ایسے خیال سے گزر!

تحریر : ش  م  احمد

   روئے زمین پر موجود الہامی کتابوں میں قرآنِ مقدس واحد  الکتاب ہے جو لفظی تحریف سے مکمل طور محفوظ ومامون ہے، جس کا حرف حرف اور لفظ لفظ اُنہی اعراب کے ساتھ من وعن موجود ہے جن کے ساتھ یہ نازل ہوا،جس کے متن میں اسلام کے دورِ عروج سے لے کر مسلمانوں کے عہدِ زوال تک کبھی کوئی تغیر وتبدل نہ ہوا، جس پر دن کی روشنی اثرانداز ہوتی ہے نہ رات کی تاریکی اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اسے اللہ نے نازل کیا اور خود ہی اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ۔ لہٰذا تاقیامت اللہ کی کتاب میں کسی حذف واضافے اور تصرفات کا کوئی امکان ہی نہیں۔ یہ دنیا میں رہنے والے تمام اہل ایمان کا غیر متزلزل عقیدہ ہی نہیں بلکہ ایک ناقابل تردید تاریخی سچائی بھی ہے ۔ کسی عقل کے اندھے اور دل کے فر یبی کواس سے انکار ہو تو کیا کیجئے ۔

کلام اللہ پر کفارانِ مکہ سے لے کر عصر رواں کے منکرین تک نے جب کبھی اعتراض کیا تو انہیںاول وآخر منہ کی کھائی:

’’ اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتی ہیں، وہ لوگ( منکرین ِقر آن ) جنہیں ہم سے ملاقات کی اُمید نہیں ، کہتے ہیںکہ اس کے سواکوئی قرآن لے آؤیا اسے بدل دو،تو کہہ دے میرا کام نہیں کہ اپنی طرف سے اسے بدل دوں، میں اس کی تابع داری کرتاہوں جو میری طرف وحی کی جائے، اگر میںاپنے رب کی نافرمانی کروں تو بڑے دن کے عذاب سے ڈرتاہوں ‘‘

( سورہ یونس، آیت نمبر ۱۵)

آج کی تاریخ میں قرآن بیک وقت سب سےزیادہ پڑھی جانے الہامی فرمان اورmisunderstood  خدائی کتاب ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم مسلمان اپنی عملی زندگیوں میں کتابِ ہدایت کی نمائندگی کر نے میں ناکام رہے ،بلکہ خدا فراموشی اور عارضی مفاد کی رو میںاس قدر بھٹک گئے کہ یہود ونصاریٰ کے ایما پراب قرآن کریم کو بھی’’ نفرت آمیز مکالمت‘‘(hate speech) ماننے لگے ہیں۔ حد یہ کہ کلامِ مجید سے دوری بنانے کے لئے سعودی عرب، بحرین ، متحدہ عرب امارات اور مصر نے امریکی ’’ماہرین ِ تعلیم وثقافت‘‘ کی مدد سے گزشتہ برس اپنے اسکولی نصاب سے قرآن کی اُن تمام آیاتِ مقدسہ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کرحذف کردیاجن میں عیسائیوں ، یہودیوں اور کافرین کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات پر روشنی پڑتی ہے یا یہودونصاریٰ کے بعض جرائم کے بارے میں تعزیراتی قوانین کے اشارات آیات ِ الہٰیہ میں موجود ہیں۔ واضح رہے یہ’’ اصلاح شدہ‘‘ اسکولی نصاب فی الوقت سعودی عرب کے اندر تیس ہزار اسکولوں میں مروج ہے۔ کیا پتہ قرآن کو ’’اصلاح‘‘ یافتہ بنا نے کے امریکی مشن سعودی عرب کے لبیک نے ہی شیعہ وقف بورڈ لکھنو کے سابق سربراہ وسیم رضوی نامی سرپھرے کوکتاب اللہ کو العیاذ باللہ’’ بدلنے‘‘ کا حوصلہ دیا ہو ۔

 رضوی ایک متنازعہ اور بدنام زمانہ انسان ہے ۔ ایک عرصہ سے گھر کا بھیدی لنکا ڈھانے کے مصداق یہ شخص اول مسلم کمیونٹی کے اندرشدید  منافرت اور شبہات کی آگ کو ہوا دئے جارہاہے، دوم مسلمانوں کی ملّی وحدت پارہ پارہ کر نے والے فتنے جگاکر اُنہیں ہمچو قسم کی شرارتوں پر اُکسا نے کی ناکام کوششیں کررہاہے ۔ آج تک اس کو رنگاہ اور بددماغ شخص نےبابری مسجد کی شہادت اور رام مندر کی تعمیر سے لے کر تمام دیگر حساس مذہبی موضوعات تک اپنی سو گز زبان سے صرف مسلمانوں پر تیر اندازیاں کی ہیں،کلمہ خوانوں کو نیچا دکھایا ہے ، اناپ شناپ نان ایشوز میں مسلمانوں کوگم گشتہ راہ دیکھنے میں کوشاں ہے ۔اس کا ہرگز مدعا نہیں کہ اپنے کاغذی گھوڑے چلاکر سےملک وملت کی بھلائی کی کوئی راہ نکالے، ملکی عوام اور مختلف سماجوں کے درمیان مفاہمت اور یگانگت بڑھائے، بھائی چارے کو بھسم کرنے والی آگ بجھائے بلکہ اس اُلٹی کھوپڑی کا واحد ایجنڈا یہی ہے کہ دبے کچلے مسلمانوں کی تذلیل ہو ، اُن میں مسلکی تفرقات اور گروہی تنازعات بھڑکیں، اُن کی جگ ہنسائی ہو ،اُن کے ہر ے زخموں پر نمک پاشی ہو،اُن کے معاندین کے جارحانہ حوصلوں کو بڑھاوا ملے۔ انہی معیوب و مذموم عزائم سےرضوی اپنا نامۂ اعمال سیہ کئے جارہاہے ۔

 واقف کار لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ کر نااس کم ظرف شخص کی ذاتی مجبوری ہے کیونکہ ا س سےمیڈیا کے متعصب حصہ میں یہ شخص سرخیاں بٹو رتا ہے اور اسی کے صلے میں اپنے آقاؤں سے مراعات و عنایات وصولتا ہے۔ مزید برآں بدعنوانیوں کے جو سنگین الزامات ا س کے تعاقب میں ہمیشہ رہتے ہیں ، ان کا تعاقب وقتی طور ا س کے لئےتھم جاتا ہے ۔ یہ اکیلے اس مخبوط الحواس کی آزمودہ حکمت عملی نہیں بلکہ ملک میں دین دھرم کے نام پر سیاست کر نے والے دیگر نیتا نفرت کا یہی سیاسی چورن اپنی دوکانوں پر بیچ کھاتے ہیں۔ ایسے تمام سیاسی رنگے سیاروں کے لئے غریب عوام کا بھلا چاہنا یا اُن کے روزمرہ مسائل ایڈریس کر نا کوئی ترجیح نہیں رکھتا، بلکہ یہ بےتکی شوشہ آرائیوں اور تنازعات کی آگ بھڑ کاکر ہی اپنا کام دھندا چلاتے ہیں۔

    رضوی نے اس بار خباثت کی حدیں پار کر کے سپر یم کورٹ میں قرآن کریم کی چنیدہ چھبیس آیتوں کے خلاف عدالت ِعظمٰی میں مقدمہ دائر کر دیا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ قرآن کریم منزل اللہ ہے ، وحی الہٰی ہے ،اس کے اعراب ہی نہیں بلکہ رموزواسرارسمیت 

 ہر چیزناقابل ِتغیر ہے، پھر بھی مردود نے جان بوجھ کر کوئلوں کی دلالی میں اپنا منہ کالا کیا۔ زیر بحث چھبیس آیات اللہ کے وہ فرام ہیں جن پر ردوبدل کی مقراض چلانا ماورائے عقل وامکان ہے، ا ن میں نہ کوئی فرد بشر ، نہ کوئی ایوان ، نہ کوئی عدالت تبدیلی کرسکتی ہے، مگر ذاتی تشہیر کی بھوک مٹا نے کے لئے اپنی دنیا وآخرت کی بربادی کا سامان کرنے کا سودا جب کسی کے سر میں سما ئے تو وہ ایسے ہی ناہنجارکام کر گزرتا ہے ۔ یہ کم سواد انسان آیاتِ رُبانی کو خاکم بدہن’’ تشدد کو ہوا دینے والے اضافہ جات‘‘ کہہ کر انہیں قرآن سے حذف کروانے کے جاگتی آنکھوں کے خواب دیکھتا ہے ۔ چنانچہ اپنے بے سر وپا مقدمے کی ’’دلیل‘‘ میں فاسق وفاجرنے اسلام کے ابتدائی تین خلفائےراشدین( رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین ) پر وہ ناقابل ِبرداشت تہمتیں لگائیں جن کو زیر قلم لانا بھی گناہِ کبیرہ ہے ۔ 

 ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ رضوی کو یہ پیشگی علم نہ ہو کہ اس کی ایمان فروش اور اشتعال انگیز حرکت کا شدید ردعمل کرگل سے کنیا کماری تک سامنے نہ آئے ۔ وہ جان بوجھ کر یہی چاہتا تھا کہ فریق مخالف اسے موضوعِ بحث بنائے تاکہ اپنے حقیر مفادات کا خم خانہ سجائے ۔ بہر صورت اس وقت مسلمانانِ ہند مسالک ومشارب سے بالاتر قرآن کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے خلاف ہر جگہ، ہر مجلس ، ہر اجتماع میں رضوی کی مٹی پلید کررہے ہیں۔ ملعون، مرتد ، بدقماش ، مفتن ، منافق، شریر،سر کش، بدخواہ، دریدہ دہن ، سنگھ پریوار کا پالتو ، بھارتی مسلمانوں کا اَزلی دشمن، ننگ ِملت ، ننگ ِ وطن جیسے مغلظات سے اسے یاد کر کے کلمہ گو اپناغصہ اُتارر ہےہیں۔ وادیٔ کشمیر کے گوشے گوشےمیں بھی لوگ اس قسم کے اوچھے حربے پر انگشت بدنداں ہیں۔ متحدہ مجلس علما، سرکاری ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی ، بار ایسوسی ایشن سمیت تمام دینی تنظیموں اور سیاسی انجمنوں نے رضوی کو اپنے مفسدانہ عمل کے سبب آڑے ہاتھوں لے چکےہیں ۔ 

 واضح رہے قرآن کے خلاف اس سے پہلے کو لکتہ ہائی کورٹ میں ۲۰؍ جولائی ۱۹۸۴ کو اسی طرح کی عرضی چندمل چوپڑہ نامی ایک   دھارمک جنونی نے دائرکی تھی۔ چوپڑہ پٹیشن کے خلاف بھارت اور بنگلہ دیش میں بہت ساری جگہوں پر مسلمانوں کے زوردار مظاہرے پھوٹ پڑے تھے ۔ بنگلہ دیش میں کم ازکم بارہ لوگ مظاہروں میں لقمہ ٔ اجل بن گئےجب کہ ہزاروں لوگ زخمی ہوئے تھے ۔ بہار میں بھی حالات قابو سے باہر اوروادیٔ کشمیر میں فقیدا لمثال ہڑتال ہوئی تھی۔ حالات کی نامساعدت بھانپتے ہوئے مر کزی حکومت اور مغربی بنگال میں برسر اقتدار بائیں بازو کی حکومت نے بیک زبان چوپڑہ کی حرکت کی کڑی نکتہ چینی کی تھی ، عدالت نے مقدمہ خارج کر کے چوپڑہ کو نقص ِ امن کا مجرم گردان کر جیل میں ٹھونسا تھا۔ اس وقت  صورت حال مختلف ہے ،اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا رضوی کی توہین آمیز عرضداشت کی عدالت عظمیٰ میں شنوائی ہوتی ہے یا مجاز عدالت مسلمانوں کےاجتماعی ضمیر کی تشفی کے پیش نظر پہلی ہی پیشی پر مقدمہ خارج کر تی ہے ۔ 

  کتاب ا للہ کومتنازعہ بنانے کی نامبارک کوشش کی ٹائمنگ بھی غور طلب ہے۔اس وقت ملکی حکومت کی باگ ڈور عملاً آر ایس ایس کے ہاتھ میں ہے۔ سنگھ روزِاول سے مسلمانوں کے خلاف نفرت ، عداوت اور تعصب پال رہی ہے ، اس کو کبھی بھی گنگا جمنی تہذیب ، سیکولر روایات اور کثرت میں وحدت جیسے آئینی اقدار ایک آنکھ نہ بھائے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے مودی سرکار ملک کے سیاہ وسپید کی مالک بن گئی، ٹھیک اُسی دن سے ’’سب کاساتھ سب کا وکا س‘‘ جیسا اچھا نعرہ ترک کر کے مسلمانانِ ہند سیاسی، معاشرتی اور معاشی طور متواتر حاشیئے پر دھکیلے جارہے ہیں، اُن کے مذہبی عقائد اور دینی شعائرپر یورشیں ہورہی ہیں ، گھر واپسی، ہجومی قتل ( اخلاق احمد ، پہلو خان، زبیر انصاری)، مارپٹائیاں، حتیٰ کہ حال ہی میں غازی آباد کے ایک مندر سے پانی پینے کے ’’جرم ‘‘ پر بارہ سالہ معصوم بچے(آصف)پر شدید جسمانی تشدد جیسی چیزیں عام ہورہی ہیں ، مسلم پرسنل لا میں بے جا مداخلتیں کی جارہی ہیں ۔ حق یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے نمازوں کی ادائیگی وبالِ جان بنائی جا رہی ہے ، اذانوں پر بندشیں عائد ہورہی ہیں، کوڈ۔ ۱۹  پھیلانے کا ذمہ دار اہل اسلام کو ٹھہرایا جارہاہے،تبلیغی اجتماعات پر طرح طرح کی بھدی آوازیں کسی جارہی ہیں ، مدارس پر کہیں بلواسطہ اور کہیں براہ راست نکیل ڈالی جارہی ہے ، شادی بیاہ پر لوجہاد جیسے قوانین کی تلواریں آزمائی جارہی ہیں ، مسلم ٹوپی ، حجاب ، لباس کی تراش خراش ، باورچی کے پکوان تک نفرت و جارحیت کے ہتھے چڑھائے جارہے ہیں ، مساجد اور درگاہوں پر حملے ہورہے ہیں ، مسلمانوں سے جبراً جے سری رام کا نعرہ دلا نےکا تماشہ کیا جارہاہے، مسلمانوں کے شاہین باغ والے پُرامن آندولن کا جواب جعفر آباد جیسی آتش وآہن کی قیامتوں سے دیا جارہا ہے۔ ایسے میں اس مسلم بیزار فضا میں رضوی اور پاکستانی نژاد بھگوڑے طارق فاتح جیسی برساتی مینڈکوں کو جان بوجھ کرٹرانےپر لگایا گیا ہے۔

 وسیم رضوی کو اگر اللہ نے ہدایت نہ دی یا اُسے اپنے گناہ سے توبہ کی توفیق نہ ملی تو یقیناً بے آواز خدائی لاٹھی سے اُس کا ناش اُسی طرح ہوناطے ہے جیسے ابرہہ کے لشکر جرار کا کبھی مکہ معظمہ میں ہوا تھا ۔ بایں ہمہ یہ ہمارے لئے بھی ایک مقام ِعبرت ہے کہ ہم مسلمان ہونے کے باوجود قرآن کی تعلیمات اور احکامات سے غافل ہیں۔ ہمارا قرآن کریم کے ساتھ کیا رویہ ہے ،اس کی جھلک دکھانے کے لئے جناب ماہر القادری ؒ نے ایک آئینہ اپنی اس شاہکار نظم میں ہمارے ضمیر کی آنکھ کے سامنے کھڑا کیا ہے، ملاحظہ فرمائیں   ؎

قرآن کی فریاد

طاقوں میں سجایا جاتا ہوں 

 آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں

تعویذ بنایا جاتا ہوں 

 دھودھو کے پلایا جاتا ہوں

جُزدان حریر وریشم کے 

 اور پھول ستارے چاندی کے

پھر عطر کی بارش ہوتی ہے 

 خوشبو میں بسایا جاتا ہوں

جس طرح سے طوطے مینا کو 

 کچھ بول سکھائے جاتے ہیں

اس طرح پڑھایا جاتا ہوں 

 اس طرح سکھایا جاتا ہوں

جب قول وقسم لینے کے لیے 

 تکرار کی نوبت آتی ہے

پھر میری ضرورت پڑتی ہے 

 ہاتھوں پہ اُٹھایا جاتا ہوں

دل سوز سے خالی رہتے ہیں 

 آنکھیں ہیں کہ نم ہوتی ہی نہیں

کہنے کو میں اک اک جلسہ میں 

 پڑھ پڑھ کے سنایا جاتا ہوں

نیکی پہ بدی کا غلبہ ہے 

 سچائی سے بڑھ کر دھوکا ہے

اک بار ہنسایا جاتا ہوں 

 سو بار رُلا یا جاتا ہوں

یہ مجھ سے عقیدت کے دعوے 

قانون پہ راضی غیروں کے

یوں بھی مجھے رُسوا کرتے ہیں 

 ایسے بھی ستایا جاتا ہوں

کس بزم میں مجھ کو بار نہیں 

کس عُرس میں میری دُھوم نہیں

پھر بھی میں اکیلا رہتا ہوں 

 مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں

ماہر القادریؒ​