نا زیہ آصف
(پس تم اپنے رب کی کو ن کو نسی نعمت کو جھٹلاؤ گے)
اس فلسفے کی عملی تصو یر آپ کو کشمیرمیں دیکھنے کو ملتی ہے۔ جہا ں پتھروں سے سر پٹختے شوریلے دریا،آسما ن کی بلندیوں سے گرتی آبشاریں، دودھیا پا نی جھا گ اڑاتی ند یا ں جن کے مآخذ پر اسرار ہیں۔ نیلگوں چشمے، جن کے اوپر سیب، خوبانی، نا شپاتی اور لا ل ہو تی   چیر ی اور اخروٹ کے پھل سے لد ی ہو ئی شا خیں جھکی ہو ئی ہیں۔ تروتازہ اور صاف ہوا کی کثیر مقدار جب آپ اپنے اندر انڈیل لیتے ہیں تو آپ ایسے محسوس کر نے لگتے ہیں کہ گو یا آپ اڑنے لگے ہو ں۔
وادی کشمیر، صحیح معنوں میں جنت کی تصو یر ہے۔ یہ جنت تین وا دیوں اور تین اضلا ع پر مشتمل ہے۔ وادی نیلم، جہلم، اور وادی پونچھ۔
ایک مقولہ ہے کہ”کا میاب اور صحت مند زندگی کے لیے فطرت سے جڑے رہیے۔“
ہم نے اسی مقولے پر عمل کیا اور پچھلے کئی سالوں کی طرح گزشتہ سال بھی ہم نے فطرت سے ہم آغوش ہو نے کاپروگرام بنا یا تو قرعہ فال  ”وادی نیلم“ کے نام نکلا۔

نا زیہ آصف


ہم لو گ گرمی اور لو کے ستائے ہو ئے، ما ہ جو ن کے دوسر ے ہفتے صبح پانچ بجے گھر سے نکلے۔ہمارا قافلہ چھ لو گو ں پر مشتمل تھا۔ جن میں ہم میاں بیوی کے ساتھ ہما رے چاروں بچے شامل تھے اور کم از کم اس دن گرمی اور لو کے تھپیڑوں سے نبردآزما نہیں ہونا چاہتے تھے۔ ہم جب صبح نکلے تو تقریباً پورا شہر سو رہا تھا۔ ٹریفک سے عاری سڑکوں پر خاکروب جھاڑو لگاتے نظر آئے۔ سورج ہمارے ساتھ ساتھ رہا، گرمی بھی ٹھیک اسی رفتار سے بڑھتی رہی جس رفتار سے ہم آگے بڑھتے رہے۔ ہم نے اپنا پڑاؤ مر ی کی خوبصورت اور شاندار چڑھائیوں کے بعد  تنگ ہو تی ہو ئی اترائیوں سے نکل کر ”کو ہالہ پل“پر کیا۔ جہا ں پر ہوا میں وہ حدت نہ تھی جو ہم گزشتہ ایک ڈیڑھ ماہ سے برداشت کر تے آرہے تھے بلکہ ہوا میں ہلکی خنکی تھی۔ مختصر قیام کے بعد ہم وہا ں سے روانہ ہو ئے تو تھوڑی دیر کے بعد ہم ایک خوبصورت اور تاریخی شہر مظفر آباد پہنچ گئے۔ مظفر آباد پہاڑوں اور دو دریاؤں کے سنگم پر واقع ایک خوبصورت شہر ہے۔ شہر میں داخل ہو نے سے پہلے آپ دریا ئے جہلم کے پل پر سے گزرتے ہیں۔ جو یہا ں پر شرقاً غرباً بہتا ہے تو اس کے کنارے ایک خوبصورت سٹرک جاتی ہے جس پر آکر آپ سفر کریں گے تو آپ وادی لیپا سے گزرتے ہو ئے سری نگر پہنچ سکتے ہیں۔ سری نگر، مظفر آباد شہر کے متوازی ہے۔ اور یہا ں پر یہی دو نوں دریایعنی نیلم اور جہلم کا سنگم ہو تا ہے۔ اسی جگہ کا نام”دو میل“ ہے۔ یہا ں سے مظفر آباد شہر کا آغاز ہو تا ہے اور دو میل کے مقام پر جہا ں جہلم کا سبز اور نیلم کا نیلا پا نی ملتا ہے۔ تو دونو ں رنگوں کے مد غم ہونے کا یہ حسن شہر کو خا ص بنا تا ہے۔ منظر ہمیں اپنی طرف کھینچتا تھا۔ مگر ہم شام سے پہلے کسی ٹھنڈے مقام پر پہنچنا چا ہتے تھے۔ ہم دریا ئے نیلم کے کنا رے کنا رے چلتے جا رہے تھے نیلم، مظفر آباد شہر کے بیچوں بیچ بہتا ہے۔ مظفر آباد سطح سمندر سے 2418فٹ کی بلند ی پر واقع ہے۔ شہر کے اندر واقع قلعے کی مضبوط اور سرخ دیواریں تاریخی ہو نے کی گوا ہی دے رہی تھیں۔مظفر آباد سے نکلیں تو بہت بلند درختوں اور سبزے سے عادی پہا ڑ گرمی کی شدت کو تیز کر تے تھے۔ دو بج چکے تھے اور گرمی بہت تھی۔ دریا کا پانی بھی بغیر شور مچائے بہتا تھا۔ جلد ہی اٹھمقام پہنچے یہا ں پہنچنے پر آپ کو تھوڑا سبزے کا احساس ہو تا ہے۔ اٹھمقام وادی نیلم کا صدر مقام ہے یو ں کہہ لیں کہ وا دی کی خوبصورتی کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے۔ ہما ری شب بسری کا سا مان کیرن میں تھا۔ کیرن پہنچ کر یو ں سمجھ لیجیے کہ جنت کا دروازہ آپ کے لیے کھول دیا جا تا ہے۔ یہا ں کیرن میں ہمارا قیام سرکاری ریسٹ ہاؤس میں تھا۔ سامان وغیر ہ رکھ کر تا زہ دم ہو کر با ہر نکلے تو بے اختیار جو منہ سے نکلا وہ ”سبحان اللہ“ کے علاوہ کچھ نہ ہو سکتا تھا۔ پھر یہا ں سے شروع ہونے والی خوبصورتی کا اختتام کہیں نہ ہوا۔ کمر ے کے سامنے صحن میں چیر ی کے درخت تھے۔ جن کے نیچے لا ل سرخ چیریا ں فرش کی صورت میں بچھی جا تی تھیں۔ان درختوں کے مشرق میں دریا ئے نیلم اپنی مستی میں رواں دواں تھا۔ یہا ں نیلم کا پا ٹ کا فی کم رہ جا تا ہے کہ ہما ری طرف کی انتظا میہ نے کناروں کو پکا کر کے وہا ں بیٹھنے کی  منا سب جگہ بنا دی ہو ئی ہے۔ اخروٹ، سیب، ناشپاتی کے پھلو ں سے لد ی ہو ئی شا خیں دریا کے پا نی کو چھو تی ہو ئی جھو متی تھیں اور انہیں دیکھ کر ہما را دل مچلتا تھا دریا کے دوسرے کنا رے مقبو ضہ کشمیر کی عوام مقہو ر تھی۔ ایک چیز جو ہمیں حیران کر رہی تھی وہ یہ کہ دریا کے دوسر ے کنارے چند گھر تو تھے مگر بند ہ بشر نام کا نہ تھا۔


ایک عمارت مسجد کی بھی معلوم ہو تی تھی۔ جس کا رنگ بھی وادی کے رنگو ں سے ہم آہنگ تھا۔ یعنی گہرا سبز ایک کمرے کی مختصر سی چھت جس کے چاروں کو نو ں پر پتلے پتلے مینار تھے۔ درمیا ن میں گنبد نما چھت تھی جو لگتا تھا مسلسل نمی اور پا نیو کی گیلاوٹ سے سبز ہو چکی تھی۔ آس پاس مکئی کی فصل تھی مگر فصل کا ٹنے والا ندارد! پو چھنے پر پتہ چلا کہ یہ کبھی آبادی تھی۔ مگر اب یہ سارے گھر انڈین آرمی نے خالی کروالیے ہو ئے ہیں اور خود استعمال کرتی ہے۔
وادی میں اب شام ڈھل رہی تھی۔ بچوں کی چال بتا رہی تھی کہ وہ اب گھروں کو لو ٹ رہے ہیں۔مرد حضرات بڑی بڑی چادروں کی بکل مارے جلدی سے کام بنٹا تے نظر آئے۔ کشمیر ی عورتوں نے گوبر کے ریلے اور چیڑ کی لکڑی کو جلا نا شروع کر دیا تھا۔ جسکی بو ہمیں بتا رہی تھی کہ کھانے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔مگر اس ڈھلتی شام میں چائے کے جو دو  مگ ہمیں پیش کیے گئے وہ ہما رے لیے یا دگار تھے۔ پیچھے دریا کا کنارہ سامنے پہاڑوں کو چو ٹیا ں جو بادلوں میں گم ہو تی تھیں۔ بادل روئی کے گا لو ں کی طرح ادھر ادھر آوارہ گردی کر رہے تھے۔ ایک مکمل  خاموشی میں دریا کا پا نی کسی کلاسیکل مو سیقی سے کم نہ تھا۔
بچے مسلسل چیر یا ں کھا نے اور جھو لا جھو لنے میں مصروف رہے ہوا۔ میں خنکی کا فی بڑھ چکی تھی اور شام پہا ڑوں سے اترتے ہوئے وادی میں پھیل گئی تھی۔ سردی اپنا آپ محسوس کروانے لگ گئی تھی مگر ہما رے اس شوق آوارگی کے سامنے سب کچھ ہیچ تھا۔ رات دیر تک دریاکنارے بیٹھے رہنے اور دن بھر کی ایک طویل مسافت کے بعد جو سوئے تو صبح مشکل سے آنکھ کھلی۔ کیرن کی وہ صبح ایک لا زوال صبح تھی۔ چمکدار دھو پ میں وادی چمکتی تھی تو یہ چمک ہما ری آنکھو ں کو خیرہ کر تی تھی۔ اس لیے کہ وہا ں مٹی اور دھواں نام کو نہ تھا۔ ایک مکمل پا ک صاف و شفاف صبح تھی۔              
مگر ہمیں ابھی آگے جانا تھا بہت آگے ہمیں اس وادی کے اندر اترنا تھا کہ یہ ہمیں بلا رہی تھی۔ ہما را اگلا پڑاؤ شاردہ تھا۔ صبح دس بجے ہمارا یہ مختصر سا قافلہ کیرن سے روانہ ہوا۔ یہا ں سے شاردہ پچیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ پہا ڑوں میں فا صلے سمٹتے نہیں بلکہ پھیل جاتے ہیں۔ یہ پچیس کلو میٹر پچاس کلو میٹر لگتے ہیں۔ مگر راستے بھر میں آسما ن کی وسعتوں سے ناز ل ہو نے والی آبشاروں اور جھر نو ں نے راستے کی مشکلا ت کے احساس کو محسوس نہ ہو نے دیا۔ سڑک لینڈ سلائیڈنگ کے باعث جگہ جگہ سے خراب تھی۔ پورا راستہ آپ کبھی کسی آبشار کے اندر سے تو کبھی لکڑی یا لو ہے کے بنے پلو ں سے جب گزرتے ہیں۔ ان پلو ں کا شور آپ کے دل میں مو جود خوف کو اور بڑھا تا ہے۔ لوگ کئی جگہو ں پر بر تن لیے آپ کو پانی بھر تے ہو ئے نظر آئیں گے۔ ایک جگہ ہم نے گیلن بھر نا چا ہی تو پتہ چلا یہ گلیشر کا پا نی ہے. لو گو ں کو گلیشئیر سے آتے پا نی یا چشمے کے پانی میں فرق کر نا بخوبی آتا ہے ورنہ پا نی دو نو ں صا ف دکھتے ہیں۔ گلیشر کا پانی آپ استعمال کر سکتے ہیں مگر  پینے کے لائق نہیں ہوتا۔ کیرن سے تقریباً20کلو میٹر کے فاصلے پر بہت شو خ رنگوں کی جیپیں نظر آئیں تو پتہ چلا کہ یہا ں سے راستہ اوپر ”رتی گلی“جھیل پر جا تا ہے ایک نظر رستہ دیکھا تو لگا سیدھا آسما نو ں پر ہی لے جائیگا۔
ہم خدا خدا کر کے تقریباً ڈیڑھ بجے شاردہ پہنچے شاردہ ایک گاؤں کا نام ہے۔ جو بہت خوبصورت تفریحی اور تاریخی پس منظر رکھتا

ہے۔

یہا ں ایک ہندو دیوی جس کانام شاردہ تھا اس کا مندر بھی ہے اور غا لباً اسی کے نام پر گاؤں کا نام بھی شاردہ پڑگیا ہے۔ جو ہندو کے لیے انتہائی مقد س مقام ہے۔ ہندو کے پاس شاردہ یو نیورسٹی کے آثار بھی پا ئے جاتے ہیں۔ جو اپنے زمانے میں پو رے ہندوستان میں بہت اہمیت کی حا مل تھی۔ اسے کنشک اول نے 1427؁ء میں تعمیر کروا یا تھا۔ اس یو نیو رسٹی میں ایک تا لاب کے آثار بھی تھے جس کا پا نی یہا ں سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ایک چشمے سے لا یا جا تا تھا۔ جس میں سلفر کی کا فی مقدار پا ئی جا تی تھی۔ اس لیے وہ گرم بھی ہو تاتھا اور جلد ی امراض کے لیے شفا سمجھا جا تا۔ اس وقت یہ سب دیو ی کی کرامت خیال کیا جا تا تھا۔ مگر اب صرف نشا نیا ں تھیں یا پھر سینہ بہ سینہ چلنے وا لی دیو ملائی داستانیں تھیں۔ جن میں سے ایک یہ بھی تھی کہ یہا ں پہا ڑوں کے دامن میں لکڑی کا ایک بہت بڑا بت تھا جس کے پاؤں کو چھو نے سے پسینے چھوٹ جاتے تھے۔(واللہ العلم)
شاردہ تفریحی لحاظ سے بہت خوبصورت ہے۔ آپ کی تفریح کے لیے جھیل میں تیر تی کشتیا ں مو جود ہیں مگر حسب معمول ریسکیو کی کوئی سہولت نہ تھی۔ مختصر قیام و طعام کے بعد ہم جلد یہا ں سے روانہ ہو گئے کیونکہ ہما ری اگلی منزل کیل تھا۔
اف تو بہ!کیل تک کا سفر ایک امتحا ن سے کم نہ تھا بلکہ اگر یو ں کہا جا ئے تو بہت منا سب ہوگا۔
        ”اگر کشمیر جنت ہے تو راستے واقعی پل صراط ہیں جوان سے گزر سکے وہی سکندر ہو گا“
سنگل، کچی،پکی روڈ، جگہ جگہ لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ، جا بجا پتھر، برف، اور پانی کا اتحاد سب نے مل کے راستے کو مشکل ترین بنا دیا تھا۔ سارے راستے دریائے نیلم جس کو کشن گنگا بھی کہا جا تا تھا۔ جو مظفر آباد سے آپ کا ہمسفر ہوا تھا وہ مستقل طور پر آپکے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ جہا ں کہیں وادی کا پھیلاؤ ذیادہ ہو تا ہے تو دریا بھی اسی حساب سے پھیلتا اور خا موشی سے بہنے لگتا ہے۔مگر جو نہی وا دی ذراسی تنگ ہو تی ہے تو دریا ایک بڑے ند ی نالے کی صورت اختیار کر لیتا ہے مگر اس کی چنگھاڑآپ کو خوفزدہ کر تی ہے۔ جہاں آپ ہزار فٹ کی بلندی پر سات آٹھ فٹ چوڑی صرف نام کی سڑک پر ایک سلور رنگ کی ہنڈا سٹی میں رینگتے جا تے ہیں۔ ایک طرف دریا کی چنگھاڑ تودوسری طرف مسلسل اوپر سے لڑھکتے پتھر، بر ف ٹھنڈی ہوائیں اور ہلکی بارش سے ہونے والی پھسلن اس سفر کو یادرگار بنا تی ہیں۔ دریا پا ر دوسرے کنارے سے اگر آپ دیکھیں تو لگے گا کہ ایک مو ٹا مکڑا، پہاڑ کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اور آہستہ آہستہ آگے بڑھتا جا تا ہے۔
ہمیں اس پل صراط پر چلتے ہو ئے کا فی دیر ہو چکی تھی مگر منزل ابھی آنکھو ں سے کافی دور تھی۔ مگر جو ں جو ں آگے بڑھتے۔ اللہ پا ک کی قدرت کھل کر ہمارے سامنے آرہی تھی۔ اور ہم سب”سبحا ن اللہ“ کا ورد کرتے تھے۔ شاردا اور کیل تقریباً وسط میں جہا ں کی گلیشیر کا پانی سڑک پہ ایک چھو ٹی آبشار کی طرح پڑتا تھا اور سڑک پہلے ہی خستہ حا ل تھی اب سڑک کی حالت اور پانی کی گہرائی کا اندازہ کر نا خا صا مشکل تھا۔ پا نی کی تیزی تو آنکھو ں کے سامنے تھی۔اس میں گاڑی گزرنا اگر ناممکن نہیں تو بچوں کو ساتھ انتہا ئی مشکل ضرورتھا۔ گا ڑی ایک طرف کی بچوں نے فوٹو گرافی کی۔ پھر پیچھے سے آنیوالی جیپ نے یہ مر حلہ سر کر نا شروع کیا تو اللہ کا نام لے کرہم نے بھی اس کے پیچھے اپنی گا ڑی اس گلیشیر کے مقدس پانی میں ڈال دی۔ آبشار کے ان پانیو ں نے ہما ری گا ڑی کو اچھی طرح دھو دیا اور سارے راستے اور شہر کی آلائشوں سے پاک کر دیا تھا۔

ایک جگہ جب سورج ان ہیبتناک پہا ڑوں کے پیچھے چھپنے جا رہا تھا تو فو جی بھائیوں نے گا ڑی رو ک لی۔ سلا م دعا ہو ئی تو پتہ چلا کہ اب آپ انڈین آرمی کی گنوں کے نشانے پر ہیں دریا کے دوسری طرف درختوں میں بھارتی فوج کے ٹھکا نے تھے۔ کسی لمحے کوئی بھی اندھی گولی یا گو لہ آپکا مقدر ہو سکتا تھا۔ وہا ں اپنے فوجی بھائیوں کی مو جودگی کا فی تسلی و تشفی کا باعث تھی۔
ایک بہت انو کھی اور خوبصورت چیز جو ہم نے کم از کم زندگی میں پہلی بار دیکھی تھی۔ وہ قوس قزح نما رنگ و نور کا ھالہ تھا۔ دائرہ نما اور پورے سات رنگ ہما رے سروں کے عین اوپر،آسمان پر ظا ہر ہوتا تھا۔ ایک گول قوس قزح ہم نے اس سے پہلے نہیں دیکھی تھی اور شاید دوبارہ بھی نہ دیکھ پا ئیں کہ ایسے لمحے قسمت سے ملتے ہیں۔
ان کٹھن پر پیچ اور پر اسرار راستوں پر محو سفر تھے کہ ایک اور بلند یو ں سے بہتے آئے ہو ئے جھرنے کے پاس ایک بو ڑھی اماں نظرآئیں۔میرا خیال ہے پو رے راستے میں یہ واحد خاتون تھیں جو ہمیں اس ویرانے میں ملیں اور انہیں دیکھ کر دل خوش ہوا۔ وہ کچھ جڑی بوٹیاں اکھٹی کر رہی تھیں جنہیں انہوں نے ساگ کا نام دیا۔ ہم حیران تھے کہ وہ یہا ں کہا ں سے آگئیں کیونکہ کم از کم پچھلے دس پندرہ کلو میٹر سے کوئی گاؤں یا آبادی نظر نہ آئی تھی۔ نجا نے کب اورکہا ں سے وہ چلی تھیں اور وہ پیدل کتنا سفر طے کر چکی تھیں؟ آگے سٹر ک بہت اونچائی پر تھی اور دریا پہلے کی نسبت بہت نیچے چلا گیا تھا کہ یکایک فضا فائرنگ کی آواز سے گونج اُٹھی۔جب ہم وہا ں پر ایک آبشار کے ٹھنڈے میٹھے پانیوں سے تروتازہ ہو رہے تھے۔ ایک خوف تو پہلے ہی دل میں تھا جو اب دو گنا بلکہ چوگنا ہو گیا۔ ادھر ادھر نگا ہ دوڑائی آس پا س کو ئی جائے پنا ہ نہ تھی۔ ہم لو گ بالکل بارڈر لائن کے سامنے، سڑک پر ویرانی، اوپر سے بچوں کا ساتھ سمجھ نہ آرہی تھی کہ کیا کر یں۔ اچانک ایک پاس کچا  پتھریلا پگڈنڈی نما راستہ جو اوپر کہیں جا تا تھاوہا ں سے ایک ملکوتی حسن والے با با جی اپنی لا ٹھی ٹیکتے ہو ئے نیچے آتے نظر آئے۔ہم لو گ وہیں بیٹھ چکے تھے۔
 با با جی سمجھ گئے تو آواز دینے لگے۔ڈریں مت!دوسر ی طرف نیچے دریا میں دیکھیں اپنی پاکستانی فوج ہے وہ مشقیں کر رہی ہیں۔ یہ سن کر کچھ حوصلہ ہوا سڑک پار کر کے دیکھا تو نیچے دریا کا پا ٹ کا فی چوڑا تھا اور دریا کے درمیا ن میں ایک جزیرہ نما ٹیلہ تھا۔ جس کے اوپر کا فی مقدار میں درخت بھی تھے ان کے نیچے پا کستانی فوج تربیتی مشقوں میں مصروف تھی اور یہ آواز ادھر سے آرہی تھی۔ یہ سب جان کر جان میں جان آئی۔ دراصل یہا ں پر بلندی اتنی زیادہ تھی اور سڑک انتہائی تنگ اور ٹو ٹی پھو ٹی کہ دوسرے کنارے جانا اور نیچے جھا نکنا کچھ اتنا آسان نہ تھا۔


ہم یہا ں بھول چکے تھے کہ ہم ما ہ جون میں جی رہے ہیں کیونکہ اب جو سرد ہوائیں جسم کو چھو تی تھیں تو ایک سر دسی لہر جسم میں دوڑتی تھی۔ ہمیں ایک گرم شال یا جرسی کی ضرورت محسوس ہو نے لگی تھی۔ شام کے پانچ بج چکے تھے اور ہم ابھی تک اس پل پر رواں دواں تھے۔ ہمارے آس پاس لال سرخ چیریا ں من کو لبھا تی تھیں مگر ہم جلد از جلد ”کیل“ کے ریسٹ ہاؤس میں پہنچنا چاہتے تھے۔ آبادی کے آثار نظر آنا شروع ہو گئے تھے۔ پہا ڑو ں کے ساتھ پرندوں کے گھونسلوں کی طرح لٹکے ہو ئے گھروں میں روشنیاں جگمگانے لگی تھیں۔پہاڑیو ں کی چو ٹیوں کو بادلوں نے ڈھانپ لیا تھا اور اب ہم کیل نامی قصبے میں داخل ہو تے تھے.ہلکی ہلکی مگر کا فی سرد بو ندا باند ی شروع ہو گئی۔ سرکاری ریسٹ ہاؤس میں قیام پہلے سے طے شدہ تھا۔ پہنچے، تو ایک باریش بزرگ ہما رے منتظر تھے ہر سرکاری ریسٹ ہاؤس کا عملہ جن کی میں خا ص طور پر یہاں تعریف کرنا چاہوں گی بہت خوش اخلاق، ملنسار،پا یا  نا گواری نام کو نہیں۔ سامان وغیر ہ رکھ کر فرش ہو کر باہر نکلے تو با با جی نے آواز دی کہ بالکوانی میں چا ئے لگا دی گئی ہے کھا نا ابھی بن رہا تھا۔ بالکو نی میں پہنچے تو گو یا ہم کسی اور دنیا میں پہنچ گئے تھے۔ جہا ں صرف جنگل اور ان میں سر سراتی ہوئی ٹھنڈی ٹھا ر ہوائیں تھیں۔ جن کے سہارے بارش کی ننھی ننھی مگر برفیلی بو ندیں ہم تک پہنچیں اور ہمیں گیلا کر تی تھیں۔ہم  لو گ گو یا گرمی نام سے بھی واقفیت نہیں رکھتے تھے۔ اب وادی میں اذان کی آواز گونجنے لگی تھی۔ اور یہ شام ہما ری زندگی کی چند ایسی ہی خوبصورت شاموں میں ایک اچھا خوشگوار اضافہ تھی۔ جس پر ہم اس ذات کے حضور سر بسجود ہو ئے تھے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچایا تھا۔ صبح بیدار ہو ئے تو چمکدار دھو پ میں وادی ایک خوبصورت مو تی کی طرح چمک رہی تھی۔ایسے لگا ساری آلودگیا ں ختم ہو گئی ہو ں۔ سامنے خدا کی قدرت کچھ اس طرح سے عیاں ہو رہی تھی کہ یہ کتنا پرشکوہ نظارہ تھا۔ آسمان اور ان برف پوش چوٹیوں کے درمیان بس ایک رخنہ نما خلا ساتھا ورنہ یہ چو ٹیاں سیدھا آسمان کو چھو رہی تھیں۔ ان کی ڈھلوانوں پر سر سبز جنگل تھے۔ ان چو ٹیوں کی بر فوں سے رس کر آنے وا لا پانی اس خوبصورت جنگل کو سیراب کرتے  ہو ئے چشموں جھرنوں کی صورت میں دریا میں شامل ہو رہا تھا۔ دریا کنا رے لو گو ں نے خو بصورت سرخ چھتو ں وا لے پیا رے پیا رے گھر بنا ئے ہوئے تھے۔ ریسٹ ہاؤس کے ٹیرس پر نکلے تو ”اللہ“ کا لفظ ہی بس لبو ں سے ادا ہوسکا۔ آگے جو منطر تھا بس دیکھا جا سکتا تھا بیا ن نہیں کیا جا سکتا تھا۔ دریا پا ر فلک بوس بر فیلی چو ٹیا ں اور ان چو ٹیو ں کو چھو تا ہوا جنگل اور سب سے مزے کی بات یہ اس جنگل کے اندر ابھی ایک گا ؤں اور بھی تھا۔پتہ چلا کہ وہی گا ؤں صبح ہما ری منزل بھی تھا۔ جو میر ے لیے تب تک ناممکن رہا جب تک اگلے دن ہم نے اسے اپنی آنکھو ں سے دیکھ نہ لیا اس گا ؤں کا نام”کیل اڑنگ“ تھا اور وہ واقعی وہا ں مو جود تھا۔ ہم نے صبح دس بجے پانی، بسکٹس، چپس، کو لڈ ڈرنکس اور چند ادویات پر مشتمل اپنا بیگ اٹھا یا اور کیل اڑنگ کے لیے دریا کی طرف چل دیے۔سارا راستہ ڈھلوان تھی کئی لو گو ں کے گھروں کی چھتیں ہما رے راستہ کے برا بر تھیں اور صحن اور کمروں میں بیٹھی خواتین نظر آرہی تھیں۔ دریا کے پل کے پا س سے پھر چڑھائی تھی۔ جہا ں آگے چیئر لفٹ کا اسٹیشن تھا۔ جہا ں ایک بو ڑھا آدمی گرم لو ئی کی بکل ما رے بیٹھا تھا۔ پتہ چلا کہ اسکا کرایہ مقا می افراد کے لیے 60اور سیا حوں کے لیے 100روپیہ تھا۔

ایک بار پھر ہما را شوق آوارگی ہمیں اس خطرناک قسم کی مہم پر لے آیا تھا۔ کیونکہ ہم نے ان علاقوں میں اس قسم کی چیئر لفٹوں کی کئی خوفناک کہا نیا ں پہلے ہی سن رکھی تھیں۔ بہر حال سب لو گ سوار ہو ئے تو اس نے ہمیں ڈیڑھ منٹ میں دوسری طرف پہنچا دیا لفٹ میں بیٹھنے کا یہ تجر بہ بھی شا ندار رہا۔نیچے نظر گئی پہا ڑو ں سے بہہ کر آنے وا لی پا نی کی لکیر نما نا لیا ں، پھر پتھر یلے کنا رے اور آگے نیلا پا نی۔ ہمیں دوسری طرف ایک جنگل میں اتار ا گیا تو گو یا۔۔۔۔ ایک اور دریا کا سامنا تھا۔منیرمجھ کو۔۔۔  کہ مصداق تقریباً ڈیڑھ کلو میٹر کی سید ھی چڑھا ئی، جنگل کے بیچوں بیچ راستہ تھا۔ رات کی بارش سے فضا میں ایک گھٹن،خا مو شی میں پر اسرار پرندوں کی اکا دکا آوازیں ما حول کو بھی خا صا پر اسرار بنا رہی تھیں۔میرے بیٹے نے پہلا کام یہ کیا کہ تھیلے میں مو جود چاقو کی مددسے سب کو ایک ایک ہا ئکنگ سٹک بنا کر دی۔کئی جگہو ں پر چڑھا ئی ایسی تھی کہ پاؤں کے ساتھ ساتھ ہمیں دو نو ں ہا تھو ں کا استعمال بھی کر نا پڑا۔میں مڑ مڑکر پیچے دیکھ رہی تھی کہ شا ید کو ئی بند ہ بشر نظر آجا ئے۔ مگر ایسا کچھ نہ ہوا ایک یہ خوف کہ اگر راستہ بھول گئے تو اس گھٹن میں سانس بہت جلد پھو لنے لگ گئی تھی۔ ہم نے اپنی لا تعداد ایسی جگہوں سے یہ سیکھا تھا کہ ایسے علاقوں میں جا نا ہو توصبح جلد ی نکلو  تا کہ فطرت سے تنہا ئی اور  خا موشی میں ہم آغوش ہو سکو۔ مگر لگتا تھا کہ آج ہم نے کچھ زیا دہ ہی جلد ی کر لی تھی۔ میں بچوں کو آوازیں دے رہی تھی کہ میر ے ساتھ ساتھ چلو آگے مت بھا گو۔
مگر وہ جنگل میں بھر پور طریقے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ اپنے جنون کے ہا تھو ں مجبور تھے میر ی کو ن سنتا تھا۔ آدھے پو نے گھنٹے کی مشقت کے بعد جب سورج کی کرن نظر آئی تو جان میں جان آئی۔ مگر جب اس چڑھائی کے بعد منظر کھلا تو یقین مانیے کہ ہم آنکھ جھپکنا بھو ل گئے تھے۔ بلکہ یو ں کہنا بہتر ہو گا کہ ایک لمحے کے لیے خود کو بھی بھول گئے تھے۔ ہما رے سامنے کسی اور ہی دنیا کا در کھلا تھا۔ ایک وسیع پیالہ نما میدان جس کے چاروں طرف فلک بو س پہاڑ، جنکی چو ٹیا ں، دھند اور بادلو ں میں گم ہو تی تھیں۔ جانباز محافظوں کی طرح چوکنا کھڑے تھے۔ ان چو ٹیو ں سے ذرا نیچے کیلو اور بر ج کے درختوں کے جھنڈ تھے۔ کیلو چوڑے پتوں والا درخت ہے جو وہا ں بکثرت پا یا جا تا ہے۔ غالب امکان تھا کہ اس درخت کے نا م کی وجہ سے اس جگہ کا نام بھی کیل پڑ گیا ہو گا۔ بر چ سفید رنگ کی چھا ل وا لا درخت ہے۔جسکی ایک خوبصورت چھڑی آج بھی میر ے کمر ے میں مو جودہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میر ے گھر میں دو مقد س چیزیں ہیں ایک یہ چھڑی اور دوسرا ایک بہت خو بصورت،قرمزی اور نقرئی رنگ کا پتھر،جو ہم جھیل سیف الملوک کے پانیوں سے لائے تھے۔۔۔۔۔!


میدان میں جا بجا پھیلے چھو ٹے چھوٹے مکئی، مٹر اور آلو کے کھیت جن میں خواتین پھاوڑے اور کھر پیا ں لیے تما م لو گو ں سے بے نیاز کام کر تی نظر آئیں۔کھیت جڑی بو ٹیو ں سے اس طرح پا ک جو کسی زہر یلی دوائی سے بھی نہ ہو پا ئیں۔ بلا شبہ وہ محنت کر نے والی عظیم عورتیں تھیں۔ہم اس شبنم آلود گھا س پر چلتے جا رہے تھے جہا ں گھا س میں پیلے اور جامنی رنگ کے پھول تھے۔ ان پھو لو ں کو کچلنے سے بچا نے کے لئے ٹیڑھی میڑھی چال چلتے مگر ان پھو لو ں کے لیے یہ سب گوارا تھا۔ ہما رے بائیں جانب ایک بہت بڑی بلڈنگ تھی جس کے سامنے دو تین ٹکڑیوں میں بچے بیٹھے تھے۔ اور ان کے پاس کر سیوں پر انکے اساتذہ اکرام بر ا جمان تھے۔ پتہ چلا کہ سکول کی یہ عمارت پو ری کی پو ری کنکر یٹ سے تیار کی گئی ہے۔ کیونکہ جب اس جگہ فائر نگ ہو تی ہے تو پو ری آبادی اس بلڈنگ میں پنا ہ گزیں ہو جاتی ہے۔ جس کے نیچے ایک تہہ خانہ بھی موجود تھا یعنی یہ ایک شاندار بنکر اور سکول تھا۔ دوپہر کے بارہ بج چکے تھے سکو ل کے بچے اب کھا نے پینے لگ گئے تھے۔ شاید انہیں بریک ملی تھی۔ جنہیں دیکھ کر ہمیں بھی بھوک کا احساس ہوا ہم بھی ادھر گھا س پر براجمان ہو گئے اور اپنے بیگ کھول کر رات کے خرید ے گئے بسکٹس اور مشروبات سے خود کو تازہ دم کر نے لگ گئے۔ یہاں پر ہما ری ملا قات ایک خو بصورت انسان شہزاد بھائی صا حب سے ہو ئی جو اک عرصہ دراز سے وہیں مقیم تھے۔ گھر تو ان کا کہیں اور تھا مگر وہ گھر جا تے نہ تھے۔ انہو ں نے ہما رے علم میں اضافہ کیا کہ یہا ں وادی میں  موجود جو گھر نظر آرہے ہیں وہ سب آپس میں رشتہ دار ہیں۔کہ ان کے آباؤاجداد میں ایک سردار با غی ہو کر آیا تھا۔ بادشاہ اور نگزیب عالمگیر کے زمانے میں، اور پھر وہ یہی آباد ہو گیا۔ اور یہ سب اسی کی اولاد ہیں۔ یہ لو گ آپس میں یہی مل جل کر رہتے ہیں ہم وہا ں بیٹھے یہ ساری باتیں سن رہے تھے کہ انہیں برف پو ش چو ٹیو ں سے گھٹائیں دبے پاؤں اترنے لگ گئیں۔ جن کا احساس ہمیں تب ہوا جب کا لی گھٹائیں ہما رے آس پاس چہلیں کر تی اور ہمیں گیلا کر تی تھیں۔ سورج اور بادلوں میں آنکھ مچولی کا کھیل جا ری تھا۔ اب ہما رے علاوہ چند اور سیا ح بھی یہا ں دیکھے جاسکتے تھے۔ ہما رے پیچھے ایک انتہا ئی ہیبت ناک برف پوش پہا ڑ تھا۔ جس کے بارے میں پتہ چلا کہ اس کا نام شاؤنٹر پہاڑ ہے۔ اور اس میں ہیر ے اور قیمتی پتھروں کی ایک بہت بڑی تعداد مو جود ہے۔ حکومت اگر کوشش کر ے تو اس سے کا فی فائدہ اٹھا یا جاسکتا ہے۔ شہزاد بھائی جن سے تھو ڑی دیر پہلے ملاقات ہو ئی تھی وہ آگے چل کر ہما رے بہترین گائیڈ اور مددگار ثابت ہو ئے۔ انہو ں نے ایک بہت مزیدار بات بتائی کہ وہ جو برفیوش چو ٹیوں کے نیچے جنگل ہیں۔ وہ بھی آبادی سے خا لی نہیں ہیں یہ سن کر ہم لو گ انگشت بدنداں تھے کہ وہاں پر بہکیں تھیں۔  جہاں مقامی لوگ اپنے جانور باندھتے ہیں۔ہم نے وہ بہکیں دیکھنے کا پروگرام بنا یا اور بنا سوچے سمجھے چل پڑے۔سارا راستہ نقر ئی پا نیوں، نالو ں اور جھر نو ں سے بھرا پڑا تھا۔ کئی ایک جگہ پر چیڑ کے بہت تناور درخت گر ے ہو ئے دیکھے جو وہیں پڑے پڑے برادے میں تبدیل ہو چکے تھے پتہ چلا کہ وہ لکڑی مقامی آبادی کو استعمال کرنیکی اجازت نہ تھی۔ جسکا دکھ بھی ہوا کہ اتنی قیمتی لکڑی ضا ئع ہو رہی ہے۔ مگر مقامی آبادی استعمال نہیں کر سکتی۔ مگر یہ بھی حقیقت تھی کہ اگر استعمال کی اجازت ہو تی تو ہر دوسرا درخت گرا پڑا ملتا۔ان درختوں کا پرادہ زمین کو اسپنچ کی طرح بنا رہا تھا۔ جن پر پا ؤں رکھنے سے زمین نیچے دھنستی تھی۔ جہا ں کہیں پہاڑی نالے ذرا گہر ے ہو تے  وہا ں لکڑی کے خوبصورت پل مددگار ہو تے اور وہیں ہماری فوٹو گرافی شروع ہو جاتی۔
شہزاد بھائی آگے آگے تھے اور ہم فیملی انکی قیادت میں فطرت کی خوبصورتیاں سمیٹتے اور اپنی قسمت پر نازاں آگے بڑھتے جا رہے تھے۔    پھو لو ں بھر ی وادی کو ئی خواب نما تھی۔ مگر یہا ں اب ایسے محسوس ہو نے لگا کہ ہما رے پاؤں میں کو ئی چکر ہے۔ ہم جتنا آگے بڑھتے،لگتامنزل اتنی دور جا رہی ہے۔ کو ئی آسیب سا لگنے لگا تھا۔ آسما ن پر گھنے بادل چھا گئے تھے۔ ہم لو گ مقا می آبادی اور وہا ں پر مو جو د سیاحوں سے کافی دور نکل آئے تھے۔ مگر وہ بہکو ں والی چو ٹیا ں بدستور اتنے ہی فاصلے پر نظر آرہی تھیں۔ شہزاد بھا ئی بتانے لگے کہ آپ غور کیجیے گا کہ یہا ں پر آپ کو کو ئی مقامی مر د یا بو ڑھی خاتون نظر نہیں آئے گی۔ہم نے استفسار کیا، تو بتا نے لگے کہ یہا ں کے مرد اور معمر خواتین اپنے ڈھور،ڈنگر لے کر گرمیوں کے مہینو ں یعنی مئی سے لیکر ستمبر تک وہا ں ان بہکو ں میں چلے جاتے ہیں۔ جہا ں گرمی کے ان مہینو ں میں ان کے جانور چرتے ہیں اور خاندان کی یہ بزرگ خواتین انکے دودھ سے مکھن، پنیر، اور دیسی گھی محفوظ کر تی جا تی ہیں،جو شدید سردی اور برفباری کے دنوں میں انکے کام آتا ہے۔تو پیچھے رہ جانے والی جوان خواتین اور لڑکیا ں کیا کر تی ہیں؟ میرے سوال پر شہزاد بھائی کہنے لگے کہ وہ ان مقا می کھیتوں میں کام کرتی اور اناج کو محفوظ کر تی ہیں جو برفباری کے دنوں میں کا م آتے ہیں۔ اور جب سرما کی پہلی برفباری ہو تی ہے تو یہ لو گ جانوروں کو لے کر وا پس اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں۔ َ

واللہ! کمال لو گ تھے اور اللہ پا ک کی کمال حکمتیں تھیں برف کے یہ زخیر ے ہما رے لیے ایک بہت بڑا سٹو ر ہیں جو سارا سال ہمارے دریا وں میں پانی کی روانی برقرار رکھتے ہیں اگر یہ بر ف کے ذخیر ے نہ ہو ں تو ہما رے میدانی علاقے کیا سے کیا ہو جائیں۔
ہلکی ہلکی بو ندیں گرنا شروع ہو گئی تھیں پا نی کی یہ بو ند یں گو یا برف کی ٹکڑیا ں تھیں۔سورج کے بادلوں میں چھپتے ہی سردی میں بہت زیاد ہ اضافہ ہو گیا تھا۔ طے یہ پا یا، بہکیں بہت دور ہیں وہا ں شام تک ہی پہنچ پا ئیں گے۔ وا پسی ناممکن ہو گی لہذا اس پروگرام کو کینسل کر دیا جائے اور وا پس چلتے ہیں۔ بات تو یہی مناسب تھی مگر دل نا داں اس کو ماننے کو تیار نہ تھا۔ بادل نخواستہ وا پس مڑے مگر ابھی چندقدم ہی چلے تھے کہ اس میدان نما وادی میں اندھیرا سا چھا نے لگا۔اب وہ چند گھر اور چند سیاح سب معدوم تھے تب ہلکا سا احساس ہونے لگا کہ یہ کیسی حماقت تھی جو ہم کر نے جا رہے تھے۔ اندھیرا سا چھا گیا۔مگر ایسے میں جو بادل کی کڑک نے ہراساں کیا وہ کچھ الگ ہی گرج تھی۔لگتا بادل ہمارے سر پرگرج چمک رہے ہوں۔ اس لمحے احساس ہوا کہ ہم شا ید دنیا میں تنہا رہ گئے ہو ں۔ ایک دم بارش شروع ہو گئی تھی ہم نے جیکٹس نکال کر پہن لیں مگر بارش تیز ہو گئی تھی۔ اب اک بار پھر شہزاد بھائی کا مشورہ کام آیا کہ چیڑ کے درخت کے تنے کے ساتھ لگ کر کھڑے ہوجائیں تو ہر گز نہیں بھیگیں گے۔ ایسا ہی ہو،ا ہم لو گ تنوں کے ساتھ لگ کر کھڑے ہو گئے تو واقعی بارش وہا ں نہیں پڑ رہی تھی۔ ند ی نالوں اور چشمو ں کی تیز رفتاری انکی آوازوں سے عیا ں ہو رہی تھی۔وہ نالے اب بپھر چکے تھے۔ یہ ہما ری زندگی کے انمول لمحے تھے۔ تقریباً آدھا گھنٹہ جاری رہنے کے بعد بارش تھمی تو دوبارہ آبادی کی طرف سفر شروع ہوا۔اب بادل بھی کچھ کم ہو نا شروع ہو ئے تو آس پا س لو گوں کی مو جودگی باعث تسلی دل ہو ئی۔ ایک اور چیز جو قابل ذکر دیکھی وہ وہا ں کے چھپر تھے جو چیڑ، دیوادار، پڑتل اور کیل کے تنوں کے آس پاس تقریباً چھ سات فٹ لمبے لکڑی کے ڈنڈے گاڑ کر انکے اوپر لکڑی کے مو ٹے مو ٹے پھٹے رکھ کر عجب سی ایک گولائی میں چھت بنائی ہو ئی تھی۔ جن کے نیچے جب برفباری کم ہو یا نہ ہو رہی ہو تو ادھر انکے نیچے جانور باندھتے ہیں۔ اور انکے اوپر وہ گھاس ذخیر ہ کر تے ہیں جو گرمیوں کے مو سم میں جا نوروں کی عدم مو جودگی میں بڑی ہو جاتی ہے۔ تو کا ٹ کر وہا ں رکھ لیتے ہیں جو بارش اور پانی دونوں سے محفوظ رہتی ہے۔ وادی کا حسن اور زیادہ نکھر کر ہم آوارہ گردوں کو دیوانہ کر تا تھا۔ کھلو نا نما سرخ چھتوں والے گھر وادی میں جا بجا بکھرے مو تیوں کی طرح لگتے تھے۔ بارش سے دھل کر چمکنے لگ گئے تھے سب گھر دو منزلہ تھے۔ نچلا حصہ جا نوروں کے لیے جبکہ اوپر کا حصہ اہلخا نہ کے لیے۔
اب سردی اور تھکن چھانے لگ گئی تو شہزاد بھائی ہمیں اپنے”میڈ ان چائنہ“ ہٹ میں لے گئے جہا ں انہوں نے ہمیں جو چائے پلائی وہ امر ہو گئی تھی۔ جسکا ذائقہ اس روئے زمین پر دوبارہ نہ ملا۔ اب سہہ پہر کے پا نچ بج چکے تھے۔ ایک بار پھر سورج ہار گیا تھا۔ اور بادلوں نے وادی کو لپیٹ میں لے لیا اور چھما چھم بارش شروع ہو گئی۔ ہم نے کہا کہ مو ن سون جلد شروع ہو گیا ہے تو شہزاد بھائی صا حب بولے نہیں مو ن سون کا یہا ں کو ئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ اس بار ہم لوگ ایک زیر تعمیر مسجد میں پناہ گزیں ہو ئے جہا ں کچھ لوگ اور بھی تھے۔ چند سٹوڈنٹس تھے شاید کسی کا لج ٹور کے ساتھ آئے ہو ئے تھے۔ گھنٹہ بھر بارش برسنے کے بعدجب تھمی تو ہر طرف کھیتو ں میں پانی ہی پا نی تھا۔ ایسے میں جب تیزہوا کے جھو نکے جسم کو چھو تے تو سرد ہوا ہڈیو ں میں پیوست ہو تی تھی۔ برفانی چو ٹیا ں جو دھوپ میں چمک کر آنکھو ں کو خیرہ کرتی تھیں۔ اب سب بادلوں اور دھند میں گم ہو چکی تھیں۔وا پسی کا راستہ،وہ عمودی اترائیاں، جنگل کی گھٹن، سوچ کر خوف آرہا تھا اب جب سب سیاح واپس چلے تو ایک ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ایک لمبی لائن بنی ہو ئی تھی۔ جو آہستہ آہستہ جنگل میں گھستی جارہی تھی ایسے میں بھلا ہو شہزاد بھائی کا جنہوں نے ہما رے بچوں کو نیچے لا نے میں بہت مدد کی اتنی آوارہ گردیوں کے بعد میر ے جو گرز کچھ سلیپر ی ہو چکے تھے۔ جو بار بار سلپ ہو رہے تھے اور میں بہت احتیاط برتتے ہو ئے چل رہی تھی۔ کئی لو گو ں کو دھڑام دھڑام گرتے دیکھا تو کئی چیخیں بلند ہو تی ہوئیں بھی سنیں۔ جو جنگل کو منگل کر رہی تھیں کئی جگہ پر ایسی عمودی ڈھلوانیں تھیں کہ درختوں کی جڑوں کو پکڑ کر نیچے اترنا پڑا۔ گھنٹہ بھر کی مشقت کے بعد چئیر لفٹ تک پہنچے رات سات بجے ریسٹ ہاؤس پہنچے تو بابا جی نے وہا ں کی ایک خا ص سبزی ”کڑم“بنائی تھی۔ جو ہماری فرمائش پر بنائی گئی مقامی سبزی تھی جو دیکھنے میں ساگ جیسی اور کھانے میں قدر ے کریلو ں سے ملتی جلتی تھی۔جو اس وقت ہمارے لئے من سلوی سے کم نہ تھی۔ سردی بہت تھی بیڈ پر لیٹے تو صبح سورج کی کرنوں نے ہی جگا یا۔ ہمارا آج کا دن وادی گھومنے اور کیل اڑنگ کی ایک بڑی آبشار دیکھنے کے لیے مخصوص تھا دس بجے ریسٹ ہاؤس سے نکلے تو پہلے ایک مقامی بیکر ی میں پہنچے جہا ں چند دوسر ی چیزوں کے ساتھ ایک خا ص چیز وہا ں کی مقامی ڈبل رو ٹی تھی جوشکل میں ہما رے ہا ں کے بڑے شیرمال سے ملتی تھی۔ مکئی اور گندم کے آٹے سے بھٹی میں تیار کی جاتی تھی۔ اور برفباری کے دنوں میں گرم چائے یا دودھ کے ساتھ کھائی جاتی تھی۔ کیونکہ وہ ذرا خشک اور سخت ہو تی ہے۔ آبشار کی طرف سفر شروع ہوا تو پھر وہی نیلم جو ایک دن پہلے ہم نے چیئر لفٹ سے پار کیا تھا مگر آج ہم اس پر بنے پل سے اسے عبور کر رہے تھے۔ پل جو لکڑی کے بڑے تختوں کو رسوں کی مد د سے جو ڑ کر بنا یا گیا تھا۔ اور پا ؤں رکھنے سے ہلتا تھا۔ نیچے دریائے نیلم کے نیلے نیلے پانی جھا گ اڑاتے تھے۔ بہر حال اگر خوف کا احساس خوبصورتی کے پردے میں چھپ کر ملے، تو وہ لمحے یادگار ہو جاتے ہیں۔ آبشار کا سارا راستہ دریا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا۔ایک طرف جنگل تو دوسری طرف دریائے نیلم رواں دواں تھا اور بیچ میں ہم لوگ آوارہ گردی کر تے تھے۔ جیٹھ اساڑ ھ کی گرمی گو یا تھی ہی نہیں۔اس سفر  میں کچھ بچے ہما رے ہمسفر ہو لیے جو تین بھائی اور ایک انکی بہن تھی۔ جس کا نام افسانہ تھا۔جو پہلے ٹائم سکول جاتے اور پھر دریا پا ر جنگل سے لکڑیا ں اکھٹی کر نے اور پانی بھرنے بھی جا تے تھے۔ وہ لو گ ادھر ہی جا رہے تھے جنہیں دیکھ کر ہما رے اندر کا بچہ بھی  کھلنڈ رے بچے کی طرح کھل اٹھا تھا۔ ہم سارے راستے ان بچوں کے لیے گری پڑی شاخیں اٹھاتے رہے ہم اس دن ساری پریشانیوں تفکرات اور مسائل کو یکسر فراموش کر چکے تھے۔ ہما رے کرنے والا کوئی بھی کام نہ رہ گیا تھا۔ ہمیں فرصت ہی فرصت تھی اور ہم بس اسی دن میں زندہ رہنا چاہتے تھے۔ ہما رے مو بائل فونز اس دن محض کیمر ے بن چکے تھے کہ ہما را نیٹ ورک وہا ں کام نہیں کرتا تھا۔ اس لیے اس دن ہم ان بکھیڑوں سے بھی آزاد تھے۔ بچوں نے اچھی خا صی شاخیں جمع کر لیں تو انہوں نے کپڑا بچھا کر اس میں باند ھ لیں اب انہیں اپنے گڑوے میں پا نی بھرنا تھا۔ چشمہ آبشار کے راستہ میں پڑتا تھا۔ ہم چشمے پر پہنچ چکے تھے۔ جس کا پانی اوپرنہ جانے کن پراسرار راستوں سے بہتا ہوا آتا اور نیلم کے  رعب اور دبدبے میں اضافہ کر تا تھا۔
اس چشمے کے اوپر تقریباً ایک گز چوڑا اور کئی گز لمبا لکڑی کا پل بنا تھا۔ جو تصو یر کشی کے لیے بہترین تھا۔ان بچوں نے پانی کا گڑوا اور لکڑیوں کا گٹھا بھی وہیں رکھا اور ہمارے ساتھ ہو لیے۔


آبشار کے نظر آنے سے پہلے اسکی مد ھر آواز کانوں میں رس گھولنے لگی تھی۔چلتے چلتے دریا نے ہلکا سا مو ڑ مڑا تو اسکے ساتھ ہی ہمارا راستہ بھی دائیں طرف مڑگیا سامنے دیکھا تو گو یا آسمان سے پانی سیدھا پتھروں پر پڑ رہا ہو۔ ہما ری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اتنی چوڑائی میں ایک دم نیچے گرتا پانی میں نے پہلی بار دیکھا تو سبحا ن اللہ ہی کہہ سکے۔ پانی ان چٹا نوں کے آس پاس سے بہتا اور ہمیں اپنے حسن سے مسحور کر تا کچھ دیر تک دریا کے ساتھ چلتا اور پھر دریا میں مد غم ہو جا تا تھا۔ وہا ں پہنچ کر لگا کہ سفر کی اتنی صعوبتیں برداشت کر نا۔خود کو تھکا کر ان پانیوں تک پہنچا گو یا ان کا حق بنتا تھا وہ پانی ہما رے سارے منرل واٹرز سے کہیں بڑھ کر تھا۔ کافی دیران پانیوں سے کھیلے اور پھر ہا تھوں کے پیالے بنا کر ان اذلی پیاسی روحوں کو سیراب کیا۔
ہما رے ساتھ آنیوالے وہ مقامی بچے ہمیں دیکھ کر حیران ہو رہے تھے گو یا پانی پہلے کبھی نہ دیکھا ہو، وقت کا تقاضا تھا کہ اب وا پس چلے جائیں۔ بوجھل قدموں سے واپسی ہو ئی تو وہی راستہ بہت کٹھن لگنے لگا۔بادلوں نے پھر سے گھمن گھیریاں ڈالنی شروع کر دی تھیں۔ جلدی سے ریسٹ ہاؤس پہنچے کچھ تناول ماحضر کیا تو وادی دیکھنے نکل پڑے۔ کیل سطح سمندرسے تقریباً7000فٹ کی بلند ی پر واقع ہے۔ جو خوبصورت تو ہے مگر ایک چیز جو دیکھ کر دکھ ہوا غربت عام ہے ذرائع آمدن محدود ہیں سرحدوں کے مخدوش حالات کی وجہ سے سیاحت بھی اسی طرح نہیں جو کا غان یا دوسرے سیاحتی علاقوں میں ہے۔ مقامی بچے جو دیکھنے سے بہت خوبصورت لگتے تھے مگر ان کے گالوں پر موسموں کی شدت نے جو اثرات ڈالے تھے وہ نما یا ں تھے۔سرخ وسفید گال،خشک اور سرد ہوا کے تھپیڑوں سے زخمی ہو رہے تھے۔ خواتین کے پاس فرصت بہت تھی ہر گھر کے سامنے مکئی،آلو، لو بیے اور مٹر کے کھیت نظر آئے اور انکے کنارے خواتین بھی گپ شپ کر تی نظر آئیں۔ ایک خاتون جو ایک پگڈنڈی پربیٹھی گندم نما چاول صاف کر رہی تھی۔ بتانے لگی کہ وہ یہ چاول 100روپیہ کلو کے حساب سے خرید تی ہیں۔ گندم کا آٹا ڈپوؤں سے ملتا ہے۔ ہر عورت خوراک کی کمی کا شکار بھی نظر آئی۔ ایک خوبصورت چیز جو عام نظر آئی وہ ایک سیاہ رنگ کا لمبا سا چغہ تھا جس پر مختلف رنگوں سے کڑھائی بھی کی ہو ئی تھی۔ جو 6ماہ کی بچی سے یکر 60سال کی خاتون تک سب نے پہنا ہوا تھا۔ جیسے مقامی زبان میں پیر ن یا فیر ن کہتے ہیں۔ جبکہ ہمارا خیال ہے کہ یہ لفظ پیر ہن تھا۔ جو کثرت استعمال سے بگڑ کر پیر ن یا فیرن بن گیا ہے۔ یہ بازار میں 3000سے لیکر 7000روپے تک میں دستیاب تھا اور اگر دلہن کے لیے تیار کروایا جا ئے تو اسکی قیمت 15000روپے تک پہنچ جا تی تھی۔ جو وہا ں کے لو گو ں کے لیے یقیناً کافی زیادہ تھی۔ لیکن محنت بھی اس پر بہت ہوتی تھی کہ ساری کڑھائی ہا تھ کی تھی۔ سارا بازار آٹھ دس دوکانوں پر مشتمل تھا۔ رم جھم مسلسل ہو رہی تھی پروگرام بنا کہ شاونٹر پہاڑ تک جایا جا ئے مگر اس مو سم میں جیپ والوں نے آگے جانے سے انکار کر دیا۔ ان حالات میں واپس آنا بھی خطرناک ثابت ہوسکتا تھا۔ لہذا یوں سمجھیے کہ قدرت نے ایک اور رات اس خوبصورت وادی میں ہما رے مقدر میں لکھ دی تھی۔
اس خوبصورت وادی میں یہ تیسر ی رات ہما رے لیے اللہ پاک کا تحفہ تھی۔ اگلی صبح دس بجے ریسٹ ہاؤس سے رانگی ہو ئی تو کیل سے شاردا تک کا راستہ جو جاتی دفعہ برا تھا۔ مگر اب بد ترین ہو چکا تھا۔ جگہ جگہ لینڈ سلائیڈنگ، سڑک بند، کہیں آدھی سٹرک ٹوٹ کر دریا برد ہوچکی، اور کہیں پر برف کے بڑے بڑے تو دے رات بھر جاری رہنے والی بارش میں سر ک کر سڑک پر براجمان تھے۔ ہما رے گاڑی کے آگے محکمے کی گاڑی تھی جو ایک کرین کی مدد سے سڑک کو صا ف کرواتے جاتے تھے۔ صبح جو سفر شروع ہوا تو خدا خدا کر کے ہم نیلم گاؤں تک شام چار بجے تک پہنچ پائے۔
نیلم گاؤں پو ری وادی کا گویا دل تھا۔ یہ کیر ن (جہا ں ہمارا پہلا پڑاؤ ہوا تھا) سے تقریباً دو کلو میٹر آگے ہے۔ اور اسکی بلندی تقریباً5000فٹ ہے۔ اور نیلم گاؤں مظفر آباد سے تقریباً95کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ آج ہم نے ایک رات یہاں گزارنا اور اسکے نظاروں سے لطف اندوز ہو نا تھا۔ اب جو اسکی چڑھائی شروع ہو ئی تو گویا یہ راستہ نہ زمین پر تھا نہ پہا ڑوں پر یہ راستہ سیدھا بلند ہو تا تو آسمانوں تک جا تا تھا۔ یہ دو کلو میٹر کا فا صلہ آپ کو بادلوں میں پہنچا دیتا ہے۔ گاڑی پارک کر کے باہر نکلے تو یہ گاؤں واقعی نیلم تھا۔ نیلم کنارے نیلے آسمان کے نیچے آسمان کی وسعتون میں گم ہوتا ہوا ایک سیپی میں بند اونگھتا ہوا گاؤں جو ایک بار دیکھے اسے بار بار دیکھنے کی حسرت ہو۔
اٹھکیلیاں کر تے بادلوں میں ناشپاتی اور سیبوں کی مہک، دھواں (بادل) اگلتے پہاڑ جہا ں اور کچھ نہ تھا بس خوبصورتی اور مہک تھی۔ جلد ہی رات ڈھل گئی تو ہو ٹل کے لان میں بیٹھ کر کافی پینے اور قدرت سے ہمکلام ہو نے کا مو ڈ بنا مگر سردی بہت تھی جس کا حل یہ نکا لا کہ کمبل اٹھا کے لپیٹا اور باہر کرسی پر آکر براجمان ہو گئے۔ اوپر نگا ہ کی تو ستارے نیچے دیکھا تو بھی ستارے،ہم لو گ گو یا درمیان میں کہیں معلق تھے۔ آسمان کے ستارے لگتا بہت قریب آگئے ہیں۔ اور نیچے کو ئی دوسرا آسمان ہے جس کے ستارے رنگ برنگی روشنیوں سے ٹمٹما رہے ہو ں۔ دیر تک بیٹھ کر کافی پیتے اور باتیں کر تے رہے یہاں پر ایک بار پھر مقبوضہ جموں کشمیر اس طرح آپکے ساتھ آملتا ہے جیسے دو ہمسائیوں کی چھتیں ہوں اور درمیان سے گلی گزرتی ہو یہا ں ایک سڑک اور دریا کا فاصلہ تھا دوسری طرف پہا ڑ کے اوپر کشمیر یو ں کے دوسر ے بھا ئی تھے۔ جو رنجید ہ تھے انکی یہ ناراضگی ہمیں جا بجا دیواروں پہ لکھی اس طرح نظر آئی کہ ”تقسیم کی یہ لکیر خون کی لکیر“ ہے۔ یہ کشمیر یو ں کا نعرہ تھا۔
ایک بہت زبر دست نطارہ وہا ں سے نیلم کا مو ڑ مڑناتھا شا ید دریا کہیں سے بھی مو ڑ مڑے وہ اتنا ہی خوبصورت ہوتا ہے۔ جتنا یہا ں تھا رات بہت جلد گزر چکی تھی۔ اور اب ہمیں وا پس کو چ کر نا تھا۔ خیال تھا کہ جاتی دفعہ مر ی میں قیام کیا جا ئے مگر جب مر ی پہنچے تو سچ مانیے قدرت کی ان رنگینوں کو دیکھنے کے بعد مر ی ایک بے رنگ اور پھیکا مقام لگا۔ شام کا کھا نا مر ی میں کھا یا دس بجے مر ی سے جو چلے تو تین بجے گھر پہنچے۔
 مگریہ بھی سچ تھا کہ اپنا گھر جنت ہے۔

Leave your comment !