July 7, 2022

بہاولپور میں اجنبی-ایک جائزہ/ نوید ملک-اسلام آباد

نوید ملک-اسلام آباد

سفر نامہ نگار مبصر ہوتا ہے۔مبصر بصارت کے ساتھ بصیرت بروئے کار لاتے ہوئے کائنات کے آئنے میں ایسے عکس تلاش کر کے انھیں لفظی پیکروں میں ڈھالتا ہے جو عام انسانوں کو نظر نہیں آتے۔سفر نامہ ایک طرف ذاتی تجربات کی روشنی میں کائنات کا مطالعہ ہے تو دوسری طرف رویوں کا نفسیاتی تجزیہ بھی ہے۔ایک پلیٹ فارم پر مجھ سے ایک دوست نے سوال کیا کہ سفر نامہ پڑھنے کی ضرورت دورِ جدید میں کیونکر ہو؟۔سوشل میڈیا نے دنیا کے کونے کونے کے مناظر آنکھوں میں قید کر لیے ہیں۔ جو چیز ہم اسکرین پر دیکھ سکتے ہیں ان کےبارےمیں پڑھنےکی کیاضرورت ہے۔میرا جواب تھا:”ویڈیو مناظر دکھا سکتی ہیں مگر کیفیات نہیں۔سفر نامہ نگار تودراصل الفاظ کے ذریعے کیفیات سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے اور قاری انھیں محسوس کرتا ہے ، حظ اٹھاتا ہے”

پریس فار پیس فاؤنڈیش کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والے سفر نامے”بہاولپور میں اجنبی” نے مجھے چونکا دیا ہے۔بعض احباب کہتے ہیں کہ سفر نامہ نگاری بہت مہنگی ادبی صنف ہے۔ وہ اس لیے کہ بیرون ممالک قیام و طعام کے اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں، مگر کیا ایسا کرنا ضروری ہے؟۔میرا مؤقف بالکل مختلف ہے۔اگر سفر نامہ نگار کی سوچ میں وسعت ہو تو وہ گھر سے بازار تک کے سفر کے مناظر میں سے کئی اہم نکات دریافت کر کے قارئین کے اذہان پر ثبت کر سکتاہے ۔پریس فار پیس فاؤنڈیشن نہ صرف تعلیمی،فلاحی، ثقافتی سرگرمیوں میں مصروف العمل ہے بلکہ ادب کی ترویج و ترقی کے لیےبھی اپنی سرگرمِ عمل ہے۔ادب رویے سنوارتا ہے، یوں اچھا ادب اچھے معاشرے کی تشکیل کر سکتا ہے۔میتھیو آرنلڈ نے بھی “ادب تنقیدِ حیات” کا یہ نظریہ پیش کیا۔اسی حوالے سے جس بات نے مجھے زیادہ متاثر کیا وہ یہ ہے کہ اس فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام ایسے لکھاریوں کی تخلیقی کاوشیں منظرِ عام پر آ رہی ہیں جنھیں اچھا لکھنے کے باوجود پذیرائی نہیں مل رہی۔اس فاؤنڈیشن کےبانی ظفر اقبال صاحب برطانیہ میں مقیم ہیں مگر ان کا سینہ وطن کی محبت سےمنور ہے۔ اپنی مٹی کی مہک سے معطر وجود جہاں بھی ہو، بات اپنی مٹی ہی کی کرتا ہے۔

بچوں کی قوتِ مشاہدہ اس لیے بھی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ کائنات میں اجنبی ہوتے ہیں، ہر نئی چیز کو دیکھ کر تحیر میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اسے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔سفر نامہ نگار جب تک خود کو اجنبی نہ سمجھے وہ نئے مناظر سے لطف کشید نہیں کر سکتا ۔سفر ایک طرف نئے تصورات جنم دیتا ہے تو دوسری طرف کئی تصورات کو رد بھی کرتا ہے۔سفر ایک جنون کا نام ہے۔اسی تناظرمیں کچھ اشعار دیکھیے!

وگرنہ سینےمیں دل تیرگی بچھائے گا

کرو مدینے کا تم بھی سفر ، چراغ جلے

اب دھول نہیں میری جبیں پر ہیں اجالے

میں لوٹ کے آیا ہوں ستاروں کے سفر سے

میں قدم جب بھی اٹھاتا ہوں سفر بنتے ہیں

کئی رستے مرے ہونے سے اِدھر بنتے ہیں

ایک کشتی ہمیں ملتی ہے سفر سے پہلے

اور وہ کشتی بھی جلانے کے لیے ہوتی ہے

مظہر اقبال مظہر کے قلم سے منظر نگاری اور جذبات نگاری کے چشمے کچھ اس طرح سے رواں ہوئے ہیں کہ دھڑکنوں تک ان کی نغمگی گونجنے لگتی ہے۔تصورات اجالنے، روشنی بانٹنے، راستے تراشنے کا جنون اس کتاب سے ٹپکتا ہے۔یہ سفر نامہ بھی اپنی مٹی سے عشق کا اظہاریہ ہے۔سفر نامہ مختصر ہونے کے ساتھ ساتھ غیر ضروری باتوں سے پاک بھی ہے۔کچھ احباب نے اس سفر نامے کو یاد داشتیں کہا ہے اور یاد رہے سفر نامہ ہوتا ہے یاد داشت ہے مگر یادوں کو خارجی و باطنی عوامل کے ساتھ اس طرح پرویا جاتا ہے کہ مختلف تہذیبیں نظر آنے لگتی ہیں۔پاکستان میں رہنے کے باوجود جس نے بھی بہاولپور نہیں دیکھا اس کے دل میں یہ خواہش ضرور پیدا ہو گی کہ اس شہر کے دلچسپ گوشوں کو ایک بار ضرور دیکھے۔بہت سے ادیب جب بھی پاکستان سے باہر جاتے ہیں تو سفر نامہ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہماری دھرتی کو ایسی ایسی خوبصورتیوں سے نوازا ہے کہ روح تک سرشار ہو جاتی ہے۔سفر نامہ نگارکہتے ہیں کہ مجھےہجرتیں درپیش رہیں اور مہاجرت ، ذہنی ، روحانی اور نفسیاتی مہاجرت کو جنم دینے لگتی ہے۔سچا تخلیق کار جہاں جاتا ہے اُس کے احساسات پر ایسی ہی ہجرتوں کے دستخط ہوتے ہیں اور وہ اپنے تاثرات رقم کرتا چلا جاتا ہے اور علمی اثاثے آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑ جاتا ہے۔

سفر نامہ نگار نے ایک ایک لمحے کی تجزیہ نگاری کی ہے۔آپ دیکھیں کہ “زبان اور لہجے” کی بات کرتے ہوئے انھوں نے مختلف خطوں میں رہنے والے باسیوں کے رویوں تک کو کھنگالنے کی کوشش کی ہے۔اپنے محسوسات اور مناظر کے انطباق سے قارئین کو فکر و تدبر کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی ہے۔زمانہ طالبِ علمی کے سنہری ادوار کو ایسی دستاویز میں منتقل کیا ہے جسے پڑھ کر ماضی اور حال کا تقابلی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

اس کتاب میں مصنف کے دو افسانے ایک بوند پانی اور دل قلندر بھی شامل ہیں۔یہ دونوںافسانے جدید رنگ میں لکھے گئے ہیں جن پر خارجی عوامل کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ کردار نگاری ، منظر نگاری اور جذبات نگاری بتاتی ہے کہ ان کے ہاں اچھے افسانے لکھنےکے بہت سارے امکانات روشن ہیں اور مجھے امید ہے کہ مستقبل میں کئی افسانوی مجموعے ادب کے دامن میں بکھیریں گے۔ان کے افسانوں میں ربط و تسلسل کہیں نہیں ٹوٹتا اور اندازِ نگارش دلچسپ اور موزوں ہے۔ان کا اسلوب بناوٹی نہیں ۔دل قلند رکا موضوع محبت ہے۔یہ محبت ایک ماں کا بیٹے کے ساتھ ہے اور بیٹے کا کسی ایسے کردار سے جو اُس کا نہیں۔افسانے کا اختتامیہ ڈرامائی بھی ہے اور پر اسرار بھی۔”ایک بوند پانی” مفلوک الحال طبقات کا المناک بیانیہ ہے اور اربابِ اختیار کو دعوتِ فکرو عمل دیتا ہے۔

میں اسی بات پر اکتفا کرتا ہوں کہ یہ کتاب ایک عمدہ افسانہ نگار اور سفر نامہ نگار کی نویدسنا رہی ہے۔اسی کے ساتھ میں پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے تمام منتظمین کو اس کتاب کی اشاعت پرمبارک باد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ مستقبل میں بھی ایسے ہی اچھے ادیبوں کی قلمی کاوشوں کو منظرِ عام پر لانے کی سعی کی جائےگی۔

۔مصنف کا تعلق کشمیر سے ہے جس کے دامن میں میرے اجداد کے جذبات بھی بکھرے پڑے ہیں۔اپنی ایک نظم میں سفر نامہ نگار کی نذر کروں گا جوکشمیر کے شاداب دامن میں زیبِ قرطاس ہوئی۔

نظم-وادیء کشمیر میں

۔

پھر سے چیِڑوں کی صداؤں سے خیال آیا مجھے

میرے اجداد کے بچپن نے یہاں سانسیں لیں

اِن گھنے پیڑوں کے سائے میں محبت کی دکانیں کھولیں

شور کرتے ہوئے چشموں میں دھڑکتی ہے روایت اُن کی

ثبت ہیں اب بھی ہواؤں میں تبسم اُن کے

اُن کے لہجوں کی مہک آج بھی پھولوں پہ سفر کرتی ہے

جب بھی برسات میں موسم کی جبیں دُھلتی ہے

اُن کے قدموں کے نشاں آج بھی گیلے ہو کر

کچے رستوں میں کہیں تیرتے ہیں

اِس کے دامن میں کئی میٹھے کنوئیں

وصل جذبوں کی تمازت سے ابھر جاتے ہیں

اِس کے دامن میں کئی ٹوٹے گھڑے

ہجر کے کرب بیاں کرتے ہیں

لہلہاتے ہوئے کھیتوں کے کناروں پہ پرندوں کے ہجوم

اُ ن کی یادوں کے کئی گیت بُنا کرتے ہیں

زندگی رات کے پہلو میں سمٹتی ہے جب

اُن کی سوچوں کے مقدس جگنو

جھلملاتے ہوئے جنگل کی قباؤں میں ضیا ء کاڑھتے ہیں

جب میں یہ سوچتا ہوں!

چند لمحوں کا مسافر ہوں یہاں

لوٹ جانا ہے مجھے

فصل اگتی ہے اداسی کی مرے چہرے پر

اجنبی لوگ گزرتے ہوئے تکتے ہیں مجھے حیرت سے

خود سے کرتا ہوں سوال!

جو اثاثے مرے اجداد نے چھوڑے ہیں یہاں

کیا یہ ممکن ہے مرے ساتھ وہ ہجرت کر لیں؟

Leave your comment !

Close