تحریر ارشد اعظم
ایم ٹی بی سی کا نام تو آپ نے سنا ہو گا لیکن شاید بہت کم لوگوں کو علم ہو گا آزاد کشمیر جیسے اس پسماندہ خطے میں جہاں ہر طرف لوٹ مار اور کرپشن کا بازار گرم ہے وہاں یہ کمپنی اپنے وسائل سے اس قدر فلاحی کام کر رہی ہے جس کی مثال اس خطے کے اندر کم ہی ملتی ہے۔عباسپور کے ایک پسماندہ اور دور افتادہ گاوں  پولس  جو کہ کنٹرول لائن کے عین اوپر واقع ہے وہاں سے تعلق رکھنے والے ایک انتہائی ایماندار دیانت دار اور انسان دوست شخصیت سردار محمود الحق صاحب  تعلیم القرآن کے بانی مولانا محمد حسین کے پوتے اور امریکن ایکسپریس کے کنٹری ہیڈ ایم عبدالحق ضیاء مرحوم کے بیٹے ہیں آپ نے 1999 میں اس ہیلتھ کئیر کمپنی کی بنیاد رکھی اور چند ہی سالوں میں محمود الحق خان کی زاتی کاوشوں سے آج دنیا کی چند بڑی کمپنیوں میں اسکا شمار ہوتا ہے۔اس کمپنی کے اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک میں دفاتر قائم ہیں جبکہ باغ اور راولپنڈی کے اندر اسکی دو بڑی برانچز کام کر رہی ہیں جن میں چار ہزار سے زیادہ نوجوان باعزت روزگار سے منسلک ہیں ، اس کمپنی کے تمام ملازمین کو اعلیٰ معیاری کھانے اور دیگر سہولیات کے علاوہ ہر ماہ انکے خاندانوں کو پورے مہینے کا راشن کمپنی مہیا کرتی ہے۔اپنی پیشہ وارانہ زمہ داریوں کے علاوہ یہ کمپنی اور اسکے سربراہ سردار محمود الحق خان حاصل ہونے والی آمدنی سے ہزاروں افراد کی مالی مدد کرتے ہیں ، فلاحی کاموں کی ایک لمبی فہرست ہے لیکن یہاں انکے چند احسن کارناموں اور انسانیت کی خدمت کے جزبے کی چند باتوں کا زکر ضروری ہے۔

غریب اور سفید پوش خاندانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کی شادیوں کے اخراجات بغیر کسی تشہیر کے کرتے ہیں ، دو ہزار پانچ کے زلزلے میں ہزاروں افراد کی مالی مدد کی، باغ نعمان پورہ میں ایک ووکیشنل ٹریننگ سنٹر کھول کر لاتعداد نوجوانوں کو روزگار حاصل کرنے کے قابل بنایا، کرونا وبا کے دوران پورے شہر میں اور عباسپور تک سپرے کروایا اور اپنے ملازمین کو تنخواہیں اور مراعات دیتے رہے،باغ شہر میں ہسپتالوں اور مساجد میں سینٹائزر گیٹ لگوائے، ہسپتال میں صفائی کیلیے دو ملازمین کو مستقل تعینات کر کے انکی تنخواہ اور دیگر سہولیات کا بندوبست کیا، سرکاری اداروں اور مختلف فاونڈیشنز کیلیے فری کمپیوٹر لیبارٹریاں قائم کیں،عباسپور کے کنٹرول لائن ایریا میں (سردار اشرف  خان اینڈ منیرہ بیگم )اے اینڈ ایم نام سے ایک جدید ہسپتال بنایا جہاں حکومت کی طرف سے علاج کی کوئی سہولت نہیں لیکن وہاں اس کمپنی نے ہسپتال بنایا جس میں لوگوں کا چیک اپ اور علاج بالکل مفت ہے،ٹورازم کے فروغ کیلیے مختلف مقامات پر ریسٹ ہاوسز بنائے اور ٹورسٹ کو لانے میں اہم کردار ادا کیا اسی بنیاد پر محمود الحق صاحب کو عالمی ایوارڈ سے نوازا گیا، جو اس خطے کیلیے بھی کسی اعزاز سے کم نہیں ،خواتین اور لڑکیوں کیلیے ایک بہترین پروفیشنل ٹریننگ ، ڈرائیونگ ،پک اینڈ ڈراپ کی سہولیات، مکمل تحفظ کا انتظام حتیٰ کہ انکو ٹریننگ کے بعد لائسنس وغیرہ تک دلواتے ہیں

،ملازمین کے لیے عالمی معیار کی تمام سہولیات ،بہترین کھانا اور ہر ملازم کے گھر گھر تک ہر ماہ باقاعدگی سے ضروریات زندگی کی بنیادی اشیا پہنچانا بھی ایک ایسا عمل ہے جسکی مثال اس خطے کے اندر کم ہی ملتی ہے۔لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ یہاں اور بھی بڑی بڑی کمپنیاں موجود ہیں جنکا کام صرف منافع کمانا ہے اور انکو انسانیت کی فلاح سے کوئی غرض نہیں ۔اگر یہ لوگ بھی اپنے منافعے پر ہی توجہ مرکوز رکھیں اور یہ سوچیں کہ لوگ جائیں بھاڑ میں ہمیں کیا غرض ہے تو انکو کون منع کر سکتا ہے یا انکو مجبور کر سکتا ہے کہ انسانیت کی بھلائی کے کام کریں لیکن خدا نے جہاں انکو اتنی عزت بخشی مال و دولت سے نوازا وہیں ان کے اندر انسانیت کا عظیم جزبہ بھی پیدا کیا جو بلا شبہ خدا کی عنائیت اور خصوصی کرم ہے۔یقینا یہ عظیم لوگوں کا وطیرہ ہی ہوتا ہے اور ایسے لوگوں کے عظیم کارناموں کا زکر کرنا انکو داد تحسین دینا نہ صرف ضروری ہے بلکہ فرض عین ہے۔امید ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ کمپنی مزید ترقی کریگی اور اسکے فاونڈر جناب محمود الحق صاحب کو انسانیت کی خدمت کے لیے مزید ہمت اور توفیق عطا ہوگی.