سردار محمد حلیم خان
سردار عبدالقیوم نیازی پٹھان نہیں ہیں۔کسی کے نیازی پکارنے پہ نیازی اپنے نام کے ساتھ ایسا چپکایا کہ یہ ان کے لءے ازاد کشمیر کا تاج بن گیا۔اپ درہ شیر خان کے دلی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ علاقہ مستقل بھارتی فاءرنگ کی زد میں رہتا ہے۔اس میں کوءی دو راءے نہی کہ ان کے نام کے ساتھ جڑے نیازی کے لاحقے نے وزریر اعظم پاکستان کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ پی ٹی اءی کی ٹیم میں ایک صاف ستھرے کردار کے مالک صوم و صلات کے پابند اور بیرسٹر صاحب اور گنڈا پور جیسی بیماری سے محفوظ ہیں۔سابق وزیر ہیں اور پارٹی کی مرکزی تنظیم کا حصہ ہیں۔
عوام میں زبردست پذیراءی رکھتے ہیں۔اور جب جب وہ ہارے بہت کم مارجن سے ہارے ۔سیاست کا اغاز ممبر ڈسٹرکٹ کونسل پونچھ کی حیثیت سے کیا اورپہلی بار بڑے بھاءی سابق وزیر مال سردار غلام مصطفی  کے میٹرک کی پابندی کی زد میں انے کی وجہ سے قانون ساز اسمبلی کے حلقہ عباسپور کے لءے میدان میں اترے اور کامیاب ٹھرے تھے۔نیازی سمجھ کے قرعہ فال نہی نکلا بلکہ نیازی سمجھ کے تحقیقات ہوءی اور اجلا کردار دیکھ کر قرعہ فال ان کے نام نکلا۔حقیقت یہ ہے کہ وجہ کچھ بھی بنے اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور اس کے لءے اسباب بھی مہیا کر دیتا ہے۔
یہ ہر لحاظ سے غنیمت ہیں ۔
ان کا اپنا خاندان منقسم ہے یہ مقبوضہ پونچھ کے علاقے درہ دلیاں سے ہجرت کر کے اءے ہیں ادھا خاندان ادھر ہے لہذا منقسم خاندانوں کے کرب کو سمجھتے ہیں ۔ان سے توقع نہی کی جا سکتی کہ ادھر ہم ادھر تم کے کسی فارمولے پر راضی ہو جاءیں گے۔
ان کے انتخاب سے یہ پروپیگنڈہ  غلط ثابت ہو گیا کہ تقسیم کشمیر کے کسی ایجنڈے پر حمایت کے لءے کسی یس مین کی ضرورت ہے۔ساتھ ہی یہ بھی کہ ازاد کشمیر کی وزارت عظمی کی بولی لگی ہوءی ہے۔اگر سیاسی روایات کو دیکھا جاءے تو الیکشن جیتنے والی جماعت کے سربراہ کو وزیر اعظم بننا چاہیءے لیکن بیرسٹر صاحب ہر وقت ام الخباءث کے زیر اثر رہتے ہیں  حیرت ہے کہ دیندار لوگوں کی طرف سے بھی ان کی اس بیماری پر اعتراض سامنے نہی ایا۔اگر قانون پر درست عمل کیا جاءے تو بیرسٹر اور گنڈا پور جیسے افراد تو ممبر اسمبلی بننے کے بھی اہل نہیں ہیں۔بہر حال سردار عبدالقیوم نیازی کا انتخاب دستیاب حالات میں عمران خان کا بہترین فیصلہ ہے۔ مفادات کے بندے اب نیازی صاحب کے ساتھ تعلقات جوڑنے کے لءے طریقے ڈھونڈ رہے ہوں گے ان کو اطلاع ہے کہ نءے وزیراعظم ازاد کشمیر دھمنی راولا کوٹ سے تعلق رکھنے والے سردار امین کے کزن ہیں۔سردار امین کے والد نمبردار سردار سوار خان مرحوم بھی درہ دلیاں سے ہجرت کر کے اءے تھے اور قبیلے کے سربراہ وہی تھے۔
پونچھ کے ایک سپوت کے غیر متوقع طور پر وزارت عظمی پر فاءز ہو جانے سے تحریک ازادی کے رہنما سردار مختار خان مرحوم کی بات یاد اجاتی ہے کہ 47 میں اہل پونچھ کی شہادتوں اور قربانیوں کا یہ فیض ہے کہ بظایر جب دور دور تک کوءی امکانات نہیں ہوتے ازاد خطے کا اقتدار پونچھ میں ا جاتا ہے۔اللہ سردار عبدالقیوم نیازی کو شہدا کی سر زمین کی لاج رکھنے اور بیس کیمپ کو حقیقی بیس کیمپ بنانے کی توفیق عطا فرماءے امین

Leave your comment !