May 23, 2022

“نصرت نسیم کے خیالوں میں چلتا پھرتا انسان “تبصرہ نگار:  عائشہ  اکبر

کتاب : بیتے ہوۓ کچھ دن ایسے ہیں

مصنفہ : نصرت نسیم

تبصرہ نگار : عائشہ اکبر

وزیٹنگ فیکلٹی ممبر شعبہ اردو گورنمنٹ صادق کالج وویمن یونیورسٹی بہاولپور

بیتے ہو ئے کچھ دن ایسے ہیں تنہا ئی جنہیں دہراتی ہے

رو رو کے گزرتی ہیں راتیں آنکھوں میں سحر ہو جا تی ہے۔

شر ما کے کبھی چھپ جا نا ہنس ہنس کے کبھی چل چل دینا

چیزی کے ملائم کو نے کو دانتوں میں دبا کر بل دینا

آواز کسی کے ہنسنے کی کانوں میں ابھی تک آتی ہے۔

وہ قلب و نظر کے ایما ء پر مطلوب زمانے کی نظریں

روحوں میں وفا کی زنجیریں اس طرح کہ دل کے دل بس میں

وہ جوش میں وعدوں پر وعدے جذبات میں قسموں پر قسمیں

بیتے ہو ئے دن کچھ ایسے ہیں تنہا ئی جنہیں دہرا تی ہے۔

وہ تپتی منڈیر یں گرم چھتیں کو ٹھے کے وہ پھیرے پر پھیرے

وہ تیز قدم اڑتا آنچل چہرے کو پریشانی گھیرے

مل جائے جو کوئی ہمجولی افسانے وہ تیرے اور میرے

بیتے ہو ئے کچھ ایسے ہیں تنہا ئی جنہیں دہراتی ہے۔

دن بھر وہ ذرا سی آہٹپر چلمن کے قریب آنا جا نا

زینے پر وہ چھپ کر خط لکھنا ، خط لکھ کے لرزنا تھر انا

تنہائی ملے تو رو لینا، تنہائی نہ ہو تو گھبرانا

بیتے ہو ئے کچھ دن ایسے ہیں تنہا ئی جنہیں دہرا تی ہے۔

احسان دانش کی مشہور زمانہ نظم کو نصرت نسیم کی خود نو شت ” بیتے ہو ئے کچھ دن ایسے ہیں” کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ نصرت نسیم کا تعلق پاکستان کے صوبہ خیبر پختو ن خواء کے ضلع کو ہاٹ سے ہے جو ادب کے علا وہ دیگر شعبہ ہا ئے زندگی میں بہت زر خیز خطہ ہے۔ خواتین آب بیتی نگاروں کی بات کی جا ئے تو یہ سلسلہ امرتا پر یتم سے شروع ہو تا ہوا عصمت چغتائی، ادا جعفری، صوفیا انجی ، کشور نا ہید، عذر ا عبا س، صالحعابد حسین، ثریا حسین اور تہمینہ درانی سے نصرت نسیم تک منتج ہو تا ہے۔ نصرت نسیم کی خود نو شت ّّ بیتے ہو ئے کچھ دن ایسے ہیں جس پر بہت سے جید لوگوں نے تبصرے تحریر فر ما ئے ہیں جن میں شجا عت علی راہی، صفدر ہمدانی صاحب، ناصر علی سید، غلام حسین غازی ، سعود عثمانی، ڈاکٹر ثروت رضوی کے علا وہ ڈاکٹر محسن مگھیا نہ قابل ذکر ہیں۔ ان تمام تحریروں اور تبصروں کا مطا لعہ کر نے کے بعد میری کیا بساط کہ کچھ لکھ سکوں لیکن جو سمجھ پائی وہ تاثرات زودِ قلم کیے دیتی ہوں۔ نصرت نسیم کے تخلیقی سفر کا آغاز آٹھویں جماعت میں لکھی ہوئی کہانی سے ہوا۔ اور یہ سلسلہ “بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں “پر آکر ٹھہرا ہے۔ یہ خود نو شت شاندار اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ پیش لفظ میں حرف تشکر کے طور پر اس ذات کی حمد و ثنا ء بیان کر تے ہو ئے لکھتی ہیں۔

“تشکر بسیا رو بے شمار اس خدا ئے لم یزل اور مالک لوح و قلم کا جس کی مہربانی سے کتاب او رقلم سے نا طہ رہا۔

“دولفط لکھنے کی تو فیق ملی جو عطیہ خداوندی ہے”

اس لحاظ سے لکھاری اور قادری میں فکری ہم آہنگی پیدا ہو جا تی ہے۔ خود نو شت جیسی  صنف ادب میں طبع آزمائی کر نا جو ئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ مگر نصرت نسیم نے اپنی بے باک طبیعت کی بنا ء پر ایسے ایسے اعتراف کیے ہیں جو ایک نا یاب خود نو شت کا خاصہ ہو سکتے ہوں۔ جب قرات کر نے بیٹھی تو لگا کہ روایتی آب بیتی ہو گی مگر خلاف تو قع نصرت نسیم نے ایسے منا ظر پیش کیے کہ وہ تمام مناظر مشامِ جاں بن کر روح تک سرایت کر تے گئے۔ 271صفحات پر مشتمل یہ خود نو شت محض دو نشستوں میں پڑھ ڈالی۔ ایسی ادبی خو بیوں کی حامل تخلیق کا قاری سے تعلق کسی سر ما ئے سے کم نہیں ہے۔ کہا جا تا ہے کہ ہم ادب کے عہدِ یو سفی میں جی رہے مگر اب یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ ہم نصرت نسیم جیسے ادبیوں کے عہد میں بھی رہےہیں کو ہاٹ جو کہ رسیلے امرودوں کی سر زمین ہے۔ ایسے ہی نصرت نسیم” بیتے ہو ئے کچھ دن ایسے ہیں”نام کے شیریں پھل کی آبپاری کر نے میں کامیاب ہو ئی ہیں جس کی مٹھا س قارئین اردو کو تا دیر اپنے سحر میں مبتلا رکھے گی۔ مصنفہ نے اس عہد میں خواتین کو پیش آ نی والی مشکلات کا ذکر بڑی دیدہ دلیری سے کیا ہے جس کا اُسے خود بھی سامنا رہا مگر احترام کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنے دیا۔ جس کا اعتراف مضفہ کی استاد اور صوبہ خیبر پختون خوا کی بے رنگ فضا میں افسانوی ادب کا پہلا عطر دان رکھنے والی فہمیدہ اختر یہ کہنا کہ “نسیم کا علم اٹھنے والا ہے”نصرت نے بڑے سلیقے سے ان مسائل اور رسومات کو بیان کیا ہے جو بچیوں کے پیدا ئش پر ہو تے تھے مثلا بچی کی پیدا ئش پر خوشی کے بجا ئے غمگین ہونا اور رونا بعض جگہ پر تو یہاں تک لکھتی ہیں بچی کے پیدا ہونے پر نحو ست کہا جا تا تھا۔ یہ کہ وہ خرافات جو کسی بھی معاشرے کی تباہی کا سبب بنتے ہیں اور بد قسمتی سے یہ خرافات ہر عہد میں دامن گہر ہے رہی ہیں مصنفہ کے تعلیمی سفر کا آغاز آبائی گا ؤں کے سکول سے ہو تا ہے جہاں بلا تفریق تعلیم دی جاتی اور اور تہذیبی اقدار کا عروج تھا۔ وہ لکھتی ہیں “اب پیچھے پلٹ کر دیکھتی ہوں تو حیرت ہو تی ہے کہ کیسے کیسے امیر کبیر ، خان خوانین اور اعلیٰ گھرانوں کی بچیاں ہماری ہم جماعت تھیں۔ نہ کوئی طبقاتی تقسیم، نہ کوئی غرور تکبر” اور یہ سفر فر نٹیر کالج پشاور تک اختتام پذیر ہوا۔

جہاں انہیں فہمیدہ اختر، مسز سر دار جعفر جیسی استاد میسر آئیں جنہوں نے نہ صرف ان کی علمی صلا حیتوں میں نکھار پیدا کیا بلکہ خوب تر بیت بھی کی۔ ان کے نزدیک عہدِ حاضر میں جدید یت نے زندگی میں آسانیاں فراہم کر کے انسان کو سہل پسند بنا دیا ہے۔ مگر مٹتی ہوئی تہذیبی قدروں نے اتنا ہی انسان کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

اگر دیکھا جا ئے تو طبقاتی نظام بھی اسی کے بطن سے وقوع پذیر ہوا ہے۔ مصنفہ نے ان تمام ہستیوں کا شکریہ اداکیا بلکہ انہوں نے حفیظ مراتب کا خیال رکھا والدین سے لے کر اساتذہ کرام تک اور ان تمام دوستوں کا بھی جن کی دعا ئیں اس کا میابی میں شامل رہیں۔

خود نو شت لکھنے کے لیے انسان کو ان راہوں پر پا پیا دہ نکلنا پڑتا ہے۔ جہاں کبھی سنگ و خار اور کبھی سرو چمن و بو ئے صمن ہمراہ تھے۔ بقول مصنفہ”یادوں کے چراغ لے کر ماضی کی پگڑ نڈیوں پر چلتے چلتے ایسے ایسے واقعات روشن ہوئے کبھی تو دل میں چراغاں سا ہو گیا اور کبھی غم کی اتھا ہ گہرائیوں اور اندھیروں میں اتر گئی۔ “آنسو ؤں کی جھڑی سی لگ گئی” مزید لکھتی ہیں کہ ” خوشیوں کے پھول بھی ہیں تو آنسو ؤں کے ہار بھی “

نصرت نے اپنی اس خود نو شت میں اپنے ملک کی جس نسل کی نما ئندگی کی ہے وہ یہ کہ علم دنیا کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ عرفانِ ذات کا وسیلہ بھی ہے ان کا قلم نفاست، سادگی، بے ساختگی ، سادگی اور سچے جذبوں کا تر جمان ہے۔ اس کی بہترین مثال خود مصنفہ کی ذات ہے کہ وہ الھڑ لڑ کی سکول سے کالج تک کے سفر میں کبھی سنگلا خ پہاڑوں سے گزرتے خوف کا شکار ہو تی ہے تو کبھی بہتے چشموں کے صاف شفاف پانی کو دیکھ کر لطف اندوز ہو تی ہے، راہ چلتے ہوئے مر غز اروں کو دیکھ کر دل بہلاتی ہے۔ وہ پڑھنا، لکھنا چاہتی تھی وہ لکھتی ہیں کہ “جب اردو پڑھنا آگئی تو مسرتوں کے کئی دروا ہو گئے”۔

نصرت نے ایسے ایسے منا ظر پیش کیے ہیں کہ جن سے قاری نہ صرف محظوظ ہو تا ہے بلکہ وہ تمام مناظر عکس بن کر سامنے آجا تے ہیں چاہے وہ تالاب پر تختی دھونے کا منظر یا مٹی کے گھر بنانے۔ انہیں منظری نگاری میں کمال مہارت حاصل ہے۔

یہ خود نو شت تقاضتی ، سماجی تبدیلیوں کےسا تھ ساتھ ذہنی و نفسیا تی الجھنوں کو سلجھا نے میں بھی کار آمد ثابت ہوتی ہے جس کے متعلق مصنفہ لکھتی ہیں “کپڑے بے حساب” کھلونے بے شمار ، مہنگے بر گر اور پیزے، طرح طرح کی آئس کریمز مگر بچے پھر بھی اکثر نا خوش، بور ہو رہے ہیں کی تکرار۔ بچوں میں نفسیا تی مسائل میں اضا فہ دیکھ کر حیرت ہو تی ہے۔ پہلے کم سہولتوں میں بچے خوش باش نظر آتے اور اب شاید چیزوں کی کثرت نےا ن کی قدرو قیمت گنوا دی ہے۔”

اس خود نو شت میں سیا سی شعور بھی ملتا ہے۔ نصرت چوں کہ خود سیا ست میں رہیں انھوں نے 1965ءکی جنگ بھی دیکھ لیکن در د ناک کہانی ان کےسا منے یہ تھی کہ چند دہا ئیوں قبل جو ملک دو لخت ہو کر ہجرت کا کرب سہہ چکا تھا اب یہ کیسے ممکن ہوا کہ تین سیا سی حریفوں کے دنگل میں (یحییٰ ، ذوالفقار علی بھٹو اور مجیب الرحمٰن) یہ ملک دو آتشہ ہوا۔ ان کے نزدیک یہ قوم مزید بٹوارہ کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی مگر قوم کو پھر یہ کرب سہنا پڑا ۔ نصرت کے ہاں وقت کا تصور بھی بخوبی ملتا ہے۔ جہاں آج گہماگہمی کے دور میں وقت تندو تیز لہروں کی مانند لیے چلتا ہے اس بارے میں مصنفہ لکھتی یں۔

“کاپی پر تاریخ لکھتے لکھتے تھک جا تے سال ختم ہونے میں نہ آتا اب تو جیسے وقت کو پر لگ گئے ہیں ” اسی طرح مہذب معاشرے میں شائستگی، وضع دار  اور پردہ داری محض اخلاقی فرائض نہیں بلکہ خوبصورتی کی عمدہ ترین مثالیں تھیں۔ نصرت لکھتی ہیں۔

“اپنے شہر میں کہیں جانا ہو تا تو تانگے پر پر دئے لگا ئے جاتے”تہذیبی قدروں کا پا مال ہو نا انسانوں کے لیے نفسیا تی الجھنوں کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ نصرت نے بھولی بسری یادوں کے نہاں خانوں وہ خزینے نکالے ہیں۔ جو ہم سب کی انفرادی و اجتماعی زندگی کی تسکین کا باعث بنتے ہیں۔ وہ خیبر پختون خواء کے شہروں، علا قوں کی تہذیب، رسوم و رواج کا ذکر بڑے طمطراق سے کر تی ہیں علا وہ ازیں وہ مختلف پکوانوں کا تذکرہ اس ڈھب سے کر تی ہیں کہ جن کی حلاوت اور شیر ینی قاری خود نو شت کے مطالعے سے محسوس کرتا ہے۔ نصرت نسیم کا یہ خاصہ ہے کہ جو واقعہ جیسا ہے اُسے ویسا ہی پیش کیا ہے۔ تشبیہات اور استعاروں کے خوبصورت استعمال نے تحریر کو ہر چند خوبصورت بنا دیا ہے۔ جبکہ شعروں کا بر محل استعمال تو قاری کو بہت محظوظ کر تا ہے۔

نصرت نسیم کا مہذبی ہو نا متشدد رویوں کا حاصل نہیں بلکہ اُن کے نزدیک خدا اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے اور انسان بھی اس کی مخلوق سے پیار کرے مصنفہ کو بے حد مبارک کہ ان کی یہ تصنیف اردو ادب میں اضافے کا باعث بنی اور امید کر تے ہیں کہ آپ ایسے ادب پارے تخلیق کر تی رہیں گی اور ادب کے قارئین آپ کے علم سے مستفید ہو تے رہیں گے۔

Leave your comment !

%d bloggers like this: