تحریر : ش م احمد 
 رواں ماہ کے وسط میں چشم ِفلک نے یاس والم کےساتھ لاہور میں خونین مظاہرے اور مظاہرین کے خلاف جنگ نما پولیس ایکشن دیکھا۔ ان ناگفتہ مناظر میں ایک جانب عشقِ رسول ﷺ کے دعوے داروں کا حربی کردار متحرک تھا ، دوسری جانب پولیس کے چاق وچوبند مسلمانوں کا جنگی کردار ۔خون آشامیاں دیکھ کر مورخ خود سے پوچھ رہاتھا کہ یہ جدید طائف پیرس میں سجا ہے یالاہورمیں؟ یہ  سنگ وخشت اور گولیاں گستاخِ رسولؐ فرانسیسی صدر میکرون پر برس رہی ہیں یا اپنے ہی بھائی بند ایک دوسرے کے درپئے آزار ہیں ؟ اگردونوں فریق کلمہ گو ہیں ، محمد عربی ﷺ کے اُمتی ہیں ، سرور کونین ﷺ کے تئیں محبت واحترام سے بہ دل وجان سر شار ہیں ، ایک ہی قبلہ وقرآن ماننے والے ہیں تو پھر عبادت و مواخات کے مبارک ماہ میں یہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے کیوں ؟ ان میں ظالم کون اور مظلوم کون ؟یہ دو متحارب گروہ دشمنی کی آگ اور منافرت کا دُھواں کیوں اُڑارہے ہیں؟ اِدھر شدید پتھر اؤ، اُدھر گولی باری۔۔۔ مطلب کیا ہے ا س کا؟ لاشیں ، آگ زنیاں ، ٹریفک خلل پذیر ، کئی یرغمال شدہ پولیس والوں کا زد وکوب ۔۔۔ یہ سب کس صحیفۂ’’ عشق‘‘ میں درج ہے ؟ کیا قرآن کی کتاب ِ عشق میں درج نہیں کہ اللہ زیادتی کر نے والوں کو پسند نہیں کرتا؟ خطا جس کی بھی ہو کیا رسولِ اسلامﷺ اس گناہ کبیرہ میں ملوثین کو اپنا اُمتی مانیں گے ؟ پھر آپﷺ کے حلم و برباری سے یہ لڑاکا لوگ کیا مراد لیتے ہیں ؟

چوک یتیم خانہ لاہورکے سانحات پر تاریخ ہمیشہ خامہ ٔ تر دیدہ سے پو چھے گی : محمد رسول اللہ کے متوالے عشق نبی ﷺ کے نام پر کیونکر دھماچوکڑی مچاسکتے ہیں ؟ ایک مسلم سلطنت کے مسلح دستے ریاستی رِ ٹ قائم کر نے عنوان سے کیونکر اتنے کھٹورہوسکتے ہیں کہ اپنے ہی بھائیوں کےخلاف ایسی جنگ چھیڑیں جیسے وہ کسی دشمن قوم کو اپنی سر زمین سے مار بھگارہے ہوں؟ ہے کوئی جواب؟ اگر بالفرض یہ خونین مناظر کرسیٔ اقتدار کی چھینا جھپٹی پر، کسی وراثت کی تقسیم پر ، کسی سیاسی مقابلہ آرائی پر ، کسی انتخابی صف بندی پر دیکھے جا تے تو مارکٹا ئی کے پیچھے مال ومنال اور حرص وہوس کی کارفرمائی سمجھی جاسکتی مگر یہاں تو معاملہ بالکل باکل بالکل اُلٹا ہے ، جگ ہنسائی والا معاملہ۔ 

       اپریل کےمظاہرے تحریک لبیک پاکستان ( ٹی ایل پی) نے منظم کئے تھے ۔ یہ لوگ بظاہر تمام حساس اور باضمیر مسلمانوں کا برحق مطالبہ لئے سڑکوں پر اُترے کہ فرانس کے سفیر کو پاکستان سے نکالا جائے کیونکہ اُس ملک کے دریدہ دہن اور خبیث روح والے صدر میکرون نے ناموسِ رسالت ﷺ پر گزشتہ برس اُنگلی اُٹھانے کا ناقابلِ معافی جرم کیا تھا ۔ بلاشبہ حکومت کی طرف سے یہ مطالبہ بلا چوں وچرا ماننا عشق نبی ﷺ کا ادنیٰ ترین تقاضا تھا ۔اگر پاکستان کو ریاست ِمدینہ میں بدلنے کاخواب دکھا نے والے عمران خان کی ٹانگیں اس معمولی مطالبے پر بھی لڑ کھڑائیں تو یہ کاہے کی ریاست ِ مدینہ ہوئی ؟ مسلمانوں کے ایک جنیون مطالبے کے بارے میں حکومت کی ڈانواں ڈول پالیسی پر تحریک لبیک کاسیخ پا ہوناقابل فہم تھا مگر ان کا تشدد پر اُترآنا اور جوابی تشدد کو دعوت دینا کوئی دانش مندی نہ تھی ۔ عقل کہتی ہے کہ حکومت نےاس مطالبے کے بارے میں تحریک سے جو تحریری معاہدہ کیا تھا ،اس کے عین مطابق فرانسیسی سفیر کو اسلام آباد سے فارغ کیاجاتا، اللہ اللہ خیر صلا۔ بجائے اس کے حکومت نے پہلےطویل تاخیر سے ایل پی ٹی کا غصہ جگایا ، پھر احتجاجی کارکنوں پر بندوقیں تان لیں، پھرانسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت بیک جنبش قلم تنظیم کوکالعدم قراردیا، آخر پر تحریک کے قائد سےجیل میں مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا۔ کیا اسے سیاسی بصیرت کہیں گے؟ 
 یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ محبت اور احترام میں عرب وعجم کے تمام باعمل وبے عمل ،نیک وبد مسلمان قربان ہو نا اپنی خوش بختی سمجھتے ہیں ۔ پاکستان کی وفاقی حکومت اس جگ ظاہر تاریخی حقیقت سے نابلد نہیں ہوسکتی ۔ اسے غازی شہیدعلم الدین(۱۹۰۸۔۱۹۲۹) جیسے ترکھان لڑکے کی ادائے عشق کی علمیت بھی ضرور ہوگی ۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا یہ وزیراعظم پاکستان نہ تھے جنہوں نے پہلی بار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسلاموفوبیا کو ببانگ ِ دہل مسترد کر کے اپنی جرأت ایمانی ا وربصیرت ِمسلمانی کا سکہ بٹھا یااور اعلان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسلمانوں کی مستقل محبت وعقیدت زمان ومکان کی قید سے بالاتر ہے ، اس پر کوئی سمجھوتہ خواب وخیال میں بھی نہیںسوچا جاسکتا؟ افسوس جب اُن کے لئے اپنے ان سنہرے لفظوں میں عمل کی روح پھونکنے کی چھوٹا ساموقع آیا تو آئیں بائیں شائیں کر تے رہے۔
 یہاں تحریک لبیک پاکستان کے بارے میں ایک مختصر تعارف موزوں رہےگا ۔ تحریک لبیک پاکستان ایک مذہبی اور سیاسی جماعت ہے۔اس کے بانی مرحوم خادم حسین رضوی (۱۹۶۶۔۲۰۲۰) تھے ۔ آپ پاکستان میں بر یلوی مکتبہ ٔ فکرکے ایک ہردلعزیز مبلغ اور شعلہ بیان مقرر ہونے کے علاوہ تحفظ ناموس ِ رسالتؐ کے حوالے سے  کافی حساس ، سنجیدہ اور فعال رہے۔آپ کی شعلہ بیانیاںاس کی گواہ ہیں ۔ اپنے جوش ِ خطابت سے آپ سامعین کے دلوں کو عشق رسولﷺ سےگرمانے کے فن سے آگاہ تھے ۔ آپ کاوعظ وتبلیغ سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے تئیں عشق و وارفتگی میں غرق ہوتا ۔ آپ کی زبانی علامہ اقبال کے انقلاب آفریں اشعار سننے کا اپنا مزا تھا۔ لفظ لفظ سےمجلس کا لہو گرمانا، محبت البنی ﷺ میں دل و جان پگھلانا ، اہانت ِاسلام کے مجرموں کی خوب خوب خبر لینا ، حکومت پر جرأت مندانہ تنقید کے تیر چلانا، یہ اُن کی وہ چند ادائے دلبرانہ تھیں جن کے لئے انہیں ہمیشہ یادر کھاجا ئے گا۔
          ماہ نومبر ۲۰ ۲۰میں اپنی موت سے کچھ دن قبل علامہ خادم حسین نے فرانس کے ایک بدنام زماں جریدے میں شائع دل آزار خاکوں کی اشاعت پر شورِ محشر بپا کیا ۔ ان قابلِ نفرین خاکوں کے دفاع میں فرانسیسی صدر میکرون نے مغرب کے نام نہاد آزادی ٔ اظہارکی دہائی دی ۔ اس کی گفتنی گستاخان ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شانے تھتھپانے کے مترادف تھی ۔ اس پر علامہ مرحوم تلملا اُٹھے۔
بے شک میکرون کی باتوں سے اسلاموفوبیا کے موذی مرض میں مبتلا عناصر کی سرکاری سرپرستی کا اشارہ ملتا تھا ۔ علامہ نے اس کے ردعمل میں نومبر ۲۰۲۰کی ٹھٹھرتی سردی کے باوجود تین تک فیض آباد میں بڑا دھر نادیا تھا جس سے شہر کی نبضیں رُک گئی تھیں ۔ اگرچہ علامہ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی لیکن عشق رسول ﷺ کے گہرے جذبہ سے
 وہ مسلسل سڑک پر کارکنوں سمیت دھرنے پربیٹھے رہیں ۔ انہیں عوام کی بے پناہ حمایت حاصل تھی کیونکہ ناموس ِ رسالت ﷺ کا عاشقانہ تحفظ ہر دور میں تمامی مسلمانوں کے لئے موت وحیات کا مسئلہ رہاہے،اس لئے حکومت کے لئے دھرنا ایک اہم سیاسی مسئلہ بنا تھا۔ علامہ مرحوم وزیراعظم پاکستان سے برحق مطالبہ کر رہے تھے کہ صدر میکرون کی دریدہ دہنی کا فوری نوٹس لے کر اسلام آباد سے فرانسیسی سفیر کو فارغ کیا جائے تاکہ اہانت ِرسول ﷺ کے مر تکب تمام مجرموں کو پیغام ملے کہ مسلمان اتنے گئے گزرے نہیں کہ آل و اولاد اور جان ومال سے پیارے نبی ﷺ کی شان ِ اقدس میں کوئی اہانت ٹھنڈے پیٹوں برداشت کریں ۔ وہ چاہتے تھے کہ اس بار اہانت ِپیغمبرﷺ کے مرتکبین کے خلاف کچھ ٹھوس کر کے حکومت سینہ سپر ہو ۔ حکومت نے بھی اس مطالبے کی نفی نہ کی بلکہ وقت کے وزیرداخلہ اعجاز شاہ اور وزیر مذہبی اُمور نورالحق قادری پر مشتمل ٹیم تشکیل دے کر علامہ مرحوم کے ساتھ مذکرات شروع کئے۔ گفت وشنیدکے نتیجے میں بعد طرفین میں ایک تحریری معا ہدہ طے پایا۔معاہدے کے مطابق فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کر نے کے ضمن میں ایک قرارداد قومی پارلیمان میں تین ماہ کے اندر پیش کی جانی تھی مگر افسوس کہ حکومت لیت ولعل سے کام لیتی رہی ۔ اب خرابی ٔ بسیار کے بعد ا س وقت قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں یہ قرارداد زیر بحث ہے ۔ حکومت اس موضوع پر تمام پارلیمانی جماعتوںکے اجماع کے لئے کوشاں ہے۔
  سال ِرفتہ کے ماہ نومبر میں معاہدہ ہونے کے بعد حرکت قلب بند ہوئی اور علامہ خادم حسین کی موت واقع ہوئی ۔ شایدحکومت کوان کی موت  سےوعدہ فراموشی کا بہانہ ملا مگر تحریک لبیک صورت حال تاڑ رہی تھی اور اندر ہی اندر حکومت کے خلاف ا س کےغم و غصے کا لاوا پکتارہا۔اس دوران وفاقی کابینہ میں ردوبدل ہوئی اور شیخ رشید احمد کو وزارتِ داخلہ ملی۔ نیاوزارتی قلمدان سنبھالتے ہی موصوف نے وزیر برائے مذہبی امورکے ہمراہ علامہ مرحوم کے فرزند اور ٹی ایل پی کے نئےسربراہ حافظ سعد رضوی کے ساتھ فروری ۲۰۲۰ کو طے شدہ تحریری معاہدہ عملانے کے لئےمزید دوماہ کی مہلت مانگی ۔ یہ مہلت ۲۰ ؍اپریل کو ختم ہونی تھی مگرحکومتی طرز ِ عمل ٹال مٹول والا لگ رہاتھا۔اسی پس منظر میں سعد رضوی نے رواں ماہ کی ۲۰ ؍تاریخ کو اسلام آباد لانگ مارچ کی کال د ےڈالی ۔ یہ اس امر کا بلیغ اشارہ تھا کہ تحریک تسلیم شدہ مطالبہ منوانے کے لئے اپنارُخ کڑاکر رہی ہے ۔ حکومت کو بھی اپنی جگہ محسوس ہوا کہ اپوزیشن ڈی پی ایم کی ناکام ایجی ٹیشن کے بعد اب ٹی ایل پی کی’’ اسلام آباد چلو‘‘ اس کے لئے دردِ سر بننے والی ہے ۔ تاہم اس نے زمینی حقائق کا ادراک کئے بغیر ہی سعد رضوی کو ’’امن ِعامہ کے مفاد میں ‘‘ گرفتار کر ڈالا ۔ اس عاجلانہ اور غیر دانش مندانہ اقدام نے جلتی پر تیل کا کام کر نا تھا، سوکیا
 تحریک لبیک پاکستان( ٹی پی ایل ) سعد رضوی کی گرفتاری پر مشتعل ہوئی ، اس کے سراپا احتجاج کارکن آنا ً فاناً اسلام آباد ، راولپنڈی ، لاہور، کراچی میں سڑکوں پر اُتر آئے ۔ جا بجا مظاہروں کا ریلاامڈ آیا ، لبیک لبیک ،ہائے ہائے کے نعروں سے ایک بڑا سیاسی ارتعاش پیدا ہوا۔مظاہرین نے جگہ جگہ مصروف سڑکیں ، شاہرائیں ، گلی کوچے بند کر دئے ۔ جابجا پولیس پر خشت باری،دوکانیں مقفل ، بازار سنسان، ضروری خدمات مفلوج، امن و امان درہم برہم ،پولیس اہل کاروں سمیت عام شہریوں کی ہلاکت، سینکڑوں زخمیوںکی قطاریں ۔۔۔ یعنی کربلا کا ایکشن ری پلے ۔ غرض طرفین اپنےخون تشنہ حرکات سے خود اپنی مسلمانیت پر سوالیہ نشان لگاتے رہے ۔
ڈمیج کنٹرول کے لئے وزیراعظم نے قوم سے بر وقت خطاب کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ میرے اور ٹی ایل پی کے مقاصد تحفظ ِناموسِ رسالت ﷺ کے حوالے سے ایک جیسے ہیں مگر ہمارے طریقۂ کار میں فرق ہے ۔ یہ گلہ بھی بجا تھاکہ اپنے گھر میں آگ لگانے سے فرانس کا کچھ نہیں بگڑتا۔ ساتھ ہی دو باتیں بھی اور کہہ گئے کہ مغرب میں گستاخی ٔ رسول جیسے سنگین جرم سے اُمت کو نجات دلانے کے لئے پچاس مسلم ملکوں کے شانہ بشانہ متحدہ آواز کے ساتھ آگے بڑھا جائے گا ۔ اس کے لئے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے تاکہ جیسے یہودیوں نے ہولوکاسٹ کے تذکرےپر پابندی لگوادی ہے ،اسی طرح ناموسِ رسالتﷺ پر عالمی ضمانت حاصل کی جائے۔ البتہ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے حوالے سے انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس کے بدلے میں پورپین یونین ہمارے ساتھ اقتصادی بائیکاٹ کر ےگا ، جس سےہماری ٹیکسٹائیل انڈسٹری کا بُر احال ہو گا اور ملک کو شدید اقتصادی مسائل کا سامنا ہوگا۔ یہ آخری بات وزیراعظم کی لڑ کھڑاتی سوچ کا تاثر اُبھارتی ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ نام نہاد مسلم بلاک کے حکمران کرۂ ارض پر ایک بھاری بھرکم بوجھ سے زیادہ کچھ بھی نہیں ۔۔۔ یہ ایک منقسم گھرانہ یا ایک ایسا مجموعہ ٔاضداد ہے جو نااتفاقیوں ، نفرتوں اور ہوسِ اقتدارمیں ڈو ب کرمغرب کا زر خرید غلام ہونے پر قانع ہے ۔ ا ن سے حرمتِ رسول ﷺ کے تحفظ کی توقع رکھنا آگ سے پانی نچوڑنا جیسا ہے ۔
 جہاں تک ناموسِ رسالت ﷺ کے مقابلےمیں معاشی خسارے کا تعلق ہے، تو اس بارے میں عمران خان کو اول مکہ معظمہ میں اپنے گھربا ر، عیش وآرام ، تجارتیں، رشتہ داریاں چھوڑ کرکومدینہ منورہ کی طرف ایک غیر یقینی مستقبل کےساتھ خطرات اور خالی ہاتھ لئے مہاجرین کا مطالعہ از سرنو کر نا چاہیے ، دوم اُنہیں خلیفہ ٔ دوم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت پر بھی غور کر نا چاہیے جنہوں نے اپنے گھر کا سارا مال واسباب دربارِ رسالت ﷺ میں پیش کرنے کی عاشقانہ رِیت قائم کی ، سوم انہیں فی زماننا سپر پاور امر یکہ سے نبرد آزما بے خانماں افغان طالبان کی تحریک خاص کر ملا عمر کی سیاسی زندگی کا جائزہ لینا چاہیے تو وہ سمجھ جائیں گے کہ علامہ نےیہ کیوں کہا   ؎
 وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
 روح ِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو