شکیلہ تبسم

یہ بادل ظلم کے چھاۓ ہیں جو چھٹ جائیں گے اک دن ۔۔۔

ترے دشمن یہ ٹکڑوں میں خود ہی بٹ جائیں گے اک دن۔۔۔۔۔

کمر جب ٹوٹی تو دھرتی سے یہ ہٹ جاہیں گے اک دن ۔۔۔۔

سب اپنے درمیاں کے فاصلے گھٹ جاہیں گے اک دن ۔۔۔۔

تری یہ شاخِ گل پھر دیکھنا اک دن ہری ہو گی ۔۔۔۔

تری جھولی یہ پھر نو خیز پھولوں سے بھری ہو گی ۔۔۔