تحریر نائیلہ الطاف کیانی

بدلتے ہوئے وقت کے تقاضے اور بڑھتی ہوئی ضروریات نے زندگی کے حقائق کو بہت بدل کر رکھ دیا ہے۔ والدین ہوں یا بچے ایک بھیڑ چال کا شکار ہیں، نہ والدین معروضی حالات کے مطابق فیصلے کر پا رہے ہیں اور نہ ہی بچے اپنے فیصلے کرتے وقت مستقبل کا کوئی لائحہ عمل ذہن میں رکھ رہے ہیں۔ سب وہی راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں جو دوسروں نے کیا ہے۔ مگر معاشرہ اس قدر آلودہ اور ناقابل بھروسہ ہو چکا ہے کہ اپنے اور بچوں کے مستقبل کے فیصلے کرتے ہوئے ان حالات کو یکسر ظاہراً کر دینا مسائل کو دعوت دینے کے مترادف بھی یو سکتا ہے۔ ایسے ہی کچھ حالات گزشتہ دنوں باغ میں پڑھائی کی غرض سے آئی ہوئی، ہاسٹل میں رہائش پذیر ایک لڑکی کے ساتھ پیش آئے جس نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کر دیا۔ 

ایس ایس پی باغ کو موصول ایک درخواست میں ایک ہاسٹل میں رہائش پذیر دو خواتین طالبات نے ضلع باغ کے ایک پولیس کانسٹیبل پر الزامات عائد کئے کہ وہ انہیں نہ صرف پچھلی 6 ماہ سے جنسی طور پر ہراساں کر رہا ہے بلکہ اس نے ان کے شناختی کارڈ، تعلیمی اسناد اور موبائل فون بھی ضبط کر رکھے ہیں اور اب دھمکا بھی رہا ہے کہ اگر انہوں نے ہاسٹل میں موجود باقی لڑکیوں سے تعلقات استوار کرنے میں اس کی اعانت نہ کی تو وہ انہی  جان سے بھی مار سکتا ہے اور بدنام بھی کر سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ لڑکیاں پولیس کے پاس مدد لینے گئیں مگر انہیں بدنامی کا خوف دلا کر لوٹا دیا گیا۔ یہیں سے یہ خبر کسی طرح سوشل میڈیا تک پہنچ گئی اور سول سوسائٹی نے ان کے حق اور مخالفت میں بحث و مباحثہ کرنا شروع کر دیا۔ بات پھیلتے دیکھ کر پولیس کے کچھ لوگوں نے ملزم قدیر کے ساتھ مل کر ان میں سے ایک لڑکی کے والد سے بیان دلوایا کہ اس کی بیٹی نے ذہنی دباو میں ایسے الزامات لگائیں ہیں اور قدیر تو اس کے بھائیوں جیسا ہے۔ اس وڈیو کا سوشل میڈیا پر آنا تھا کہ لوگوں کو احساس ہو گیا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ اس موقع پر پولیس کے اعلی حکام تک بھی معاملہ پہنچ گیا اور نتیجتا بالآخر ایف آئی آر کٹ گئی۔ 

ملزم قدیر نے پاکستان فرار ہونے کی کوشش کی مغرور پبلک ٹرانسپورٹ کی تلاشی کے دوران گجر کوہالہ کے مقام پر پکڑا گیا اور اب زیر حراست ہے۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم عبدالقیوم نیازی، سینئر منسٹر تنویر الیاس اور آئی جی آزادکشمیر سب ہی اس معاملے میں ذاتی دلچسپی بھی لے رہے ہیں اور محکمے نے ایک خاتون افسر جبین کوثر کی سربراہی میں ایک جوائینٹ انوسٹیگیشن ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے جو اس معاملے کو دیکھے گی، دوسری طرف محکمانہ کاروائی اور ملزم کے ضبط کئے گئے موبائل کی فرانک رپورٹ کے آرڈر کی بھی خبر دی گئی ہے۔ 

بر وقت سوشل میڈیا کی مدد سے یہ معاملہ تو ایک بہتر حل کی طرف چلا گیا ہے اور اس قدر سامنے آ گیا ہے کہ غالب امکان یہی ہے کہ اس پر درست طریقے سے تحقیقات ہونگی اور ملزم کیف کردار تک پہنچ جائے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایسے کتنے کیس ہیں جو سوشل میڈیا کی مدد حاصل کر پاتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں اور بچیوں کی حفاظت میں ناکام کیوں ہیں۔ ہم انہیں ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی خود سے اتنا دور کیوں بھیج دیتے ہیں کہ جہاں ہم ان کے حال سے با خبر نہیں رہ سکتے؟ پبلک یونیورسٹیاں، دینی درسگاہیں، سکول کالج کیا کوئی بھی جگہ ہمارے بچوں کے رہنے کیلئے محفوظ نہیں رہی؟ جو یونیورسٹیاں بچیوں کے لئے محفوظ رہائش گاہیں مہیا نہیں کر سکتیں انہیں دور دراز سے آئی بچیوں کو داخلہ دینے کی اجازت کیسے مل جاتی ہے؟ پولیس جس کا کام  لوگوں کی جان، مال اور آبرو کی حفاظت کرنا ہے، وہ ایسی کالی بھیڑوں کو محکمے میں کیوں برداشت کرتی ہے جو ایسے کالے کرتوتوں میں ملوث ہوں؟ ہمارے قوانین اتنے بے بس کیوں ہیں؟ اگر عزتوں کے محافظ ہی عزتوں پر ہاتھ ڈالنے لگیں گے اور اگر قانون ہمارے کمزور لوگوں کی حفاظت میں ناکام ہو جائے گا تو ہمارے غیور لوگ کہیں قانون کو ہاتھ میں لے کر خود اپنی اور اپنے بچوں کی حفاظت اور بدلے پر آمادہ ہو جائیں تو انہیں کس طرح روکا جا سکے گا؟ ہم کب فیصلہ کریں گے کہ ہمارے بچوں کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے؟ یہ سب سلگتے ہوئے سوالات ہمارے سوئے ہوئے احساس ذمہ کو کب جگا پائیں گے؟

لکھاری کا تعارف 

نائلہ الطاف کیانی ایک سیاسی اور سماجی تجزیہ کار ہیں۔ اردو اور انگریزی اخبارات میں کالم نگار ہیں اور آزاد کشمیر ٹیلی ویژن ٹیلی ویژن پر حالات حاضرہ کے پروگراموں کی میزبانی کرتی ہیں۔ 

twitter @NylaKayani

Leave your comment !