تحریر: سید ممتاز علی بخاری
تقسیم برصغیر کے وقت ہندوستان میں دو قسم کے نظام رائج تھے۔ ایک وفاق کا اور دوسرا جاگیریں اور ریاستیں تھی۔ان ریاستوں کی تعداد تین سو پچاس کے لگ بھگ تھی۔ ریاستوں کو برطانوی حکومت کی جانب سے تین آپشنز دئے گئے۔ اول وہ بھارت کے ساتھ الحاق کرلیں. دوم وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرلیں اور سوم اگر کوئی ریاست آزاد رہنا پسند کرے تو اسے اس کی اجازت ہوگی۔
اکثریت میں ریاستوں کے والیوں اور نوابوں نے اسی وقت بھارت اور پاکستان سے الحاق کرلیے۔ چند ریاستوں نے آزاد حیثیت میں رہنا اپنے لیے پسند کیا۔ ان ریاستوں میں ایک ریاست جموں کشمیر بھی تھی۔ جموں کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے پہلے تو ریاست کے خودمختار رہنے کا اعلان کیا ۔بعدازاں عوامی بغاوت پر قابو نہ پا سکا اور بغاوت کے خلاف مدد کی خاطر بھارت سے الحاق کرلیا۔ انتہائی دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی ریاستوں جوناگڑھ، مناوار  اور حیدرآبادپر بھارت نے زبردستی قبضہ کرلیا اور آج وہ بھارت کا حصہ ہیں۔ ان ریاستوں نے تھوڑی بہت مزاحمت کی اور پھر وہ بھارت کی طاقت کے ہاتھوں بے بس ہو کر رہ گئے اور آج وہ لوگ بھارت کا علم بلند کیے ہوئے ہیں۔ فوج کشی کی یہ کوششیں صرف انہی ریاستوں تک محدود نہیں رہی۔ ہندوستان تو پاکستان سے بھی کئی جنگیں کر چکا ہے کیونکہ تقسیم برصغیر کو ہندو ابھی تک تسلیم نہیں کرسکے۔ ریاستوں پر قبضے کے یہی عزائم لے کر بھارت ریاست جموں کشمیر پر بھی حملہ آور ہوا اور رہاست کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ یہاں انڈیا کو اندازہ نہیں ہوا کہ اس کا پالا کس قوم سے پڑا ہے۔ کشمیر کے چوٹی کے چند سیاسی رہنماوں کے بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ کے باوجود ریاست کی اکثریت نے بھارت کے اس ناجائز قبضے کو آج تک نہیں مانا اور دوسری ریاستوں کے برعکس مزاحمت کا وہ راستہ پسند کیا جس میں تہتر سالوں میں کمی نہیں آئی… ایک لاکھ سے زائد شہادتیں ہوئیں، گاؤں کے گاؤں تباہ کردیے گئے۔ بے حساب لالچیں دی گئی لیکن مرحبا ہے ان پر جو استقامت پر رہے۔ جنہوں نے اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔ آج بھی کشمیر میں کئی دیہات “آدھی بیواؤں” سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ وہ خواتین ہیں جنہیں علم نہیں کہ ان کے خاوند زندہ ہیں یا بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں۔
کشمیری عزم و ہمت اور بہادری اور شجاعت کی وہ مثالیں قائم کرچکے ہیں جس کی نظیر ممکن نہیں۔
گزشتہ برس مودی کی حکومت نے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کیا تو اسے بخوبی علم تھا کہ یہ قوم کسی لالچ میں نہیں آئے گی اور نہ ہی ضمیر کا سودا کرے گی۔ اس لیے اس نے پورے مقبوضہ کشمیر کو ایک جیل میں بدل دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب مقبوضہ علاقے میں بسنے والوں کی امیدیں آزادکشمیر اور پاکستان سے وابستہ تھیں۔ یہ وہ وقت تھا جب عالمی سطح پر ایسی کوششیں کی جانی چاہیے تھی جو ریاست کو ظپم و استبداد سے چھڑاسکیں لیکن افسوس ہم نے ایک عظیم موقع گنوادیا۔ ہم اپنے بھائیوں اور بہنوں کو ظالم ہندو دہشت گردگروہوں کے سپرد کے کے چین اور سکون کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کسی بھی سطح پرکشمیر کے مظلوموں کی مدد کے لیے کوئی لائحہ عمل مرتب نہیں ہوا۔ ہر کوئی ذاتی انا ، ہٹ دھرمی اور ذاتی مفاد کے پیچھے بھاگ رہا ہے اور پاکستان کی شہ رگ لہولہان ہے۔

لکھاری کا تعارف
نام: سید ممتاز علی بخاری تخلص: مجاہد پتہ: جبی سیداں تحصیل و ضلع حویلی کہوٹہ آزادکشمیر
 سید ممتاز علی بخاری کالم نگار ،افسانہ نگار اور شاعر ہیں -جامعہ کشمیر سے ارضیات میں ایم فل کر چکے ہیں۔ ادب سے خاصا شغف رکھتے ہیں۔ عرصہ دس سال سےطنز و مزاح، افسانہ نگاری اور کالم نگاری کرتے ہیں۔۔ طنز و مزاح پر مشتمل کتاب خیالی پلاؤ جلد ہی شائع ہونے جا رہی ہے۔ گستاخانہ خاکوں کی سازش کو بے نقاب کرتی ایک تحقیقاتی کتاب” عصمت رسول پر حملے” شائع ہو چکی ہے۔ بچوں کے ادب سے بھی وابستہ رہے ہیں ۔ مختلف اوقات میں بچوں کے دو مجلے سحر اور چراغ بھی ان کے زیر ادارت شائع ہوئےہیں۔ مختلف آن لائن فورمز اور ویب سائٹس پر سماجی اور معاشرتی ایشوز پر گاہے بگاہے لکھتے رہتے ہیں۔