پروفیسر نذیر انجم

تصاویر : فاروق اسیر 

عظیم استاد اور شاعر پروفیسر نذیر انجم یکم جنوری 1946 کو اکال گڑھ(موجودہ اسلام گڑھ) میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم اکال گڑھ سے حاصل کی۔ میٹرک، گریجوایشن اور ماسٹرز بالترتیب گورنمنٹ ہائی سکول میرپور، گورنمنٹ کالج میرپور اور جامعہ پنجاب سے کیا۔آزاد کشمیر کے مختلف کالجز میں درس و تدریس کے فرائض ادا کیے بعد ازاں آزاد کشمیر یونیورسٹی میں بھی تدریس کی۔تدریسی میدان میں آپ کا نام سند کی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے یکم اپریل دو ہزار چودہ کو وفات پائی –



پروفیسر نذیر انجم

آپ کا اہم حوالہ بحیثیت شاعر ہے۔آپ کی شاعری میں جذبات و احساسات کی حدت، الفاظ کی روانی اور وطن کا درد ملتا ہے۔آپ نے حقیقی معنوں میں کشمیر کی نمائندگی کی۔تحریک آزادئ کشمیر میں آپ کے اشعار ضرب المثل بن چکے ہیں اور نعروں کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں اسی بنا پر آپ کو شاعر کشمیر بھی کہا جاتا ہے۔آپ نے خود بھی تحریک آزادی کشمیر میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔آپ قنوطیت پسند نہیں تھے بلکہ اس بات پر کامل یقین رکھتے تھے کہ کشمیر میں جلد آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔

پروفیسر نذیر انجم کی شاعری

پروفیسر نذیر انجم کی شاعری کے پانچ مجموعے شائع ہو چکے ہیں جو بالترتیب “پلک پلک زنجیر”  “نفس نفس تعزیر” “کرن کرن تصویر” “دھواں دھواں تحریر” اور “لہو لہوکشمیر” سے معنون ہیں جب کہ کلیات بعنوان “قرض سخن” بھی منصہ شہود پر آ چکا  ہے۔



پروفیسر نذیر انجم کلیات “ قرض سخن “

پروفیسر نذیر انجم کی شاعری


جو  صداقت  کی  رہِ  سخت  کے  رہگیر ہوئے
ہفت  گردوں  انہیں  لوگوں  کے قدم گیر ہوئے

کہیں  بے تیغ و سناں پرچمِ  نصرت نہ  کھلا
بربط و نے  سے  کبھی  قلعے  نہ  تسخیر ہوئے

موڑ  دیتے  تھے  اشارے  سے جو حالات کا رخ
خود   وہی  گردشِ   حالات  کے  نخچیر  ہوئے

جن  کی  تمہید   اُٹھائی   تری  خاموشی   نے
وہی     کلماتِ   نظر   حاصلِ   تقریر     ہوئے

گل ہوئے کب کسی طوفان سے خورشید و قمر
کسی  فرمان  سے  جذبے   کہاں   زنجیر   ہوئے

لوحِ ہر دل پہ  ہیں  نقش اب  وہ  نوشتے انجم
کنجِ زنداں  میں  کبھی ہم سے جو تحریر ہوئے