سردار محمد حلیم خان

نو مئی سے فلسطینی علاقوں میں شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت بلا روک ٹوک جاری ہے۔اب تک سوا دو سو سے زیادہ افراد جام شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی ہیں۔اسرائیل نے  نہ صرف طیاروں کے ذریعے رہائشی عمارتوں پر بمباری کی بلکہ ہسپتالوں پناہ گزینوں کے کیمپوں حتی کے میڈیا ہاوسز کے دفاتر کو بھی نہیں بخشا ہے۔ساری دنیا میں مسلمان اسرائیلی جارحیت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔او ائی سی کے وزرائے خارجہ کا بھی ورچول اجلاس ہوا جس میں فلسطین پر تازہ اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی گئی۔ان گنت مظاہروں تقاریر میڈیا کے دباو کے باوجود اسرائیل کے کان پر جوں تک نہیں رینگی اور اس نے فلسطینیوں کی منظم نسل کشی اور معاشی تباہی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل پچھلے تہتر برس سے ایسی قراردادوں کا عادی ہے۔پہلی جنگ عظیم کے دوران جب برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ کیا تو اس وقت فلسطین میں یہودیوں کی آبادی صرف سات فیصد تھی۔برطانیہ کی قیادت میں مسلمانوں پر ان کی اپنی ہی سرزمین تنگ کر دی گئی اور ساری دنیا کے یہودیوں کو فلسطین میں لا لا کر بسانے کا کام شروع کیا گیا۔1948 میں جب برطانیہ یہ علاقہ چھوڑ کر نکل گیا تو یہودیوں کی آبادی دنیا بھر کےبھگوڑوں کی اباد کاری کے سبب ستائیس فیصد تک پہنچ چکی تھی انھوں نے اسرائیل کے نام سے اپنی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا۔لیکن اس وقت کی مسلمان ریاستیں اس  نا جائزننھی سی ریاست کے خلاف عملی قدم اٹھانے کی بجائے قراردادوں کے راستے پر چل نکلیں درمیان میں 1967 میں مصر کے صدر ناصر کی قیادت میں اس مسئلے کو مسلمانوں کے مسئلے کی بجائے عرب قوم پرستی کا مسئلہ بنا کر فلسطین آزاد کروانے کی کوشش  میں کئی گنا مزید علاقے اسرائیل کے قبضے میں چلے گے۔باالخصوص شام اور مصر کی سوشلسٹ حکومتوں کو صحرائے سینا اور گولان کے پہاڑوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔اس کے بعد مسلمان ممالک پر اسرائیل کا خوف ایسا چھا گیاکہ جہاں اسرائیل کی بر بریت پر عام مسلمان جذباتی ہوتے ہیں وہاں عالم اسلام کا حکمران طبقہ خوفزدہ ہو جاتا ے یہ ڈر ڈر کے مرتے ہیں کہ ہمارا انجام بھی غزہ جیسا نہ ہو جائے۔ایسا کیوں ہے کیا اسرائیل بہت طاقتور ملک ہے؟ زیر نظر اعداد و شمار دیکھ کر آپ تسلیم کریں گے کہ اسرائیل دراصل مسلمانوں کی بد اعمالیوں کی اجتماعی سزا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق اسرائیل کا کل رقبہ بیس ہزار مربع کیلومیٹر یعنی آزاد کشمیر سے صرف سات ہزار مربع کلومیٹرزیادہ ہے جبکہ دنیا میں 57 مسلمان ممالک ہیں۔اسرائیل کی کل آبادی چھیاسی لاکھ ہے جس میں سترہ لاکھ مسلمان بھی شامل ہیں مسلمانوں کو اس آبادی میں سے نکال دیا جائے تو اسرائیل کی ابادی 69 لاکھ رہ جاتی ہے جو لاہور سے بھی کم ہے۔جبکہ دنیا میں مسلمانوں کی آبادی ایک ارب نوے کروڑ ہے ساری دنیا کے کل یہودیوں کی آبادی دو کروڑ سے بھی کم ہے جنہوں نے ایک ارب نوے کروڑ مسلمانوں کو عملا غلام بنا رکھا ہے۔وجہ کیا ہے؟ جذبہ جہاد کا فقدان مادہ پرستی اور موت کا خوف۔اس سے بھی پہلے قوم پرستی کی بیماری جس نے امت کو پارہ پارہ کر رکھا ہے۔بطور مسلمان تو فلسطینی مسلمانوں  کئ جد وجہد سے دلچسپی اور ہمدردی  ہمارا دینی فریضہ ہے ہی لیکن فلسطین ہی کی طرح کے حالات کا ہمیں کشمیر میں بھی سامنا ہے اس حیثیت سے بھی تحریک آزادی فلسطین کا مطالعہ ہمارے لئے مفید ہے۔

پہلا سبق یہ ہے کہ آپ جس قدر سیکولرازم کا پرچار کریں دنیا کے نزدیک آپ بہر حال مسلمان ہیں۔فلسطین میں یاسرعرفات سے جہاد کا کا راستہ ترک کروا کر اسے قوم پرستی کا علم تھمایا گیا لیکن اس کے ساتھ کیے گے کسی وعدے کو پورا نہیں کیا گیا۔اس کی وفات کے بعد محمود عباس جیسے بہائی فرقے کے فرد کو زبردستی  مسلمانوں پر مسلط کیا گیا لیکن اس کے ساتھ بھی کوئی عہد پورا نہیں کیاگیا۔اس سے یہ سبق ملا کہ دشمنان اسلام کے کے لئے خود کو قابل قبول بنانے کی کوشش میں آپ اپنی شناخت اور اخرت برباد کرنے کے سوا  کچھ نہیں حاصل کر پاتے ہیں۔

دوسرا سبق یہ ہے کہ ظالم صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے تقریریں اور قراردادیں اس کا کچھ نہیں بگاڑتی ہیں۔اگر زبانی احتجاج کی کوئی اہمیت ہوتی تو جتنا احتجاج فلسطین کے معاملے میں ہوا ہے جتنی قراردادیں اس مسئلے پر دنیا کے فورمز پہ پیش ہوئیں دنیا کے سارے مسائل پر بھی اتنی نہیں ہوئیں لیکن یہ ساری قراردادیں اور احتجاج فلسطین کو چھوڑنا تو درکنار اسرائیل کو نہتے شہریوں پر بمباری سے بھی نہ روک سکے۔

تیسرا سبق یہ ہے کہ یہ محض خود فریبی ہے کہ مغربی ملکوں کو انسانی حقوق یا انسانی آزادی سے کوئی دلچسپی ہے۔جب ان کے مفادات کی بات ائے تو ان کو کشمیر اور فلسطین میں بہتا خون نظر نہیں آتا۔نہ ہی میڈیا کی آزادی ان کا کوئی ایشو ہے۔یہ سب نعرے سیاسی مفادات کے حصول کے لئے ہیں۔دیکھ لیجئے کس طرح مغربی میڈیا نے فلسطین اور کشمیر میں قتل عام سے منہ پھیر کر نان ایشوز کو اجاگر کرنے کی سعی شروع کر رکھی ہے۔صحافیوں کو پسینہ اجائے تو میڈیا کی آزادی خطرے میں پڑ جاتی ہے لیکن کشمیر اور فلسطین میں میڈیا ہاوسز تباہ کر دیے جائیں صحافیوں کو شہید کر دیا جائے تو بھی میڈیا کی آزادی کو فرق نہیں پڑتا۔

یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ الکفر ملتہ واحدہ۔فلسطین میں مر مسلمان رہے ہیں ظلم ان پر ہو رہا ہے اور امریکی صدر اسرائیلی صدر کو فون کر کے تھپکی دے رہا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔اسی طرح آزادی اظہار رائے کا راگ الاپنے والا فرانس اسرائیل کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف طاقت کا استعمال کر رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں تو قابض افواج نے نہ صرف مظاہرین کو بلکہ اسرائیل کے خلاف دعا کرنے والے امام مسجد کو بھی گرفتار کر لیا

ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ

 آزادی کی جدوجہد کے لئے کسی مضبوط پڑوسی ملک کی تائید ضروری ہے۔

اور سب سے اہم سبق یہ کہ 

جسے مرنا نہیں آیا اسے جینا نہیں آیا