ناز مظفر آبادی 

زیرِطبع ساتویں شعری مجموعہ”فاصلہ”سے 

جو بن مطلب نہیں ملتا کسی سے 

ہمیں مطلب نہیں اُس مطلبی سے 

اُسے جب تک نہیں دیکھا تھا میں نے 

شغف مجھ کو نہیں تھا شاعری سے 

رگِ جاں سے بھی جو نزدیک تر تھے

اب اُن سے رابطے ہیں واجبی سے 

تمہاری بزم سے ہم تنگ آکر

چلے جائیں گے اک دن خامشی سے 

کبھی یہ بھول کر بھی مت سمجھنا

کہ سمجھوتا کریں گے زندگی سے 

بہت سے لوگ تائب ہو چکے ہیں 

مرے منصف تمہاری منصفی سے 

بظاہر اُس کے خط میں کچھ نہیں تھا 

وہی دوچار جملے سرسری سے 

اُٹھاتا ہے ہمیشہ فائدہ وہ 

شرافت سے ہماری سادگی سے 

عجب حالات میں نکلے بالآخر 

کہ پہلے اُس کے دل پھر نوکری سے