میری محبت کے جال میں پوری طرح پھنس گئی ہے تو میں نے اُسے یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ وہ میری محبت کے قابل نہیں ہے۔ اُس کی ہیزل براؤن آنکھوں میں سوال تھے ، حیرت تھی۔اُس نے بہت پوچھا میرے نزدیک محبت میں قابلیت کا میعار کیا ہے ؟؟؟۔ مگر میں اُسے کیا بتاتا کہ میں تو اُسے ٹکڑوں میں ٹوٹا دیکھنا چاہتا تھا۔ اُس  نے یونیورسٹی  چھوڑ دی  اور اگلے ہی ماہ مجھے خبر ملی کہ اُس نے پنکھے سے لٹک  کر جان دے دی۔مگر  مجھے میرے اندر کے بہروپیے نے کوئی ملال محسوس نہ ہونے دیا ۔مجھے تو بس اس سے غرض تھی  کہ وہ میرے راستے سے ہٹ گئی اور مجھے گولڈ میڈل مل گیا۔ میری خواہش ،میرا بہروپ ایک اور انسان کی جان لے گیا۔‘‘میں نے سر اُٹھا کر دیکھا بابا مسکرا رہے تھے ۔ میرے سے رہا نہ   گیا  ، میں  جیسے چیخ   اُٹھا ،’’ بابا  ہنستے کیوں ہیں ؟؟ آپ تو ایسے ہنس  رہے ہیں جیسے میں  ابھی صدا لگاوں گا، اُچے شملے سرداریا ں قائم ، میں کمی کمین میراثی  ،بہروپیا ، تہاڈی جُتیاں دی خاک   ، تہاڈے چلم دے حقے دی راکھ  ، خطاواں معاف تے وفاواں  یاد، پھر اپنا سوانگ  ختم کر کے آپ سے انعام مانگو گا۔ بابا سائیں میں انسان ہوں ،ہر روز نیا بہروپ بھرنے والا  ، ہر روپ پہلے سے زیادہ  زہریلا، من میں اندھیرا ہے سائیں،روح گھائل ہے ، وجود چھلنی چھلنی ہے، بہروپ کی ادلی بدلی مارے جا رہی ہے۔ کیا کروں کدھر جاؤں؟؟؟‘‘

’’ پتر  یہ بہروپ نگر ہے ۔ ادھر کا یہی دستور ہے،سبق یاد ہو تو سزا ملتی ہے، بازی جیت جاؤ تو بساط منہ پر مار دی جاتی ہے، سچی چاہ کرو تو دیوار میں چن دیا جاتا ہے، سچ کی راہ پر چلو تو  کھال کھینچ لی جا تی ہے، نہ کوئی  شکایت  کا موقع اور نہ کوئی فریاد کی گنجائش۔ انسان اصل اور بہروپ کے درمیان  گھن چکر بن کر رہ جاتا ہے۔نہ دنیا کی امرتی ملتی ہے نہ دین کا لڈو ۔ پتر یہ انسان کے جو بہروپ ہیں نا یہ کبھی ڈی ایچ لا رنس کی  تحریر کی طرح  ہوتے ہیں توکبھی بائبل کا مقدس صحیفہ ۔ انسا ن کو ضرورت کے مطابق بہروپ بھرنا پڑتا ہے۔ قدرت نے اس کے اندر ازل سے لے کر ابد تک کے سارے بہروپ بندکر دئیے ہیں۔ اب انسان پر منحصر ہے وہ بھلےکو چُن لے یا بُرے کو ۔ بہروپ کی ادلی بدلی سے اندر کے بچے کو  روشنی  پہنچائے   یا اُسکا گلا گھونٹ کر مار دے‘‘

’’ اندر کا بچہ  ،سائیں؟؟؟‘‘

’’ اوۓ جھلے ضمیر ، اندر کا بچہ ، جو  تجھے بھلے کی طرف مائل کرتا ہے اور بُرے سے روکتا ہے ۔‘‘

’’سائیں اندر کا بچہ کیسے مرتا ہے؟؟‘‘

’’ پتر اندر کا بچہ ایمان ، سچائی اور اچھے عمل کی آکسیجن مانگتا ہے۔جب اُسے نہیں ملتی تو آہستہ آہستہ گرد جمنے لگ جاتی ہے ۔ ہم دھیان نہیں دیتے  اور آہستہ آہستہ یہ گرد کی تہہ دبیز ہوتی جا تی ہےاور اندر کا بچہ دم گھٹ کر مر جاتا ہے۔ پھر ہم نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں۔ بہروپ کی ادلی بدلی روٹین بن جاتی ہے۔‘‘

’’سائیں یہ گرد جمنے سے کیسے روکی جائے؟ مجھے لگتا ہے اندر باہر سب کالا ہوگیا ہے۔ سب کچھ سیاہ ، اندھیرا ہی اندھیرا ، کوئی روشنی نہیں۔ نہ اندر نہ باہر۔‘‘

’’ پتر

؎ عاشق ، چور ،فقیر خدا تو منگدے نے گھپ ہنیرا

اک لُٹاوے ،اک لٹےُ ،اک کہدے سب کجُ تیرا

دیکھ جھلے ، انسان خدا کے روپ کا عکس ہے۔ جب وہ پیدا ہوتا ہے تو اپنے اسی روپ کے ساتھ ، صاف شفاف، اُجلا شیشے جیسا۔ جب وہ بہروپ بھرنا شروع کرتا ہے تو وہ اپنے اصل سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔پھر گرد جمنے لگتی ہے اور آخر میں جب وہ بہروپ بدلنے کے قابل نہیں رہتا تو اصل کی طرف جانے کی ، لنک بنارب سوہنے سے، دنیا کے کاموں کے ساتھ اُسے بھی یاد رکھ ۔ وہ بڑا رحیم و     کوشش کرتا ہے پر تب ویلا گزر چکا ہوتا ہے پتر۔ تو دیکھ پتر فوکس کر ،

کریم ہے ۔ اندر جھانک جھلیا، اپنا اندر ٹٹول، پتر سکون اور خوشی  انسان کے اندر ہوتی ہے ۔ تُو اُسے باہر تلاش کرتا پھر رہا ہے

؎ رب تے تیرے اندر وسدا وچ قرآن اشارے

بلھے شاہ رب اُنہوں ملسی جیہڑا اپنے نفس نوں مارے

اُس کے ذکر کی شمع دل میں جلائی رکھ، نماز پڑھ ، حلال رزق کما ، صابر بن ، عمل کرتا رہ، برکت ڈالے گا رب سوہنا۔‘‘

’’ مگر سائیں میں تو عبادت میں بھی بہروپ بھرتا ہوں ۔ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہوں تو بے شمار خیالات تنگ کرتے ہیں ۔ لیکن میں سر پر ٹوپی جمائے بڑے سلیقے  سے نماز پڑھنے کا دکھاوا کرتا ہوں ۔پھر سوچتا ہوں کے اس دکھاوے  کی عبادت کا کیا فائدہ ؟نہ ہی کروں، کون سا رب کو پسند آجانی ہے ؟سائیں مجھے لگتا ہے وہ مجھے پکا جہنم میں ڈالے گا۔ کچھ  پلے  نہیں پڑتا کیا کروں؟؟‘‘

’’نہ پتر نہ وہ تو رحیم ہے ۔وہ  ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔وہ کہتا ہے

باز آ باز آ ہر آنچہ ہستی باز آ

گر کافر و گبر و بت پرستی باز آ

ایں درگہ ما درگہ نو میدی نیست
 صد بار اگر توبہ شکستی باز آ


واپس آ جا واپس آ جا تو جو کوئی بھی ہے واپس آ جا
اگر تو کافر اور مشرک اور بت پرست بھی ہے تو واپس آ جا

ہماری یہ درگاہ نا امیدی کی درگاہ نہیں ہے
اگر تو سو بار بھی توبہ توڑ چکا ہے پھر بھی واپس آ جا

اوئے جھلے‘‘ وہ میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے۔’’ حاضری دیتا رہ ، حاضری ضروری ہے ، وہ قبول کر لیتا ہے پتر، وہ رحیم وکریم ہے ، وہ بے حد پیار کرتا ہے ۔ میرے سوہنے پتر اپنے اصل روپ پر دھیان دے ۔ رب سے تعلق پیدا کر نے کی کوشش کر جو دنیا کو خوش کرنے کے لیے بہروپ بھرتا ہے نا وہ وقت ،وہ توجہ  اُدھر لگا دے ۔رب سوہنا منزل آسان کرے گا۔ سروری اُسی ذات کو زیبا ہے ۔ یاد رکھ ، ہم اُسی کو بھول جاتے ہیں جو ہمارا اصل ہے۔ اُس  سے یک سُو ہونا ضروری ہے ۔ دل کا قفل ہٹا ۔ گرد کو صاف کر، اندر کے بچے کو زندہ کر ۔ انسان غلطی سے نہیں اُس کے اصرار سے مارا جاتا ہے۔مہلت مت گنواؤ، لنک پیدا کرو،بس تعلق بنا لو ۔

؎ پھڑ نقطہ چھوڑ حساباں نوں

کر دور کفر دیاں باباں نوں

چھڈ دوزخ گور عذاباں نوں

گل اسے گھر وچ ڈُکڈی اے

اک نقطے وچ گل مکدی اے

’’بابا تھک گیا ہوں ۔ پاؤں زخمی ہیں ۔لگتا ہے ریشم میں ہاتھ پھنسا بیٹھا ہوں،نکالنے پر بھی تاگے ٹوٹنے کا ڈر اور اندر رہتے ہوئے بھی اُن کے ٹوٹنے کا خدشہ۔‘‘

’’بس پتر تُو لو لگا لے رحمت اللعالمین ﷺسے ،پھر فرار کا اندیشہ ختم ہو جائے گا۔سارے اندھیرے روشنی میں بدل جائیں گے۔ کالی کملی میں چھپ جا ، اندر کی کالک  چمک اُٹھے گی۔کالے کو اتنا  چمکا کہ سب جذب کر لے ساری تکلیفیں ،سارے دکھ، سارے بہروپ۔ رب کے سوہنے یار کو منا لے ۔سب دکھوں سے نجات  مل جائے گی ۔ بہروپ کی ساری ادلی بدلی کی ضرورت ختم،غوروفکر کر ،باطن کی سیاہی چمک اُٹھے گی۔سوہنے رسول ﷺسے دل لگا لے ، رب مل جائے گا۔پھر تجھے اصلی روپ ملے گا،ہر بہروپ سے آزاد،خالص انسان کا روپ۔‘‘

پھر میں نے سر اُٹھا کر دیکھا ہر جانب روشنی تھی،خوشبو تھی۔اک نئی منزل کی راہ نظر آرہی تھی ۔مرشد کے چہرے پر مسکان تھی، اُن کا کالا لباس ، کالی چادر روشنی کو بڑھا رہی تھی ۔میں نے مسکرا کر راستے کی جانب دیکھا ، اپنے اصل کی طرف جانے والے راستے کی جانب۔ہر بہروپ سے آزاد منزل کو جاتے راستے کی جانب۔

سکھی ری، دیکھو ری، پیا رنگ کالا

اپنے رنگ میں موہے رنگ ڈالا

سکھی ری، دیکھو ری، موہےرنگ ڈالا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave your comment !