پروفیسر رضوانہ انجم

زندگی کے رستوں میں دھوپ جب بکھر جائے

ابر جب ٹھہر جائے

آنکھ جب سفر میں ہو

رنگ جب نظر میں ہوں

دل کسی کی یادوں میں ڈوب کر ابھرتا ہو

سانس جب معطر ہوں 

پھر کسی کی خوشبو سے

پھر کسی کی باتوں سے دل فریب کھاتا ہو

پھر تمہیں دعاؤں میں کوئی یاد آتا ہو

نیم شب نمازوں میں اشک پھر بہاؤ تم

پھر کسی کی چاہت میں رب کو بھی مناؤ تم

پھر کسی کو مانگو تم

اور پھر نہ پاؤ تم

سوچ لینا قسمت میں 

اور کوئی چاہت ہے ٹوٹ کر بکھرنے کی

بچ گئے تو جی لینا۔۔۔۔۔۔

ورنہ سوچ لینا یہ

حادثے محبت کے جان لیوا ہوتے ہیں۔۔۔۔۔

حادثے محبت کے جان لیوا ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔