تحریر: صغیر یوسف

گل بھی گلشن میں کہاں غنچہء دہن تم جیسے

کوئی کس منہ سے کرے تم سے،  سُخن تم جیسے

گل کو دیکھتے ہی اکثر میری زبان پہ فراز کا یہ شعر آجاتا، جب بھی وہ میرے اَفس آتا، میں “او گل… گل بھی گلشن میں کہاں….” کا نعرہ لگاتا اور آگے اس کے معصوم سے چہرے پر کھلی ڈھلی شگفتہ ہنسی ہوتی۔  ایک دن جب اس کے پوچھنے پر میں نے اسے، اس شعر کا مطلب سلیس کر کے بتایا تو بچوں جیسی اسکی انکھیں مزید معصومیت اتر آئی ۔  کہنے لگا  “واہ صغیر صاب، کتنا زبردست قسم کا شعر ہے یہ، ؟ جب بھی آپ مجھے ملیں  یہ شعر سنایا کریں، تا کہ مجھے یاد ہو جائے، یہ میرا شعر ہے”

صغیر یوسف

 اس کا پورا نام  گل خطاب تھا، ہم سب اسے گل ہی کہا کرتے.تھے ۔اچھا جملہ کہنا اور سننا اس کے محبوب مشغلوں میں سے تھا۔ جس سال مرحوم ایدھی صاحب کے ہاں  کوئی چوری ہوئی تھی، گل ہمارے ایک مشترکہ دوست “چوہدری صاحب” کو  بھی فقرے میں لے آیا ۔ کہنے لگا”صغیر صاحب یہ سال سماجی کارکنوں پہ بہت بھاری رہا، اُدھر ایدھی صاحب کی چوری ہوگئی اِدھر اپنے چوہدری صاحب کا کوٹ بھی کوئی لے گیا”۔

 پیشے کے اعتبار سے ٹیکسی ڈرائیور گل اپنی ذات میں انجمن تھا۔ انتہا کا پر خلوص، خوش اخلاق اور ضرورت کے وقت سب کی مدد کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ۔  مجھے کہیں بھی جانا ہوتا تو آفس کی گاڑی سے زیادہ میری ترجیح گل کی گاڑی ہوتی۔ میں ساتھ ہوتا تو کسی ناکے وغیرہ پر ٹریفک کانسٹیبل سے رک کر ، کاغذات وغیرہ کی جانچ پڑتال، حتیٰ کہ چالان سے بھی، بچنےکے لیے ایک عجیب و غریب تکنیک کا بے دریغ استعمال کرتا۔

کانسٹیبل سے رکنے کا اشارہ پاتے ہی فوراً ڈرامائی صورت حال پیدا کر دیتا۔  یکدم انتہائی تشویش اور سراسیمگی کے عالم میں کہتا: “دیکھتے نہیں ڈاکٹر صاحب بیٹھے ہیں، ایک انتہائی ارجنٹ میٹنگ میں پہنچنا ہے”۔

 اس کے جملے میں اتنا اثر ہوتا کہ کانسٹیبل بوکھلا کر رہ جاتے۔  کانسٹیبل تو کیا مجھے بھی بعض اوقات لگتا کہ میں کوئی بہت اہم ڈاکٹر ہوں اور مجھے کسی انتہائی  اہم یا ایمرجنسی میٹنگ میں پہنچنا ہے اور اگر لیٹ ہوا تو ملک پہ خدا نخواستہ کوئی قیامت ٹوٹ پڑ ے گی۔

 ہماری ہر شادی میں گھر کے فرد کی طرح دوڑ دھوپ کرنے والا گل میرے آفس میں بھی گویا اسٹاف میں شامل تھا۔ بعض دوست اسکی کمٹمنٹ دیکھ کر ہمیں کہتے کہ آپ لوگوں کو چاہیے کہ گل کو تنخواہ دیا کریں۔

 کوئی لگ بھگ چھ ماہ پہلے ایک دن فون کیا مجھے، حسب روایت، خیریت میں سب سے پہلے والد صاحب کی بابت پوچھا”حاجی صاحب دا کی حال اے؟” پھر مجھ سے چھوٹے بھائی کا”ڈاکٹر زبیر صاحب کا سنا تھا کوٹلی یونیورسٹی سے راولاکوٹ چلے گئے”۔

“ڈاکٹر ظہیر صاحب لامُز (LUMS) میں ہی ہیں لاہور؟ ” “ڈاکٹر نعیم صاحب.. یرا جی… سعودیہ ٹھیک تھے اُدھر انگلینڈ تہ جی بہوں کرونا پھیلیا”

 غرض سب کا ایک ایک کر کے پوچھا اور آخر پر بولا” سر ہون مینوں او میرے والا شعر سناو”. …

ہائے گل!

گل بھی گلشن میں کہاں غنچہء دہن تم جیسے

کوئی کس منہ سے کرے تم سے سُخن تم جیسے.

ننگے فرش پہ سونا تو تمہیں ہمیشہ پسند رہا.. کہتے تھے” تھوڑا جثہ ٹہلا ہو کے دن بھر کی تھکن نکل جاتی ہے”َ .

اللہ کریم تمہاری زندگی بھر کی تھکن آج اتار کر تجھے ہشاش بشاش کردیں. جنت میں اگر ٹیکسی چلتی ہوئی تو ہم اِدھر اُدھر جانے کے لیے تجھے ہی بلایا کریں گے… گل!