از قلم :-  شبیر احمد ڈار
        عہد حاضر میں اردو شاعری کو بہت مقبولیت حاصل ہے جو جنوبی ایشیاء کی تہذیب کا ایک اہم حصہ بھی ہے ۔  برطانوی دور میں اردو زبان نے فروغ پانا شروع کیا اور آج اردو بین الاقوامی زبان ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری قومی زبان بھی یے ۔ میرتقی میر،خواجہ میر درد ،  غالب ، علامہ محمد  اقبال ، احمد ندیم قاسمی ، احمد فراز وغیرہ اردو شاعری کے اہم شعرا ہیں جنھوں نے اردو شاعری کو نئے موضوعات سے ہم آہنگ کیا ۔ اردو شاعری میں فطری  احساس پایا جاتا ہے جس کو کاغذ کی حد تک محدود نہیں رکھا جاتا بل کہ اس کو پڑھا،گایا ، سنا اور سنایا بھی جا سکتا ہے اور عہد حاضر کے نوجوان اردو شاعری میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں جس کی جھلکیاں سوشل میڈیا پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
       افسوس کہ ہم اپنے اردگرد کے شعرا و نثرنگاروں پر نظر نہیں دوڑاتے ان کے کلام پر داد نہیں دیتے اور نہ ہی ان کی اس خدادادصلاحیت کے بارے میں جانتے ہیں۔  ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے شعرا ہیں جن کا کلام روح کو تازگی اور قلب کو سرور بخشتا ہے، جن کا کلام دلوں میں ولولہ پیدا کرتا ہے ,جن  کا کلام  نوجوان نسل میں ابھرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے مگر ہم ان سے ہی غافل ہیں ۔ والدین اور اساتذہ بچوں کی انگریزی تعلیم پر توجہ دے رہے ہیں اور اردو کو یکسر نظر انداز کر رہے ہیں ۔ اردو ہمارے نصاب کا حصہ ہوتے ہوئے بھی ہمارے طلبہ کی توجہ کا مرکز نہیں بن سکی جس کے نتائج بہت بھیانک ہیں۔  ہم ایک شخص  کے کلام کو کسی دوسرے شخص سے منسوب کر دیتے ہیں یا اس میں ردوبدل کر دیتے ہیں نیز جو اردو لکھتے یا  بولتے ہیں ان میں بھی املا کی غلطیاں سرزرد ہو رہی ہیں۔
     یہ مضمون عہد حاضر کے ان شعرا کے نام جو بغیر کسی اجرت کے اردوادب  کی خدمت میں مگن ہیں۔ انھیں کسی اور زبان کی دھن سنائی نہیں دیتی یہ مضمون ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ہے اور نوجوان نسل کو ان سے آگاہ کرنا اور ان کے کلام کو منظر عام پر لانا ہے  ۔کچھ پسندیدہ اشعار کا انتخاب ملاحظہ کریں:

     صرف اتنا ہی نہیں کہ سخن چیختا ہے
      میں ہوں کشمیر میرا سارا بدن چیختا ہے
      (عاصم سلیم بٹ ، آزادکشمیر)

   اے پرچم وطن ترے سائے میں بیٹھ کر
    رہتے ہیں ہم تو اور بھی بے چین آج کل
  (عبدالرزاق بیکل ، آزادکشمیر)

   اس اک بات پہ اٹکی ہوئی ہے سانس مری
   میں مر گیا تو مرے خواب کون دیکھے گا
  (سید شہباز گردیزی ، آزادکشمیر)

  ساتھ اپنے جو بھی تھے ان کو رلانے میں لگا
   اپنے گھر کا جس گھڑی ملبہ ہٹانے میں لگا
( بشارت تنشیط ، آزادکشمیر )

  فضا میں ہر سمت ہیں اندھیرے
   کہاں گے وہ گلاب چہرے
   (عبدالحق مراد ، آزادکشمیر)

  کن کہوں اور کام ہو جائے
   آدمی ہو کوئی خدا ہوں کیا
  ( شوزیب کاشر ، آزادکشمیر)

  میر ، کشمیر اور میں خود بھی
     درد  کے مستند حوالے ہیں
    (ظہور منہاس ، آزادکشمیر )

 معصوم ہو کے پیاسے ہیں جو خون کی ہولی کھیلتے ہیں
ان خون آشام درندوں کو انساں سمجھنا مشکل ہے
(پروفیسر شفیق راجہ ، آزادکشمیر )

  یوں تو گلشن میں بہاروں کا سماں ہے لیکن
  پھول کھلتے ہی نہیں ، اب بھی خزاں باقی ہے
(ڈاکٹر میر یوسف میر ، آزادکشمیر )

  جب دوا کام دکھائے نہ اثر اس میں رہے
   ہم سے منکر بھی دعاوں کی طرف دوڑتے ہیں
  (خاور نذیر ، آزادکشمیر )

  میں سب کو بھول چکا ہوں مگر ظہیر احمد
 یہ کیا ستم کے تجھے بھولتا نہیں ہوں میں
(ظہیر احمد مغل ، آزادکشمیر )

سر بکھیرتی غزل میں نغمگی کا ذائقہ
 روح میں اتر گیا ہے شاعری کا ذائقہ
( مشتاق بخاری ،آزادکشمیر )

ترا ہنسنا بھی کیا مصیبت ہے
  میں کوئی بات کرنے آیا تھا
  ( حسن ظہیر راجا ، پاکستان )

  نمی ہو آنکھ میں ، خوابوں کو بیچ کے آئے
خدا یہ وقت کبھی آدمی پہ نا لائے
   ( رضا علی عابدی ، آزادکشمیر )

زندگی یوں جدائی میں کاٹی افق
 ہم بھی جلتے رہے ، وہ بھی چلتے رہے
(شہزاد افق ، پاکستان )

  نفس بے لوث
  دل آزاد ہونا چاہیے
   کوئی تو مقصد حیات ہونا چاہیے
( تسنیم جعفری ، پاکستان )

  پہلے آنکھوں میں تیرا عکس اتارا میں نے
پھر ان آنکھوں کو ہی شیشے میں سجا کے رکھا
 ( فرہاد احمد فگار ، آزادکشمیر )

  اس زندگی کے سارے فسانے میں  کچھ نہیں
   سچ  ہے  تمھارے بعد زمانے میں کچھ نہیں
( دلشاد اریب ،آزادکشمیر )

اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں
  اب میں اکثر میں نہیں تم ہو جاتا ہوں
( انور شعور  ،پاکستان  )

خموشی کے ہیں آنگن اور سناٹے کی دیواریں
 یہ کیسے لوگ ہیں جن کو گھروں سے ڈر نہیں لگتا
 ( سلیم احمد، پاکستان )

اپنوں کے درمیاں جو کھینچی گی
  آج بھی ہے اسی لکیر کا دکھ
( بابر الیاس بابر ،آزادکشمیر )

میں عشق میں تجھے غالب شناس کر دوں گا
  اداس شخص تجھے میر  سے بچاوں گا
( احمد عطاء اللہ  ،آزادکشمیر )

   تمھارے غم میں جو ہم رات دن آنسو بہاتے ہیں
    تمھی کہہ دو یہ باوضو عبادت کس نے کی ہو گی
   ( ناز مظفرآبادی ، آزادکشمیر )

ہم ہجرت کے ماروں کا یہ شغف رہا
 سڑکیں ماپیں گرد اڑائی گزر گے
  (طارق بٹ ، آزادکشمیر)

گرچہ ہجرت کا سفر دشوار ہے
  چھوڑ آیا پھر بھی گھر دشوار ہے
( نوید بٹ ، آزاد کشمیر )

گھر کو جلدی جانا ہو گا
 در پہ ہوں گی ماں کی آنکھیں
( علی عازش ، آزادکشمیر )

جس دھرتی پر لوگوں کے دل ملتے ہیں
   اس دھرتی پر باڑ لگانا مشکل ہے
  ( بشیر چغتائی ، آزادکشمیر)

دو گز سہی مگر یہ میری ملکیت تو ہے
  اے موت تو نے مجھ کو زمیندار کر دیا
  ( ڈاکٹر راحت اندوری ، بھارت )

  میں ایسے جمگھٹے میں کھو گیا ہوں
   جہاں میرے سوا کوئی نہیں ہے
( صابر ظفر ، پاکستان )

 اتنا میٹھا تھا وہ غصے بھرا لہجہ مت پوچھ
 اس نے جس جس کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا
( تہذیب حافی ، پاکستان)

یہ اہتمام اور کسی کے لیے نہیں
طعنے تمھارے نام کے ہم پر ہی آئیں گے
( علی زریون ، پاکستان )

میں جیت کر بھی اسے سرنگوں نہ  دیکھ سکی
شکست مان ہی لی دل نے رکھ رکھاؤ کے ساتھ
(سیدہ آمنہ بہار ، آزادکشمیر)

زندہ رہا تو کرتا رہوں گا ہمیشہ پیار
  میں صاف کہہ رہا ہوں مجھے مار دیجیئے
 (فرہاد احمد ، آزادکشمیر )

  حصے میں آتا صرف امیروں کے
   عشق پیسوں میں گر بکا ہوتا
( آتش اندوری ، بھارت ) 

جس شہر میں ہو خواب چرانے کی واردات
کیسے کروں  وہاں پہ میں  تشہیر خواب کی
( ارم زہرا ، پاکستان )

نظریں بدل رہا ہے اگر وہ تو گم نہیں
کانٹا اب  اپنی راہ سے ہٹانا مجھے بھی ہے
( بلقیس خان ، پاکستان )

  تیرے جانے کے بعد کیسا ہے
   دل میں اتنا فساد کیسا ہے
( انجلی سنگھ ، بھارت )

اک برف سی جمی رہے دیوار و بام پر
 اک آگ میرے کمرے کے اندر لگی رہے
  ( سالم سلیم ، بھارت )

تعبیر کچھ بتاؤ کہ تدبیر کر سکوں
خوابوں میں آ رہے ہیں کئی برگذیدہ لوگ
(حسیب کمال ، آزادکشمیر )

ہزاروں برسوں کی جستجو سے بھید پایا
   خمیر آدم ، دوام دکھ ہے ، تمام دکھ ہے
  (عطاء راٹھور عطار ،آزادکشمیر )

  کہا اس نے اردو مجھے آ گئی ہے
 بہت ٹھیک جملے بنائے ہیں میں نے
  مجھے ایک پانی کا لقمہ پلا دو
 پلاو کے دو گھونٹ کھائے ہیں میں نےولی
( انور مسعود ، پاکستان )

آنکھ اگر جلدی کھل جائے خواب ادھورے رہتے ہیں
 اور اگر میں دیر سے جاگوں دفتر سے رہ جاتا ہوں
(جواد حاشر ، آزادکشمیر )

نمی ہو آنکھ میں ، خوابوں کو بیچ کے آئے
خدا یہ وقت کبھی آدمی پہ نا  لائے
( رضا علی عابدی ، آزادکشمیر )

تجھ سے بچھڑ کر رنگ تغزل ہی چھن گیا
 اک شعر باندھنے میں زمانے لگے مجھے
( سید احسان الحق ، آزادکشمیر )

اس کے جیسا تو جہاں میں کچھ نہیں
ماں کے جیسی تو کوئی نعمت بھی نہیں
( نسیم چغتائی ، آزادکشمیر )

یہ جو ہم لوگ ہیں احساس میں جلتے ہوئے لوگ
ہم زمیں زاد نہ ہوتے تو ستارے ہوتے
( واحد اعجاز میر ، آزادکشمیر )

خواب آتے رہیں اس کے
  پھول تکیے پہ رکھ کے سوتے ہیں
( عین نقوی ، پاکستان )

ہے احترام حضرت انسان میرا دین
بے دین ہو گیا ہوں مجھے مار دیجئیے
( فرہاد احمد ، آزادکشمیر )

کوئی رشتہ یا تعلق بھی نبھانے سے رہے
 وقت ایسا ہے کہ ہاتھ ملانے سے رہے
( زبیر حسن زبیری ، آزادکشمیر )

نہ جانے توڑ لے کب شاخ سے گل چیں تجھے اے گل
  نم باراں و شبنم سے ہمیشہ باوضو رہنا
( غلام حسین وانی قمر ، آزادکشمیر )

میں اپنے وجود کا اقبال کر نہیں سکتا
مرے وجود کے اندر بغاوتیں ہیں بہت
( اسلم راجا ، آزادکشمیر )

سر کٹانا گوارا بھی تھا مجھ کو لیکن
 بات بڑھ کر مری دستار تک آ پہنچی ہے
( الطاف عاطف ، آزادکشمیر )

جنھیں معلوم نہ ہو فرق الفت اور نفرت کا
انہیں چاہتے ہیں اگر آپ تو بے کار چاہتے ہیں
( علامہ جواد جعفری ، آزادکشمیر )

تم انا کی تال پر جشن فتح ترتیب دو
 میں بھی کرنے کو وفا کی انتہا دوستا
( امجد گردیزی ، آزادکشمیر )

تری یادوں کا اک طوفاں جب بے چین کرتا ہے
  تری تصویر لوگوں سے چھپا کر دیکھ لیتا  ہوں
( شفیق اے کمال ، آزادکشمیر )

مسئلہ یہ تو نہیں عمر گزاریں کیسے
 مسئلہ یہ ہے کہ عمر بہت تھوڑی ہے
( تقویم طاہر ، آزادکشمیر )

مجھے تنشیط بچپن سے یہ والد کی نصیحت ہے
لباس  آبرو  بیٹا  کبھی  میلا  نہیں  کرنا
( بشارت تنشیط ، آزادکشمیر )

صدیق تجھے یار سے شکوہ تو ہے بہت
منت کے بغیر اسے منایا نہیں جاتا
( راجا محمد صدیق ، آزادکشمیر )

ظلم سہنے سے تواچھا ہے بغاوت کر دیں
جسے مرنا ہے وہ آئے سر بازار مرے
( لطیف صمیم ، آزادکشمیر )

اجلی مٹی چھوڑ کے یارو دور شہر کی رنگینی میں
نام کمانے نکلا تھا میں گھر کا رستہ بھول گیا
( ثاقب بخاری ، آزادکشمیر )

سوچا تھا اب کسی کو نہ سوچوں گی عمر بھر
لیکن   کسی کو سوچنا اچھا  لگا  مجھے
( سیدہ شہناز گردیزی ، آزادکشمیر )

مری ماں بچپن سے مجھے اک بات کہتی ہے
مرے بیٹے جو انسان ہے اسے انسان کا غم ہے
( عمران جاوید ، آزادکشمیر )

اعلان میں  کہا گیا   پُر امن  ہے   جلوس
چپکے سے سب کے ہاتھ میں پتھر دئیے گئے
( پروفیسر شفیق راجہ ، آزادکشمیر)

Leave your comment !