مجھے تم دربدر کردینا، مظہراقبال مظہر

مظہراقبال مظہر

مجھے تم در بدر کردینا

میرا دل اپنا گھر کردینا


میں جب بھی نکلوں انجانے سفر پر

اپنی یادوں کو میرا ہم سفرکردینا


گئے لمحوں کی سوغات بن کر

چشمِ نم کو تم معطر کر دینا


کوئی لمحہ خطا کا ، جب ڈسنے لگے

ایک احسان کرنا، درگزر کر دینا

Previous post آزاد کشمیر کے طلبا میڈیکل کالجز کے اضلاعی کوٹے میں کمی پر مایوسی کا شکار
Next post مائدہ شفیق کا پہلا ناول “پاکبا ز” تبصرہ نگار ، ظہیر احمد مغل