تحریر مفتی عبد الرحیم میمن

کتب سماویہ میں سے قرآن کریم وہ عظیم المرتبۃ ورفیع الشان کتاب ہے جسے کتاب الہی ہونے کے ساتھ ساتھ کلام الٰہی ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔

اسی کی تعلیمات پرعمل پیرا ہونا ہی ایک کامیاب زندگی کی ضمانت ہے،نزول قرآن سے قبل عرب ایک ایسی قوم تھی جو تھذیب و تمدن سے عاری،رمزانسانیت سے نہ آشنا،نہ یونان کی منطق و فلسفہ سے واقف تونہ ہی ھندستان کے نجوم والھیات کی معرفت،ہمہ قسم کے علوم وفنون سے تہی دامن،نہ ایرانی تھذیب سے کچھ غرض،نہ ہی روم کی تمدن کی کچھ پرواہ،تعلیم وتھذیب کے سرمایہ سے تہی دست تھی۔۔

ان کے پاس اگر کچھ تھا تو وہ بکریوں کے ریوڑ،اونٹوں کی قطاریں،اورپہاڑیوں کی سنگلاخ چٹانیں،دامن کوہ کی چوٹیوں سے ابھرتا ہوا سورج،اورافق کے حوض میں ڈوبتا ہوا آفتاب تھا،صحراء کی تپتی زمین تھی،سب سے بڑھ کر ان کے پاس قوت بیان کا بے پناہ ملکہ تھا ان کی فصاحت وبلاغت کے آگے تمام دنیا کے اھل زبان عجمی یعنی گونگے تھے،اور ان کو اس پر ناز تھا۔

گرد ونواح کی اقوام میں قوم عرب کے لئے جاھل و وحشی قوم کا تصور تھا۔

ایسی قوم کے پاس اللہ تعالیٰ کے آخری پیامبر قرآن کا آخری پیام لائے،جس کے معیاری انداز بیاں،اور معجزانہ فصاحت و بلاغت کے سامنے اپنی فصاحت پرنازکرنے والے اہل زبان بےزباں ہوگئے،پہرقرآن فقط معجزانہ فصاحت و بلاغت کی بے بنا پر باکمال نہیں بلکہ اپنے علم و حکمت کے موتیوں میں بھی بے مثال کمال رکھتاہے،جن سے قرآن کا دامن بھرا ہوا ہے،

تو ایسی قوم جو اخلاق سے عاری،تھذیب وتمدن سے نہ آشنا اور راز انسانیت سے ناواقف تھی تو فطرتاً جب اس کے سامنے ایسی فصیح و بلیغ کتاب آئی تو اس کی حالت کیا ہوگی۔۔؟

جب یہ قوم دامن اسلام میں داخل ہوئی تو جوچیز ان کے دل ودماغ میں رچی وبسی تھی وقرآن اور صاحب قرآن کی ذات بابرکات تھی،ایک طرف ان کے سامنے قرآن تھا ۔دوسری طرف رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں چلتا پھرتا قرآن تھا۔جیساکہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔! کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادات و اطوار قرآن کے سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے۔۔

تو اس سے اس بات میں مزید نکھار آتا ہے کہ ان کاقرآن سے لگاؤ اور شغف کتنی حدتک ہوگا،کیونکہ قرآن سے محبت و الفت صاحب قرآن سے اٹوٹ وابستگی سے ہی ممکن ہے۔۔

صحابہ کرام کے توسط سے ہی ہم تک یہ بیش بہا نعمت پہنچی ۔

ان انفاس ربانیہ کا قرآن مجید سے بے پناہ لگاؤ تھا،قرآن کی تلاوت سے ان حضرات کو بڑا شغف تھا ۔تلاوت قرآن ان کی زندگیوں کا ایک روشن ترین باب ہے۔

قرآن کے نزول سے پہلے یہ لوگ اشعارگنگنایا کرتے تھے، لیکن قرآن کے نزول کے بعد اشعار پھیکے پڑ گئے،اب کلام الٰہی کی چاشنی نے ان کے قلوب کو اپناگرویدہ بنا دیا،اب ذوق تھا تو تلاوت قرآن کا،اور ذوق بھی ایسا کہ تیر پے تیرکھائے جارہے ہیں،خون کی دھاریں بہہ رہی ہیں،مگرتلاوت کلام کی مٹھاس میں زھرکا احساس تک نہیں۔۔

ایک غزوہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لارہے تھے،رات کو آپ نے ایک جگہ قیام فرمایا،قافلے کی حفاظت چوکیداری کیلئے آپ نے ایک مہاجر صحابی حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنه اور ایک انصاری صحابی حضرت عبادبن بشررضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا،ان حضرات نے آپس میں باری مقررکرلی کہ آدھی رات ایک آدمی حفاظت کے فرائض سر انجام دے گا،اور دوسرا آرام کریگا،توآدھی رات دوسرا جاگتارہے ،اورجاگنے والاسوتارہے،رات کا پہلا حصہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنه کے جاگنے کا مقررہوا،آپ نے وقت کو قیمتی بنانے کے لئے نماز کی نیت باندھ لی،اتنے میں دشمن نے دیکھ لیا اور نشانہ لیکرتیرچلادیاوہ تیر حضرت عمار بن یاسر کو لگامگران میں جنبش تک نہ آئی اور نماز پڑھتے رہے،اس کے بعد یکے بعد دیگرے کئی تیرلگے،آپ انہیں نکال کر اطمینان سے نماز پوری کر کے اپنے ساتھی کو جگایا،انہوں نے زخمی حالت میں دیکھ کر کہا کہ آپ نے مجھے فوراً کیوں نہیں جگالیا؟تو حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنه نے تاریخی جواب دیاکہ میں نے نماز میں سورۃ الکہف شروع کی ہوئی تھی اور میرا دل نے نہ چاہا کہ اس کو ختم کئے بغیر رکوع کروں مگر مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں تیرلگنے سے میرے جان نہ چلی جائے اور وہ مقصد فوت ہوجائے جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں متعین کیا ہے،اگریہ ڈر نہ ہوتا تو مرجاتا مگر سورۃ ختم کئے بغیر رکوع نہ کرتا(بحوالہ حیات الصحابہ٥٨.٥٩)

اس لگاؤ اور شغف کی بناپر وہ انسانیت کے معزز و محترم انسان ٹھرے،چشم فلک نے ان کی مثل نہ دیکھی نہ تاقیامت دیکھ پائے گی،

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قرآن سے قلبی لگاؤ جاننے کیلئے اتنا کافی ہے کہ ان نفوسِ قدسیہ نے دولت ،ثروت شھرت وعزت الغرض پوری دنیا کی رنگینیوں سے اس قرآن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے اجنبی ہوگئے۔

اور اللہ تعالیٰ کو ان کا قرآن سے تعلق اتنا پسند تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتے کہ آپ ان کو قرآن سنائیں۔ چنانچہ جامع الترمذی حدیث نمبر٣٧٩١پر حضرت انس رضی اللہ عنه سے منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنه سے قرآن سنانے کی خواہش ظاہر کرتے ہوے فرمایا کہ اے ابی بن کعب اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ کو سورۃ البینہ سناؤ،حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنه نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیکر حکم دیا ہے آپ نے فرمایا۔ ہاں۔ تو حضرت ابی بن کعب خوشی سے روپڑے۔

صحابہ کرام نے قرآن پاک پرعمل کرکے ایسی معیار قائم کیا کہ جس کی نظیر رہتی دنیا تک نہیں ملنی۔

ہمہ وقت اور ہمہ تن قرآن کے ہرحکم پر عمل کرنے کیلئے تیار رہتے چنانچہ جب تحویل قبلہ کا حکم دیا گیا تو بلا جھجک نئے قبلے کی طرف پھرگئے۔

اور جب یہ آیت نازل ہوئی,,لن تنالوالبرحتیٰ تنفقوامماتحبون،،(سورۃ آل عمران:٩٢)

 تو حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنه کو اپنے اموال میں سے بَیْرُحَاء نامی ایک باغ بہت پسند تھا، تو جب مذکورہ بالا آیت میں اپنا محبوب مال خرچ کرنے کا مطالبہ ہوا تو انہوں نے بارگاہ سرور دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم میں کھڑے ہو کر عرض کی: مجھے اپنے اموال میں ”بَیْرُحَاء ” باغ سب سے پیارا ہے، میں اسی کو راہِ خدا میں صدقہ کرتا ہوں۔ (بخاری، کتاب الزکاۃ، باب الزکاۃ علی الاقارب، ۱ / ۴۹۳، الحدیث: ۱۴۶۱، مسلم ، کتاب الزکاۃ، باب فضل النفقۃ والصدقۃ علی الاقربین۔۔۔ الخ، ص ۵۰۰، الحدیث: ۴۲(۹۹۸))

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن کی تلاوت دنیا سے بے خبر اور کلام الٰہی کی مٹھاس میں مگن ہوکر یوں تلاوت کرتے کہ آسمان سے فرشتے ان کی تلاوت سننے کو اترتے تھے۔

چنانچہ بخاری شریف میں مذکور ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنه فرماتے ہیں کہ حضرت اسید بن حضیر(مشھور انصاری صحابی)ایک رات کو اپنے اوصطبل میں تلاوت کلام پاک فرمارہے تھے کہ اچانک ان کے گھوڑے نے بدکنا شروع کردیا تو انہوں نے قدرے خاموشی اختیار کی تو گھوڑا پر سکون ہو گیا،پہرجب وہ پڑھنے لگے تو گھوڑے نے پہر سے بدکنا لگا،اور ایسا کئی مرتبہ ہواتو انہیں ڈرلاحق ہوا کہ کہیں گھوڑا ان کے یحییٰ نامی بیٹے کو روند نہ ڈالے،وہ گھوڑے کی طرف بڑھے اتنے میں انہوں دیکھا کہ ان کے سرپر ایک سائبان ہے اس میں جیسے بہت سے چراخ روشن کئے گئے ہوں،کہ وہ فضاء میں اوپر چڑھ رہا ہے پہر وہ نظروں سے غائب ہوگیا۔حضرت اسید بن حضیر نے یہ سارا واقعہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسید یہ اللہ کے فرشتے تھے جو تیری تلاوت قرآن سننے کو اترے تھے اگر تو تلاوت بند نہ کرتا تو یہ صبح تک اسی حالت پر رہتے اور صبح کو کسی سے نہ چھپتے۔۔ (بخاری،ج ٣،ص٤٠٨، حدیث: ٥٠١٨، مسلم، ص٣١١، حدیث: ١٨٥٩،)

مولانا ابوالکلام آزاد فرماتے ہیں:

کوئی بات دنیا میں اس سے زیادہ عجیب نہیں ہوسکتی کہ وحشی قوم اور بہائم صفت انسان اچانک محبت و اخلاص اور ایثار و خودفروشی کیلئے فرشتے بن جائیں لیکن قرآن کی تعلیم نے ایسا ہی انقلاب پیدا کیا۔بحوالہ( تفسیر ترجمان القرآن)۔

جب قرآن اترتا تو خوف خدا کی وجہ سے ان خداترس بندوں کے بال کھڑے ہوجاتے،ان کے دل اور کھال اللہ کےذکرسے نرم ہوجاتے،جب ان آیات کو سنتے تو سجدوں میں گرپڑتے،اور اپنی راتوں کو قرآن کی تلاوت میں مشغول رکھتے تھے،

چنانچہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے ساتھ جارہے تھے کہ ایک شخص اپنے گھر میں مسحور کن اور دل آویز آواز میں تلاوت قرآن پاک میں مشغول تھا تو دونوں مقدس ومطہر ہستیوں نے کچھ ٹھرکرقرآن سنا پہر قدم آگے بڑھائے۔

صبح جب وہ صحابی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا رات ہم تیرے گھر کے قریب سے گذرے تو تیری تلاوت قرآن کی آواز سنائی دی تو ہم کچھ دیر تیری تلاوت سنتے رہے۔اس صحابی نے عرض کیا یارسول اللہ اگر مجھے آپ کے سننے کا علم ہوتا تو میں اور اچھی آواز سے تلاوت کرتا ۔بحوالہ(مستدرک ،ج٤،ص٥٥٨، حدیث:٦٠٢٠)

صحابہ کرام ایسی خوش الحانی سے قرآن پڑھا کرتے تھے کہ سننے والوں پر محویت کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی ۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں نماز کیلئے جگہ مختص کی ہوئی تھی۔جہاں بیٹھ کر قرآن کی تلاوت بھی کیا کرتے تو اتنی رقت آمیز و دل آویز آواز سے قرآن پڑھتے کہ ان کی آواز سن کر مشرکین کی عورتیں اور بچے اکٹھے ہوجاتے تھے اور بڑے انہماک سے قرآن سنتے۔مشرکین نے یہ دیکھ کر کہ کہیں قرآن سن کر ان کے بچے اور عورتیں مسلمان نہ ہو جائیں مکہ کے بااثر سردار ابن الدغنہ جس نے حضرت ابوبکر کی ضمان دی ہوئی تھی کو شکایت کی۔تو اس نے حضرت صدیق اکبر کو روکنا چاہا تو آپ نے ضمان واپس کردی۔

بحوالہ (اب ہشام ٣٤٤)

وہ ذوات مقدسہ جب قرآن کی تلاوت کیا کرتے تھے تو ان پر بے خودی کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ وہ اپنے اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہو جاتے تھے۔ آیاتِ رحمت کی تلاوت کرتے تو خوشی سے جھوم اُٹھتے اور اس آیت کو باربار دھراتے۔اور آیات عذاب پڑھتے تو اس سے اللہ کی پناہ چاہتے اور شدت سے گریہ زاری کی حالت ہوجاتی۔

چنانچہ ایک مرتبہ یمن سے کچھ لوگ حضرت ابوبکر صدیق سے ملنے کو آئے تو آپ نے ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کی تو وہ رونے لگے ۔حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا ہمارا حال بھی کچھ یوں ہی ہے۔۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فجر کی نماز میں سورۃ یوسف پڑھی تو زارو قطار رونے لگے۔اور رونے کی آواز اتنی بلند ہوئی کہ پیچھے مقتدی سنتے تھے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے غایت شوق کا عالم یہ تھا کہ وہ کم سے کم وقت میں ختم قرآن کرنا چاہتے تھے۔اس قدر تلاوت قرآن میں انہماک تھا کہ غلو سے روکنے اور اعتدال کی روش قائم رکھنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔۔

حضرت عبداللہ بن عمر بن العاص فرماتے ہیں:

ایک مرتبہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یارسول اللہ!میں کتنے دنوں میں قرآن کریم ختم کروں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا:ایک ماہ میں میں نے عرض کیا کہ مجھے اس سے زیادہ کی قوت ہے۔آپ نے فرمایا:بیس دن میں ختم کرلو۔

میں نے اس سے بھی کم دنوں میں ختم قرآن کی طاقت ظاہر کی تو آپ علیہ السلام نے میری رعایت کرتے ہوئے پندرہ دن،پہردس دن، پہر سات دن میں ختم کرنے کی اجازت دی،ساتھ آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: سات دن میں پورا قرآن پڑھ لو اس سے کم میں ہرگز ختم نہ کرو۔بحوالہ(سنن ابی داؤد،١٣٧٧،صحيح للبخاری٥٠٥٢ صحیح للمسلم١١٥٩)

قرآن پر عمل اور تعلق کا حاصل تھا کہ وہ قوم جو تھذیب و تمدن سے آشنا نہ تھی،جنگ وجدال اور لوٹ مار کی خوگر حلال وحرام کی تمیز سے بے گانہ تھی وہ ایک دم تھذیب و تمدن،شرافت وامانت،اور صداقت ودیانت کی علمبردار بنی،جو جھالت کی ناکافور ہونے والی تاریکی میں ٹامک ٹوئیاں ماررہی تھی ،علم کے نور کی شمعیں جلانے لگی، جو ایک دوسرے کے خون کی پیاسی تھی،دوسرے کیلئے اپنا خون دینے لگی، جی ہاں یہ ہی قرآنی تعلیمات ہی تھیں جنہوں نے ان کو قعر مذلت سے نکال کر عزت و تکریم کی بلندیوں تک پہنچادیاتھا۔

آج امت مسلمہ بھی اگر اپنے ٹوٹے تعلق کو قرآن سے پہرسے جوڑ دے تو انقلاب کی نوید سنائی دینے میں دیر نہ لگے گی۔۔

اقبال نہ کیا ہی خوب کہاتھا:

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر

اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

یہ قرآن پاک سے صحابہ کرام کے تعلق کا اجمالی خاکہ تھا اگر کسی کو تفصیل مطلوب ہو تو کتب احادیث اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہیں

الله تعالیٰ ہمیں ان نفوسِ ربانیہ کے نقوشِ پا پر چلنے کی توفیق عنایت فرمائیں