مصطفیٰ توحید

کسی کے  پیار نے  مارا  مجھے ہے
جہاں  میں  کردیا  تنہا  مجھے ہے

وہ ہر پل اب بھی میرے پاس ہی ہے
یہ سچ ہے یاکہ واہمہ  مجھے ہے


مجھے بانہوں میں بھر کر دل لگا کر
وہ کاوش سے گلے  ملتا مجھے ہے 

  میں کیسے مان لوں یہ بات اسکی
کہ ساری عمر بس سوچا مجھے ہے 

نئے امکاں  ہیں اسکی شاعری  میں
وہ غالب کو نہیں پڑھتا مجھے ہے

محبت  دے یا  نفرت  وہ  کرے  اب
وہ جیسا ہے بہت  بھایا مجھے ہے 

زمانے   سے   بہت  ہی  دور  توحید   
فصیل وقت  نے   رکھا مجھے ہے

Leave your comment !