تحریر =سیدمظہر گیلانی 

بطور مسلمان ہمارے  عقیدے کے مطابق ختم نبوت سے مراد  (حضور نبی اکرم  محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالٰیٰ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں)۔ اللہ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس جہاں میں بھیج کر بعثت انبیا کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے  ختم فرما دیا ہے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا ذکر قرآن حکیم کی 100 سے بھی زیادہ آیات میں نہایت ہی جامع انداز میں صراحت کے ساتھ  بیان کیا گیا ہے۔

ارشادِ خداوندی ہے: (محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیا کے آخر میں (سلسلۂِ نبوت کو  ختم کرنے والے) ہیں اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالٰیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبین کہہ کر یہ اعلان فرما دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی آخری نبی ہیں اور اب قیامت تک کسی کو نہ تو منصب نبوت پر فائز کیا جائے گا اور نہ ہی منصب رسالت پر۔قرآن حکیم میں سو سے زیادہ آیات ایسی ہیں جو اشارۃً یا کنایۃً عقيدہ ختم نبوت کی تائید و تصدیق کرتی ہیں۔ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی متعدد اور متواتر احادیث میں خاتم النبیین کا یہی معنی متعین فرمایا ہے۔ لہٰذا اب قیامت تک کسی قوم، ملک یا زمانہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی اور نبی یا رسول کی کوئی ضرورت باقی نہیں اور مشیت الٰہی نے نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلسلۂ نبوت اور رسالت کی آخری کڑی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبانِ حق ترجمان سے  اپنی ختمِ نبوت کا واضح الفاظ میں اعلان فرمایا۔انس بن مالک روایت ہے کہ (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا) اب نبوت اور رسالت کا انقطاع عمل میں آ چکا ہے لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔اس حدیث پاک سے ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

 آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جو کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ملعون اور ابلیس کے ناپاک عزائم کا ترجمان ہو گا۔

 آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کے جھوٹے دعویداروں کی نہ صرف نشان دہی کر دی تھی بلکہ ان کی تعداد بھی بیان فرما دی تھی۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

 میری امت میں تیس (30) اشخاص کذاب ہوں گے ان میں سے ہر ایک کذاب کو گمان ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔اگر کوئی شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے (خواہ وہ کسی معنی میں بھی ہو) وہ کافر، کاذب، مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ نیز جو شخص اس کے کفر و ارتداد میں شک کرے یا اسے مومن، مجتہد یا مجدد وغیرہ مانے وہ بھی کافر و مرتد اور جہنمی ہے۔مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت نبی کریم  محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روئے زمین کی ہر قوم اور ہر انسانی طبقے کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں- اور آپ کی لائی ہوئی کتاب قرآن مجید تمام آسمانی کتب کے احکام منسوخ کرنے والی اور آئندہ کے لیے تمام معاملات کے احکام و قوانین میں جامع و مانع ہے۔ قرآن کریم تکمیل دین کااعلان کرتا ہے۔ گویا  ہم کہہ سکتے ہیں انسانیت اپنی معراج کو پہنچ چکی ہے اور قرآن کریم انتہائی عروج پر پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ اس کے بعد کسی دوسری کتاب کی ضرورت  نہیں ہے، نہ کسی نئے نبی کی حاجت۔ چنانچہ امت محمدیہ کا یہ بنیادی عقیدہ ہے کہ آپ کے بعد اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ انسانیت کے سفر حیات میں وہ منزل آ پہنچی ہے کہ جب اس کا ذہن مکمل  بالغ ہو چکا  ہے- اور اسے وہ مکمل ترین ضابطۂ حیات دے دیا گیا ہے  جس کے بعد اب اسے نہ کسی قانون کی احتیاج باقی رہی نہ کسی نئے پیغامبر کی تلاش۔قرآن و سنت کی روشنی میں ختم نبوت کا انکار محال ہے۔ اور یہ ایسا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ خود عہد رسالت میں مسیلمہ کذاب نے جب نبوت کا دعوی کیا اور حضور کی نبوت کی تصدیق بھی کی تواس کے جھوٹا ہونے میں ذرا بھی تامل نہ کیا گیا۔  صدیق اکبر کے عہد خلافت میں صحابہ کرام نے جنگ کر کے اسے کیفر کردار تک پہنچایا۔ اس کے بعد بھی جب اور جہاں کسی نے نبوت کا دعوی کیا، امت مسلمہ نے متفقہ طور پر اسے جھوٹا قرار دیا اوراس کا قلع قمع کرنے میں ہر ممکن کوشش کی۔ برصغر پاک وہند میں بھی  نبوت کاجھوٹا  دعوئے دار   مرزا غلام احمد قادیانی لعین و مرتد نمودار ہوا.

 لیکن ایک صبر آزم جہدو جہد کے بعد  آخر کار مملکت خدادا  پاکستان میں 1973ء کے آئین میں پاکستان میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آخری نبی نہ ماننے والے کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔  اگرچہ اس قانونی سازی میں اس  وقت تک بھی کچھ سقم موجود ہیں جس کی بنا پر بار بار  مملکت خدادا کے   مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی ناپاک جسارت کی جاتی رہی  ہے اور مسلسل کی جا رہی ہے  .لیکن الحمد اللہ. مسلمانوں کی غالب اکثریت نے  ہمیشہ ایسی کسی بھی جسارت کی نہ صرف حوصلہ شکنی کی ہے بلکے ایسی کسی بھی سازش کو ناکام بنانے میں  ہر اول دستے  کا کردار ادا کیا ہے.. لیکن افسوس سے یہ کہنا پڑھ رہا ہے. اگر ہماری حکومتیں چاہتیں تو یہ ایشو ہمیشہ  کے لیے 24 گھنٹے میں منطقی انجام تک پہنچایا جا سکتا تھا- لیکن یہان بھی کچھ کاروباری  دنیا دار سیاست دان جو 70 سال سے ملک کی بھاگ دوڑ پر قابض  چلے آ رہے ہیں. وہ اس مسلے کا حل نہ تو چاہتے ہیں نہ ہونے دے رہے ہیں . جب جی کیا ختم نبوت کے حلف نامے سے چھیڑ چھاڑ کر لی. جب جی کیا  اس میں ردو بدل کر لیا..  افسوسناک پہلو تو یہ ہے.. ہمارے حکمران اہنی پارلیمنٹ عدلیہ عالیہ اور مقنعنہ سمیت وجد میں  آہیں تو اپنے استشنٰی اور لوٹ کھسوٹ کے لیے رات کو  بارہ بجے عدالت  لگا کر ایک گھنٹے میں نئی  قانون سازی کر لیتے ہیں.کچھ نہ کرنا چاہیں تو 70 سال لگا کر بھی قانون ختم نبوت پر کوئی حتمی  پیش رفت نہیں کر پائے-

قادیانیوں کو آئین و قانون کا پابند بنانا کسی بھی  سابقہ یا موجودہ حکومت کی ہی ذمے داری بنتی تھی یا بنتی  ہے –  لیکن ہر حکومت نے ہمیشہ ختم نبوت کے معاملے میں غیر سنجیدگی سے نہ صرف حالات خراب  کیے بلکہ (ختم نبوت) کے نام پر ہر حکومت نے سیاست اور  اقتدار کا چورن بیچا- تمام حکمران اور ان  کی حکومتوں  ہمیشہ اپنے غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے مسلسل قادیانیت نوازی کا مظاہرہ کرتی آ رہی ہیں -سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت کا بھی ختم نبوت جیسے حساس مسئلے پر حکومتی غیر سنجیدہ رویہ  عوام کے لیے شدید تشویش کا باعث بن رہا ہے- عقیدہ ختم نبوت اسلامی تعلیمات کی اساس ہے -امت مسلمہ میں اتحاد کی فضا قائم کرنے کے لیے مینار نور ہے -اسلام کے تما م بنیادی ارکان اور اسلامی نظام حیات کی عمارت بھی اسی عقیدے پر  کھڑی ہے -پاکستان میں سیکولر عناصرقادیانیت کے فروغ اور تقویت کا باعث بن رہے ہیں – عام سادہ لُو مسلمان جن کو علم و آگہی تک رسائی حاصل نہیں ان کو مذہبی طبقات کی طرف سے ختم نبوت کے ایشو کو لے کر انتہا پسندی پر ابھارہ جا رہا ہے.جس کا نتیجہ کچھ اس طرح نکل رہا ہے کہ ہر گلی سے درجنوں ممتاز قادری  اور غازی علم دین شہید نکلنے کی دھمکیاں مملکت انسانیت مذہب اور تہذیب و ثقافت سب کسی کی قاتل  ثابت ہو سکتی ہیں . کئی لوگوں کو سلیمان ثاثیر بنائے جانے کا سوچا جا رہا ہے  بعید نہیں ہے …اور کئی لوگ ممتاز قادری بننے کے شوق میں مرے جا رہے ہیں- یہ ساری انارکی حکومتی غیر سنجیدگی اور مذہبی انتہا پسندی کی پیداوار ہے …. جبکہ اس کے بر عکس اسلام اپنے ماننے والوں کو  میانہ روی کا  درس دیتا ہے.. لیکن ااسلام بطور مذہب  ہمارے ملک میں  اقتدار  اور جاہ و منصب حاصل کرنے کے  لیے فقط ایک آلہ ہے نہ کے بطور دین ایک مذہب ہے….اللہ پاک پوری امت مسلمہ کو  ان  کے ایمان سمیت  تمام فتنوں سے محفوظ فرمائے—-