تحریر: غلام زادہ نعمان صابری
سات اگست 2021 بروز ہفتہ ملتان ٹی ہاؤس میں قومی کانفرنس برائے ادب اطفال منعقد کی گئی۔
کانفرنس کا موضوع” کورونا کی صورت حال میں اہل قلم کا کردار” تھا.
سال 2019 کے آخری ایام میں کورونا کی وبا نے سر اٹھایا اور پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یوں  2020 کی قومی کانفرنس برائے ادب اطفال اسی وجہ سے منعقد نہیں ہوسکی تھی۔ اس سال اللہ پاک کی توفیق و عنایت سے کانفرنس کا انعقاد ممکن ہوا۔ حالاں کہ کورونا کی وجہ سے حالات اب بھی سازگار نہیں تھے۔ آخری وقت تک کچھ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ حالات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔
ایسی ادبی تقریبات کے انعقاد کا مقصد لکھاریوں کی حوصلہ افزائی اور مقابلوں میں کامیاب ہونے والے  امیدواروں کو ایوارڈز اور اسناد سے نوازنا ہوتا ہے تاکہ ان کی ادبی خدمات کو پذیرائی ملے اور آئندہ کے لیے وہ  بہتر سے بہتر ادبی خدمات سر انجام دے سکیں۔
قومی کانفرنس برائے ادب اطفال اپنے مقررہ وقت پر شروع ہوئی۔ تمام مہمانانِ گرامی وقت پر تشریف لائے۔کمپیئرنگ کے فرائض پروفیسر روحان دانش صاحب نے نہایت خوبصورت آواز و انداز میں ادا کئے۔تلاوت قرآن مجید سے کانفرنس کا آغاز ہوا جس کی سعادت قاری ہدایت اللہ نےحاصل کی۔نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ پڑھنے کا شرف     نےحاصل کیا۔
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر صاحب کی زیر صدارت منعقد ہونے والی اس قومی کانفرنس برائے ادب اطفال کےمہمانان گرامی میں احمد حاطب صدیقی صاحب،ضیغم مغیرہ صاحب، فہد کلیم خان صاحب، خواجہ مظہر صدیقی صاحب،معروف مذہبی سکالر علامہ ناصر مدنی صاحب، اظہر سلیم مجوکہ صاحب،احمد عدنان طارق صاحب اور ارشد اقبال بھٹہ صاحب جیسی معتبر شخصیات شامل تھیں۔مقررین نے قومی کانفرنس کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی اور کورونا کے تعلیمی،معاشی اور سماجی مضمرات پر روشنی ڈالی۔
شدید گرمی اور حبس کے باوجود ملک بھر سے ادیبوں، کالم نگاروں اور لکھاریوں نے بھر پور شرکت کی۔ شرکاء کانفرنس نے اس تقریب کے انعقاد کو وبا کے دنوں میں ہوا کا خوشگوار جھونکا قرار دیا اہل قلم حضرات کا کہنا تھا کہ اس قومی کانفرنس کے علم و ادب کی ترویج اور ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔مقررین کے خطابات کے دوران کانفرنس کے تسلسل کو نہایت خوبصورتی سے برقرار رکھتے ہوئے لکھاریوں کو انعامات و اسناد سے بھی نوازا جاتا رہا۔۔

چیف ایڈیٹر علی عمران ممتاز، ایڈیٹر غلام زادہ نعمان صابری اور منیجنگ ایڈیٹر عبدالرحمن رزاقی علامہ ناصر مدنی صاحب کو پھولوں کا گلدستہ پیش کرتے ہوئے


اس کانفرنس میں پروفیسر محسن بھٹی   نے یاداشت بہتر کرنے کے طریقے بتلائے اور لافٹر تھراپی کے عنوان سے  صائمہ علی صاحبہ نے بڑے مدلل انداز میں خوش رہنے کے طریقے سمجھائے۔بچوں کے معروف ادیب اور کتب کثیرہ کے مصنف احمد عدنان طارق صاحب نے کورونا کے دنوں میں بچوں کو کتاب بینی کی طرف راغب کرنے کا مشورہ دیا۔مشہور جاسوسی کہانیوں اور ناولوں کے مصنف مظہر کلیم ایم اے مرحوم کے صاحب زادے فہد کلیم خان صاحب نے اپنے والد محترم کے ادبی کارناموں پر تفصیل سے روشنی ڈالی اورموجودہ دور میں بچوں کے ادب پر سیر حاصل گفتگو کی۔خواجہ مظہر صدیقی صاحب نے اپنے خوبصورت انداز میں شاعری اور  مزاح سے بھرپور اور پراثر خطاب کیا۔


سنئیر ادبی شخصیات ا حمد حاطب صدیقی ،ڈاکٹر افتخار کھوکھر اور ضیغم مغیرہ کو کانفرنس میں شرکت آمد پر پھولوں کا گلدستہ پیش کیا گیا 


علامہ ناصر مدنی صاحب اس کانفرنس کے آخری مقرر تھے جنہوں نے اپنے مخصوص انداز میں چٹکلوں اور طنز و مزاح سے بھرپور خطاب کیا اور معاشرتی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ کانفرنس میں شریک سبھی مہمانوں نے خوب لطف اٹھایا۔کشمیر جنت نظیر ایوارڈ جو 2020 کی سالانہ قومی کانفرنس میں دینا تھا وہ اس سال یعنی 2021 کی سالانہ قومی کانفرنس میں دیا گیا۔ سن 2020 کی قومی کانفرنس برائے ادب اطفال کورونا کی وجہ سے اجازت نہ ملنے کے سبب ملتوی کردی گئی تھی۔
کشمیر جنت نظیر ایوارڈ بہترین کہانی پر اول انعام ڈاکٹر ادیب عبد الغنی شکیل،بہترین کہانی سوئم  سلمان یوسف سمیجہ، بہترین مضمون اول عمر شوکت، بہترین نظم اول ارسلان اللہ خان، بہترین نظم دوئم طاہرہ طلعت ، بہترین نظم دوئم احمد شفیق، بہترین نظم سوئم  محمد رمضان شاکر کو دیا گیا۔


جاسوسی کہانی مقابلے میں کامیاب ہونے والے لکھاریوں میں مظہر کلیم ایوارڈز تقسیم کیے گئے جو ان کے صاحب زادے فہد کلیم خان نے اپنے دست مبارک سے دیئے۔ایوارڈز یافتگان میں علی حیدر،محمد اکمل معروف اور محمد شاہد اقبال شامل تھے۔
اعتراف خدمت ایوارڈ سے غلام زادہ نعمان صابری، عبد الرحمٰن رزاقی، حاجی لطیف کھوکھر، راؤ طاہر شہزاد، ہارونہ آپی، مجید احمد جائی، محمد زبیر ارشد، روحان دانش، اعظم سعید، منصور نقشبندی، عرفات ظہور، ارسلان سرفراز، یونس جاوید، اقبال بلال،احتشام الحق، عبد القادر فیاض، اسامہ آصف،غلام مصطفیٰ، میاں وقاص فرید قریشی، عتیق نائچ، مختار حسین سومرو، امان اللہ نیر شوکت، قاری محمد عبداللہ، عبد الصمد مظفر پھول بھائی، محمد نادر کھوکھر، مدثر، امجد نظیر، ثمینہ طاہر بٹ، صبا سلیم کو نواز گیا۔
بچوں کا پرستان ایوارڈ ایک ہی تھا جو مدیر اعلیٰ امان اللہ نیر شوکت کی جانب سے رحمانہ بنت اشرف کو دیا گیا۔
ادب دوست ایوارڈ جمیل ہاشمی،عمران علی اعوان، ڈاکٹر افتخار کھوکھر، ضیغم مغیرہ ،زاہد بلال قریشی ، پروفیسر عنایت علی قریشی، خواجہ مظہر صدیقی، علامہ ناصر مدنی، ارشد اقبال بھٹہ، فہد کلیم خان اور اظہر سلیم مجوکہ کو دیا گیا۔
کرن کرن روشنی ایوارڈ رضوان شہزاد، ماہ نور نعیم، نمرہ ملک،ملک محمد احسن، علی حسنین تابش،ندیم اختر، عابد معراج، اظہر محمود شیخ، صائمہ علی، انجینئر محسن بھٹی اور سحرش ناز کو دیا گیا۔
دو مہمانوں کو خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا جن میں احمد عدنان طارق اور محترمہ تسنیم جعفری صاحبہ شامل تھیں۔کانفرنس کے اختتام پر تمام مہمانوں کی تواضع کی گئی۔ دوسرے شہروں سے تشریف لائے ہوئے مہمانوں کو محترم مختار حسین سومرو صاحب نے پر محبت عشائیہ دیا۔ اور یوں شان و شوکت سے منعقد ہونے والی یہ قومی کانفرنس برائے ادب اطفال اپنے اختتام کو پہنچی۔

Leave your comment !