May 23, 2022

“بہاولپور میں اجنبی ” لسانی ،تہذیبی ، کشمیری اور بہاولپور ی شناخت کا ترجمان سفرنامہ ہے

تبصرہ نگار : پروفیسر عبد الصبور خان کتاب : بہاولپور میں اجنبی

پونچھ راولاکوٹ تراڑ کے نوجوان لکھاری اور دانشور مظہر اقبال مظہر کا سفر نامہ “بہاولپور میں اجنبی “پریس فار پیس فاونڈیشن کے زیِر اہتمام چھپ کر منظرعام پر آچکا  ہے بلکہ قارئین سے بے حد و حساب دادوتحسین بھی حاصل کرچکا ہے۔ کتاب کا  سرورق بہت خوب صورت ہے سرورق پر صحرا کی تصویر بہت سی تلخیوں امیدوں ،امیدوں اور تمناوؤں کو بیان کررہی ھے۔  سرخ اینٹوں سے تعمیر کردہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی  دیدہ زیب عمارت اپنے اندر ایک تہذیب و ثقافت کو سموئے نظر آتی  ہے۔

 یہ خوبصورت اور دلچسپ سفر نامہ ایک صد بیس صفحات پر مشتمل  ہے۔  سفر نگار نے اپنے تعلیمی دور کے ایک خاص دورانیہ اور وقت کی خوبصورت بھولی بسری  یادوں کو تخیل کی دہلیز سے صفحہ قرطاس پہ منتقل کرکے ہم سب  کے لیے  دلچسپی کا سامان پیدا کیا  ہے۔  سفر نامے کا ہر صفحہ قاری کو اپنے سحر میں جکڑلیتا ہے متحدہ ہندوستان کی ایک بڑی امیر کبیر اور خوشحال ریاست بہاولپور کے ماضی کے حسین اور دل کش خدوخال کے علاوہ قیام پاکستان کے بعد اس ریاست کے لازوال اور انمٹ اور بے مثال قومی کردار کو خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے،  انداز تحریر دلچسپ عمدہ اور قابل تحسین ہے۔

 بی بی سی اردو سروس کا مقبول پروگرام دریا کنارے جو رضاعلی عابدی پیش کیا کرتے تھے ان کا مخصوص انداز لہجہ اور الفاظ ایسے ہوتے تھے کے قارئین و   سامعین سندھ کی تہذیب و تمدن اور ثقافت اور سندھ دریا سے جڑی داستانوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا محسوس کرتے تھے

“بہاولپور میں اجنبی”کے  مصنف کا یہی انداز بہت بھلا لگا ۔ راقم نے کچھ سال پہلے بہاولپور کا سفر اور کچھ دن قیام کیا تھا  جہاں میرے عزیز شاگرد ماہر اقبالیات خوبصورت لب ولہجے کے شاعر ادیب” عکس جمال” کے مصنف  جناب ڈاکٹر محمد رمضان طاہر کاشمیری  نے ان تمام تاریخی مقامات  کی سیر کرائی تھی جن کا ذکر مظہر صاحب نے اس سفر نامہ میں کیا ہے۔  آج سفر نامہ کے مطالعے کے دوران اپنی ڈائری کھو لی تو سفر بہا ول پور تخیل کی دہلیز پہ نمودار ہوکر ایک بار پھر ماضی میں لے گیا ۔ جہاں فرید گیٹ ، اندرون شہر ،  شاہی بازار، مرکزی صادق ریڈنگ لائیبریری،   الصادق جامع مسجد، فوارہ چوک،  وکٹوریہ ھسپتال ، قائداعظم میڈیکل کالج،  اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،  صادق سکول وکالج و دیگر مرکزی مقامات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تھا ۔

بہرحال مختلف موضوعاتی اعتبار سے سچی سچی اور اعلٰی وارفع سوچ کے ساتھ لکھا جانے والا یہ سفر نامہ جہاں بہاولپور کی تہذیب و ثقافت کی آبیاری کرنے والوں کے اجلے کردار کو واضح کرتا ہے،    وہاں تاریخی کرداروں کے تاریخی کردار و خدمات کو بھی واضح کرتا ہے۔   نوزائیدہ مملکت پاکستان کی طویل عرصہ تک مالی معاونت کرنے والوں کے ساتھ حکمرانوں اور اشرافیہ نے انصاف نہیں کیا ۔ بہاولپور کے تعلیمی ادارے،  گلیاں اور چوبارے ، تہذیب و ثقافت اور عباسی خاندان کی عظمتوں کا نشان ہیں ۔ عباسی حکمرانوں کی بے شمار خدمات جن میں اداروں کا قیام،  اسلامی فن تعمی،عوامی فلاعی منصوبوں کی تکمیل،  موجودہ حکمرانوں کو دعوت فکر دے رہے ہیں  کہ تاریخ کے سنہری اوراق پر صرف انہی لوگوں کا نقش باقی رہتا ہے  جو ریاست کی تعمیر، عوامی  فلاحی کاموں اور اداروں کی ترقی کے لیے  کام کرتے ہیں۔  نواب آف بہاولپور کا تاریخی کردار تاریخ کے اوراق پر سنہری کرنیں بکھرتا نظر آتا ہے۔   بہاول پور عباسی خاندان کی عظمتوں کا نشان ہے۔  اور فاضل مصنف نے اس خاندان کی خدمات کا بھرپور تذکرہ اور خراج عقیدت و تحسین پیش کیا ہے۔

بہاولپور قیام کے دوران مصنف نے کشمیری طلبہ کی تعلیمی سفر میں آمدہ مشکلات پریشانیوں دکھ اور مصائب کو بڑی شدت سے محسوس کیا  ہے۔  قومی شناخت کا سوال بھی مصنف کو بے چین کرتا   رہا ہے۔  کچھ مشترکہ درد کا بھی ذکر کیا  ہے۔کہ  اتنی بڑی ریاست کو اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود صوبے کا درجہ بھی نہ مل سکا۔  ادھر کشمیری بھی اپنے جداگانہ تشخص اور شناخت کیلے دامے درمے قدمے سخنے  ہر محاذ پر اپنی بقاء کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن مطلع آزادی کے طلوع ہونے کے دور دور تک کوئی آثار نہیں  ۔

مجھے اس سفر نامے میں  مستنصر  حسین تارڑ کے محبت بھرے جملے  ، اشفاق احمد کے مکالموں کی تاثیر، بلقیس ریاض کا سفر نگاری کا ہنر    ڈاکٹر محمد صغیر خان کے تخیل کی جھلک  ، پروفیسر ایاز کیانی کا الفاظ پرونے کاہنر،  کبیر خان کے کاٹ دار  جملوں اور لفظوں کی دھنک،   ڈاکٹر ممتاز صادق کے الفاظ کی دلچسپی تازگی اور بے ساختگی،   احمد حجازی کی شاعری کا سواد  ، پروفیسر  خاور ندیم کی تحریر  کی دلکشی ، پروفیسر راجہ عتیق احمد کی تحریر کی گہرائی ومعنویت ، پروفیسر خالد اکبر کی تحریر کی سی جدت، ندرت ،سلاست اور منظر کشی کا ہنر  اور پروفیسر صغیر آسی کے ماہیوں اور ھاہیکو کا  عکس ، ممتاز غزنی کے کاٹ دار جملے ، پرفیسر نسیم سلیمان کے ماضی کے جھروکوں سے جھانکتی زندگی کی جھلک نظر آتی ھے ۔

اس سفر نامہ میں خوبصورت ادبی زبان سادگی اور زبان کے بے ساختہ پن نے بہاول پور میں اجنبی کو دلچسپ اور پر تاثیر بنادیا  ہے۔ اس سفر نامہ کے مطا لعہ کے بعد خوشی ہوئی کہ خطہ کشمیر اور خطہ پونچھ کے شعراء ادیبوں اور مصنفین میں ایک خوبصورت دل دماغ اورسوچ رکھنے والے نوجوان تخلیق کار کا اضافہ ہواہے۔  اور تخلیق کار بھی ایسا جو الفاظ کو پرونے اور دل میں اتارنے کا ہنر خوب جانتا ہے۔  اور یہ تخلیق کار ایسا ھہے  جو ہر سطر میں اپنے وطن کی سندر مٹی کی سندر خوشبو  اور مہک کو ساتھ ساتھ لیے پھرتا ہے۔

سفر نامے میں علاقے کی ہئیت ، سفر نگار کا اپنا ذوق و شوق،   مزاج،  احساسات ،جذبات، انداز تحریر اور کافی حد تک نظریہ بھی   کار فرما ہے۔

 سفر نامے کے آخر میں دو خوبصورت افسانوں نے کتاب کی اہمیت افادیت اور دلچسپی کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ ایک خاص تناظر میں لکھے گئے ان دونوں   افسانوں میں مصنف نے  اپنے ذہن کی ساری روشنی  انڈیل دی ہے۔  یہ  افسانے تکنیکی اعتبار سے معیاری ، اچھوتا انداز لیے ہوئے   ، بامقصد اور دردو کرب میں ڈوبے  حققیت حال سناتے ہوئے اسی طرع ماتم کناں ہیں جس طرح  ڈاکٹر محمد صغیر خان کے مولاچھ کے چند بہترین افسانے  ۔

اللہ پاک فاضل مصنف کو صحت و تندرستی ، ایمان والی زندگی  ، ا ور  پل پل آسانیاں نصیب فرمائے ۔ قلم قرطاس کاتعلق برقرار رکھے۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔  اس خوبصورت سفرنامہ کی اشاعت پر مصنف اور پریس فار پیس فاؤنڈیشن کو رج رج کے مارخاں۔

Leave your comment !

%d bloggers like this: