تحریر سالک محبوب اعوؔان

جب یہ فیصلہ ہوا کہ زمین پرانسان کو خلیفہ بنا کر بھیجا جائے گا تو راندۂ درگاہ نے انسان کو  اس کے عہدۂ جلیلہ سے معزول کرنے کے لیے قیامت تک کی مہلت چاہی۔ مانگنے والے کو مہلت تو مل گئی  لیکن مہلت دینے والی ذات نے انبیاءکرام کا پاکیزہ  سلسلہ بھی شروع کر دیا ۔ یہ تمام انبیاء معصوم تھے اور جو ان کےبتائے ہوئے  راستے پہ چلا اُس نے فلاح پائی اور ابلیس کے منصوبے کو ناکام کیا۔ پھر وہ گھڑی بھی آ گئی جب مکہ کی کھاٹیوں  سےشمعِ  ختمِ نبوت کا ظہور ہوا اور اس شمع کے گرد جمع ہونے والے   پروانے صحابہ کرامؓ کے عہدۂ جلیلہ پر فائز ہوئے۔ اِس شمعِ رسالت کا نام حضرت محمد ﷺ اور عہدہ خاتم الانبیاء اور امام الانبیاء ٹھہرا۔

آپﷺ کی ذاتِ مبارکہ اتنی عظیم ہے کہ آپ ﷺ کی محبت ایمان کی شرطِ اول قرار پائی۔ کفار آپﷺ کو بُرا بھلا کہتے تو ایمان کے پیکر صحابہ کرامؓ سے یہ کیسے برداشت ہوتا کبھی دست بہ دست لڑائی سے اِس کا جواب دیتے اور کبھی آپﷺ کی توصیف سے۔  صحابیِ رسول حضرت حسان ابنِ ثابت ؓ نے کس خوبصورت انداز میں آپﷺ کی عظمت کو بیان کیا کہ

          ” آپﷺ ہر عیب سے پاک  تخلیق ہوئے، گویا کہ آپﷺ کی تخلیق ویسی ہوئی جیسا کہ آپ ﷺنے چاہا” ۔

یہ وہ اشعار تھے جنہوں نے نعت گوئی کی ابتدا کی اُس کے بعد تو متعدد صاحبِ ایمان حضرات نے اپنے پیارے نبیﷺ کی تعریف و توصیف بیان کرنے میں اپنا اپنا انداز اپنایا۔ دُنیا کی بے شمار زبانوں میں مدحتِ رسولﷺ بیان کرنے والے صاحبِ قلم اوراہلِ سخن پیدا ہوئے ۔ عرب سے یہ فن فارس منتقل ہوا تو جاؔمی جیسے نام پیدا ہوئے ، اہل فارس سے یہ فن ہند آیا تو حاؔلی، اقبؔال،کاکورؔوی، رؔضا   اور نصیؔر جیسے اُردو زبان کے نعت گو شعراء نے جنم لیا جنہوں نے اپنے  نبیﷺ کی شان میں ضرب المثل اشعار کہے۔

جاتی بہار کا موسم تھا اور رمضان المبارک کا بابرکت  مہینہ، یوں ہی ایک صبح فرہاد احمد فگاؔر کے ہاں جانا ہوا کچھ دیر گفتگو کے بعد کہنے لگے چلو تمھاری مُلاقات ایک خوب صورت شخصیت سے کرواتا ہوں۔ چنانچہ کچھ ساعتوں بعد ہم بغیر کسی  پیشگی اطلاع کے ایک گھر کی دہلیز پر تھے۔ چند لمحوں بعد ایک نرم مزاج شخصیت نے ہمارا استقبال کیا اور گھر سے ملحق دالان میں بیٹھایا ۔موسم نہایت خوش گوار تھا جس میں بہار اور رمضان کے ملے جُلے اثرات تھے، ہمارے ارد گرد ہریالی تھی اور ہوا میں پھولوں کی مہک بھی شامل ہو گئی۔ علیک سلیک کے بعد فگؔار صاحب نے تعارف کروایا کہ یہ ہیں محترم جاوید الحسن جؔاوید جن سے مُلاوات کی غرض سے ہم آئے ہیں۔ اس کے بعد تو ہماری گفتگو کا ایک دور چل نکلا جو لگ بھگ دو گھنٹوں کو محیط تھا۔ الوداع ہونے سے پہلے محترم جاوید صاحب نے احقر کو اپنا مجموعہ نعت “مہجورِمدینہ” پیش کیا اور اپنی پُرخلوص محبتوں کے سائے میں رُخصت کیا۔ گھر پہنچتے ہی رہا نہ گیا اور مطالعہ شُروع کر دیا اور میری اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ اس میں اتنی لذت محسوس ہوئی کہ دو ہی نشتوں میں پورا مجموعہ مکمل کر لیا۔ اس مجموعے کو پڑھنے کے بعد میں محترم جاوید صاحب کے بارے میں وہی کہوں گا کہ جو ایک انگریز ڈی-ایس مارگولیس نے کہا تھا کہ

“حضرت محمدﷺ کے سیرت نگاروں کا ایک طویل سلسلہ ہے جس کو ختم کرنا ناممکن ہے لیکن اِس میں جگہ پانا باعثِ شرف ہے”

جاوید صاحب کبھی شعب  ابی طالب کے منظرکو اشعار میں پروتے تو کبھی خدا سے عشقِ نبیﷺ کی تڑپ کی دعا کرتے نظر آتے ہیں ۔  کبھی درودوسلام کے نذرانے پیش کرتے ہیں  تو کبھی ابولہب و سامری کو للکارتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ کبھی آنکھیں بند ہونے پر زیارت کی تمنا کرتے اور کبھی خاکِ طیبہ میں مدفن کی التجا کرتے ہیں۔ کبھی معصوم سی یہ خواہش کہ میں حضرتِ حسانؓ کا خادم ہوں تو کبھی صدیقؓ و علیؓ کی سیرتِ مبارکہ سے تعریفِ نبی ﷺ کے موتی بکھیرتے نظر آتے ہیں۔کبھی ختمِ نبوت کا نعرۂ مستانہ بلند کرتے پائے جاتے ہیں اور کبھی نعت کی فصلوں کا ایک دہقان۔ مجھے یہ حیرت تھی کی انگریزی ادب کا طالبِ علم اُردو زبان و ادب میں کیسے دل چسپی ظاہر کر سکتا ہےتو یہ عقدہ جاوید صاحب نے خود ہی اپنے اس کلام میں کھولا۔

؂        اُردو زبان سے مجھ کو محبت ہے اس لیے

زندہ ہے یہ زبان، محمدﷺ کے نور سے

          یوں تو سارا مجموعہ ہی عمدہ ہے تاہم اس مجموعے سے احقر کو جن اشعار نے بہت متاثر کیا وہ حسبِ ذیل ہیں۔

؂        میں اُن کے رُو بہ رُو اشکوں  سے رُودادِ وفا کہتا

وہ میرا غم سمجھ جاتے میں ایسا بے زباں ہوتا

واہ کیا بات ہے حُبِ نبیﷺ کی اورمحترم جاوید صاحب کے انداز محبت کا کیا کہنا کس خُوب صورت انداز میں عقیدت کا اظہار کیا کہ حضورﷺ کی ذاتِ مبارکہ کے آگے ہماری کوئی حیثیت ہی نہیں اور حضورﷺ کے بلند مقام کا کیا کہنا کہ ہم کچھ کہہ بھی نہیں سکتے اور وہ سمجھ جاتے ہیں۔ مجھے تو اس شعر میں سورۃ الحجرات کی اس آیتِ مبارکہ کا عکس نظر آتا ہے کہ جس میں حکم ہوا کہ اپنی آوازوں کو نبیﷺ کی آواز سے بلند نہ کرنا ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔

؂        محبت گر نہیں ان سے تو پھر ایمان کیا ہو گا

اگر ایمان ہو دِل میں محبت ہو ہی جاتی ہے

ایمان کی پہلی شرط ہی یہی ہے کہ دِل میں حضورﷺ کی محبت بسی ہو اور اسی بات کو جاوید صاحب نے بہت خُوب صورت انداز میں شعر میں پرویا اور یوں لگتا ہے جیسے جاوید صاحب اُس کو للکار رہے ہیں جو دِل میں حُبِ نبیﷺ نہ رکھتا ہو اور مسلمان ہونے کا دعویٰ بھی کرے اور مزید یہ کہ محترم جاوید صاحب نے ان دو اشعار میں ادب کا خیال کرتے ہوئےنہایت عُمدہ انداز میں  حضورﷺ کا نام مبارک بھی نہ لیا اور بآدب اس دربار میں اپنی حاضری بھی لگوا لی۔آخری بات جو مجھے بہت پسند آئی وہ یہ شعر کہ

؂        سرکارﷺ کے خادم سے نسب پوچھتے کیا ہو

                                                                                                                                                                                                   میں نعت کا شاعر ہوں حسب پوچھتے کیا ہو

بات بھی حقیقت ہے وہ جوعالی نسب قریش ہونے پہ اِتراتے تھے وہ  ابو لہب و ابو جہل کہلائے اور وہ جنہیں حبشی اور غلام کہتے مؤذنِ رسول کہلائے۔ اصل غلامی تو غلامی رسولﷺ ہے کون جانتا ہے نسب کیا تھا لیکن سب جانتے ہیں کہ وہ غازی علم الدین شہیدؒ تھا  جس کے بارے میں اقبؔال نے کہا کہ شاہ جی ترکھانوں کا لڑکا بازی لے گیا۔ میری دُعا ہے کہ اللہ تعالٰی جاوید صاحب کو صحت کے ساتھ درازئ عمر عطا فرمائے اور اس کاوش کو اُن  کے لیے توشۂ آخرت کے طور پر قبول فرمائے