ناصر زیدی 

 جناب ناصر زیدی صاحب کا نام ادب کی دنیا میں انتہائ عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔ ایک بہترین شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ، نقاد اور عمدہ نثر نگار بھی تھے۔ مختلف شعراء اور ادبی شخصیات نے کئی جگہ ان کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ناصر زیدی اردو ادب و شاعری کا ایسا نمائندہ ہیں، جو غزل کے بنیادی موضوع،  احساسات اور جذبات کو اپنے شعروں میں پروتا ہے۔ شعر و ادب کی دنیا میں اس اعلیٰ مقام تک  پہنچنے میں ان کی ریاضت اور شب و روز محنت بھی شامل تھیں۔ انہوں نے اپنی زمانہ طالب علمی میں ہی اشعار کہنے شروع کر دیے تھے اور باقاعدہ ادبی زندگی کا آغاز  1966 میں ادبِ لطیف جیسے مشہور زمانہ جریدے

 کی ادارت سے کیا۔ ادبِ لطیف کے علاوہ ماہانہ شائع ہونے والے شمع، بانو، آئینہ، بچوں کی دنیا، امنگ، رنگ و بیاں اور اخبار مصنفین جیسے ادبی اور سماجی رسائل کے مدیر بھی رہے۔ ادب لطیف کے اس دور میں انہوں نے کئی  سالنامے اور یادگار نمبر شائع کیے۔2019  میں غالب نمبر شائع ہوا۔

اس کے ساتھ ساتھ اُنہوں نے تصنیف و تالیف کے ذریعے بھی شاندار کردار کیا۔ اُن کا پہلا شعری مجموعہ “ڈوبتے چاند کا منظر ” پہلی بار 1976 میں شائع ہوا۔ اس کتاب کے شروع میں اپنا تعارف کراتے ہوئے انہوں نے خود کہا کہ “میں فطری طور پر حسن کا پرستار ہوں۔ حسن جہاں ہو، جس رنگ میں ہو، میرے دل و دماغ کی دنیا میں ہلچل پیدا کر دیتا ہے”۔1976 میں شائع ہونے والے اس شعری مجموعے نے بہت پذیرائی حاصل کی۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ لوگوں میں شعری اور ادبی ذوق موجود ہے اور ساتھ ہی شاعر کی مقبولیت بھی بڑی واضع دلیل تھی۔ یہ پہلا ایڈیشن ایک سال سے بھی کم عرصے میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا تھا۔

 “ڈوبتے چاند کا منظر” کا دوسرا ایڈیشن  1977 میں شائع ہوا۔

 بعد ازاں 1979 میں ناصر زیدی صاحب نے اپنے دوسرے شعری مجموعے “وصال” کو ترتیب دیا۔ جس میں حمد، نعت، سلام، غزلیں،   نظمیں اور گیت وغیرہ شامل تھیں۔کچھ عرصے بعد اس کا دوسرا ایڈیشن بھی شائع کیا گیا۔

تیسرا مجموعہ “وارفتگی” کا پہلا ایڈیشن1989 میں شائع ہوا۔ اس میں بہت سے شعراء کرام اور ادب سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی رائے کا اظہار بہت بہترین لفظوں میں کیا ہے۔”ڈوبتے چاند کا منظر” اور “وصال” کے علاوہ “وارفتگی” اور “التفات” بھی ایسے شعری مجموعے ہیں، جنہوں نے بہت پذیرائی حاصل کی اور ان کا دوسرا دوسرا ایڈیشن بھی شائع ہوا. ان شعری مجموعہ کے علاوہ بچوں کی نظموں اور کہانیوں کے کئی مجموعے بھی شائع ہو چکے ہیں۔

شاعری کے ساتھ ساتھ ناصر زیدی صاحب نے مختلف اخبارات جن میں جمہوریت (کراچی)، امروز (لاہور)، پاکستان( لاہور اور اسلام آباد) اور نئی بات (لاہور) وغیرہ میں بھی لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ پرنٹ میڈیا کے علاوہ ریڈیو اور ٹی وی پر بھی طویل عرصے تک نہ صرف فیچر لکھتے رہے بلکہ مشاعروں اور ادبی پروگراموں کی کمپیئرنگ کے فرائض بھی بخوبی انجام دیتے رہے۔ اپنی ادبی زندگی میں ناصر زیدی صاحب نے ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں نظمیں، غزلیں، کہانیاں اور مضامین کے ساتھ ساتھ پرانے شعراء کی زندگی اور حالات پر مضامین بھی لکھے جو مختلف جرائد میں شامل ہوتے رہے۔ ناصر زیدی صاحب کی ادبی و شعری کاوشوں کا ہر سطح پر اعتراف کیا گیا۔ اُن کی مختلف کتابیں انعامات بھی حاصل کر چکی ہیں۔ سماجی و ادبی تنظیموں نے بھی ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں بہت سے ایوارڈز اور شیلڈ سے نوازا۔ ان میں نقوش ایوارڈ اور ہمدرد فاؤنڈیشن ایوارڈ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

ناصر زیدی صاحب کی سب سے بڑی خوبی جو انہیں دیگر شاعروں اور ادیبوں سے ممتاز کرتی تھی وہ یہ کہ انہیں کئی شعراء حضرات کے لاکھوں اشعار، پوری صحت اور صحیح زِیر، زَبر، پیش کے ساتھ یاد تھے اور عمر کے آخری حصے تک مختلف اخبارات میں “بادشمال” کے نام سے جو  کالم انہوں نے لکھے، ان میں بے وزن اور غلط اشعار کو درست کرتے رہے اور بتاتے رہے کہ یہ کس شاعر کا شعر ہے۔ کالم کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مجھے کئی لوگوں کی طرف سے ٹیلی فون موصول ہو چکے ہیں کہ زیدی صاحب کے ان کالمز “بادِ شمال” کو یکجا کرکے کتابی شکل میں شائع کیا جائے اس طرح سے ادب کی دنیا میں یہ ایک بہت بڑی خدمت مانی جائے گی۔

ناصر زیدی صاحب نے کئی جگہ اپنے انٹرویوز میں بتایا کہ میں لاہور میں پلا بڑھا ہوں اور اسی زندہ دل لوگوں کے شہر میں شاعری اور ادب و صحافت سے منسلک ہوا۔ زمانہ طالبعلمی میں اسلامیہ کالج لاہور کے ادبی مجلاء “فاران” کا مدیر بنا۔ اس کے بعد خواتین اور بچوں کے بھی کئی رسالوں کا مدیر رہا۔ میں لاہور سے اسلام آباد منتقل ہوگیا۔ اسلام آباد میں  پاکستان رائٹرز گلڈ کی مرکزی و صوبائی کمیٹی کا  کا مستقل رکن رہا۔

ناصر زیدی صاحب شعری مجموعوں کے علاوہ  کئی کتب کے مولف و مرتب بھی رہے ہیں۔ جن میں ناقابل فراموش نعتیں ،

ایک سو ایک معیاری نعتیں، ناقابل فراموش افسانے، منتخب افسانے،سلام و کلام، 1970 کے منتخب افسانے ،1986 کے بہترین افسانے، ناقابل فراموش غزلیں وغیرہ شامل ہیں. بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح پر لکھی گئی کتاب “وہ رہبر ہمارا وہ قائد ہمارا” علامہ محمد اقبال پر لکھی گئی کتاب “بیادِ شاعر مشرق” اور  وادی کشمیر جنت نظیر پر لکھی کتاب “کشمیر ہمارا ہے، کشمیر ہمارا ہے” نے بھی بہت مقبولیت حاصل کی۔ ناصر زیدی صاحب ریڈیو پاکستان لاہور سے ادبی پروگرام “تخلیق” کی میزبانی بھی کرتے رہے ہیں۔ ان کا ریڈیو کالم “بقلم خود ناصر زیدی” اور “بک شیلف” بھی کافی عرصہ ریڈیو لاہور سے نشر ہوتے رہے ہیں۔

ان کی بے ساختہ لکھی گئی تحاریر پڑھنے والوں کو ایک نئے ذائقے سے روشناس کراتی ہیں۔ ناصر زیدی نے اپنی شاعری میں ہر رنگ سمو رکھا ہے، جو کلام کو پُر اثر بناتا ہے۔ زیدی صاحب کی انفرادی پہچان ٹی وی اور ریڈیو کے مستقل مشاعروں کی میزبانی ہے۔ نیز آپ کا ایک اعزاز یہ بھی ہے کہ آپ الیکٹرانک میڈیا پر محافل مسالمہ کی عرصہ دراز تک کمپیرنگ کرتے رہے۔ 

ناصر زیدی صاحب ایک ممتاز شاعر کی حیثیت سے سے جانے جاتے تھے. وہ ایک بہت ملنسار شخصیت تھے اور دوسروں کے لئے درد رکھتے تھے۔ وہ اپنی جمع کی ہوئی کتابوں سے بہت پیار کرتے تھے۔ ہمارے گھر کم از کم پچیس ہزار کتابوں کی ایک ضخیم لائبریری میں موجود تھی۔ کئی یونیورسٹیوں کے سٹوڈنٹس اور کئی ایسے لوگ جو ادب و صحافت سے تعلق رکھتے تھے، ہمارے گھر آتے تھے اور والد صاحب کے ساتھ کتابوں کو صاف ستھرا رکھنے میں مدد دیتے تھے۔ نیز اپنی معلومات میں اضافہ کرتے تھے۔ میرے والد صاحب کا حافظہ ایسا تھا کہ بڑے بڑے شعراء اکرام بھی اشعار کے بارے میں ان کے علم سے استفادہ کرتے تھے۔

ناصر زیدی صاحب بہت عرصے تک پاکستان کے مختلف صدور اور وزرائے اعظم کے سپیچ رائٹر بھی رہے۔ جن میں محمد خان جونیجو، غلام اسحاق خان، بے نظیر بھٹو،  بلخ شیر مزاری، معین قریشی، غلام مصطفی جتوئ، ملک معراج خالد، نوازشریف اور جنرل پرویز مشرف بھی شامل ہیں۔  

آپ ہمیشہ کہتے تھے میں نے اپنی ہر شعر میں اپنے تجربے کو منتقل کرنے کی کوشش کی ہے۔ جیسے جیسے اور جو جو محسوس کیا وہ ان میں سمونے کی کوشش کی ہے۔

فن کو میرے کوئی کچھ بھی سمجھے

میں اپنی نظر سے دیکھتا ہوں

ناصر زیدی نے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ شعر و ادب کو دیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ زیدی صاحب کا اوڑھنا بچھونا شعر تھے تو غلط نہ ہوگا۔ جس طرح کوئی شخص اس لیے سانس لیتا ہے کہ وہ زندہ رہے گا تو یہی سمجھ لیں کہ شاعری ناصر زیدی صاحب کی زندگی تھی۔

ناصر زیدی صاحب کی زندگی اور شخصیت و فن پر مختلف یونیورسٹیوں کے ادب و صحافت کے طالبعلموں نے مقالے بھی لکھے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اللہ تعالی ان کے درجات بلند کرے۔ آمین۔

یہ تعارفی تحریر ناصر زیدی مرحوم کے صاحبزادے جناب سید حسن زیدی نے لکھی ہے اور ادیبوں کے تعارفی سلسلے کے لئے پریس فار پیس فاؤڈیشن کو فراہم کی گئی ہے ۔

Leave your comment !