شفقت ضیاء
رمضان المبارک نیکیوں کا موسمِ بہار اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے لیے خصوصی انعام ہے جس میں بندہ اپنے گناہوں سے معافی اور قربت کے بعد اگلے گیارہ ماہ کا زادِ راہ حاصل کرتا ہے ایک ماہ کی مشقت و محنت سے ربّ کو راضی کرنے سے مغفرت کا پروانہ حاصل کر نے پر عید کا تحفہ ملتا ہے یہ الگ بات ہے کہ عید پر وہ لوگ زیادہ تیار اور بن سنور کے نکلتے ہیں جو رمضان المبارک سے حقیقی استفادہ  ہی نہیںکر پاتے اللہ کی رحمتوں اورمغفرت کا پروانہ حاصل کیے بغیر ہی عید بنا رہے ہوتے ہیں۔نبی مہربانﷺ نے ایک بار ممبر پر تشریف لاتے وقت تین بار آمین کہا صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہﷺ ہم نے دعا کرنے والا کوئی نہیں دیکھا آپ نے خلافِ معمول تین بار آمین کہا آپ ﷺ نے فرمایا جبریل ؑ آئے تھے کہا وہ شخص ہلاک ہو جائے جس کو رمضان المبارک کا مہینہ ملا اور وہ مغفرت حاصل نہ کر سکا میں نے کہا اٰمین پھر کہا وہ شخص بھی ہلاک ہو جائے جس کے پاس بوڑھے والدین ہوں اور وہ اُ ن کی خدمت کر کے جنت کو حاصل نہ کر سکا میں نے کہا آمین پھر کہا وہ شخص بھی ہلاک ہو جائے جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ درود و سلام نہ بھیجے میں نے کہا آمین۔دعا کرنے والے جبریل ؑ ہوں اور آمین کہنے والے محمدﷺ ہوں اُس دعا کی قبولیت پر کون شک کر سکتا ہے۔اس لیے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو رمضان المباک کے اس ماہ سے اپنے ربّ کو راضی کر کے جبت کے حقدار بن گئے اور بدقسمت ہیں وہ لوگ جو اس بددعا کے حامل ٹھرے اور وہ بھی خوش قسمت ہیں جن کے پاس اُن کے والدین موجود ہیں ان کی خدمت کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کرنے کا موقع موجود ہے۔میر ی جنت کی خوشبو اور میری عید کا چاند تو اس بار نظر نہیں آیا میری نظریں تو اُس کی تلاش میں تھی ہی اور ابھی تک جستجو جاری ہے لیکن وہ اب نظر نہیں آے گالیکن قوم کو بھی اس بار رات 12تک اس کی تلاش رہی اور پھر کہی اطلاع ملی اور پھر جلدی جلدی تیاری عید شروع کی۔

میرے جیسے بہت سے لوگ جن کے چاند عید سے پہلے ہی اس دنیا فانی سے ہمیشہ کے لیے غروب ہو چکے شاید ان کی وجہ سے پورے ملک کے چاند نے بھی کافی تاخیر کی وہ  تو رات 12بجے آیا مجھے اپنا چاند تاحال نظر نہ آیا۔میں نے جس کے گلے لگ کر اُسے پیار سے مخمل جان کہنا تھا وہ میری جان تو اللہ کے پاس چلی گئی میر ے پاس آنسو کی لڑی کے سوا اور سامنے اُس کی قبر کے علاوہ کچھ نہیں تھا مجھے اُس کے جواب کا بہت دیر تک انتظار رہا جو کہا کرتی تھی جیو میری جان اس بار اُن محبت بھرے  الفاظ کا انتظار ہی رہا،خلوص کی پیکر ماں کا کوئی جواب مل سکا  اور نہ ہی عیدی مل سکی، کسی اور کی تو پہلے ہی نہیں ملتی تھی باقیوں کے حساب میں تو پہلے ہی لینے والوں سے نہیں دینے والوں میں ٹھرا تھا لیکن اُس نے پچھلے سال بھی خلوص سے عیدی دی تھی اور لی بھی تھی وہ واحد عیدی ہوا کرتی تھی جو لی اور دی جاتی تھی وہ پیار سے گلے لگانا اور بوسہ دینا،کپڑے،جوتی ہر چیز پر نظر رکھنا صرف اُسی کا خاصا تھا جو اس کی بار نہ مل سکا۔شاید اس وجہ سے کہ اس بار وہ چاند نہیں تھا جس نے ساری زندگی محبت دی ،پیار کیا خدمت کی جو انتظار میں رات گئے تک جاگتی تھی جس کی دعائوں نے مجھے زندگی دی عزت دی اور وہ سب کچھ دیا جس کے میں قابل نہ تھا اب اس کی دعائیں بھی نہیں اُس کا انتظار کرنا بھی نہیں اُس کی محبت بھی نہیں اُس کا پیار بھی نہیں وہ میری ماں مخمل جان نہیں تو کیا جان کے بغیر زندگی بھی کوئی زندگی ہے اور جس عید کا چاند ہی نہیں وہ عید بھی کوئی عید ہے ابھی تو والد کا غم ہی تازہ تھا پھر میرا چمکتا ہوا چاند بھی اندھیرا کر کے چلا گیا لیکن نہیں ضرور ملاقات ہو گی سب نے ہی تو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے جنت کے محل میں اللہ اپنے وعدے کے مطابق ایمان والے کمزور اعمال والی اولاد کو والدین کے درجات کم کیے بغیر ملائے گا انشااللہ۔پھر گلے ملیں گے اور پیار سے کہوں کا مخمل جان اور جو اب آئے گا جیو جان تاہم ابھی تو میرے پاس چند آنسو اور ڈھیروں دعائوں کے سوا کچھ نہیں میرے مالک میرے والدین کو بخش دے اُن سب کے والدین کو بھی بخش دے جن کو اس عید سے پہلے تُو نے بلا لیا۔بہت سے دوستوں کے ماں باپ اور قریبی دوست احباب کرونا وبا کی وجہ سے اس دنیا سے کوچ کر  کے شہادت پاگئے میری طرح وہ بھی اس بار چاند کی تلاش میں رہے ہوں گے لیکن اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے غروب ہونے والا چاند پھر نہیں آیا کرتا۔اُس کی محبتیں ،پیار ،مسکراہٹیں اپنا سب کچھ لوٹا دینے کے باوجود لوٹ کر نہیں آتا۔بس دعائوں کے ذریعے انہیں یاد کیا جا سکتا ہے اُن کے پاس نیک اعمال کا اب کوئی موقع نہیں ہوتا ۔واحد ذریعہ ایصالِ ثواب ہے کہ نیک اعمال کر کے اللہ سے دعا کی جائے کہ اس کا اجر و ثواب انہیں ملے۔ دنیا میںان کی خدمت کا حق کون ادا کر سکتا ہے

صحابہ کریم نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ مرنے کے بعد والدین کی خدمت کیسے کی جا سکتی ہے تو آپ ﷺ نے اپنے ارشادات میں اُن کی طرف سے صدقات اور تمام نیک کام کرنے کے بعد دعا کے ذریعے اُن کو اجر پہنچانے کا راستہ بتایا ہے اور اُن کے دوست احباب سے اچھا سلوک کرنے کی تاکید کی ۔جن جن کے والدین اور قریبی اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اُن کے پاس یہی راستہ ہے اللہ ہمیں اس طرح اُن کی خدمت کی توفیق دے اور وہ خوش قسمت جن کے والدین زندہ ہیں اُن کی رضا میں رب کی رضا ہے والدہ کے پائوں کے نیچے جنت ہے اُن کی خدمت سے جنت کا حصول یقینی ہے اُن کو موقع ضائع نہیں کرناچائیے اور یاد رکھنا چائیے عید کا چاند بہت چھوٹا ہوتا ہے یہ بعض اوقات نظر آتا ہے اور بعض دفعہ نظر نہیں آتا لیکن والدین کا چاند بہت بڑا اور بہت روشن ہوتا ہے یہ ایک بار غروب ہو جائے دوبارہ آپ اپنی زندگی میں نہیں دیکھ سکتے پھر پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
نبی مہربانﷺ نے فرمایا والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا نماز ،روزے،حج ،عمرے اور جہاد سے افضل ہے۔
ایک حدیث میں آپﷺ نے فرمایا جس شخص نے ماں باپ کی رضا و خوشنودی کے ساتھ صبح کی یاشام کی تو اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اگرچہ ماں باپ ظلم کریں،(یہ جملہ تین بار فرمایا)اگر ماں باپ میں سے ایک ہو تو ایک دروازہ کھلے گا اس طرح جس شخص نے ماں باپ کی نارضگی کے ساتھ صبح شام کی اس کے لیے دوزخ کے دروازے کھول دیے جائیں گے اگرچہ ماں باپ ظالم ہی کیوں نہ ہوں(یہ بات آپﷺ نے تین مرتبہ فرمائی)اگر ماں باپ میں سے ایک ہوا تو دروازہ بھی ایک ہی کھلے گا۔جن خوش قسمتوں کے والدین زندہ ہیں اُن کے لیے یہ بڑی خوشخبری بھی  ہے،اوراحتیاط کا مقام بھی ہے
محسنِ انسانیت ﷺ نے فرمایا جنت کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے لیکن والدین کی نافرمانی اور قطع رحمی کرنے والے اس خوشبو سے محروم رہتے ہیں۔
مادہ پرستی کے اس دور میں رشتوں کا تقدس کم ہوتا جا رہا ہے دنیا کمانے کی دوڑ میں اور مال کی حرص نے انسان کو غفلت میں ڈال رکھا ہے لیکن یاد رکھنا چاہیے یہ سب کچھ رہ جانے والا،فانی اور مٹ جانے والا ہے ۔کرونا وائرس نے تو اس کی رفتار مزید تیز کر دی ہے آئے روز اعلانات میں کتنے ہی پیارے اس دنیا سے ہمشہ کے لیے رخصت ہو چکے اتنی طویل فہرست ہے کہ اب اُن سب کے نام لکھنے شروع کیے جائیں تو اُس کے لیے بھی کافی وقت درکار ہے۔اللہ سب کی مغفرت کرے اور جو زندہ ہیں اُن کو اچھے اعمال اور رشتوں کے تقدس کا خیال رکھنے کی توفیق دے۔آمین