فیصل مرزا

جموں وکشمیر کا محل وقوع

ریاست جموں و کشمیر ایشیاء کے تقریباً وسط میں اور برصغیر پاک و ہند کے عین شمال میں واقع ہے ۔ریاست کے شمال میں روس اور چین،  مشرق میں تبت،  جنوب میں پاکستان اور بھارت جبکہ مغرب میں پاکستان اور افغانستان واقع ہیں ۔اس جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر جموں وکشمیر کو ایشیاء کا دل اور برصغیر کا تاج قرار دیا جاتا ہے ۔

ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم

 ریاست جموں و کشمیر بنیادی طور پر تین حصوں پر مشتمل ہے ۔1 جموں، 2 کشمیر، 3 بلتستان ۔ مگر اب یہ چار حصوں میں منقسم ہے، جن میں سے ایک پر بھارت قابض ہے،  دوسرے پر چین،  تیسرے پر پاکستان کا تسلط ہے اور چوتھا آزاد ہے ۔

مسلم ادوار اقتدار

تخت ریاست پر پہلا مسلم حکمران 1339ء میں شاہ میر معروف بہ ” سلطان شمس الدین ” ( مغل قبیلے سے ) براجمان ہوا،  اس کے بعد 1819ء تک خاندان چک،  خاندان مغلیہ،  اور احمد شاہ ابدالی اور اس کی اولاد بالترتیب تخت نشین رہے ۔ 1819ء میں سکھوں نے ریاست جموں کشمیر پر قبضہ کرکے پانچ سو بیس سالہ مسلم دور اقتدار کا خاتمہ کیا ۔ 

تقسیم بر صغیر اور ریاست جموں وکشمیر

 بر صغیر کی تقسیم کے وقت دیگر چند ریاستوں کی طرح ریاست جموں و کشمیر کو بھی اختیار دیا گیا کہ پاک و ہند میں سے جس کے ساتھ چاہے الحاق کر لیں،  مگر مہاراجہ ہری سنگھ کی پاکستان دشمنی،  اپنوں کی غفلت اور مخالفوں کی چالبازیوں نے ریاست کو کہیں کا نہ رہنے دیا ۔ بالآخر 27 اکتوبر 1947ء کو بڑی سرعت سے ہوائی جہازوں کے ذریعے بھارتی فوج کو سری نگر میں اتارا گیا اور ریاست کے کچھ حصہ پر جبری قبضہ جما لیا ۔

مسئلہ کشمیر کا آغاز  

ریاست کی اکثریت یعنی اسی فیصد مسلمان آبادی بھارت سے الحاق کے خلاف تھی ۔ اس لئے بھارت کے چنگل سے نکلنے کی ہر ممکن کوشش کی،  سینکڑوں بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دروازے پہ دستک دی،  بہتیرے احتجاج ریکارڈ کروائے،  بیسیوں تجاویز عمل میں آکر خاکستر ہوتی رہیں، مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا ۔

حقوق انسانیت اور قیام امن کی عالمی تنظیمیں ٹس سے مس نہ ہوئیں،  ان کی لاپرواہی و عدم دلچسپی فلک پہ قائم رہی ۔اور بھارت پنڈت جواہر لعل نہرو کے الفاظ کہ ” کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے ” دھراتا رہا ، اور پاکستان مسٹر جناح کے دعوٰی حق ” کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے ” پر مصر رہا ۔ 

کشمیر کی جدو جہد آزادی

امید کی ہر چوکھٹ سے مایوسی کے بعد اہل ریاست نے اپنی قوت کے بل بوتے حصول آزادی کی جدوجہد شروع کی ، جس کے نتیجے میں کئی تحاریک آزادی نے جنم لیا ۔ اور لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا،  اسی ہزار سے زائد افراد معذوری کا شکار ہوئے،  دس ہزار سے زائد عورتوں کی بے حرمتی ہوئی، سینکڑوں گھر اجڑے اور ویران ہوئے، اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے ۔ 

 یوم یکجہتی کشمیر

 1975ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیریوں سے اظہار ہمدردی کے لئے 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا اعلان کیا ۔ مگر بھٹو کا یہ اعلان بھٹو کے ساتھ ہی شھادت پا گیا ۔

پھر 21 جنوری 1990ء میں مقبوضہ ریاست کے عوام بھارت کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف سرینگر اور شہروں میں عزم آزادی لئے سڑکوں پر نکل آئے ۔ بتوں کے پجاریوں کو آزادی کا یہ نعرہ مستانہ بالکل نہ بھایا۔ تو ان درندہ صفت انسانوں نے نہتے کشمیریوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانا شروع کردیا ۔( اس وقت پاکستان میں بے نظیر کا دور حکومت تھا اور پنجاب میں نواز شریف وزیر اعلٰی تھے ۔ )

جس پر مذہبی و سیاسی جماعتوں اور اخبارات و جرائد نے حکومت پاکستا ن سے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا اصرار کیا   بالآخر حکومت پاک نے 5 فروری کو باقاعدہ سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا جو آج بھی منانے کی حد تک جاری و ساری ہے ۔

چند سوالات

لیکن کیا ایک دن کی ہمدردی ان کشمیریوں کے گہرے زخموں کا ازالہ ہو سکتی ہے ۔۔؟ جو کلمہ گو ہونے ساتھ ساتھ پاکستان سے محبت کا دم بھی بھرتے ہیں ۔جو پاکستانی پرچم چھتوں پر لہرا کر بھارتی درندوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس امید اور حوصلے سے لڑتے ہیں کہ پاکستان ہمارا ہمدرد ہے ۔

جن کے ہاتھ اک طویل عرصے سے اپنوں کی لاشیں اٹھا اٹھا شل ہو گے ہیں ۔جن کے معصوموں کو ان کی آنکھوں کے سامنے موت کی نیند سلادیا جاتا ہے ۔جن کے بے جان جسموں کو بھی درندگی کا نشانہ بناتے ہوئے مثلہ کیا جاتا ہے ۔

آخر کب تک ۔۔؟ پاکستانی ارباب اقتدار کشمیری مسلمانوں کو نظر انداز کرتے رہیں گے ۔کشمیر کمیٹی کے نام سے مسلمانوں سے فریب کرتے رہیں گے ۔قوم کو جھوٹی طفل تسلیاں دے کر،  بے حسی و غفلت کی چادر تان کر سوتے رہیں گے ۔خدارا۔۔۔۔دجل و فریب کی دلدل سے نکلئے ۔

ایوبی و ابن قاسم کی تصویر بنئے۔اسلام و اہل اسلام کی صحیح ترجمانی کیجئے۔اور اپنے مسلمان کشمیری بھائیوں کے درد کو سمجھئے ۔ان کی آزادی کو یقینی بنائیے ۔بصورت دیگر آج تو قلب ایشیاء محض لہولہو ہے ۔اگر یہ دھڑکنا بند ہو گیا تو سلامت تم بھی نہ رہو گے۔