اقصیٰ ندیم
یہ کیا تھا جس نے کہساروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا، جس نے قدیم پناہ گاہوں کو مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا تھا، جس نے اونچے اونچے اشجار کو سجدہ ریز کر دیا تھا؟ ہاں یہ 8 اکتوبر 2005 کا لرزہ خیز دن تھا جس نے نیلم ویلی سے بھمبر تک کے تمام در و دیوار کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ دنیا میں ہونے والا چوتھا بڑا زلزلہ تھا جس کی مدت 7.6 ریکٹر اسکیل تھی اور اس کا مرکز مظفرآباد اور اس کے ارد گرد کے شہر تھے۔
آج تیسرا روزہ تھا۔ روزہ کی حالت میں تمام لوگ اپنے روز مرہ کے کاموں میں مصروف تھے۔ ذہن پر زیادہ زور آزماؤں تو یاد آتا ہے یہ گھاس کٹائی(آسُو) کا موسم تھا۔
میں ریڈ فاؤنڈیشن سکول (پرانا نام “صُفہ ماڈل سکول) میں کلاس نرسری کی طالبہ تھی۔ سکول میں داخلہ لیے ابھی کچھ طویل عرصہ نہ گزرا تھا کہ حالات نے ایک بار پھر گھر بٹھا دیا۔ صبح 8:52 منٹ کا وقت تھا۔ میں اور میری کزن کاپی چیک کروانے کے لیے ٹیچر کے پاس کھڑے چاک اور ڈسٹر ہاتھ میں لیے بلیک بورڈ پر کچھ لکھ رہے تھے جب اچانک سے دروازے،کھڑکیاں اور دیواریں ہلنے لگے۔ ایک عجیب سا منظر تھا۔ وہ دیواریں اور درخت جو کچھ دیر پہلے سینہ تانے بڑے فخر سے کھڑے تھے سب سجدہ ریز ہو گئے تھے۔
بقول:
پوچھا کہ کیا بنا اِن درس گاہوں کا
تو جواب ملا کہ سب مٹی میں مل گیا
ہر طرف افرا تفری کا سماں تھا۔ ہر طرف گَرد تھا ایک دھند تھی جس سے آنکھیں چندھیا جاتی تھی۔ پرندوں کی چہچہاہٹ انسانوں کی چیخ و پکار میں تبدیل ہو چکی تھی۔ آزاد جموں و کشمیر میں ہر طرف ماتم کا سماں تھا۔
بقول:
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
اس عجیب کیفیت سے بر طرف ہو کر اپنے بھائیوں کے ہمراہ سکول کی حدود سے نکل کر جب گھر کو جانے والی سڑک پر قدم رکھا تو ہم طوفان سے سہمے لوگ اس ناگہانی حالت میں سڑک پر چلنے والی ایک آدھ گاڑی کو دیکھ کر بھی گھبرا جاتے تھے کہ شاید یہ بھی اُس طوفان کی کوئی قسم ہے۔
10 منٹ کی مسافت کے بعد جب گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ مٹی کا وہ آشیانہ جسے صبح سلامت چھوڑ کر خوشی خوشی نکلے تھے وہ اپنے در و دیوار اور رعنائیاں کھو چکا ہے۔ اسی اثنا میں خبر ملی کہ پیاری نانی جان اور پھوپھو جان روزہ کی حالت میں خالقِ حقیقی سے جا ملی۔ افرا تفری کا عالم یہ تھا آہ…. ایک قبر میں دو تین جنازے رکھے جاتے تھے۔ بنا کفن کے لوگوں کو دفنایا جا رھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بیشتر لوگوں کو معلوم نہیں کہ اُن کے آباؤ اجداد کے مقبرے کہاں موجود ہیں۔
پانی تھا میسر نہ کفن تھا نہ دعائیں
بے طور ہر اک پیر و جواں دفن کیا تھا
ملبے سے نکالے تھے کہیں پھول کہیں خواب
اب یاد نہیں کس کس کو کہاں دفن کیا تھا
کھانے پینے کی اشیاء موجود نہ تھی۔ سکول سے واپسی پر جہاں سب سے پہلے کھانا کھایا جاتا تھا آج مغرب کی آذانیں ہو رہی تھی اور ہم بھوک اور پیاس کی حالت میں اپنے بڑوں کے ساتھ جنازوں کے ارد گرد بیٹھے سسک رہے تھے اور پھر یاد آتا ہے اپنے ہی گاؤں کی ایک بہن نے پانی میں چپاتی بھگو کر کھلائی تھی۔ رات کی تاریکی میں تدفین کا عمل سر انجام دینے کے بعد تمام لوگ اس خوف سے اکھٹے تھے کہ کہیں پھر سے کوئی قیامت نہ ٹوٹ پڑھے۔ کوئی پناہ گاہ نہ تھی۔ بڑے بڑے کھیتیوں میں بنا چھت کے ترپالیں بچھائی گئی تھی۔
میں ایک کچے ذہن کی لڑکی بہت گہرائی میں تو نہیں لکھ سکتی مگر ہاں جو میری بصارت اور بصیرت میں محفوظ ہے وہ ضرور لکھوں گی۔
ذہنی صحت اس قدر متاثر تھی کہ چند دن بیتنے کے بعد جب پڑوسی ممالک ترقی،چاہنہ اور پاکستان وغیرہ سے امدادی سامان تقسیم کرنے ہیلی کاپٹر سرزمینِ آزاد جموں وکشمیر میں داخل ہوتے تو میرے سادہ لوح اور ڈرے سہمے لوگ اس کی آواز سے خوف محسوس کرتے ہوئے اِدھر اُدھر بھاگتے اور چھپنے کے لیے پناہ ڈھونڈتے تھے۔ زرا کوئی آواز سنائی دیتی تو اس کو زلزلہ سے تشبیہ دیتے تھے۔ اور آج 16 سال مکمل ہونے کے بعد بھی صبح 8:52 منٹ پر سب لوگ گھروں سے باہر نکل آتے ہیں
میں 8 اکتوبر 2005 کے دن کو ایک سیلابی ریلا لکھوں گی جو انسانی قیمتی جانوں کے علاوہ اپنے ساتھ خلوص،پیار و محبت، تہذیب وتمدن، قدرتی حسن اور سادگی کو بہا کر لے گیا۔ آج لوگ بکھر چکے ہیں۔ رہن سہن اور اطوار بدل چکے ہیں۔ خوب صورت رشتوں کی جگہ ٹیکنالوجی کے سپرد کر دی گئی ہے۔
کہاں گیا وہ خلوص جو کبھی تیری پہچاں ہوا کرتا تھا؟
کیا تو بھول گیا تہذیب وتمدن کے سب تقاضے؟

Leave your comment !