فوزیہ تاج
وہ چھ سات سالہ بچی تھی. ایک خواب  اسے بار بار آ کر ڈرایا کرتا تھا کہ بازار میں بہت رش ہے اور وہ اپنی ماں کے ساتھ ہے.اور پھر ماں اس سے گم ہو گئی ہے. وہ چاروں طرف دیکھتی ہے. سر ہی سر نظر آتے ہیں…. مگر وہ بھیڑ میں اکیلی رہ گئی ہے. وہ زور زور سے ماں کو پکارتی ہے. اور آنکھ کھل جانے پہ پرسکون ہو جاتی ہے کہ وہ محض ایک خوف تھا جو خواب میں آ کر اسے ڈرایا کرتا تھا. پھر یہ ہونے لگا کہ بھیڑ میں جاتے سمے…… ماں کا ہاتھ مضبوطی سے تھامنا معمول بن گیا….. چاہے وہ خواب ہی تھا مگر وہ کبھی ماں کا ہاتھ نہیں چھوڑے گی. پھر بازار میں  ماں کے ہاتھ میں خریدے جانے والے سامان کے شاپر جب زیادہ ہو جاتے تو وہ ماں کا ایک ہاتھ خالی رکھنے کے لیئے بھاری شاپر اٹھانے سے بھی گریز نہ کرتی تا کہ ماں اسکا ہاتھ تھامے رہے…….پھر شاپر زیادہ ہو جاتے تو  بات ایک انگلی تھامنے تک آ جاتی … اب ماں کے دونوں ہاتھ میں شاپر ہیں.
           وہ ڈرتی ہے….. وہ کہیں کھو جائے گی. ماں گم ہو جائے گی اس سے…. ماں ہنستی ہے اس کے خوف پر….. میرے ساتھ ساتھ چلو نا….. میں ہوں نا تمہارے ساتھ….. مگر اسکے لئے ماں کاہاتھ تھامے بغیر چلنا….. مطلب…. بے سکونی…. خوف….. بچھڑ جانے کا…… اکیلے رہ جانے کا…… پھر ماں کی چادر کا کونا ہاتھ میں آ جاتا ہے. اب وہ سکون سے ہے. وہ ماں کی چادر کا کونا پکڑے چلتی رہتی ہے. یہ  خواب اکثر اسے  ڈراتا رہتا  تھا.
       زندگی بہت آگے سرک آتی ہے. اب وہ اکیلا چلنا سیکھ چکی ہے. وقت کبھی بھی ہماری مرضی کا تابع نہیں ہوتا اسے اپنے مطابق ہی گذرنا ہے. اب اسے بھیڑ میں چلنا مشکل نہیں لگتا. ماں اس کے ساتھ نہیں مگر کہیں کھو جانے کا خوف زائل ہو چکا ہے. گو ابھی بھی اسے راستے یاد نہیں رہتے….. وہ دو راستوں کے درمیان ابھی بھی الجھ کر کھڑی ہو جاتی ہے. مگر اب اسے رات کی تاریکی اور سنسان راستے کچھ نہیں کہتے.  بچپن کا وہ ڈراؤنا خواب ٹوٹ چکا ہے. 
        وقت نے کروٹ بدلی….. وہ بھیڑ میں ماں سے تو گم نہ ہوئی….. مگر کچھ رشتے ضرور ہاتھ چھڑا کر پیچھے رہ گئے. ماں باپ، بہن بھائی… ان کی جگہ کچھ نئے رشتوں نے لے لی تھی .پرانے رشتے دور تھے….. لیکن دوری نے ان کی محبت میں کئی گنا اضافہ کر دیا تھا… وہ اکثر سوچتی تھی کہ سب رشتوں کا دور ہو جانا…… کیا یہ اسی خواب کی تعبیر تھی. مگر اسطرح سے رشتوں کا پیچھے رہ جانا تو ہر لڑکی…. ہر عورت…. کی زندگی کا حصہ ہے اور اس تکلیف کا مرد کبھی اندازہ نہیں لگا سکتے. .یہ قدرت کا مقرر کردہ نظام حیات ہے. اور اسی میں انسان اور انسانیت کی بقا ہے. مگر پیدائش سے لے کر ایک عمر تک ساتھ گزارنے والے رشتوں کو تیاگنے کا دکھ فقط ایک عورت ہی سمجھ سکتی ہے. اورپھر اس قربانی کے نتیجے میں  جنت اسکے قدموں تلے رکھ دی جاتی ہے.محبت وہی ہوتی ہے… فقط اسکی ہییت تبدیل ہو جاتی ہے.. محبت دکھائی نہیں دیتی اور نظر آتا ہے وہ جو آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے اور…….. آنکھوں کے سامنے تو……… وہ خواب بھی اکثر آ جاتا تھا جس میں وہ بھیڑ میں ماں سے کھو جاتی  تھی. اب تو وہ خواب بھی  کہیں کھو گیا تھا. مگر……. ایک نئے خواب نے اسکی جگہ لے لی تھی.
           اب وہ ایک ماں تھی….. خواب وہی تھا…. مگر اب اس کی جگہ اسکے بچے نے لے لی تھی اس  نے اپنے  بچے کا ہاتھ مضبوطی سے تھام رکھا تھا. بچپن میں اپنے کھو جانے کا خوف اور اب اپنے بچے کے کھو جانے کا خوف….. جو بھیس بدل کے پھر اسکے خواب میں آتا ہے. بچپن میں جس بھیڑ میں وہ اپنی ماں سے کھو جاتی تھی… اب اسکا بچہ اس سے کھو جاتا ہے. وہ اچانک ہاتھ چھڑا کر اس سے بھاگ جاتا ہے . وہ ارد گرد دیکھتی ہے ….. اسے آوازیں دیتی ہے …. زور زور سے پکارتی ہے … مگر وہ ہجوم میں کہیں گم ہو جاتا ہے  اور جب آنکھ کھلتی ہے  تو وہ  آرام سکون  سے اپنے بستر پہ سویا  ہوتا ہے.  پتہ نہیں ایسے خواب…….. کیوں ڈراتے  رہتے ہیں…..؟؟اندیشہ فراق جان لیوا ہوتا ہے. ہجوم میں ابھی بھی بے چینی ہوتی ہے….. راستے ابھی بھی بھولتے ہیں…. ان دیکھے واہمے اور خدشات شائد زندگی بھر پہ محیط ہیں. محبتوں اور واہموں کا چولی دامن کا ساتھ ہے… کبھی محبت واہموں پہ حاوی ہو جاتی ہے  اور کبھی اندیشے سچ کا روپ دھار لیتے ہیں…. یہی زندگی ہے اور…… یہی زندگی کی کہانی ہے………!!!
           “ملنے بچھڑنے کے خواب…… واہموں کے……… گنجلک
راستوں پر….. جا بجا بکھرے پڑے ہیں….. محبت سیپ میں بند چھپا انمول موتی ہے…… جو کبھی کبھار راہ چلتوں اور راہگیروں کو بھی بن مول میسر آ جاتا ہے. دعا کیجئے کہ محبت کا وہ انمول ھیرا کسی بے قدرے کے ہاتھ نہ لگے.. ورنہ وہ جتنا بھی قیمتی کیوں نہ ہو اسے مٹی میں رولنے  سے کوئی نہیں روک سکتا

Leave your comment !