تحریر ولید یاسین
جناب سردار سعید خاں المعروف پیر پگاڑا
اکتوبر2005کے قیامت خیززلزلہ  میں ہم سے بچھڑنے والے باغ آزاد کشمیر ایک معروف اور مقبول شخصیت تھے جن کا شمار آزاد کشمیر کے نامور شخصیات میں ہوتا ہے آپ کی زندگی کا مقصد خدمت خلق،تھا سیاسی وسماجی میدان میں ایک الگ حیثیت رکھنے والے آزاد کشمیر کے پیر پگاڑا سیاسی جدوجہد میں ایک منفرد مقام رکھتے تھے،آپ نے  جنرل حیات کی جماعت تحریک عمل میں شمولیت اختیار کی جنرل حیات تعمیروترقی کے ہیرو تھے اور جب تک جنرل حیات کی جماعت آزاد کشمیر میں کام کرتی رہی پیر پگاڑا صاحب اسی جماعت کا ایک جاندار کردار رہے پیر پگاڑا نے اسمبلی کا الیکشن نہ لڑا بلکہ آپ نے عوام الناس کی خاطر چوک وچوراہوں میں عوام کے حقوق کی بات اعلیٰ ایوانوں تک پہنچائی باغ میں ظلم وستم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنے رہے مظلوم طبقہ کی جاندار نمائندگی کی پیر پگاڑا صاحب نے اپنی زندگی سماجی کاموں میں گزاری،باغ کے اندر جو بھی لاوارث ڈیڈ باڈی آتی تھی اس کے کفن دفن کا انتظام پیر پگاڑا صاحب خود کرتے تھے اس کے علاوہ جب بھی کوئی مظلوم غریب ہسپتال کا مریض کسی سرمایہ دارکا مقروض ہوا جو کسی معاشی حالات کا مارا وہ آپ کے پاس مدد کے لیے آتا تو ان کی مدد کرتے ہسپتال میں روزانہ جاتے مریضوں کا حال وحوال پوچھتے بلا تفریق کسی کو دوائی کی ضرورت ہوتی تو جناب نے میڈیکل سٹور پر چندہ کر کے پیسے رکھے ہوتے تھے ان سے ان کی مدد کرتے اور میڈیکل سٹور والوں کو ہدایت کی ہوتی تھی کہ اگر کوئی مریض جو ضرورت مند آئے تو اسے دوائی فراہم کی جائے اگر ہسپتال میں کسی کی ڈیڈ باڈی پڑی ہو تو اس کے ورثاء کے پاس اگر اخراجات نہ ہوں تو وہ ڈیڈ باڈی چندہ کر کے ڈیڈی باڈی اس کے گھر تک پہنچانے کا اہتمام کرتے،کسی بھی دکھی انسان کی تکلیف کو برداشت نہ کرتے بلکہ وہ کسی جانور کی تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے،چھوٹے بچوں سے پیار محبت کرنے والی انسان تھے ساری زندگی سفید پوشی کی حالت میں گزاری،جب باہر نکلتے تو دیکھنے والا سوچنے پر مجبور ہو جاتا کہ کوئی بادشاہ جا رہا ہے آج بھی ہر محفل میں ان کا زکر ضرور ہوتا ہے اور ان کو آج بھی بڑی قدر کی نگاہ سے یاد کرتے ہیں،وہ بچوں کے ساتھ بچے اور بڑوں کے ساتھ بڑے بن جاتے تھے،وہ ہر محفل کی رونق اور جان ہوا کرتے تھے اکثر وہ خاموشی میں رہا کرتے تھے،جب دنیا سے گئے تو زلزلہ میں ان کی شہادت ہوئی ساری زندگی محفل کی رونق بنے رہتے تھے انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہی کسی کی کوئی غیبت کی جب آپ سوتے تھے تو اکثر ان کے منہ سے جو الفاظ نکلتے وہ استغفراللہ استغفراللہ کے کلامات جاری رہتے تھے آئینی شاہدین نے اس بات کی تصدیق کی بل آخر ایک زندہ دل ایک اعلیٰ کردار کا مالک اور غریب پرور انسان اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہے،وہ آج بھی ہمیں اسی طرح ہنستے مسکراتے آنکھوں کے نظر آرہے ہیں ان کی شہادت سے ضلع باغ اور باالخصوص باغ شہر ایک عظیم شخصیت سے محروم ہو گیا ہے انہوں نے غریب،بے سہارا،دکھی انسانیت کی خدمت کرتے رہے ہیں ان کی کمی آج باغ میں بڑی شدت سے محصوص کی جا رہی ہیں ہمیں ان کے مشن کو اپنانتے ہوئے دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھ کر باہر نکلنا چائیے تاکہ نیکی کے کام کرنے سے جہاں دلی سکون ملتا ہے وہں دنیا اور آخرت میں کامیابی کا زریعہ بھی ہے،سردار سعید خان المعروف پیر پگاڑا ایک جاندار آواز تھی ہر چوک چورائے،میں ان کے حقوق کی بات کرنے والے شخصیت کے مالک تھے مظلوم کی آواز بن کر ہمیشہ سڑسڑکوں پر نکلتے رہے ہیں پیر پگاڑا پڑی صفحات کے مالک تھے دکھی لوگوں کے مسائل حل کرنے تک چین سے نہ بیٹھنے والے انسان تھے ان کا چیرہ انتہائی بارونق خوبصورت تھا ہر کوئی مظلوم شخص اپنی فریاد لیکر ان کے پاس پہنچ جاتا اور اس کا مسئلہ حل کرنے تک وہ چین سے نہیں بیٹھتے تھے ہماری دعا ہے کہ پاک ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء
فرمائے آمین۔

Leave your comment !