کہانی کار اور تصاویر :  محمد شفیق الرحمن

یہ میرے گاؤں کٹن وادی نیلم آزاد کشمیر کا گرلز ہائی سکول اور اس میں پڑھنے والی طالبات ہیں۔ جن کی تعلیم ایک مرتبہ پھر متاثر ہونے کے اسباب پیدا ہو گئےہیں۔ کیونکہ نالہ جاگراں میں گزشتہ روز آنے والی طغیانی نے سکول کو ایک بڑی آبادی سے ملانے والے پل کو ختم کر دیا ہے اور اب نالے کے اس پار سکول تک جانے کیلئے کم از کم 2 سے 3 کلومیٹرکا فاصلہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے اور کوئی بھی سیفٹی نہیں ہے۔ آج طالبات  نے سکول کے سامنے نالے کے کنارے چلچلاتی دھوب میں اپنی کلاسیں لگائیں۔ کیا عوامی نمائندے اس کا مستقل حل نہیں نکال سکتے۔ قوم کی بیٹیاں اس طرح تپتی دھوپ میں نالے کے کنارے پتھروں پر بیٹھ کر حصول علم کیلئے کوشاں ہیں۔ اپنےوطن کی بیٹیوں کو دریاکنارے دیکھ کر آنکھیں نم ہو گئی ہیں کاش حکمران قوم کی ان بیٹیوں کےدکھ اور مشکل کو سمجھ سکیں۔

Leave your comment !