نوجوان فرسٹریشن کا شکار کیوں؟

/ تحریر: ربیعہ فاطمہ بخاری فوٹو کریڈٹ : یو نیسف /

آج کا نوجوان فرسٹریشن کا شکار کیوں ہے؟  یہ سوال فی زمانہ ہر فورم پہ بہت زیادہ زیرِ بحث رہتا ہے.  سوچا میں بھی اس کے اسباب و علل پہ کچھ روشنی ڈالنے کی کوشش کروں۔

فرسودہ جمہوری نظام

 سب سے پہلی چیز جو میں سمجھتی ہوں، نوجوانوں کے رستے کی رکاوٹ اور مایوسی پھیلانے کا باعث ہے، وہ ہمارا فرسودہ ترین جمہوری نظامِ حکومت ہے، جہاں وہی شریف، وہی میر، وہی مزاری، وہی لغاری، وہی لاشاری اور وہی مخدوم زادے گزشتہ چوہتّر سال سے اقتدار پہ جونکیں بن کے چپکے ہوئے ہیں۔

 بلندوبانگ دعووں کےساتھ جو بھی حکمران مسندِ اقتدار پہ بیٹھتا ہے، اُس کے دعووں کی قلعی چند ماہ میں ہی کُھل کے رہ جاتی ہے۔

مایوسی کی فضا

خان صاحب نے اس مایوسی کی فضا کو کئی گُنّا بڑھا دیا ہے کہ اُن کی ذات میں نوجوانوں نے ایک مسیحا ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی اور آج وہ محض اُس مسیحا کے تصوّر پہ فاتحہ خوانی کے قابل رہ گئے ہیں۔

آج کا نوجوان فرسٹریشن کا شکار کیوں ہے؟ یہ بہت اہم سوال ہے۔ جیسے حکمران ہیں، ویسا ہی نظامِ انصاف ہمارے ہاں رائج ہے،۔ جہاں ماڈل ٹاون سانحہ ہو یا سانحہ ساہیوال، مجید اچکزئی کا کیس ہو یا شاہزیب قتل کیس، فراز شاہ کا رینجرز کے ہاتھوں ان کیمرہ قتل ہو یا اُسامہ ستّی کا بہیمانہ قتل۔

کسی حکمران کے دور میں، کسی مظلوم کو انصاف میسّر نہیں، عدم مساوات اور انصاف کی عدم فراہمی اور بڑھتی ہوئی لاقانونیّت نوجوانوں کی مایوسی کی چند بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ 

فرسودہ تعلیمی نظام

فرسودہ تعلیمی نظام اور بیروزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح، نوجوان نسل کی مشکلات میں اضافے کی ایک اور وجہ ہے۔ بی۔اے اور ایم۔اے میں رٹّے لگا کر ڈگری کے نام پہ محض بیکار قسم کے کاغذ کے ٹکڑوں نے ہمارے نوجوان کو صرف اور صرف پست ہمّتی اور ڈگری پہ ناز ہی سکھایا ہے۔

جس “ناز” کی بدولت کوئی بھی “ڈگری ہولڈر” چھوٹے موٹے کام کو اپنے لئے عار سمجھنے لگتا ہے۔ بس، اس کے علاوہ ان ڈگریوں کی مارکیٹ میں کوئی وقعت نہیں۔ لیکن ہمارے اربابِ حل و عقد اس تعلیمی نظام پہ نظرِ ثانی کرنے کو ہرگز آمادہ نہیں ہیں۔ 

رشوت اور بدعنوانی

ایک بڑا عنصر ہمارا دفتری نظام ہے، جو نئی چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کو facilitate کرنے کی بجائے طرح طرح کی رکاوٹیں.  کھڑی کرنے کا باعث بنتا ہے، رشوت ستانی اور بدعنوانی نے ہر محکمے کو جڑوں سے کھوکھلا کر رکھا ہے۔

کوئی ترقیاتی کام ہو یا فلاحی منصوبہ، تعمیری پروجیکٹ ہو یا فلاحی، دفتری فیتے کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ ملازمتیں اوّلاً تو آبادی کے تناسب سے ہوتی ہی بہت کم ہیں، جو ہوں بھی اقرباء پروری اور رشوت ستانی کے بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔

سوشل میڈیا، مایوسی پھیلا رہا ہے

نوجوانوں میں مایوسی پھیلانے والے بڑے عناصر میں سے ایک اہم عنصر سوشل میڈیا ہے۔   ہر ایک شخص سوشل میڈیا کے توسّط سے اپنی تربیّت اور مزاج کے مطابق اپنا مافی الضمیر بیان کرنے میں آزاد ہے۔ ایسے میں بہت سے لوگوں کا اوّلین مقصد ہی مایوسی اور نااُمیدی پھیلانا ہوتا ہے۔

 نوجوانوں کے سامنے یوں منظرکشی کی جاتی ہے کہ پاکستان ایک ناکام ترین ریاست ہے اور اسے چھوڑ کے بھاگنے میں ہی آپ کے زندگی کے جملہ مسائل کا حل مضمر ہے۔

یورپ کو ترقّی اور خوشحالی کی ضمانت کے طور پہ پیش کیا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں کے معمولی سے معمولی مسئلے کو ایک پہاڑ بنا کے پیش کیا جاتا ہے، یوں پہلے سے مایوسی کا شکار نوجوان مزید ذہنی تناوء کا شکار ہو جاتا ہے۔ 

تربیت کا فقدان

بالکل بجا کے مندرجہ بالا مسائل محض ایک جھلک ہے، اُن مسائل کی جو وطنِ عزیز میں ہر فرد کو درپیش ہیں، لیکن میں سمجھتی ہوں کہ اس سب کے باوجود، ان مصائب کے ساتھ ساتھ اپنی مشکلات کیلئے ہمارے نوجوان خود بھی قصوروار ہیں۔

  نوجوان فرسٹریشن کا شکار کیوں؟ ہم نے بچّوں کو سیلف ایمپلائمنٹ کی تربیّت ہی نہیں دی، اُنہیں ملازمت کرناسکھایا ہے بس، صاف ستھرے کپڑے پہن کے، ٹانگ پہ ٹانگ جما کے دفتر میں بابو صاحب بننے کے شوقین ہمارے نوجوان، محنت اور سعیء مسلسل سے کوسوں دور ہیں۔

 ہمارا نوجوان ایم۔اے یا ایم۔ایس۔ سی کی ڈگری لے کے، نوکری کی تلاش میں سال بھر بےروزگار جوتیاں چٹخاتے رہنا قبول کر لے گا لیکن اپنا چھوٹا سا ٹھیلا لگا کے یا کوئی ہُنر سیکھ کے چار پیسے  کمانے کو عار سمجھا جاتا ہے۔

ہمارے جو بھی پاکستانی بیرونِ ملک سیٹل ہیں، اُن کی کہانی سُنی جائے تو ابتداءً ہر ایک نے وہاں معمولی سے معمولی کام سے ہی آمدن شروع کی جو بتدریج بڑھتی رہی اور چند سالوں میں وہ مکمل طور پہ سیٹل ہو چکے تھے۔

 ہمارا آج کا نوجوان شارٹ کٹ کا متلاشی ہوتا ہے، چاہتے ہیں کہ راتوں رات ڈالرز کی برسات ہو جائے۔ جہدِ مسلسل کیا ہے، اس کا ادراک ہی نہیں رکھتے۔ ورنہ یہیں وطنِ عزیز میں رہتے ہوئے اپنے ارد گرد نگاہ دوڑا کے دیکھیں، جن جن لوگوں نے محنت اور جہدِ مسلسل کو اپنا شعار بنایا، وہ ان سب نامساعد حالات سے نبردآزما ہو کر اپنی اپنی جگہ نہایت کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

 یہیں اپنی سوشل میڈیا کی فرینڈز لسٹ کو کھنگال لیجئیے، بےشمار لوگ صفر سے اُٹھ کے کامیابیوں کے ہمالہ سر کرتے نظرآئیں گے۔ میری اپنی زندگی میں، ہمارے اپنے خاندان نے، ان سب چیلنجز کے ہوتے۔

الحمدللّٰہ صفر سے سفر شروع کر کے آج اللّٰہ پاک کے فضل و کرم سے بہت کچھ حاصل کر چکے ہیں۔ لیکن پھر وہی بات، محنت اور جہدِ مسلسل۔ کہتے ہیں نا کہ There is no short cut to success۔ بس یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔

دوسرا اس مایوسی کی بڑی وجہ مادیّت پرستی ہے۔ آج کے نوجوان نے کامیابی کا معیار صرف اور صرف دولت کے حصول کو بنا رکھا ہے۔ ہماری نوجوان نسل کے پاس بدقسمتی سے نہ تو کوئی دینی اقدار سلامت ہیں، نہ ہی کسی قسم کے اخلاقی پیمانے۔

 بس جو دولت کے انبار لگا لے، وہی کامیاب ترین انسان سمجھا جاتا ہے۔ قناعت پسندی کے ہجّوں تک سے ہماری نوجوان نسل ناواقف ہے۔ میں دولت کے حصول کی خواہش کو غلط نہیں کہہ رہی، لیکن صرف اس ایک خواہش کو ہی سب کچھ سمجھ لینا کہاں کی دانشمندی ہے۔

 جو لوگ اخلاقی اقدار کے حامل ہوتے ہیں اور خدا کی ذات پہ غیر متزلزل ایمان رکھتے ہیں وہ ہمیشہ قناعت پسندی کو شعار بنا کے رکھتے ہیں۔ یہ محض لفّاظی نہیں ہے۔

یورپ کا ویزا

آج کے نوجوان کا سب سے بڑا خواب یورپ کا ویزہ ہے نا۔۔! اور میرے والدصاحب کو آج سے پندرہ سال پہلے یورپ میں ایک اسلامک سینٹر میں بطورِ مذہبی سکالر جاب ملی۔ تین سال اُنہوں نے ڈنمارک میں گزارے۔

 اور سچّی بات ہے کہ اُن تین سالوں نے ہمارے گھر کے حالات یکسر بدل ڈالے۔ وہاں سے آگے بڑھنے کے بےےےشمااار مواقع اُن کے پاس تھے، کسی بھی اور یورپیئن یا سکینڈےنیوین ملک میں بآسانی move کر سکتے تھے۔

 لیکن بہت سے مواقع ہونے کے باوجود ابّو جی نے پاکستان واپسی کا فیصلہ کیا کہ اُس وقت ہم سب بہن بھائی نوجوانی کے دور میں تھے، اور ابّو جی کو شدّت سے احساس تھا کہ عمر کے اس دور میں باپ سے دوری بچّوں کیلئے کسی بھی طرح فائدہ مند نہیں۔

 ابّو جی وہاں کے لوگوں کی بےپناہ عقیدت، محبّت اور اصرار کے باوجود وطن واپس آ گئے اور الحمدللّٰہ نہ اُنہیں اور نہ ہم میں سے کسی کو آج تک اُس فیصلے پہ رتّی بھر پچھتاوا ہوا۔ الحمدللّٰہ اللّٰہ پاک کے فضل و کرم اور ابّوجی کی بروقت رہنمائی نے ہم سب کو اپنی اپنی منازل تک پہنچا دیا۔

سب نے بہترین اداروں سے اعلٰی تعلیم حاصل کی اور آج سب الحمدللّٰہ اپنی اپنی زندگیوں میں کامیاب ہیں، الحمدللّٰہ۔ تو میرے نوجوانو!! پیسہ بہت کچھ ہوتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں لیکن پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا۔۔!! 

آپ کو اگر ربِّ کائنات نے مکمل اعضاء و جوارح سے نوازا ہے، آپ کے والدین نے اپنا پیٹ کاٹ کے آپ کو تعلیم بھی دلوا دی ہے، تو آپ دُنیا کے خوش قسمت ترین انسان ہیں۔

 دنیا کے کسی ملک میں پیسہ درختوں پہ نہیں اُگتا، جہاں بھی جاوء گے، جان مارنی پڑے گی، جی جلانا پڑے گا، تو کیوں نہ یہ محنت، یہ کوشش، یہ سعی، یہ جدّوجہد اپنے گھر، اپنے وطن میں کر لی جائے۔

کسی کام کو معمولی نہ سمجھا جائے، محنت میں عظمت کا راز تلاش کیا جائے۔ مایوسی اور فرسٹریشن ایک مسلمان کو تو ہرگز زیب نہیں دیتی۔ آج کا نوجوان فرسٹریشن کا شکار کیوں ہے؟

Let’s think positive and be happy..

شکوءہ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

لکھاری کاتعارف

ربیعہ فاطمہ بخاری فری لانس کالم نگار ہیں جو سماجی اور عوامی موضوعات پر لکھتی ہیں –

گزشتہ چار سال سے ان کی تحریریں معروف ویب سائیٹس میں شائع  ہورہی ہیں جن میں “دلیل”،”ہم سب”اور”مکالمہ”شامل ہیں۔ان کا تعلق لاہورکےایک علمی کشمیری گھرانے سےہے